شرم تم کو مگر نہیں آتی
340 views 2 Comments Published January 30th, 2008 in دنیا نامہ, پاکستان نامہ.جب عرب ترک ہوا کھڑا کیا گیا تو کیپٹین لارنس کو بھیجا گیا۔ جو کہ لارنس آف عریبیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ عرب بےحد بےوقوف قوم ہیں۔ ان کی بےوقوفیوں کی ایک لائن لگی ہوئی ہے۔ خیر خلافت سے جان چھڑانی تھی اور پتہ نہیں کیا کیا تو عرب بےوقوف جو جدید دنیا میں بھی سو رہے تھے نے سارے ٹنٹنے ختم کر دئے۔ اب ہوا یوں کہ لارنس کو اطلاع ملی کہ عربوں سے جو وعدہ کیا گیا ہے وہ وفا ہونا نہیں اب اس کے سامنے دو راستے تھے ایک تو سچ بتا دیتا اور ایک چپ چاپ اپنا کام کرتا رہتا۔ اس نے ملک کے مفاد کو ترجیح دی۔ سارا کام بخوبی ہو گیا اب عرب لندن میں پارلیمنٹ کے پتہ نہیں کس عمارت کے دروازے کے باہر کھڑے ہوں لیکن چونکہ کام نکل چکا تھا لہذا ان کو کوئی ریسپشن ہی نہیں۔ پھر کیا ہوا اور یہ نئے چھوٹے چھوٹے بادشاہ کون تھے یہ تو سب کو ہی علم ہو گا۔
دنیا میں ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق گناہ کرتا ہے۔ اس کو قانون کا ڈر خوف نہ ہو تو ہمارا معاشرہ بن جاتا ہے اور اگر قانون سخت ہو تو یورپ اور امریکہ بن جاتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان میں چھپانے کا فرق ہے۔ امریکہ میں شراب کھلے عام ملتی ہے پاکستان میں چھپ کر۔ امریکہ میں جسم فروشی کھلے عام ہے پاکستان میں چھپ کر۔ امریکہ میں ناجائز تعلقات بتاتے شرمایا نہیں جاتا ہمارے ہاں چھپ چھپا کر کیا نہیں ہوتا۔ صدر کلنٹن کا مونیکا سے تعلق ہو تو اس کو معافی مانگنی پڑ جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک عام ناظم سے وفاقی وزیر تک کے گھر سے طوائف سے لے کر کینیڈا پلٹ خواتین بغیر کسی تعلق کے نکلتی ہیں اور کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کو بیان کر سکے۔
اسی پر بس نہیں کوئی مرحومہ کسی کو خوش کرنے کے لئے کشمیر کے بورڈ اسلام آباد سے غائب کروا دیتی ہے تو کوئی وردی والا امریکی صدر کی منتیں کر کے چند پہروں کو بلا کر اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو اسلام آباد سے 356 کلومیٹر دور لاہور میں دھیکل دیتا ہے جب کہ سارے حلوے خور ملتان میں احتجاج کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔
صدر مشرف نے اگر لارنس کی کہانی سن لی ہوتی اور ان کو عربوں کا حال علم ہوتا تو وہ کبھی ایسی غلطی نہ کرتے۔ سنا ہے صدر مشرف کو گورڈون براؤن سے ملاقات کرنے کے لئے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پچھلے دروازہ سے لے جایا گیا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ یہ لندن تھا جہاں مشرف تو کیا بش تک کے لئے عوام کو “غائب” کرنے کا سوچا تک نہیں جا سکتا۔
اس کی وجہ ابھی تک بتائی تو نہیں گئی لیکن اگر تانے بانے بننے کا شوق ہو تو بعید نہیں کہ صدر مشرف نے ایک دو دن پہلے جس طرح ایک پاکستانی صحافی پر لفاظی کا حملہ کیا تھا کیونکہ ان کو سیکھایا گیا تھا کہ ساری خوش اخلاقی مغربی صحافیوں کے لئے ہوتی ہے دیسی صحافیوں کو کاٹ کھانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا کے پیش نظر برطانوی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ صدر مشرف مرکزی دروازے پر دیسی لوگوں کے مخالفانہ نعروں کا برہمی سے جواب دے کر اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کروا لیں۔ صدر مشرف کا کوئی بھروسہ بھی نہیں وہ گورڈن براؤن کو کہتے یار ویٹ کرو میں پہلے ان سے تو نبٹ لوں۔
Popularity: 12% [?]
Popularity: 12% [?]
340 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







لگتا هی نہیں که کسی بدتمیز کی تحریر هے
بڑی تمیز سے دوسروں کی بدتمیزیاں بتائی جارهی هیں
باقی جی یه عرب لوگ میں عقل کم هی هوتی هے اسی
لیے آپ نے بهی دیکها هو گا که یه لوگ سر پر کپڑا ڈال کر اس کو رسی سے مضبوطی سے باندھ کر رکهتے هں که سر میں موجود تهوڑی سی بهی عقل کہیں گر نه جائے
عربوں کی ایک هی صنعت ہے کھجور اور اس صنعت کی مشہوری کرنے کے لیے انہوں نے بڑی احادیث بهی گھڑ رکهی هیں ـ
پاکستان کے حکمرانوں کے متعلق
اتنا هی کافی ہے
اجڑیاں مسیتاں دے گالڑ امام
انیاں وچ کانے راجے
یه بڑے بے عزتی پروف لوگ هیں
ان کی بے عزتی هو هی نهیں سکتی
خاور’s last blog post..خبراں تے تبصرے
“دنیا میں ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق گناہ کرتا ہے۔ اس کو قانون کا ڈر خوف نہ ہو تو ہمارا معاشرہ بن جاتا ہے اور اگر قانون سخت ہو تو یورپ اور امریکہ بن جاتا ہے۔”
بھیا آپ تو چھا گئے۔۔ دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔
راشد کامران’s last blog post..واپسی