ریٹڈ آر۔ بچے اور خواتین بالکل مت پڑھیں۔ بزرگ درگزر فرمائیں۔ دوست عزت افزائی سے پرہیز کریں۔ اللہ سب کا بھلا کرے۔
برصغیر میں کنوارا نہ ہونا مسئلہ ہوتا ہے اور اور امریکہ میں کنوارا ہونا۔ آپ کو ادھر ادھر سے آئے دن ایسے غیرت پر قتل کی خبر ملتی رہتی ہے۔ مجھ سے جتنے افریقن امریکن نے بات کی وہ پہلے حیران ہوتے ہیں کہ لوگ کیسے “گزارہ” کرتے ہیں۔ پھر وہ خدا کا شکر کرتے ہیں کہ وہ امریکہ میں ہیں نہیں تو دوزخ میں ہوتے۔
(افریقن امریکن میں جنسی تعلقات اور نتیجہ میں بچہ پیدا ہونے کی ریشو سفید فام سے زیادہ ہے)
یہاں سب سے زیادہ آپ کے کنوارے ہونے کی پریشانی کسی بھی خاتون کو لاحق ہوتی ہے
متفقہ خیال ہے کہ یہ آپ کی “مدد” کرنا چاہتی ہیں
پچھلے سال ایک انڈین کے سسر فوت ہو گئے۔ اس نے انکل سے کہا کہ ذرا ایک دن نگرانی کرنی ہے۔ اب انکل بزی تھے تو مجھے بھیج دیا۔ وہاں موجود افریقن امریکن خاتون اتنے عرصے سے کمیونٹی میں موجود عرب مسلمانوں اور ہندوؤں کو جانتی تھی کہ یہ لوگ شادی سے پہلے تعلقات قائم نہیں کرتے۔ (بہت بڑی اکثریت نہیں کرتی
) لہذا اس نے مجھ سے پوچھا تم شادی شدہ ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ پوچھا گرل فرینڈ؟ میں نے کہا نہیں۔ بس سارا دن ہر کسی کو بتاتی رہی کہ یہ ورجن ہے۔ میں لوگوں کے اس قدر حیران ہونے پر سوچ رہا تھا ٹکٹ لگا لوں
لوگ بہت حیران ہوتے ہیں۔
جب میں یہاں آیا تو مجھے صرف ایک دو اصطلاحات کا علم تھا۔ لیکن ان لوگوں نے ایسی ایسی ٹرمز بنا رکھی ہیں۔ مجھے تو افریقن امریکن کے تلفظ کی زیادہ سمجھ نہیں لگتی۔ خاص طور پر جب یہ بہت تیز تیز بولتے ہیں۔ لہذا اکثر خواتین آپ کو کچھ نہ کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں جس پر سب ہنستے ہیں لیکن آپ کے کند ذہن میں بات پلے نہیں پڑتی۔ ان ٹرمز میں سے مجھے ایک دو ہی کا پتہ چلا باقی ابھی تک نہیں یاد کیں۔ زیادہ تر 28 سے 35 سال کی فری ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایک دفعہ ایک خاتون نے پوچھا یہاں کوئی کمرہ ہے؟ میرے دوست نے پوچھا کیا کرنا ہے؟ میری طرف اشارہ کر کے کہا اس کو !/ئٌؕؐٔ ہ ہے میں نے کوئی گھنٹہ کمرہ ڈھونڈا نہیں ملا
مذاق کر رہا ہوں خاتون بلا مبالغہ 35 یا اوپر کی ہونگیں۔ اور اس قدر واہیات تھیں۔ سب لوگ ہنس رہے اور میں شرمندہ۔
جب میں گاڑی ڈھونڈ رہا تھا تو ایک عرب کے ساتھ گیا۔ اس نے راستہ میں کسی عرب سٹور مالک سے ملنا تھا۔ گرمی بہت تھی اس نے ہمیں کاؤنٹر کے اندر لا کر بٹھا لیا۔ اتنے میں ایک افریقن امریکن ماں بیٹیاں آئیں۔ ماں لاٹری کھیل رہی تو اس نے اس کو tease کرنا شروع کر دیا کہ یہ ٹکٹ لو وہ ٹکٹ لو تو اس نے کہا میں تم پر**********۔ بیٹی نے سنا تو کہتی دیٹس رائٹ میری ماں تم پر اور میں اس پر
اب مجھ معصوم کی اس نے ساری ہڈیاں توڑ دینی تھی اپنے وزن سے۔
ایک دفعہ ایک خاتون کی دکھ بھری داستان سن رہا تھا۔ خاتون نے ہر قومیت کے بندے سے ایک بچہ لے رکھا تھا۔ اور ان سب بچوں پر خاتون سوشل سیکیورٹی، سوشل سروسز پلس ان تمام کے باپوں سے پیسے وصول کر کے عیش کر رہی تھیں۔ فرمایا ابھی تک میں نے کسی انڈین کو نہیں “چکھا” میری آنکھیں فٹ گول ہو گئیں۔ میں نے بڑی معصومیت سے کہا میں تو انڈین نہیں اور بھاگ آیا۔
جب ماموں کا سٹور تھا تب ساحل پر جانے کے لئے بہت سے لوگ آتے تھے۔ خواتین بہت کم کپڑوں میں ملبوس ہوتی تھیں۔ ایک دن دو خواتین اور ایک لڑکا آئے۔ میں نے ساری چیزیں رنگ کی تو وہ لڑکا ڈسکاؤنٹ مانگے۔ میں نے انکار کیا تو لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کی طرف اشارہ کر کے کہا اگر یہ اپنا رہا سہا بھی دیکھا دے تو تم ڈسکاؤنٹ دے دو گے۔ اب میں سخت جھینپ گیا۔ اس لڑکی نے لڑکے کو کہا شٹ اپ لیکن دوسری لڑکی پھدک کے آئی اور کہتی میں بھی میں بھی۔ خیر پہلی لڑکی نے پے کر تو دیا لیکن سخت بے حیا تھی۔ یہ بے حیائی بتائی نہیں جا سکتی۔ لہذا یہی تک گزارہ کریں آر سے ایکس ریٹڈ نہیں کرنا۔
اسی سٹور پر ایک سفید فام عورت نازل ہو گئی۔ پہلے پہل یہ صرف باہر مانگتی نظر آتی تھی اور فورا بھاگ جاتی تھی۔ پھر اس نے طریقہ پکڑا کہ کسی مرد کے ساتھ باتیں کرتی کرتی آئی اور واپسی پر اسی کے ساتھ چلی جاتی۔ ایک دن بہت نشہ میں تھی۔ مجھے کہتی اپنا نمبر دو۔ میں نے کہا میرے پاس موبائل نہیں کہتی اچھا میں اپنا نمبر دونگی۔ اگلے دن پھر باہر مانگ رہی تھی۔ میں نے جا کر کہا یہاں مانگو مت اور بھاگ جاؤ نہیں تو پولیس کو فون کر دیں گیں کہتی رات تم نے نمبر نہیں دیا تھا۔ تم نوجوان ہو میں تمہارے لئے بہت بوڑھی ہوں۔ فٹ اپنی بیٹی کو آواز دی جو کہ گاڑی میں چھپی بیٹھی تھی۔ اب اس نے بیٹی کے “فیچر” گنوانے شروع کئے۔ ویسے بیٹی پیاری تھی
میں نے کہا میرے باپ کی توبہ جو آئندہ تمکو کہنے آیا بالا ہی بالا پولیس کو فون کر دیں گیں یہ تو میرے انکل نے جو عرب ملازم رکھا تھا اس نے کہا تھا کہ جا کر اس کو کہو۔ اسی طرح ایک دفعہ میرے ساتھ ایک افریقن امریکن نے کیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا میری بیٹی کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں اس نے بھی فٹ بیٹی کے فیچر گنوانے شروع کر دئے۔ اگر مائیں ایسی ہونگی تو اولاد سیدھی کیسے ہو گی؟
اسی سٹور پر میں نے سب سے بڑی بےوقوفی ماری۔ ایک سفید فام عورت نے مردانہ طاقت کی گولیاں لیں اور ساتھ میں پروٹیکشن کا ایک پیکٹ۔ مجھ سے پوچھا یہ گولیاں کام کرتی ہیں؟ میں نے بےوقوفی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا معلوم نہیں کبھی استعمال نہیں کیں ویسے آپکو علم ہے کہ یہ مردوں کے لئے ہیں۔ عورت نے مجھے تفصیل سے دیکھ اور پھر پیسے دے کر چلی گئی۔ ابھی تک ہنسی آتی ہے یہ کیا حرکت کی تھی۔
مجھے کسی کو پک ن ڈراپ دینے کے لئے جانا پڑتا تھا۔ سٹور کا مالک ہندو تھا۔ میں اکثر اندر کھڑا ہو جاتا تھا۔ کیونکہ گاڑی میں ٹک کر بیٹھنا ذرا مشکل کام ہے۔ اچھی بھلی عورتیں ایک دم سے بکاؤ مال بن جاتی ہیں۔ اکثر ٹیکسی ڈرائیور یہاں موجود خواتین سے چپک جاتے ہیں کیونکہ یہاں فورٹ لی ہونے کی وجہ سے ٹیکسی ذرا اچھا پیسے والا کام ہے تو یہ عورتیں پیسوں کے لالچ میں ان انتہائی قابل نفرت بدبو دار لوگوں کو چپکنے دیتی ہیں۔ ان عورتوں کا صرف ایک ایکسکیوز ہوتا ہے۔ “نہیں بچے ساتھ ہیں” اگر بچے نہ ہوں تو خاتون سکون سے “کام” پر چلی جاتی ہیں۔ ایک عورت عام طور پر دو سو سے تین سو ڈالر فی ہفتہ کماتی ہے لیکن اس کام پر جانے کے اس کو آسانی سے اتنے ہی پیسے ایک وقت کے مل جاتے ہیں۔ میں ایسے کتنے افریقن امریکن خاندان دیکھ چکا ہوں جن کے ہر بچہ کا باب مختلف ہے۔
یہاں کا مالک ہندو میری موجودگی سے بےخبر ایک ایسی ہی افریقن امریکن کو کنوینس کر رہا تھا کہ اس کا ایک دوست اس عورت سے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے اور ایج فیکٹر کی وجہ سے کہتا ہے تمہیں کسی بھی چیز کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اصل سٹیٹمنٹ ذرا مختلف تھی۔
مجھے بہت ہنسی آئی۔ کچھ دنوں بعد گیا تو خاتون نے ادھار کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا دوست سے پوچھا تو پتہ چلا انکل کو ابھی تک مال متاع میں سے حصہ نہیں ملا۔ الٹا وہ عورت گاڑی دیکھ کر پہلے میرے دوست پر لٹو ہوئی کہ اس کی ہے اب میرے پر ہے یعنی جس کی گاڑی اس کی لڑکی۔
مجھ سے ایک افریقن امریکن نے پوچھا تمہارے کتنے بچے ہیں۔ میں نے کہا بارہ ہونے تھے اگر کوئی مان جاتی۔ ہنسنے لگا پھر کہتا کوئی بچہ نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ کہتا کوئی گرل فرینڈ نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر میں نے پوچھا تمہارے کتنے ہیں کہتا پانچ۔ میں نے پوچھا کتنی عورتوں سے کہتا پانچ۔ میں نے کہا بڑی سیٹ کی تھیں تمہیں نوچ کر نہیں کھا گئیں۔ کہتا یہ نوچ کر کھانے والا کام اب کی نسل کرتی ہے۔
اسی طرح ایک 32 سالہ سفید فام نے مجھ سے پوچھا تمہارا کوئی بچہ ہے میں نے کہا نہیں۔ کہتا میرا سب سے بڑا بیٹا 16 سال کا ہے۔ میں ایک ایسی ریٹائرڈ پرنسپل کو جانتا ہوں جس کا پڑپوتا بھی 10 سال کا ہو چکا ہے اور فیملی ہسٹری کے مد نظر اگلے 6 سے 8 سالوں میں خاتون پڑپوتے کی اولاد بھی دیکھ لیں گیں۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت ایک ایسی لڑکی کو دیکھ کر ہوئی تھی جو ہمارے اسٹور کے بالکل پیچھے رہتی تھی اور اس کی عمر صرف 13 سال تھی اور اس کے تین بچے تھے۔ وجہ تعارف یہ بنی تھی کہ اس نے شور مچا دیا کہ اس کو صبح اسکول جاتے وقت کسی نے ریپ کیا ہے۔ جبکہ اس علاقے میں ریپ کے واقعات بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سکول ٹائم میں سوتی رہی تھی اور گھر اور اسکول سے بچنے کے لئے جھوٹ گھڑا۔
اکثریت بےحد بےہودہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں تو خاتون کو دیکھ کر مناسب جگہ چھوڑ دی جاتی ہے یہاں آپ جتنے مرضی نزدیک ہوں اگر ٹچ نہ کریں تو خیر ہوتی ہے۔ ہم ایک دفعہ ہوپ ویل گئے۔ وہاں بالکل ساتھ ایک نائٹ کلب تھا۔ میرے پزل ہونے کا دیکھ کر میرے دوست نے نصیحت کی “اول تو لڑکی مت بننا کچھ نہیں ہوتا کھا نہیں جائیں گیں۔ ورنہ شور مچا دینا آئی ایم گے آئی ایم گے فورا پیچھے ہٹ جائیں گیں” یہ جگہ دنگے فساد کے لئے مشہور ہے اور مرد عورتیں ایکدوسرے کو کھلے عام ہاتھ لگاتے رہتےہیں۔ایک دفعہ دو کالیاں آفر مار رہیں پھر کہتی ٹاس کرتے ہیں۔ میں سمجھا ٹاس کر کے ایک جیتے گی تو وہی کہے گی میرے ساتھ لیکن زیادہ چالاک تھیں۔ فرمایا ٹاس کر رہی ہیں کہ پہلے تم سے کون کرے گی۔ اب یہ حال ہو تو اللہ کے نیکے بندے کیسے اور کہاں جائیں؟
پاکستان میں میرے ایک کزن نے اپنی دوستوں کو کہا کے مجھے فون کر کے تنگ کریں اس کا خیال تھا کہ میں جو جو کہونگا وہ اس کو بتائیں گیں تو وہ مجھے ذلیل کر سکے گا۔ میں نے نمبر تبدیل کر لیا تو اس نے میرا ای میل ایڈریس لڑکیوں کو دے دیا۔ اب لڑکیاں مجھ سے نمبر مانگیں میرے کزن نے اپنا نام ان سبھی کو غلط بتایا ہوا تھا کہ اس کے گھر والوں کو اس پر کچھ شک تھا۔ میں نے تنگ آ کر اس کے ابو کا نمبر دے کر کہا یہ میرا نمبر ہے اور کزن کا اصل نام بتا کر کہا کہ کہنا اس سے بات کرنی ہے۔
اب کچھ ایسی حرکت میں نے یہاں کی۔ میرے ایک دوست کو بہت عادت ہے۔ کوئی لڑکی میرے بارے میں پوچھے گی یہ فٹ جواب دے دیتا ہے۔ کہاں رہتے ہو؟ کولونیل ہائیٹس، یہ گاڑی کس کی ہے؟ اس کی اپنی ہے۔ ان کے ذہن میں تصور بن جاتا ہے کہ شائد بہت پیسے والا ہے نتیجتہ حرام کی دعوت۔ اوپر سے ہر کسی کو ٹھکرانے پر گے مشہور ہونے کا خدشہ
تنگ آ کر میں نے ایک دن اسی طرح ایک نے نمبر مانگا تو میں نے اس کے انکل جن کی طرف ٹھہرا ہوا ہے کا نمبر دے دیا۔
اب ایسے کو تیسا تو ہونا چاہئے نا۔
مجھے ایک افریقن امریکن نے پوچھا تم واقعی ورجن ہو؟ میں نے کہاں ہاں فرمایا تم چاہو تو اس سے چھٹکارا پا سکتے ہو۔ میں نے حیرانی سے پوچھا تو وہ سمجھی کہ میں شائد اس کا مطلب نکال رہا ہوں کہتی نہیں میری کزن ہے 23 سال کی وہ پیسے لے کر تمہارا کام کر دے گی۔ میں نے اس کو کہا مجھے ایسی کوئی جلدی نہیں۔ تو کنوارے ہونے پر اس قدر ہمدردی ملتی ہے۔ اس دکھ بھری داستان میں سب سے بڑا مسئلہ کہ کسی بھی کام کی لڑکی نے آفر نہیں کی
سب کی سب موٹی بھدی پیشہ ور خواتین اور تو اور اتنی ینگ بھی نہیں۔ افریقن امریکن تو ہوتی بھی کھا کھا کر مری ہوئی، 22 سال کی عورت بھی کم از کم دیکھنے سے 28٫30 کی لگتی ہے۔ میں نے تو فارمولا بنا لیا ہے جو زیادہ میٹھی ہو رہی ہو اس سے اتنا رکھائی سے پیش آو ساتھ ساتھ ساتھ اپنے لئے ایک نیک پروین کی تلاش جاری ہے۔
Popularity: 14% [?]
Popularity: 14% [?]
1,086 views
Related Posts
- None Found


























اچھا۔۔۔ جبھی میں کہوں کہ عورتوں پر کیوں اتنا لکھا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
خدا کرے آپ کی یہ پاکیزگی قائم رہے۔
ٌوش قسمتی ہے کہ اب تک جتنی آفرز ہوئیں، وہ زیادہ تر “موٹی، بھدی، پیشہ ور” کی جانب سے تھیں۔
راہبر’s last blog post..چل جھوٹے۔۔۔!
