ابلا ہوا انڈہ
214 views Published January 17th, 2008 in طنز و مزاح.میری بری بری عادتوں میں سے ایک مشکل پسندی ہے۔ جو چیز جتنی مشکل ہو گی مجھے اتنی پسند ہو گی۔ جس چیز کو پانے کی جتنی جدوجہد کرنی پڑے وہ اتنی من پسند ہو جاتی ہے۔ جو چیز آسانی سے مل جائے وہ میں نہیں لیتا۔ کبھی کبھی کسی چیز کے لئے انہونی طور پر بھی ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی چیز کے لئے کوشش کر رہا ہوں اور وہ اتنی میرے لئے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ایسی چیز کو میں نے ہر قیمت پر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ابھی تازہ ترین انہونی ہوئی ہے ایک ابلے ہوئے انڈے پر۔
ابلے ہوئے انڈے پر؟ جی ہاں میری حرکتیں کچھ ایسی ہی اوٹ پٹانگ ہیں۔ دراصل قصہ کچھ یوں ہے کہ ہماری امی کو ہر وہ کام سند لگتی ہے جو ان کے لئے سہولت پیدا کردے۔ پاکستان میں سنا تھا کہ ناشتہ میں ایک انڈہ کھانے سے انسان تندرست رہتا ہے۔ اب یہ امریکی بڑے بےہودہ ہیں۔ میں ہفتہ قبل صرف انڈے کے متعلق پڑھ رہا تھا کہ اس کے اندر کیا کیا اجزا پائے جاتے ہیں اور کس وجہ سے یہ ہر انسان کے لئے روزانہ کھانا مناسب نہیں۔ لہذا اب یہ پوری صنعت ہے۔ انڈوں کو کلچر کر کے اس کے اجزا کو انسانوں کی (امریکہ میں بسنے والے) بہت بڑی تعداد کے لئے روزانہ کھانا قابل قبول بنایا گیا ہے۔ اب میرے ماموں نے کہہ دیا کہ روزانہ تو انڈہ نہیں کھانا چاہئے۔ وہ دراصل انہوں نے میری صحت دیکھ کر کہا دیا تھا کہ بچہ بھینس کا بچہ لگ رہا ہے اب اس بات کو امی نے پکڑ لیا ہوا ہے۔ لہذا امی کو انڈہ بنا کے دینے کے تین دن بعد تک یاد رہتا ہے کہ پرسوں کھایا تھا۔
انڈہ جتنا مجھے مرغوب ہے اتنا گھر میں تو کیا خاندان بھر میں کسی کو نہ تھا۔ قصے کہانیوں میں پڑھا تھا کہ جن بچوں کو گھر سے انڈہ نہیں ملتا تھا وہ محلے کی خالہ، ماسی اور تائی کے ڈربوں سے چرا لیا کرتے تھے۔ میری دفعہ لاہور دور دور تک ترقی کر گیا اگر کسی نے ڈربہ بنایا بھی ہوا تھا تو چھت پر اپنے صحن میں جہاں تک میری رسائی نہ تھی۔ خود میری دادی نے چھت پر مرغیاں پالی تھیں اور چوزے ہونے کی وجہ سہے ہمارا وہاں جانا ممنوع تھا کہ ایک بیچارہ قدموں میں آ کر شہید ہو گیا تھا اور قاتل کا پتہ نہ چل سکا تھا۔ اب اس ناگہانی کا حل میں نے سکول سے انڈے لے کر پورا کیا۔ دل کو تسلی دی کیا ہوا ڈربہ سے نہ صحیح یک جنبش قلم سے ہی صحیح۔
میری پھپھو نے نیا مکان بنوایا تو بنوا کر بھی کم از کم 6 مزید مکانوں کی جگہ ویلی پڑی رہی۔ انہوں نے کتا مرغی بھینس اور بکرے پال لئے۔ کتا ہمیں دیکھ کر اس قدر مسرت سے بھونکتا تھا کہ ہم اس کے بندھے ہوئے ہونے کا یقین کر کے بھی باہر قدم نہ نکالتے تھے۔ بکرے ہماری صورت دیکھ کر ہی خونخواری پر مائل ہوتے تھے۔ بھینس البتہ کسی قدر شفقت سے پیش آتی تھی کہ ہمارا پیدائشی کالا سیاہ رنگ اس کو اپنے کٹے کی یاد دلاتا تھا۔
مرغیاں ہم سے شرمائی شرمائی پھرتی تھیں (ابھی تک پھرتی ہیں
) لہذا سوچا کہ ان کا طفل یعنی انڈہ اغوا کیا جائے اور توجہ حاصل کی جائے۔ اب ہمارا ایک کزن کہے انڈہ ہمارا ہے اور ہم کہیں انڈہ ہمارا ہے۔ مرغیوں نے سنا تو سر پیٹ لیا کہ جن کا انڈہ ہے ان کا دور دور تک ذکر نہیں۔ یار لوگوں نے بہتیرا سمجھایا کہ میاں نر انڈے نہیں دیا کرتا لیکن ہم دونوں کی بانگیں دیکھ کر تو مرغیوں کی بھی ہمت نہ پڑی کہ پدر عزیز کی مدد کو آتیں۔ بالآخر ہم نے امن پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کزن کو دعوت دی کہ وہ ڈربہ میں گھسیں اور انڈہ برآمد کریں۔ کزن اندر گھسا اور میں دروازہ بند کر کے آ گیا۔ یہ اینٹوں کا بنا ہو مظبوط ڈربہ تھا جس کا دروازہ بلی کی وجہ سے لوہے اور جالی کا بنا ہوا تھا۔ کزن تو برآمد ہو گیا کبھی نہ کبھی لیکن انڈہ نہ اسکو ملا نہ مجھ کو۔ بہ عرصے بعد جب ہم بچپن سے نکل کر ٹین ایج سے بھی گزر گئے تب بھی بڑے ڈربہ میں جس میں بکرے اور مرغیاں مل جل کر رہتے تھے میں میرا کزن مجھے ساتھ لے کر ہی گھسا کہ میں پھر نہ اس کو اندر بند کر دوں۔
انڈے سے یہی محبت مجھے ہر سال سردیوں میں جاگ اٹھتی ہے۔ ابھی تین دن قبل میں نے کہا انڈہ ابالتا ہوں۔ انڈہ ابلنے رکھا اور کمپیوٹر پر بیٹھ گیا۔ آنچ بہت ہلکی رکھی تھی کہ میں اکثر کمیوٹر پر بیٹھوں تو چولہا بھول جاتا ہو نتیجتہ کچھ نہ کچھ جل جاتا ہے۔ چائے جلا کر برتن کالا تو میں تین چار دفعہ کر چکا ہوں۔ لہذا اس دفعہ آنچ ہلکی رکھی اور امی سمجھی کہ بڑی دیر کا پک رہا ہے چولہا بند کر دیا۔ میں نے انڈہ توڑا تو میری پسندیدہ زردی ابھی تک مائع تھی۔ لہذا پھینکنا پڑا۔
اگلی رات سوچا انڈہ ابالوں۔ پانی ڈالا چولہا سیٹ کیا۔ اور آ گیا۔ بڑے وقت کا دھیان لگا لگا کر جب مقررہ وقت جا کر ڈھکن اٹھایا تو انڈہ صاحب تریڑ آنے کی وجہ سے اپنی ساری سفیدی اپنے وجود کے ارد گرد چپکا چکے تھے۔ لہذا پھینکنا پڑا۔
اگلی رات کہا اچھا کل چھٹی ہے۔ چلو انڈہ ابالیں۔ پانی ڈال کر انڈہ رکھا اور جا کر بیٹھ گیا۔ گیم کھیلی کارٹون دیکھے۔ جو جو آن لائن آیا اس کے دماغ کا دہی بنا کر چھوڑا۔ جب جا کر دیکھا تو انڈہ بدستور ویسے کا ویسا۔ دراصل چولہا چلانا بھول گیا تھا۔
آج رات میں نے کہا بس بہت ہو گئی۔ آج یا تو ایک ایک کر کے 18 پیک سارا ختم کر دونگا یا پھر کھا کر ہی چھوڑونگا۔ پانی ڈال کر انڈہ رکھا اور چولہا جلا کر آ گیا۔ آدھے گھنٹے بعد کچھ جلنے کی بو آئی۔ میں نے کہا ضرور جب چائے بنائی تھی تب کیتلی کی سائیڈ پر لگا دودھ جلا ہے بھاگا لیکن جناب کیتلی سے تو بھاپ نکل ہی نہیں رہی۔ میں دراصل چاولوں کے نیچے چولہا جلا آیا تھا۔ سارے جل کر جلنے کی بو پھیلائے ہوئے تھے
بس خود پر تین حرف تین دفعہ بھیجے۔ چاولوں کی دیگچی اٹھا کر سائیڈ پر پٹخی۔ لائٹ جلا کر درست چولہا جلایا اور جا کر بیٹھ گیا۔ اللہ اللہ کر کے ہلکی آنچ پر ایک گھنٹہ گزرا تو ابلا ہوا انڈہ تیار تھا۔ شکر ہے مل گیا نہیں تو امی کہتی ہیں اس ایک انڈے کے پیچھے گھر جلا کر چھوڑے گا۔
سچی اتنی مشکلوں کے بعد ملنے والا انڈہ اس قدر مزے کا لگا کہ بس۔
اس کے علاوہ کون سی ڈش بنانا سیکھوں ؟
Popularity: 15%
Popularity: 15%
214 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









ہاہاہاہا
چلو انڈہ تو ملا۔ وہ بھی ابلا ہوا میرا ہر بار کچا رہ جاتا ہے۔
اچہی تحریر ھے۔ پڑہ کر مزھ آگیا۔
میرا پاکستان’s last blog post..ايٹمی طاقت ہونا رحمت کی بجائے زحمت بن گیا
انڈا ابالے بغیر بھی کھایا جاسکتا هے!!! بُری تقریر پر اسٹیج پر کھاتے دیکھا هے!!!
ویسے ‘پنڈ’ میں میں تو اهل محلے کی مرغیوں کے انڈے اُٹھا لاتا تھا!!
شعیب صفدر’s last blog post..تم کیسی محبت کرتے ہو؟
سلام
شاکر: آپ کا :twisted:
میرا پاکستان: آداب عرض ہے۔
شعب صفدر: اسی لٕے میںنے کبھی تقریر نہیں کی۔ ویسے تو انڈہ بہت سے طریقوں سے کھایا جا سکتا ہے لیکن میرا فیورٹ سردیوں میںرات کو ابلا ہوا اور ویسے ہر وقت آلو انڈہ۔ دونوں چیزین سکول گھر اندر باہر ہر جگہ ملتی ہیں۔