بزرگ رے بزرگ
270 views Published January 6th, 2008 in peoples profile.میری بزرگوں سے نہیں بنتی۔ اپنے بزرگ تو مجھ سے تنگ ہیں ہی مجھے دوسروں کے بزرگ بھی عقل سے پیدل ہی لگتے ہیں۔ اب بزرگوں کی ڈیفینیشن میرے نزدیک مجھ سے پانچ منٹ بڑا بھی میرا بزرگ ہی ہے۔ کسی بھی بندے کے بزرگ ہونے کی دو نشانیاں ہوتی ہیں۔ اول یہ ہر کام میں درست ہوتے ہیں دوئم نئے زمانے کے ساتھ چلنے سے انکاری ہوتے ہیں۔
ہمارے بزرگوں کو ایک بات سمجھ نہیں لگتی۔ کاٹ یعنی چھکڑا تیار کرنا اور بات ہوتی ہے اور اس چھکڑے کو کھینچنا اور بات ہوتی ہے۔ ہم نسل در نسل چھکڑے تیار کر کر کے اس کو کھینچنے کے لئے بیٹے نام کا بیل استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس بیٹے نے اپنا چھکڑا کھینچنا ہوتا ہے وہ اپنے ابا کا چھکڑا کھینچ کر اس قدر لاغر ہو چکا ہوتا ہے کہ مجبورا اس کو اپنا چھکڑا بیٹے سے کھینچوانا پڑتا ہے اور یہ ایک چین چلتی جا رہی ہے۔
مجھے اس پر ذرا اعتراض نہیں ہوتا اگر مجھے پاکستان سے دو تین لوگوں کے اکٹھے حالات نہ پتہ لگے ہوتے۔ یہ تینوں میرے دوست ہیں۔ مجھ سے اکثر لوگ فون نمبر مانگ لیتے ہیں لیکن فون نہیں کرتے۔ آج ایک نے کیا تو سب کے حالات پتہ چلے۔
پہلے کو ہم فراز فرض کرتے ہیں۔ یہ بہت لائق تھا۔ قد میں چھوٹا رہ گیا تھا اور چھوٹے قد کا مرد ہمیشہ احساس کمتری میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ اس وقت تقریبا عضو معطل ہو کر پڑا ہوا ہے۔ میں اس کی بہت عزت افزائی کرتا تھا۔ حالات خراب ہوئے تھے انٹر سے میں نے اسکو بہت سمجھایا تھا کہ یار یا تم اکیڈمی جوائن کرو یا پھر کمپیوٹر سائنس رکھو نہیں تو تم فیل ہو جاؤ گے۔ میری نہیں سنی یا شائد گھر والوں نے نہیں سنی۔ یہ انٹر میں اسی مضمون میں سپلی لے کر بیٹھ گیا۔ میں نے سمجھایا لیکن اگلے سال اس نے پیپرز نہیں دئے۔ اسکو کویت جانے کی آفر ہوئی وہاں اس کے انکل کا بزنس تھا لیکن یہ میرے سامنے ناچے کہ میں جو بنوں گا پاکستان میں رہ کر بنوں گا ساری دنیا باہر کتے نہلاتی ہے اور یہاں صاحب بنتی ہے میں نے اس کو کہا تم یا تو پڑھائی شروع کرو یا جا کر کتے نہلاؤ لیکن کچھ کرو ضرور لیکن نہیں سنی۔ اس کے گھر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی دو بڑی بہنیں اور امی جنہوں نے شائد طعنے دے دے کر اس کو آج اس حال تک پہنچایا ہے۔ میں نے آنے سے پہلے اس کو کہا تھا کہ آج جن دوستوں کی تم بات کرتے ہو کہ فلاں ماسٹرز ہے اور فلاح پوسٹ گریجویٹ یہ کل کو تم کو نہیں ملیں گیں اس نے میری بات کو بکواس جانا۔ اب یہ حضرت سارا دن گھر بیٹھتے ہیں کوئی کام نہیں کرتے اور گھر والے پریشان ہیں۔ گھر والے پہلے بچے کو پریشان کرتے ہیں پھر پریشان ہوتے ہیں۔ اب جب سنا کہ میں جا رہا ہوں تو کہے یار کاش میں بھی چلا جاتا۔
