اس دفعہ سردی اتنی نہیں پڑ رہی جتنی گرمی پڑ رہی ہے۔ آج سردی بہت ہے۔ کل سے پھر موسم گرم ہو جائے گا۔ اس وقت ٹمپریچر -10c ہے۔ آج تو دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی لیکن دوپہر دو بجے بھی درجہ حرارت صفر تھا۔ پچھلے سال بھی ایسا ہی ایک کولڈ فرنٹ آیا تھا۔ اور اپنے ساتھ دو تین گھروں کو تباہ کر گیا لیکن سب سے برا ایک ایسے گھر کے ساتھ اس سردی نے کیا کہ سب بالغوں کو اپنے ساتھ لے گئی اور بچوں کو چھوڑ گئی۔
عام طور پر افریکن امریکن ایک ایک پیسہ کھانے پینے، کپڑوں، سگریٹ، شراب اور جوئے میں لگا دیتے ہیں۔ ایک پائی نہیں بچاتے۔ مذاق تب لگتا ہے جب یہ لوگ فضول سے فضول خرچہ تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن جائز چیز پر پیسہ نہیں خرچ کر رہے ہوتے۔
جب یہ حال ہو گا تو بندھن صرف پیسہ کا رہ جاتا ہے۔ جس کی ڈور سے سبھی بندھے ہیں۔ گورنمنٹ دو دو چیک ایشو کرتی پھرتی ہے۔ بچہ کے سوشل سیکیورٹی کا اور پھر سوشل سروسز کا۔ باپ چھوڑ کر چلے گئے اور 16 سال تک کی عمر تک اب بچے ماں کے ساتھ ہیں اور باپ پیسے بھر رہا ہے اور مائیں عیش کر رہی ہیں۔
اسی طرح کے ایک گھر میں شائد 4٫5 بچے اور دو تین بڑے رہ رہے تھے۔ بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے بجلی وغیرہ سب کٹ چکی تھی۔ اسی طرح شدید سردی ہوئی اور یہ لوگ موم بتی جلتی چھوڑ کر سو گئے۔ وہ موم بتی رات کو کہیں کمبل پر گری اور آگ لگ گئی۔ غریب لوگ تھے سموک ڈیٹیکٹر نہیں لگوایا ہوا تھا۔ نتیجتا جب تک پتہ چل سب طرف آگ تھی۔ بچوں نے کھڑکی سے کود کر جان بچا لی لیکن بڑے اندر جل مرے۔
شہر میں اپیل کی گئی کہ ان بچوں کے لئے آپ جو کر سکتے ہیں کریں۔ چرچ کا اسٹوریج بھر گیا اور مجبورا ان کو علان کرنا پڑا کہ اب عطیات نہ دیں۔ بعد میں ان بچوں کا کیا حال ہوا کبھی خبر نہیں آئی۔
لیکن اس کے بعد حکومت نے کیا کیا۔ سٹی گورنمنٹ نے دیکھا کہ بل کیوں ادا نہ ہو سکے؟ اب غریب لوگوں کے بل سوشل سروسز کے سر ہو گئے۔ اب فیصلہ کیا گیا کہ بل سوشل سروس خود ادا کرے اور باقی کا چیک ان لوگوں کو بھیجے۔ اب لڑائی کہ مکان کس کے نام ہے اور کون کون رہ رہا ہے کہ یہ لوگ اس قدر جلدی ٹھکانہ بدلتے ہیں کہ کئی نے پی او باکس لے رکھا ہے۔ اس کے بعد اسموک دیٹکٹر کی مہم چلی۔ فائر فائٹرز نے سب سے غریب علاقوں میں جا کر اسموک ڈیٹیکٹرز چیک کئے۔ جہاں نہیں تھے وہان نئے لگائے۔ جو کرائے دار تھے ان کو کہا گیا کہ مالک مکان کو کہو کے لگوا کر دے اگر نہیں دیتا تو سٹی کو بتاؤ۔
اب اس سال سردی کی شروعات سے پہلے فائر فائٹرز نے پھر پروگرام کئے کہ ایسا کوئی حادثہ نہ ہو۔ اس شردی کی لہر آنے سے پہلے فائر فائٹرز نے پھر غریب علاقوں کا دورہ کیا۔ اسموک ڈیٹکٹرز چیک کئے۔ (سال میں دو دفعہ بیٹری تبدیل کرتے ہیں) جن لوگوں کے گھر میں بجلی نہیں تھی ان کو گیس اور تیل کے ہیٹر استعمال کرنے کے سلسلے میں ہدایات اور احتیاط بتائی۔ سردی سے بچنے کے لئے ان کو کپڑے پہننے کا بتایا گیا کہ اگر لئیرز کی طرز پر کپڑے پہنیں تو سردی اثر انداز نہیں ہو گی کیونکہ ان کے اندر ہوا رہ جاتی ہے جس سے جسم گرم رہتا ہے۔ ابھی تک شہر میں کہیں آگ نہیں لگی جبکہ پچھے سال تین چار گھروں میں لگی تھی۔ یہ بات مجھے اچھی لگی۔ ہمارا ملک ہوتا تو کوئی مقبول ترین لیڈر متاثرہ گھر جاتا۔ چند ہزار یا لاکھ کا چیک دینے کا اعلان کرتا اور آ جاتا۔ چیک ملتا یا نہیں یہ اس کی قسمت۔ اس لیڈر کے سپورٹر بتاتے نہ تھکتے کہ دیکھا ہمارا لیڈر جب فلاں بدقسمت کے گھر گیا تھا تو کیا کہا تھا۔ پھر چند دن گزرتے اور ایک نیا سانحہ اور ایک نیا لیڈر۔
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
244 views
Related Posts
- None Found



























0 Responses to “فرق”
Please Wait
Leave a Reply