<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: پڑیں یا پڑھیں</title>
	<atom:link href="http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/</link>
	<description>I've done things that I regret but mainly I've done things you regret :P</description>
	<lastBuildDate>Tue, 16 Mar 2010 06:44:14 -0700</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.1</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: بدتمیز</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/comment-page-1/#comment-4641</link>
		<dc:creator>بدتمیز</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Jan 2008 08:12:22 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/#comment-4641</guid>
		<description>سلام

راہبر: کتب خانوں تک رسائی اس لٕے بھی ممکن نہیں کہ فیس دینی پڑتی ہے پھر ایک کتاب کو سو لوگ پڑھتے ہیں نتیجتا خراب ہو تو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ کتب بینی کے لٕے پہلے کتابوں کی قیمت بھی کم کرنی ہو گی۔ ساتھ میں ہر چند ہزار لوگوں پر کتب خانہ بھی بنانا پڑے گ۔ اگر کسی کو تین بسیں بدل کر لائبریری جانا پڑے تو وہ گھر بیٹھنے کو ترجیح دے گا۔

خاور: ؔپ نے جاپانی کیوں نہٰں سیکھی۔ اس کے بغیر تو پھر وہی حال ہو گا جو فرانس میں تھا۔ کچھ خیال کریں۔ سیکھنے کے لٕے کبھی دیر نہیں ہوٕی ہوتی۔
ویسے کتابیں کونسی پڑھتے تھے اور قبلہ والد صاحب کو کن کتابوں پر اعتراض تھا؟  :twisted:</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سلام</p>
<p>راہبر: کتب خانوں تک رسائی اس لٕے بھی ممکن نہیں کہ فیس دینی پڑتی ہے پھر ایک کتاب کو سو لوگ پڑھتے ہیں نتیجتا خراب ہو تو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ کتب بینی کے لٕے پہلے کتابوں کی قیمت بھی کم کرنی ہو گی۔ ساتھ میں ہر چند ہزار لوگوں پر کتب خانہ بھی بنانا پڑے گ۔ اگر کسی کو تین بسیں بدل کر لائبریری جانا پڑے تو وہ گھر بیٹھنے کو ترجیح دے گا۔</p>
<p>خاور: ؔپ نے جاپانی کیوں نہٰں سیکھی۔ اس کے بغیر تو پھر وہی حال ہو گا جو فرانس میں تھا۔ کچھ خیال کریں۔ سیکھنے کے لٕے کبھی دیر نہیں ہوٕی ہوتی۔<br />
ویسے کتابیں کونسی پڑھتے تھے اور قبلہ والد صاحب کو کن کتابوں پر اعتراض تھا؟  <img src='http://www.badtamiz.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_twisted.gif' alt=':twisted:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راہبر کی بیاض &#187; Blog Archive &#187; جب کتب خانہ کی بنیاد رکھی</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/comment-page-1/#comment-4457</link>
		<dc:creator>راہبر کی بیاض &#187; Blog Archive &#187; جب کتب خانہ کی بنیاد رکھی</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 03 Jan 2008 09:09:39 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/#comment-4457</guid>
		<description>[...] نے بُش کے دیس کا حال اور اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں کس طرح بچوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] نے بُش کے دیس کا حال اور اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں کس طرح بچوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خاور</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/comment-page-1/#comment-4454</link>
		<dc:creator>خاور</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 03 Jan 2008 08:44:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/#comment-4454</guid>
		<description>یہاں جاپان ميں بهی کتابوں اورلائبریریوں کا یہی حال ہے ہر پنڈ میں لائبریری ہے 
مگر ہے جاپانی زبان ميں جو که مجھے پڑهنی نہیں آتی
کیا آپ یقین کریں گے که 
کتابیں پڑهنے پر میں نے جتنی مار کھائی ہے اپنے اباجی سے یه بهی ایک ریکارڈ ہے
میں نے چھپ چھپ کر کتابیں پڑهنے کے کئی طریقے دریافت کیے تھے مگر پکڑا جاتا تها اور پهر مار پڑتی تهی 
میں جب بهی کسی کو یه بات بتاتا هوں کوئی یقین نہیں کرتا مگر میري بچپن کے سارے ساتھی اور ہمساے جانتے هیں که خاور پاگل ہے کتابیں پڑهنے سے باز نهیں آتا اور ابا جی سے مار کھاتا ہے
بڑی پهینٹی کھائی ہے جی میں نے کتابیں پڑهنےپر 
مگر 
اب جب میں بڑا هوگیا هوں تو  میں نے اپنے بیٹوں کو کھلی آزادی دی ہو که پڑهو کتابیں 
اور میرا بڑا بیٹا کتابیں پڑهنے کا شوقین نکلا ہے اس بات پر میں بہت خوش هوں ـ

&lt;em&gt;خاور&#039;s last blog post..&lt;a href=&#039;http://khawarking.blogspot.com/2008/01/2008.html&#039; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;2008 عیسوی&lt;/a&gt;&lt;/em&gt;</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یہاں جاپان ميں بهی کتابوں اورلائبریریوں کا یہی حال ہے ہر پنڈ میں لائبریری ہے<br />
مگر ہے جاپانی زبان ميں جو که مجھے پڑهنی نہیں آتی<br />
کیا آپ یقین کریں گے که<br />
کتابیں پڑهنے پر میں نے جتنی مار کھائی ہے اپنے اباجی سے یه بهی ایک ریکارڈ ہے<br />
میں نے چھپ چھپ کر کتابیں پڑهنے کے کئی طریقے دریافت کیے تھے مگر پکڑا جاتا تها اور پهر مار پڑتی تهی<br />
میں جب بهی کسی کو یه بات بتاتا هوں کوئی یقین نہیں کرتا مگر میري بچپن کے سارے ساتھی اور ہمساے جانتے هیں که خاور پاگل ہے کتابیں پڑهنے سے باز نهیں آتا اور ابا جی سے مار کھاتا ہے<br />
بڑی پهینٹی کھائی ہے جی میں نے کتابیں پڑهنےپر<br />
مگر<br />
اب جب میں بڑا هوگیا هوں تو  میں نے اپنے بیٹوں کو کھلی آزادی دی ہو که پڑهو کتابیں<br />
اور میرا بڑا بیٹا کتابیں پڑهنے کا شوقین نکلا ہے اس بات پر میں بہت خوش هوں ـ</p>
<p><em>خاور&#8217;s last blog post..<a href='http://khawarking.blogspot.com/2008/01/2008.html' rel="nofollow">2008 عیسوی</a></em></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راہبر</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/comment-page-1/#comment-4450</link>
		<dc:creator>راہبر</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 03 Jan 2008 07:58:27 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2008/01/03/peday-ya-pedhay/#comment-4450</guid>
		<description>ہمارے دیس میں تو ایسا کوئی رواج ہی نہیں بلکہ کتب بینی اور مطالعہ کرنے کا شوق بھی انتہائی کم ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں کتب خانوں (لائبریریز) کی تعداد مسلسل گھٹتی چلی جارہی ہے  :sad:  اور نئی نسل کتابوں سے بہت دووووووووووور۔

&lt;em&gt;راہبر&#039;s last blog post..&lt;a href=&#039;http://raahbar.urdutech.com/?p=140&#039; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک&lt;/a&gt;&lt;/em&gt;</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے دیس میں تو ایسا کوئی رواج ہی نہیں بلکہ کتب بینی اور مطالعہ کرنے کا شوق بھی انتہائی کم ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں کتب خانوں (لائبریریز) کی تعداد مسلسل گھٹتی چلی جارہی ہے  <img src='http://www.badtamiz.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_sad.gif' alt=':sad:' class='wp-smiley' />   اور نئی نسل کتابوں سے بہت دووووووووووور۔</p>
<p><em>راہبر&#8217;s last blog post..<a href='http://raahbar.urdutech.com/?p=140' rel="nofollow">پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک</a></em></p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
