پڑھنے اور پڑنے میں وہی فرق ہے جو امریکہ اور پاکستان میں ہے۔ پاکستانی فارغ وقت میں پڑتے ہیں اور امریکی پڑھتے ہیں۔ ہاں دونوں طرف کی حکومتیں یکسر الٹ ہیں۔ امریکی حکومت اکثر پڑتی دیکھائی دیتی ہے جبکہ پاکستان حکومت اکثر ہدایات پڑھتی دیکھائی دیتی ہے۔
امریکہ میں تقریبا سبھی کتابیں بیسٹ سیلر ہوتی ہیں۔ بڑے لوگ بڑے اخباروں کے بیسٹ سیلر تو چھوٹے لکھاری چھوٹے قصبوں کے بیسٹ سیلر۔ افریقن امریکن میں لڑکے ہر قسم کی فلم چٹ کر مارتےہیں اور لڑکیاں ناول پڑھنے سے فرصت نہیں پاتیں۔ بس اسٹیشن ہو یا بس کے اندر فٹ پاتھ پر یا مال کے باہر ہر وقت بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں کتاب ہوتی ہے۔
ابھی چند دنوں پہلے کسی امریکی کا پڑھا اب نام پھسل گیا ہے بڑا مشہور بندہ تھا۔ اس کی بیٹی اس کو کہانیوں کی کتاب دے کر اس کی گود میں بیٹھ کر کہانی سنتی تھی۔ روزانہ ایک ہی جیسی کہانیاں سنا سنا کر تنگ آ کر اس نے ایک دن ٹیپ ریکارڈر میں اپنی آواز میں وہ کہانیاں ریکارڈ کر دیں۔ بیٹی نے پھر آ کر کہا کہ کہانی سناؤ تو اس نے کہا بیٹا تم ٹیپ سے سن سکتی ہو بیٹی نے تنک کر کہا لیکن میں اس کی گود میں بیٹھ نہیں سکتی۔ خود میرے کزنز کو اتنا شوق تھا کمبخت سب کے سب کوئی رسالہ میگزین کتاب نہیں پڑھتے تھے مجھے کہتے تھے کہانی سناؤ۔ کافی سالوں بعد جب میرے کزنز امریکہ سے آئے تو ساتھ کہانیوں کی کتابیں لائے۔ اب تصویریں دیکھ لیتے تھے سمجھ نہیں آتی تھی تو مجھ سے پڑھواتے تھے۔ یہ بہر حال پہلے والوں سے بہتر تھے۔ جو خود سست ترین تھے۔
یہ عادت ڈالی جاتی ہے اسکولوں سے۔ اسکول میں ایک اسائنمنٹ ہوتی ہی کسی کتاب یا ناول کو پڑھنا ہے۔ اگر آپ اپنے کسی فیملی ممبر کو بھی کوئی کتاب پڑھواتے ہیں تو اس کے الگ سے مارکس ملتے ہیں۔ نتیجتا مجھ پڑھے لکھے جاہل اور فارغ ترین شخص کو کہیں نہ کہیں سے کتاب پڑھنے کی دعوت ملتی رہتی ہے۔ حد تو یہ ہے میری سنجیدہ شکل دیکھ کر بھی بچے باز نہیں آتے اور جن کے بچے چھوٹے ہیں ان کے والدین باز نہیں آتے۔ یار یہ ذرا کتاب تو پڑھ دینا بچے کی کو ایکسٹرا مارکس ملنے ہیں۔ اب کتاب دیکھیں اور ان کا منہ دیکھیں۔ پھر سوچیں کہ سر یہ کتاب آپ خود کیوں نہیں پڑھتے۔ صبح خاتون اسٹور کھولتی ہیں تو رات کو صاحب بند کرتے ہیں۔ وقت نہیں۔ اگر بچے کے لئے وقت نہیں تو امریکیوں پر ہنسنا کیسا؟
ستم ظریفی وہ چھ کوس دور ایک انڈین انکل رہتے ہیں ان تک نے میرا نام پتہ اپنے بچے کی کتب بینی پروگرام کے لئے استعمال کر مارا اور مجھے یکے بعد دیگرے تین "لو لیٹر" موصول ہوئے جن میں خاتون نے گزارش کی کہ میں کتاب پڑھ دوں۔ اور اگر میں کسی میگزین کی سبکرپشن ان سے کرواؤ تو متعقلہ میگزین ان کے اسکول کو عطیہ دے گا۔ چونکہ مجھ سے نہ عطیہ کا وعدہ تھا نہ میگزین "بالغان" کے تھے لہذا یہ محبت نامے ردی کی ٹوکری کی نظر کر دئے۔
کتب بینی کے شوق کا صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ ہر شہر کی اپنی لائبریری ہوتی ہے جس میں کانفرنس روم سے لے کر سائلنس روم تک ہوتا ہے۔ اب جیسے میرے ارد گرد تینوں شہروں کی چھوٹی چھوٹی اپنی اپنی لائبریری ہے۔ ہر کچھ ماہ بعد اخبار میں لسٹ آتی ہے کہ کونسی کتب لائبریری میں ایڈ کی گئی ہیں۔ لائبریری کی رکنیت کی کوئی فیس نہیں صرف اس شہر میں رہائش پذیر ہونا لازمی ہے۔ بس آپ کا لائسنس دیکھ کر کارڈ بنا دیتے ہیں۔
