دنیا بڑی ظالم ہے۔ کوئی بھائی کا کیک میرے سر کر دیتا ہے تو کوئی باگڑ بلا پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتا تو کوئی اس باگڑ بلے کو بنیاد بنا کر گفٹ نہ دینے کا کہتا ہے۔ کوئی کہہ دیتا ہے گفٹ بھیجنے کا خرچہ خود اٹھاؤ۔ اب ایسے تھوڑی ہوتا ہے؟ خیر میں نے بھی حل سوچ لیا ہے۔
میرے کالے کرتوت بہت سے روشن دلوں کو میرے بارے میں کالے سیاہ خواب دیکھاتے ہیں لہذا کچھ یوں مکالمہ ہوتا ہے۔
سنو
جی سنائیں۔
اپنے کسی دوست کو کہو تمہارا صدقہ دے دے۔
کیوں؟
بس دے دے۔
کیوںںںںںںںںںں
میں نے خواب دیکھا ہے۔
کیا خواب؟
بتاتے نہیں ہیں۔
تو پھر صدقہ خوامخواہ دوں۔
دفعہ ہو جاؤ
خواتین تو صدقہ دینے میں بےحد شیر ہوتی ہیں۔ میری ایک چچی اس قدر صدقہ دیا کرتی تھیں کہ مجھے لگتا تھا امریکہ جانے کے چکر میں وہ پورا گھر صدقہ کر دیں گیں۔ شکر ہے ویزہ پہلی بار ہی ٹرائی پر لگ گیا ورنہ چچا سڑک پر ہوتے۔
اسی طرح ایک بابا جی کو جب میرے چچا نے چچی کے کہنے پر صدقہ میں انڈے دئے تو جس زمانے میں پیٹرول 15 روپے لیٹر ہوتا تھا اس مرد قلندر نے کہا ساتھ میں 20 روپے بھی دو مرچیں نمک وغیرہ لینا ہے۔ ورنہ انڈے واپس لے جاؤ۔ چچا بھی میرے تھے انڈے واپس لے لئے۔
میں نے گاڑی لی تو بتایا کہ سٹاپ سائن نہیں تھا تو رکا نہیں اوپر جاتے جاتے بچا ہوں امی کی دعائیں لگ گئیں۔ آنٹی نے سنا اور اسی دن بکرے کا صدقہ دے دیا۔ کرتوت میرے تھے جان بیچارے بکرے کی گئی۔
خواتین بہت کھلے دل کی ہوتی ہیں۔ اور پیسے خرچ کرنے میں شیر ہوتی ہیں۔ آپ چاہے چوڑے جمعدار ہوں ان کی نظر میں پیارا بھائی اور میرا سوہنا پتر ہی رہتے ہیں۔ لہذا آئے دن کسی نہ کسی بکرے کی شامت آئی رہتی ہے یا کام کرنے والی کی موج لگی رہتی ہے۔
میں ہوں ہی ازلی شریف میں نے کبھی کسی خاتون سے سوائے ان کے فون نمبر کے کچھ نہیں لیا۔
آپ فون کریں یہ آگے سے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ کچھ چاہئے؟ وغیرہ اتنی دفعہ پوچھتی ہیں کہ بندے کا خوامخواہ دل کرنے لگ جاتا ہے کہ کچھ منگوا ہی لوں ورنہ نہیں چپ ہونگیں۔ مجال ہے کبھی کسی بھائی بند نے پوچھا ہو کہ کچھ منگوانا تو نہیں؟ ان کو بھی پتہ ہوتا ہے بیگم جو بھیجے گی میرے پیسوں سے بھیجے گی لہذا چپ رہتےہیں۔
اگر کسی سے کچھ منگوانا بھی ہو تو پہلے پیسے بھیجتا ہوں کہ کسی خاتون سے کچھ لینا مجھے سخت زہر لگتا ہے۔
میرے کسی کے پاس پیسے تھے میں نے کہا یار ان پیسوں کا یہ کروا دو۔ فرمایا وہ تو نہیں رہے اب۔ میں سمجھا کوئی ضرورت ہو گی خرچ ہو گئے۔ مزید بھیج کر کام کروایا ایک دن بتایا گیا وہ پہلے والے پیسوں کا تمہارا صدقہ دے دیا تھا۔ میں نے کہا میرے خدا اب صدقہ بھی میرے اکاؤنٹ سے کاٹ رہے ہو اور بحث کی گنجائش نہیں کہ آپ خود برا محسوس کرتے ہیں کہ کیا لڑنا۔
یہ سارا قصور ہابیل اور قابیل کا ہے۔ عورت ذات پر لڑے اور بس تب سے صدقہ چل رہا ہے۔ اگر کوئی مصیبت سے پوچھے کہ وہ صدقہ میں مجھے لینا پسند کرے گی یا بکرے کو تو میرا خیال ہے وہ مجھ پر نازل ہو گی کہ بیچارے بکرے کا کیا قصور۔
تو مہربانوں میری اتنی لمبی تمہید کا مقصد ہے کہ جس جس بھائی بہن کی جیب میں دو چار روپے ہیں اور وہ مجھے کچھ نہ کچھ گفٹ دینے پر آدھے دل سے راضی ہے وہ نزدیکی ویلفئیر سینٹر یا کام کرنے والی یا گلی کے کونے والے فقیر کو میرا صدقہ دے کر ثواب حاصل کریں۔ یہ آپ کی طرف سے میرے لئے تحفہ ہے۔ اگر آپ کو تینوں نہ ملیں تو دو دو روپے والی قلفیاں کھائیں یا راکھ میں دبی چھلی کھا کر شکریہ کا موقع دیں۔ نہیں تو مجھے تقریبا سبھی انکار کر چکے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو دو دو دفعہ کر چکے ہیں۔
Popularity: 8% [?]
Popularity: 8% [?]
327 views
Related Posts
- None Found



























جی میں نے آپ کے کہنے پر یہی کام کیا۔
تحفہ کہ طور پر ایک رقم مخصوص کی اور خود ہی قلفیاں کھا رھا تھا کہ 2،4 دوست آگئے جب تک مخصوص رقم نے ساتھ دیا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہا ہوںکہ جو زائد رقم صرف ہوئی ہے اس کا کون حساب دے گا :muziq/
یہ ظاہر کرتا ہے ؔپ کا خود پر کنٹرول نہیں۔ اور مستقبل میں گھر کا خرچ بگیم کے ہاتھ میں ہو گا :laugh:
ظاہر ہے جناب ورنہ میں تو بٹ ہوں اور آپ کو تو پتا ہی ہوگا کہ بٹ کھانے کے علاوہ اور کچھ نہیںکرسکتے :muziq/
عبدالقدوس بھائی آپ بھی کمال کے ہو
بدتمز بھائی آپ بہت اچھا لکھتے ہیں
نوائے ادب’s last blog post..یہ ہے میرا پاکستان
جی شکریہ خرم بھائی :daydrmin: