مسلمانوں کو بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ تعزیت کرتا ہوں کہ ان کا نیا سال شروع ہو گیا ہے۔ ذرا ٹھہرئیے میرے دماغ کے بارے میں شبہ مت کریں یقین رکھیں کہ خراب ہے۔
ساری دنیا کا نیا سال خوشیوں سے شروع ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور پر امید ہوتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لئے مزید کامیابیاں لائے گا۔ ایرانی نو روز ہو یا چائنیز نیو ائیر۔ یہود کا نیا سال ہو یا عیسائیوں کا ساری دنیا خوشیاں مناتی ہے چراغاں ہوتا ہے۔
لیکن ایک مسلمان ہیں۔ سب سے پہلے تو نئے سال کا استقبال ایک آرڈیننس سے ہوتا ہے جس میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو رونا دھونا شروع ہوتا ہے تو چلتا ہی جاتا ہے۔ ہمارے سال کی شروعات رونے دھونے سے شروع ہوتی ہے اور سارا سال رونا دھونا چلتا رہتا ہے۔ جو تماشہ اور ڈرامہ ہوتا ہے ایک عام انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اس قدر بےوقوف ہیں۔ سارا جہاں ان کا تماشہ دیکھتا ہے۔ جو نہیں دیکھ سکتے ان کی کسر جیو پوری کر دیتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ تین دن کے سوگ کا حکم ہے۔ اس سے زیادہ کا نہیں۔ روتے ہوئے دھاڑیں مارنے کا حکم نہیں لیکن ہم تو پیٹتے جاتے ہیں۔ اور تو اور محرم صفر دو ماہ شادیاں نہیں کرتے یہ ایک نیا حکم میرا خیال اللہ میاں 1429 سال پہلے دینا بھول گئے تھے لہذا اب دیا گیا ہے۔ اب دین مکمل ہو گیا ہے لہذا مسلمانوں تم کو نیا سال مبارک۔
Popularity: 15% [?]
Popularity: 15% [?]
712 views
Related Posts
- None Found


























بدتمیز، نئے سال کے شروع میں افسوس کریں گے تو آپ کو ایسا ہی لگے گا۔ اگر محم الحرام کی عظمت کو سمجھ جائیں تو ایسی باتیں نہ کریں۔ باقی لوگ آتش بازی اور خوشیاں منا کر سال شروع کرتے ہیں۔ اور ہم اللہ کی عبادت اور روزے رکھ کر۔ (روتے صرف شیعہ ہیں۔ ہم تو کبھی نہیں روئے)
نیا سال مبارک ہو۔
ماوراء’s last blog post..نیا اسلامی سال مبارک
ماورا آپ کی میری بات سمجھ کیون نہیں لگتی؟ محرم کی عظمت کو لوگ سمجھتے تو ایسے روتے پیٹے۔ سارے سنی گھرانے سوگوار ہوتے ہیں اگر روتے نہیں اور کس خوشی میں پھر شادی بیاہ نہیں کرتے؟ اگر جیسا آپ کہہ رہی ہیں تو شادی بیاہ سے احتراز نہ ہوتا۔
بدتمیز! یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ سارے سنی گھرانے سوگوار ہوتے ہیں؟ ایسی تو کوئی بات نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں تو پہلے کی طرح سارے معمولات جاری رہتے ہیں۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ شادی بیاہ نہیں کرتے۔ یقینا شادی بیاہ کرنے میں کوئی ممانعت ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ صرف شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کے احترام میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ جس دن ہمارے کسی عزیز یا والدین کی وفات ہوجائے، اس دن کوئی شادی وغیرہ نہیں کرتا۔۔۔ زندگی بھر اس دن کوئی خوشی کی تقریب نہیں رکھتے۔ ممانعت تو ہرگز نہیں، بس ایک احترام و سوگواری سی چیز ہے۔ اب جیسے آج 12 جنوری کو خدا نہ کرے میرے کسی عزیز کی موت ہوجائے تو صرف اس سال نہیں بلکہ زندگی بھر میرا دل 12 جنوری کو کوئی خوشی کی تقریب منعقد کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ 12 جنوری کو شادی کرنا یا خوشی منانا حرام ہوگیا۔۔۔!