یہ پاکیزگی زبردستی قائم ہے ، ابھی ذرا کسی خوش شکل خوش اخلاق حسینہ کی آفر آنے دو ، پھر دیکھو “پاکیزگی” ۔
Qadeer Ahmad’s last blog post..Development of Bayaaz
مجھے تم سے ہمدردی ہے!!!
ویسے وہ کیا کہتے ہیں!! اپنے منہ “ورجن”
Shoiab Safdar’s last blog post..تم کیسی محبت کرتے ہو؟
اتنی لمبی پوسٹ میں ایک بھی لڑکی سے صحیح آفر نہیں ہے سب پیشہور۔ لگتا ہے بدتمیز کا برا ہی حال ہے۔
سلام
راہبر: آپ کو پتہ ہے ؔپ نے بد دعا دی ہے۔
یعنی نہ کوٕی کام کی ملے نہ میں کسی پاسے لگوں
قدیر: بالکل تم نے درست تجزیہ کیا۔ اگر کسی خوش شکل حسینہ کی ؔفر ہوتی تو میں پھسلنے میں ذرا دیر نہ لگاتا۔
میں تم کو ضرور حسینہاں کی تصاویر بھیجوں گا
شعیب صفدر: صرف ہمدردی؟ ویسے ؔپ بتا دیں آپ اپنے منہ ورجن ہیں کہ نہیں۔ ہیں تو جملہ قبول کریں نہیں ہیں تو ذرا “پیشہ خاص” بھگتانے کے لٕ تیار رہیں۔
ذکریا: تو اور کیا
کوئی بھی لڑکی جس کی نظر کمزور نہ ہو گھاس نہیں ڈالتی۔ باقی سب کی نظرین کمزور ہیں یا عقل پر پتھر
کومنٹ تو بڑی لکهی جاسکتی تھی مگر
چھڈو جی مٹی پاؤ
ویسے خوشی کی بات نہیں ہے که آپ صنف نازک میں بهی مقبول هوئے
باقی جن کا آپ نے زکر کیا ہے یه صنف نازک سے زیاده صنف کرخت لگتیں هیں ـ
ان کالیوں کو کسی نے بتا دیا ہے که دیسی لوگ کالی کو پسند نہیں کرتے اس لیے بهی یه کالیاں دیسیوں کو چھیڑتی هیں ـ
اس طرح سمجهیں که ان کالیوں نے بهی آپ کی چهیڑ بنالی ہے ـ
اگر آپ نے ان سے دنگل کر لیا ناں جی تو پھر ـ ـ ـ ـ
خاور’s last blog post..غدار کی ڈیفینیشنز
جی وہ بددعا میں نے بہت سوچ سمجھ کر دی ہے۔ ہزار دعاؤں سے بہتر یہ ایک دعا ہے۔
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
جی وہ بددعا میں نے بہت سوچ سمجھ کر دی ہے۔ ہزار دعاؤں سے بہتر یہ ایک بد دعا ہے۔
راہبر’s last blog post..اسلامی سالِ نو مبارک ہو
یار تمہاری پوسٹ پڑھنے کے لیے آدھا گھنٹا چاہیے ہوتا ہے پوسٹ نہیں کتاب ہوتی ہے۔
اچھی وقائع نگار بن سکتے ہو تم۔۔۔باقی تمہارے “تجربات” کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔۔
خاور: کالی صنف ساری کی ساری ہوتی کرخت ہے۔ موٹی ہو یا پتلی ایک ہی چیز ہوتی ہیں۔ اتنی بھی خوشی نہیں ہوٕی مجھے۔ سب کی سب فارغ تھیں۔
نہیں کالیاں تیار ہوتی ہین۔ گوریاں چھیڑ چھاڑ کرتی ہیں۔ دنگل وہ کیا ہوتا ہے
راہبر: واقعی بہت اچھی دعا ہے۔ لیکن اب یہ پتہ نہیں کسی حسینہ کا زیادہ اثر ہوتا ہے کہ دعا کا
شاکر: چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے ایسا لگتا ہے۔ آپ جس وقت فارغ ہوں تبھی پڑھا کریں۔ میرے تو ابھی کوئی تجربات نہین ہوٕے بلکہ ابھی ایک آدھا تجربہ بھی نہیںہوا
ویسے چاہ تو اپنے تجربات کا لکھ دو