دوسرے دوست کے گھر کے حالات بھی بگڑے جب ابا جان وفات پا گئے۔ بھابھی نے پر پرزے نکالے۔ بھائی کو دوسرے شہر رہنا ہوتا تھا۔ وہ کہاں تک برداشت کرتا۔ کبھی کبھی پھٹ پڑتا کبھی بیگم پر تو کبھی ان پر۔ دوسرے نمبر کا بھائی بالکل نکما۔ اب بڑے کے بعد بچی کھچی ذمہ داری اس پر۔ اب حالات بہتر تو ہیں لیکن بہنوں کی شادی اور نئے گھر پر بھابھی کے مکمل کنٹرول کی کوشش سے نمٹتے نمٹتے اس کو بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ اب اسکو باجی بھابھی بھائی امی سب کی باتیں سننا پڑتی ہیں جو کہ باجماعت سنائی جاتی ہیں۔
تیسرا دوست۔ اس کی کافی ذمہ داریاں تھیں۔ سب سے بڑا ہے۔ ابھی اپنے جھگڑے نہیں گھر میں بیٹھی پیپلز پارٹی یعنی پھپھو کی حکومت سہہ رہا ہے۔ میں نے اس کو بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ بہت سی چیزیں مردوں کو خود کرنی پڑتی ہے اور عورت کو خاوند کے بعد بیٹے سے امید ہوتی ہے۔ تم اگر پھپھو کو نہیں روک سکتے تو تم پر لعنت ہے۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ میری شہہ سے اس نے کچھ تو کنٹرول کیا ہے لیکن زیادہ کرنے سے گھبرا جاتا ہے۔ چکن آؤٹ۔ پھر میرے پاس آ کر رونے۔ ماسٹرز کر لیا ہے لیکن جاب ابھی تک ملی نہیں۔ دماغ آسمان پر ہے کہ جاب ملے کوئی 15000 کی۔ میں نے کافی عزت افزائی کی۔
ہمارا معاشرہ بہت ظالم ہے۔ شادی کی تو یا تو پھنے خان عورت کو انسان نہیں سمجھتے یا پھر محنت مزدوری اتنی کہ گھر کے لئے وقت نہیں ملتا۔ وہ صابر شاکر بچہ کو سب کچھ سمجھ لتی ہے نتجتہ اولاد باپ سے دور ہوتی جاتی ہے۔ جب بیٹے کے سر ذمہ داری تو رہنا بھی اس کے سر پر اور طعنے بھی اس کو۔ اب ایسے میں بیٹا چھوڑ دے تو برا اور آپ اچھے کہ آپ کے منہ سے جو پھول جھڑتے ہیں وہ؟ بیٹے کی شادی کی تو اس میں دخل اندازی۔ سارے جہاں کی مثالیں اور جب بچہ کوئی مثال دے تو اس سے مجرمانہ انداز میں آنکھیں چرائی جاتی ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ گھر والوں کو چھوڑ دو گھر والوں کا فرض بنتا ہے کہ اگر کوئی ان کے لئے کچھ کر رہا ہے تو اس پر اس کے لئے پریشانیاں مت کھڑی کریں۔ بہرحال وہ اپنی زندگی ان کے لئے صرف کر رہا ہے۔ طعنے دینے سے پرہیز کریں۔ اس کی اپنی بھی زندگی ہے جو اس نے بسر کرنی ہے۔ اس کی گدھے کی طرح آپ کے لئے محنت آپ پر احسان ہے نہ کہ پروانہ کہ اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت کریں۔
اگر آپ کو یہ بے ربط باتیں سمجھ نہیں لگیں تو رب کا شکر ادا کریں۔ یہ صرف یاداشت کے لئے ہیں اور مجھے علم ہے کہ مکمل مفہوم کیا ہے۔ شکریہ