بک فئیر بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اکثر اسکولوں میں بک فئیرز میں ناولٹی آئٹم بھی ہوتی ہیں۔ سن گلاسز ٹوپیاں پرس اور ڈیکوریشن پیس وغیرہ۔ ہمارے بالکل پاس ہی ایک کاؤنٹی پرنس جارج کے اسکول کے پرنسپل نے نوٹ کیا کہ بچے بک فئیرز میں ناولٹی آئٹم زیادہ خریدتے ہیں۔ اور یہ سچ ہے میرے بھائی کزنز نے اب تک کوءی کتاب گھر لا کر نہیں دیکھائی ہمیشہ کوئی نہ کوئی ڈیکوریشن پیس لاتے ہیں۔ لہذا ان پرنسپل صاحب نے بچوں میں کتب بینی کو بڑھانے کے لئے بچوں کو چلینج کیا کہ اگر وہ 201 کتب خریدیں تو وہ ایک دن سکول جیل میں گزاریں گیں۔
اس مقصد کے لئے آرٹس کے ٹیچر اور ان کی جماعت نے ملکر اسکول کیفے ٹیریا میں ایک جیل بنائی جس میں جالیاں لگائی گئی تھیں۔ بک فئیر والے دن ایک جار میں ماربل اسٹون بھر کر رکھ دئے گئے اور جونہی کوئی بچہ کتاب خریدتا اس جار سے ایک پتھر نکال دیا جاتا۔ جلد ہی تمام 201 پتھر جار کے باہر تھے۔ اس موقع پر بچوں کو ایک اور چیلنج دیا گیا۔ اگر وہ مزید 157 کتب خریدیں تو پرنسپل صاحب جیل مین فلیورڈ بینز کھائیں گیں۔
فلیورڈ بینز ہوتی ہیں ایسی بینز یا جیلی جس میں کسی بھی قسم کے ذائقے کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ذائقہ "الٹی" یعنی vomit سے لے کر ترش بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں کو ووٹ کرنے کا حق دیا گیا کہ اس دن مسٹر پرنسپل کونسی فلیور والی جیلی کھائیں گیں۔ جلد ہی بچوں نے یہ چیلنج بھی پورا کر لیا نتیجتا پرنسپل صاحب نے ایک دن جیل میں گزارنا ہے۔ جہاں وہ الٹے الٹے ذائقے والی جیلی کھائیں گے اور مڈل اسکول کے بچے خوش ہونگے۔ بہر حال پرنسپل صاحب اپنے مقصد میں کامیاب اترے۔
Popularity: 13% [?]
Popularity: 13% [?]
405 views
Related Posts
- None Found



























ہمارے دیس میں تو ایسا کوئی رواج ہی نہیں بلکہ کتب بینی اور مطالعہ کرنے کا شوق بھی انتہائی کم ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں کتب خانوں (لائبریریز) کی تعداد مسلسل گھٹتی چلی جارہی ہے
اور نئی نسل کتابوں سے بہت دووووووووووور۔
راہبر’s last blog post..پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک
یہاں جاپان ميں بهی کتابوں اورلائبریریوں کا یہی حال ہے ہر پنڈ میں لائبریری ہے
مگر ہے جاپانی زبان ميں جو که مجھے پڑهنی نہیں آتی
کیا آپ یقین کریں گے که
کتابیں پڑهنے پر میں نے جتنی مار کھائی ہے اپنے اباجی سے یه بهی ایک ریکارڈ ہے
میں نے چھپ چھپ کر کتابیں پڑهنے کے کئی طریقے دریافت کیے تھے مگر پکڑا جاتا تها اور پهر مار پڑتی تهی
میں جب بهی کسی کو یه بات بتاتا هوں کوئی یقین نہیں کرتا مگر میري بچپن کے سارے ساتھی اور ہمساے جانتے هیں که خاور پاگل ہے کتابیں پڑهنے سے باز نهیں آتا اور ابا جی سے مار کھاتا ہے
بڑی پهینٹی کھائی ہے جی میں نے کتابیں پڑهنےپر
مگر
اب جب میں بڑا هوگیا هوں تو میں نے اپنے بیٹوں کو کھلی آزادی دی ہو که پڑهو کتابیں
اور میرا بڑا بیٹا کتابیں پڑهنے کا شوقین نکلا ہے اس بات پر میں بہت خوش هوں ـ
خاور’s last blog post..2008 عیسوی
سلام
راہبر: کتب خانوں تک رسائی اس لٕے بھی ممکن نہیں کہ فیس دینی پڑتی ہے پھر ایک کتاب کو سو لوگ پڑھتے ہیں نتیجتا خراب ہو تو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ کتب بینی کے لٕے پہلے کتابوں کی قیمت بھی کم کرنی ہو گی۔ ساتھ میں ہر چند ہزار لوگوں پر کتب خانہ بھی بنانا پڑے گ۔ اگر کسی کو تین بسیں بدل کر لائبریری جانا پڑے تو وہ گھر بیٹھنے کو ترجیح دے گا۔
خاور: ؔپ نے جاپانی کیوں نہٰں سیکھی۔ اس کے بغیر تو پھر وہی حال ہو گا جو فرانس میں تھا۔ کچھ خیال کریں۔ سیکھنے کے لٕے کبھی دیر نہیں ہوٕی ہوتی۔
ویسے کتابیں کونسی پڑھتے تھے اور قبلہ والد صاحب کو کن کتابوں پر اعتراض تھا؟