اگر آپ روایات شکن بننا چاہیں تو اپنا نکاح 9 محرم کو اور ولیمہ دس محرم کو رکھئے گا۔
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
ایک دفعہ میرے ابو کی دکان پر دو لوگ آئے۔ اسی طرح کی باتیں کرنے لگے کہ محرم میں لوگ شادی نہیں کرتے، اسے حرام سمجھ لیا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بلکہ یہ کہنے لگے کہ اس مہینے میں تو لازمی شادی کرنی چاہئے تاکہ پتا چلے کہ حرام نہیں ہے۔ ابو نے جواب دیا کہ اس طرح تو لوگ اپنے باپ کے یومِ وفات پر بھی شادی نہیں کرتے، تو کیا باپ کے یومِ وفات پر شادی کرنا حرام ہوگیا؟ اور ابو نے اس کو کہا کہ چونکہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے تو اس لیے جس دن تمہارا باپ مرجائے، تم اسی دن شادی کرنا۔۔ تاکہ پتا چلے کہ اس دن شادی کرنا حرام نہیں۔ یہ جواب سن کر وہ فرار ہوگیا۔
محترم میں تو سمجھ رہی تھی کہ آپ صرف نام کے ہی بدتمیز ہیں مگر آپ تو کام کے حوالے سے ہی بدتمیز نکلے اور جس پوائنٹ کو آپ اٹھا رہے ہیں وہ اسلام پر انگلی کے مترادف ہے اور میں تو یہی کہوں گی کہ ہمارے دماغ کی ٹیونگ کی بجائے کسی اچھے اور ماہر ڈاکٹر سے اپنا علاج کرا لیں وہ بہتر رہے گا
بدتمیز، آپ کو کسی کی سمجھ آتی ہے کیا؟ اور مجھے تو واقعی آپ کی سمجھ نہیں آتی۔
فی الحال عمار کی باتوں پر غور کریں۔ میرا موڈ ہوا ہے تو محرم پر لیکچر دیتی ہوں۔ ویسے تو آپ سے بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ آپ کی محرم میں شادی ہونی تھی جو اتنا اعتراض کر رہے ہیں؟
ماوراء’s last blog post..نیا اسلامی سال مبارک
کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیںپہنچانی چاہیے۔ اس پوسٹ کو پڑھ کر کئی لوگوںکی دل شکنی ہو گی، بہتر ہو گا اگر اسے ایڈٹ کر دیا جائے یا مکمل ڈیلیٹ۔ باقی آپکی مرضی ہے۔ ویسے ہر اچھی بات صدقہ ہوتی ہے۔۔۔
فیصل’s last blog post..دنیا داری
سلام
راہبر:
سارے سنی گھرانے سوگوار ہوتے ہیں؟
ٌ————————————-
اں یہ ضرور ہے کہ شادی بیاہ نہیں کرتے۔ یقینا شادی بیاہ کرنے میں کوئی ممانعت ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ صرف شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کے احترام میں ہوتا ہے۔
ممانعت تو ہرگز نہیں، ایک احترام و سوگواری سی چیز ہے۔
————————————
راہبر آپ کی یہ دونوں سٹیٹمنٹس متضاد ہیں ۔ آپ ذرا بڑے سینیریو مین دیکھیں اگر کسی کا خاندان بہت بڑا ہے اور سال کے ہر ہفتہ یعنی 52 اموات ہوتی ہیںتو کیا وہ اب ساری عمر کوئی تقریب نہ رکھے۔ کراچی کا علم نہیں پنجاب میں بہت دور دور تک رشتہ داروں کا سلسلہ چلتا ہے۔
لوگ شائد والدین کی وفات کے دن یقین نہیں رکھتے ہونگے کیونکہ اس دن انہوں ایک اور “فنکشن” سالانہ ختم یا برسی منانی ہوتی ہے۔ اس لئے کوئی اور تقریب کیا معنی رکھتی ہے؟ چلیں بالفرض کچھ لوگ نہیں کرتے تو وہ اپنے ماں باپ کی وفات کا دن نہیں مناتے ہونگے۔ پھر کچھ ہونگے وہ اپنے دادا دادی کے فوتگی کے دن بھی کوئی خوشی کی تقریب نہیں مناتے ہونگے لیکن پڑدادا تک بھول جاتے ہونگے لیکن یہ سلسلہ چاری و ساری ہے۔
پھر آپ ذرا تمام صحابیوں اور شہدا وغیرہ جو کہ ہزاروں میں ہونگے کی یوم وفات نکالتے جإئیں میرے خیال سے آپ روزانہ کسی نہ کسی کے لئے روئیں گیں۔ پھر سب سے بڑی بات کہ آپ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تو نہیںایسا کرتے۔ اور ان کے کسی صحابی کے لئے نہیں۔ یہاں ہی عزت و احترام کیوں آ گیا؟
چلیں آپ نے اب انکل کی بات کی ہے تو ٓپ کا سینیریو اور بڑا کر دیتا ہوں کہ حضرت امام حسن بہرحال کسی پیغمبر سے بڑے نہیں۔ کیا آپ کا سال ایک لاکھ چوپیس ہزار پیغمبر کی وفات کے دن کاؤنٹ کر لیتا ہے۔ ذرا حساب لگائیں ایک دن میں کتنے پیغمبر بنتے ہیں۔
اسلام میں حجتیں نہیں چلتیں۔ دین بدلنا یا اس کو اپنی پسند دے ڈھالنا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناپسند تھا تو آپ کیسے ان کے کسی رشتہ دار کو ایسی رعایت دے سکتے ہیں؟ ٓآپ کو ابھی یہ سب سمجھ نہیں آئے گا۔
جان جاناں: آپ نے اسلام کی بہت اچھی خدمت کر لی۔ اسلام ہی آپ کو اس کا اجر دے سکتا ہے۔ وہ کیا آیت تھی گونگے بہرے والی؟
ماورا: میرے خیال سے آپ کو جواب مل گیا ہو گا۔ نہیں تو آپ کو تو ویسے بھی سمجھ نہیں آتی
فیصل: میں نے کسی دوسرے کی دل شکنی کے لٕئے نہیں لکھا۔ اگر اس سے کوئی ای بھی سوچنے پر مجبور ہو جائے تو میرا مقصد پورا ہو گیا۔ بدقسمتی سے میں قائل نہیں کہ اس سوچ کو غلط ثابت کیا جا سکے۔ لہذا اس کو ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
یکم محرم کو تیری ساس کو خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو پھر سب دیکھیں گے تو کتنے دن سوگ مناتا ہے ۔
مریں ! فیر تو کیہنا ہیں کہ مینوں سارے ظالم تے سخت دل کیہندے نے
جینوئین بدتمیز نہ بن ! چھڈ دے ایہو جئے کم
قدیر احمد’s last blog post..Development of Bayaaz
بدتمیز! آپ کی بات کا مختصر ترین جواب یہی ہے کہ “با ادب۔۔۔ با نصیب”
دیکھیں، یہ تو ہم پر منحصر ہے کہ ہم کسے کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اور بات صرف موت کی نہیں ہے۔۔۔ بات اس ظلم کی ہے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے قافلہ پر ڈھایا گیا۔ اس بات کی وضاحت میں بار بار کرتا ہوں اور ایک بار پھر کیے دیتا ہوں کہ کوئی عالم، کوئی دینی یا مذہبی کتاب یہ نہیں کہتی کہ محرم میں شادی کرنا حرام ہے یا سخت گناہ کی بات ہے۔ بالکل جائز ہے، کرسکتے ہیں۔ لیکن جو احترام اور ادب کے سبب نہیں کرنا چاہتے، ان کے پیچھے لاٹھی لے کر کیونکر پڑسکتے ہیں کہ نہیں جی، تم محرم ہی میں شادی کرو۔
ہمارے ہاں کراچی میں اکثر پبلک ٹرانسپورٹ کے پیچھے لکھا ہوتا ہے: پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
قدیر: آپ نے اسلام کی بہت خدمت کر لی پھر آپ کہیں گیں اتنے سالوں سے اسلام کی کتب پڑھ رہے ہیں۔ کوشش کیا کریں ایسے موضوعات پر سنجیدہ رہا کریں۔ ویسے تماہری اطلاع کے لئے عرض ہے میری دادی یکم محرم کو فوت ہوئیں تھیں۔
راہبر: آپ سے بحث کا کوٕئی فائدہ نہیں آپ اعتقاد اور ایمان میں فرق تلاش کریں پھر بحث کریں گیں۔
اس گرانقدر مشورے کا شکریہ۔ آپ بش کے دیس میں بسنے والے پڑھے لکھے انسان ہیں۔ ہم جیسے سادہ لوح مسلمانوں کیا حیثیت آپ کے آگے۔ لیکن حیرت ہے کہ ایسے تمام موضوعات کی تان آپ یہاں لاکر توڑ دیتے ہیں کہ لوگ یہ سب کچھ دین یا اسلام کا حصہ سمجھ کر کرتے ہیں۔ بے چارے مسلمانوں پر ایسے الزامات نہ لگایا کریں۔
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
بحوالہ فتاویٰ رضویہ (تخریج شدہ) جلد: 11، صفحہ 265:
سوال ہے کہ آیا محرم/ صفر میں نکاح کرنا حرام ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کیوں؟
جواب درج ہے کہ نکاح ہر مہینے میں کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
یہ صرف اس بات کے ثبوت کے لیے لکھا کہ واضح رہے، شریعت میں محرم یا صفر میں نکاح کرنا روا رکھا گیا ہے۔
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
I think the views are on either extremes. Badtmiz is correct when he says that ‘muslims’ start off the new year totally opposite to what the whole world does when its their new year. But the way he progressed in the post
.. “رونا دھونا چلتا رہتا ہے۔ جو تماشہ اور ڈرامہ ہوتا ہے”.
It was a bit inappropriate.
Other bloggers are correct when they say that its just because of ‘respect’ that one does not do a nikah. This should not in anyway stop people from observing other acts on these dates.
I believe sincerity counts here. Media goes into overdrive when observing Muharram which appears to others as,
“تماشہ اور ڈرامہ”.
,as Budtmiz said.
Quite a large population does not act what the media portrays because they are of other sect. Shias have all the right to observe their rites and they should in all honesty do as they feel they should. But it should not be portaryed as a reflection of all the muslims. Some muslims really do welcome new year!
Take care..
PostMan’s last blog post..How Apt
عمار، کس کے ساتھ سر کھپا رہے ہو؟
بس جی جی کر دیا کرو۔۔۔ ورنہ اپنی ہی عزت خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔
ماوراء’s last blog post..میری ماں
باقی کی گفتگو سے مجھے کچھ لینا دینا نہیں مگر یاد رہے کہ یہودیوں کا نیا سال روش ہشانا ہوتا ہے اور سال کی دسویں تاریخ کو یوم کپور اور یہ دس دن عبادات اور استغفار میں گزارے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عاشورہ اصل میں یوم کپور ہی سے متاثر ہے۔
راہبر: پھر بھی آپ ایسے ری ایکٹ کر رہے تھے
پوسٹ مین۔ ویلکم
ماورا:
زکریا: بہت شکریہ، کہاں عبادت اور استغفار اور کہاں رونے پیٹنے
ہاں! وہ میں نے آپ سے Chatکرنے کے بعد تلاش کیا تھا۔۔۔۔
راہبر’s last blog post..بے وقوف لوگ