Popularity: 23%
Popularity: 23%
270 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
یہاں ایسی بے شمار کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔۔۔۔۔۔ سوچتا ہوں، سب کا مجموعہ شائع کردوں۔۔۔ :razz: شاید کچھ لوگوں کو عبرت ہو اور بھلا ہوجائے۔ :smile:
راہبر’s last blog post..نواب شاہ
اچھا۔ چلو پھر لکھنا شروع کرو۔ جیسے میرا پاکستان کسی انسان کی پوری کہانی بیان کرتے ہیں ویسے۔
میں تو سوچ رہا تھا آپ سے مدد لینے کی لیکن آپ نے میرا پتّا ہی کاٹ دیا ۔
آپ نے لکھا ہے ۔ مجھے دوسروں کے بزرگ بھی عقل سے پیدل ہی لگتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ تحریر زکریا نے نہیں پڑھی ورنہ آپ کی اسے کے بعد والی تحریر لکھنے میں ایک ماہ کا وقفہ ہوتا ۔
آپ نے کسی کے بزرگ ہونے کی دو نشانیاں لکھی ہیں ۔
اول ۔ ہر کام میں درست ہوتے ہیں ۔
دوئم ۔ نئے زمانے کے ساتھ چلنے سے انکاری ہوتے ہیں ۔
اس کے لحاظ سے تو آپ میرے بزرگ ثابت ہو گئے ہیں ۔
یہ دنیا کے سارے خراب یا بیوقوف آدمی صرف آپ کو کیوں ملتے ہیں ؟ میاں رونے دھونے کو سب کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے ۔ کوئی اچھی اچھی باتیں بتائیے کہ قارئین کی حوصلہ افزائی ہو ۔ پاکستان میں پہلے ہی لوگ آٹا ۔ چاول ۔ گھی اور سبزیوں کی فلک شگاف مہنگائی ۔ پانی کی کمی اور بجلی کا آنا کم اور جانا زیادہ پر نڈھال ہوئے پڑے ہیں ۔ اوپر سے آپ اُمید توڑ قسم کی کہانیاں لکھنے لگے ہیں ۔
اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع
سلام
اجمل انکل: آپ ناراض مت ہوں سارے بزرگ ایسے نہیں ہوتے۔ لیکن جتنے اچھے بزرگوں کو میں سوچ سکا سب کے ساتھ ایک ایسا بزرگ تھا جو ان پر حاوی تھا۔ پہلے دوست کے والد انتہائی شریف انسان ہیں لیکن ان کی بیگم ان پر حاوی ہیں۔ اچھوں پر ہمیشہ مجھ جیسے سوار رہتے ہیں۔
دنیا کے سارے خراب اور بیوقوف مجھے کیوں ملتے ہیں۔ یہ تو بہت آسان سی بات ہے۔ بیوقوف کو بیوقوف سے راہ ہوتی ہے۔ اس لئے۔
پاکستان کی کوئی کہانی کیا لکھوں کسی نہ کسی کا سپورٹر نکل ہی آتا ہے اور تاویل یہ گھڑی جاتی ہے کہ فلاں بھی کرتا ہے ہم پر الزام کیوں
اچھا بتائیں کیا مدد لینی تھی؟
بدتمیز: جتنی آپ کی عمر ہے مجھے تو شک ہے کہ مجھے بھی آپ بزرگوں ہی میں شامل کریں گے۔
ویسے میرا تو خیال تھا کہ آپ ٹینایج سے نکل آئے ہیں مگر غلط نکلا کہ بزرگوں کے متعلق ایسی باتیں عام طور پر صرف ٹینایجر ہی کرتے ہیں کہ ان کی عمر کا تقاضہ ہوتا ہے۔ :-P
میں نے تو ٓپ کو آفر کی تھی آپ ہی نہیں مانے۔ لہذا شک نہ کریں۔ :wink:
ارے نہیں بھءی۔ ذہن ابھی تک پچپن مین ہے اور میں خود پچپن مین۔ :grin: