خصم
512 views Published January 29th, 2008 in امریکہ نامہ, بش کے دیس میں.تم شادی شدہ ہو؟
ایک سال میں مجھے عادت ہو چلی تھی۔ میری شکل کا قصور تھا سب سمجھتے تھے تین جوان بچوں کا باپ ہے۔ جبکہ حالات کچھ ایسے ہیں کہ نہ میری امی مانتی ہیں نہ کوئی لڑکی اور شکل پر پھٹکار سوا چند۔ خیر میں نے جواب دیا۔ نہیں
کوئی پیچھے پاکستان میں؟
میں نے کہا نہیں۔
فرمایا میری ایک جاننے والی ہے۔ افریقہ سے ہے۔ کاغذ پورے نہیں۔ جاب کرتی ہے۔ اس کے لئے کوئی ایسا بندہ چاہئے جو شادی کر کے اس کو سپانسر کر سکے۔ خرچہ کی پرواہ نہیں وہ خود کرے گی۔ کافی اچھی جاب ہے۔
میں نے مذاق میں اس کے دوست کی طرف بات ٹال دی کہ ہاں وہ طلاق لے رہا ہے تو اس کو کہو شادی کر لے۔ وہ بھی ہنس دیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
یورب اور امریکہ میں شادی کر کے شہریت لینا اب بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر آپ کو ریجیکٹ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے پہلے اتنی سختی نہیں تھی لیکن بڑھتے ہوئے دباؤ اور 911 کے بعد سے بہت سختی ہے۔ 911 سے پہلے آپ نے کسی نیلی پیلی کو سائن کیا۔ اس سے رقم فکس کی۔ اب کیس فائل کریں لڑکی کو ایڈوانس دیں۔ وہ اپنے گھر آپ اپنے گھر۔ مقررہ دن وہ جا کر گواہی دے گی کہ ہاں یہ میرا شوہر ہے آپ کو گرین کارڈ مل گیا اور اس کو باقی رقم۔
اب سختی بڑھ گئی۔ اب ذاتی سوالات بھی مزید ذاتیات میں الجھ گئے۔ پھر لا اینڈ آرڈر نے بھی امیگریشن سے متعقلہ ہر جگہ یعنی دفاتر وکیلوں کے دفتروں وغیرہ میں نوجوان لڑکیاں بھیج دیں۔ اب لڑکی آپ کو پھنسا کر لائے گی۔ امیگریشن کے آفس سے آپ سیدھے جیل جائیں گیں اور لڑکی نئے غیر قانونی تارکین وطن کی تلاش میں۔
ہم لوگ ساری دنیا سے افریقہ ایشیا مڈل ایسٹ سے اٹھ کر یورپ اور امریکہ آ جاتے ہیں لیکن زبان نہیں آتی نتیجتہ ہر جگہ نہ صرف مار کھاتے ہیں بلکہ مستقبل تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ تقریبا سوا سال پہلے یہاں ورجینیا میں ایف بی آئی کافی ایکٹو تھی اس نے چھاپہ مار کر کسی ایسے بندے کو اٹھا لے گئے جس سے میرا غائبانہ تعارف تھا۔ وجہ پتہ چلی کہ پاسپورٹ ایکسپائر ہوئے دو ماہ ہو گئے تھے اس نے ری نیو نہیں کروایا تھا اور ساتھ امیگریشن کی طرف سے دو لیٹر انٹرویو کے بھیجے گئے تھے وہ ریسپانس نہیں دے سکا تھا۔ اب ٹوٹی پھوٹی انگلش سے مجھے اتنی ہی سمجھ لگ سکی۔ قانونی باتیں علم نہیں۔
دیسیوں کو تو گوری چمڑی کے ہی خواب آتے ہیں۔ لیکن افریقی نژاد چونکہ اپنے ہاں کافی کالے دیکھ چکے ہوتے ہیں لہذا یہ بہت آسانی سے 40+ افریقی عورتوں سے شادی کر لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک مزے کی سٹوری ہے۔ جوانی ساری پارٹی ایوری نائٹ ہوتی ہے۔ بچے بھی اسی سے ہو گئے۔ حد تو یہ ہے کہ سیکس ہو رہا ہے بچہ پیدا ہو رہے ہیں لیکن لو نہیں ہے۔ لو ملے گا تو اس سے شادی کر کے گھر بسانا ہے ورنہ ایسے ہی۔ اب غیر قانونی تارکین وطن ان کے لئے اور یہ ان کے لئے بہترین جوڑ ہیں۔ ان کو ایسا مرد چاہئے جو کماتا خوب ہو۔ روک ٹوک بالکل نہ کرے۔ فرمائشیں پوری کرے۔ جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کو کاغذ چاہئے لیکن اتے عرصہ ایک گھر جہاں اس کے کپڑے دھل جائیں کھانا بن جائے اس کی ذمہ داری آدھی ہو جائے۔
یہ مشرق و مغرب کا امتزاج عجیب گل کھلاتا ہے۔ اگر آپ میرے جیسے ہیں اور کوئی لڑکی منہ نہیں لگاتی تو ایک صاحب کے ساتھ یوں ہوا کہ وہ خاتون سے سچ مچ ان لو ہو گئے۔ اب خاتون سے روک ٹوک۔ جہاں مذاق مذاق میں ایک آدھی بار سیکس کر لینا معیوب نہ ہو وہاں آپ فلاں نے بوسہ کیوں لیا۔ گلے کیوں لگایا جیسے اعتراض کریں تو خاتون آپ کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گیں۔
اکثر زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں وہ شادی ہی 50 یا 60 سال کی خاتون سے کرتے ہیں۔ خاتون کے اپنے بچے بڑے اور غائب ہوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ خاتون تنہائی کی ماری خوشی خوشی راضی۔ اور عمر پر مت جائیں۔ یہاں تو 77 سال کی خاتون بھی میں نے دیکھ رکھی ہیں جو روزانہ ہم بستری کی خواہشمند ہیں۔ ان کے 56 سالہ بوائے فرینڈ ہی نہیں مانتے۔ لہذا یہ تو سوال ہی نہیں اٹھتا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ان لو نہیں ہو سکتے کہ خاتون تو خواہش پوری نہیں کر سکتی۔
سوال کچھ اور ہی اٹھتے ہیں۔ اور انتہائی ذاتیات پر مبنی ہوتے ہیں۔ الگ الگ کمروں میں بیٹھا کر۔ عام طور پر کلچر کا خیال رکھا جاتا ہے اگر دیسی ہوں تو ان سے ذاتیات پر مبنی سوالات نہیں ہوتے لیکن اگر دیسی مرد کسی امریکی عورت سے شادی کرے تو پھر وہی سلوک ہے۔ دونوں کے جوابات میچ کئے جاتے ہیں اور پھر فیصلہ ہوتا ہے کہ یہ کیس جینوئن ہے یا دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
میں نے ایک ایسے ہی بندے سے پوچھا جب سوال اس قدر ذاتیات پر ہوتے ہیں تو تم لوگوں کو ڈسکس کرنے پڑتے ہونگے۔ اس نے میرے چودہ طبق اچھے خاصے روشن کئے۔ فرمایا اگر عورت سے شادی کی ہے اور اس سے ہم بستر نہیں ہوتے تو وہ کیسے یقین کر لے تم نے شادی کی ہے۔ تم کو اس کی تمام جنسی خواہشات پوری کرنی ہوتی ہیں۔ ورنہ وہ سمجھ جاتی ہے کہ کاغذات کے لئے کی ہے۔ اور اگر کسی کو پتہ بھی ہے تب بھی یہاں عورت شرم ہو حیا کی دیوی نہیں جس عورت کو اس کی اپنی عمر کا مرد نہیں پوچھتا ہو اپنے سے کئی سال چھوٹے اور نسبتا جوان مرد سے خواہش کیوں نہ پوری کرے؟ اگر عورت کو شک ہو جائے تو وہ مرد سے جنس کی حد تک خواہش پوری نہیں کرتی پھر اس کا معاشی احتصال بھی شروع کر دیتی ہے۔ مہنگی ترین شاپنگ اور عام طور پر عین انٹرویو کا لیٹر آنے پر گاڑی کی فرمائش کر دیتی ہے۔ یا گاڑی لے کر دیں ورنہ عورت ناراض اور یہ مغرب کی عورت ہے جس کو پتہ چل چکا ہے کہ آپ کن ہواؤں کے پنچھی ہیں۔
ایسی ہی ایک خاتون جن کی فرمائشیں پوری کر کر کے صاحب تنگ آ چکے تھے نے جب سختی دیکھانی شروع کی تو خاتون نے بھی تیور بدلے۔ بات بڑھی تو خاتون نے خود کو زخمی کیا اور پولیس کو فون کر دیا۔ صاحب اندر اور پھر بانڈ بھرا گیا تو چھوٹے۔
اس میں کوئی حیرت والی بات نہیں کہ میں نے سبھی خواتین موٹی اور چھوٹے قد کی دیکھیں۔ یہ دو تین سال تو خوب عیش کر لیتی ہیں لیکن گرین کارڈ ملتے ہیں خاوند صاحب بھاگ جاتے ہیں یا طلاق دائر کر دیتے ہیں۔ ویسے تین سال کے اندر اندر خاتون صاحب کو جیل کی سیر اور ڈیپورٹ کروا سکتی ہیں کہ اس نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے کاغذات کے لئے لہذا عقلمند مرد گرین کارڈ ملنے کے بعد بھی خاتون کی مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔ کچھ بھاگ جاتے ہیں جبکہ سارے دیسی بڑے شہروں میں “ہاٹ اینڈ سیکسی” کی تلاش میں پائے جاتے ہیں اور مارے مارے پھرتے ہیں۔ ایک ایسے ہی شخص کی آٹھ سال بعد مجھے خبر ملی ہے کہ کینیڈا میں اس کی پکڑ ہو گئی اب کینیڈا کا صدر صدر بش نہیں لہذا اس کو کہا گیا ہے کہ اچھا کینیڈین سے شادی کی کوئی بات نہیں واپس پاکستان جاؤ کاغذات بنواؤ اور پھر آؤ۔
جس بھی ملک میں جائیں کم از کم زبان ضرور سیکھیں۔ زبان کا آنا بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ خاص طور پر سپینش لیٹرز وغیر پڑھوانے کے لئے دوسروں کو ڈھونڈتے ہیں۔ جہاں میرے ماموں کا اسٹور تھا وہاں پیچھے میکسیکن رہتے تھے ستمبر 2006 میں اسکول کھلنے پر وہ میرے پاس اسکول کے لیٹر لے کر آ گئے جو بچوں کو بھیجے جاتے ہیں میں نے کہا میرے خدا ٹوٹی پھوٹی انگلش تو آتی ہے کہ لیٹر پڑھ لوں لیکن ٹوٹی پھوٹی میکسیکن کہاں سے سیکھوں کہ ان کو سمجھا سکوں۔ پھر ایک میکسیکن لڑکی پکڑی جو وہیں رہتی تھی اس کو انگلش میں سمجھایا اور اس نے آگے ان کو سمجھایا۔
اگر میرے کسی بھائی بند میں ہمت ہے کہ وہ موٹی تازی بھدی خاتون کی ساااااااااااااااااااااااااای خواہشات پوری کر سکتے ہوں تو میں کیا کر سکتا ہوں جو مرضی کریں قسمت اچھی ہوئی یا بری وقت ہی بتائے گا لیکن تین چار سال کا عذاب کاٹنا must ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے مجھے گرین کارڈ ایسے ہی دے دیا۔
ورنہ میں بھی کسی موٹی بوڑھی کالی کا “خصم” ہوتا اور “خصماں نوں” کھا رہا ہوتا۔
Popularity: 30%
Popularity: 30%
512 views
Related Posts
- None Found
Random Posts








ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
آر ریٹڈ کیوں نہیں لکھا۔۔۔۔ بلکہ ایکس ریٹڈ لکھنا تھا۔
راہبر’s last blog post..طوطا فال
موٹی بدی گوری سے اپنی سانولی اچھی!!!
شعیب سفدر’s last blog post..کراچی کی پہچان؟
راہبر: کیوں اس میں ایسا کیا لکھا ہے ؟ ویسے بلاگ کچھ عرصہ سے ؔر ریٹڈ ہوا ہوا ہے۔
شعیب: میرے پاس نہ موٹی بھدی نہ سانولی سلونی
پچھلی ساری پوسٹس سے پتہ نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے ، کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہو کہ میں کیچڑ میں سفید دودھ جیسے کپٹرے پہن کہ صاف ستھرا کھڑا ہوں !!!!
اظہر الحق بالکل صحیح سمجھے ہیں ۔۔۔۔
اظہر الحق: جو گناہ نہ کرے اور جس کو گناہ کرنے کا موقع نہ ملے دونوں ایک برابر ہوتے ہیں فرق گناہ کا ہی ہوتا ہے۔ تو بس مجھے ابھی تک گناہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
——-: وہ صحیح سمجھے کہ نہں آپ کو تو سمجھا دیا ہے نہ میں نے
یہ حالات ہیںتو اللہ زندگی بھر امریکہ نہ دکھائے۔
ساجداقبال’s last blog post..ونڈوز جینوئن ایڈوانٹیج(WGA) کی سردردی سے نجات
مجھے کیا سمجھا دیا ہے ۔۔