ہیرو یا زیرو
261 views Published January 1st, 2008 in پاکستان نامہ.ہماری دلیر شہزادی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان واپس آئی تھی۔ ملک اور قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار۔ شہزادی جان بچانے کا کہتے کہتے جان سے گئیں۔
برطانوی وزیراعظم تو تحفظ فراہم بھی کرنا چاہتے تھے لیکن صرف اس خیال سے کے صدر مشرف ناراض ہو جائیں گیں ایسی کسی کوشش کو پروان نہ چڑھایا گیا نتیجتہ مرد اول نے اسرائیل تک سے مدد مانگی۔
بینظیر نے موساد سے تحفظ مانگا تھا۔ اسرائیلی اخبار کا دعویٰ
میرا سوال بہت چھوٹا سا ہے۔ کیا ایسے ممالک جن کے خلاف دن رات بیانات دیئے جاتے ہوں یا جن کی خفیہ ایجنسیوں جن کا کام ہی دوسرے ممالک کی جاسوسی ہے کو ایسے بلانا جائز قدم ہوتا ہو گا؟ کیا جان بچانے والا ہیرو ہوتا ہے یا جان کی پرواہ نہ کرنے والا۔ اگر بینظیر اس حد تک سیکیورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی تھی تو ویسے اس نے کتنی سیکیورٹی خود ہی خود کو فراہم کی گئی ہو گی اور اگر حکومت اور اس کی اپنی سیکورٹی ملکر بھی اس کو مطمئن نہیں کر سکی تو وہ بہادر کیسے ہو گئی؟ چلیں بہادر تھی لیکن جس طرح حملہ ہوا اگر حکومتی سیکورٹی کمزور کر دی گئی تھی تو جو اس کی اپنی سیکیورٹی تھی اس کی باگ دوڑ کس کے ہاتھ میں تھی؟
Popularity: 16%
Popularity: 16%
261 views
Related Posts
- None Found
Related Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
بدتمیز صاحب۔ ان کے پاس ایک اور آپشن دبئی سے الیکشن کمپین چلانے کا بھی تھا۔ جسے انہوں نے رد کردیا۔ لیکن اگر آپ انہیں دلیر نہیں ماننا چاہتے تو کوئی بات نہیں۔ شاید آپ سے یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ ایک لیڈر جس کے اوپر اتنے کرپشن کے الزامات تھے، جو عورت بھی تھی، جو اعلی تعلیم یافتہ بھی تھی، جس کی بات دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں کھچا کھچ بھرے ہوئے سیمینارز میں سنی جاتی تھی۔ جو پاکستان کی جاہل عوام سےویکر امریکی ایوان نمائندگان تک اثر رسوخ رکھتی تھی۔ جو دوبار پاکستان کی وزیراعظم بھی رہ چکی تھی۔ جس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہہ چکے ہیں کہ بےنظییر کے مختصر ادوار پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی میں برق رفتار ترقی کے سال تھے۔ جس کے دور میں میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ۔ جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صیہونی انتہاپسندی اور بھارتی تسلط کو جابرانہ قرار دیا۔ جس کے باپ اور بھائی کو قتل کیا گیا۔ جس کے شوہر کو عرصہ دراز جیل میں رکھا گیا۔ جس پر فتوے صادر کرے گئے اور جس کی حکومت کو نجس قرار دیا گیا۔ وہ عورت بہادر بھی ہوسکتی ہے۔ واقعی یہ بات سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسی معمولی عورت بہادر کیسے ہوسکتی ہے۔
سلام
نعمان
آپ کا تبصرہ میرے سوال کا جواب نہیں۔ سوال وہی ہے ایسے کسی ملک کی سیکرٹ سروس سے درخواست کرنا درست ہے؟
دبئی سے الیکشن کمپین چلانا۔ ق لیگ یہی تو چاہتی تھی کہ جو مرضی کریں ملک میں نہ آئیں۔ دبئی سے وہ لاکھوں کا مجمع نہیںجمع کر سکتی تھیں۔ لوگ بھی نہ نکلتے کہ محترمہ ہی نہین۔ ٹیلیفونک خطابات کی حیثیت سب اچھی طرح جانتے ہیں۔
کرپشن کی کہانی تو سبھی کو علم ہے۔ آپ اس کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ تعلیم تو واقعی بہت یافتہ تھیں۔ باقی کہانیاں تو ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں نہ؟ کھچا کھچ تو سلمان رشدی اور ایرانی وزیر جیسے لوگوں کے لٕے بھی ہوتے ہیں یہ ادارے۔ آپ کو اس بات کو بنیاد بنانے سے پہلے یہاںکے تعلیمی اداروں کے ماحول کو سمجھنا ہو گا۔ امریکی ایوان نمائندگان کو کہنا کہ ملک میں اس ایجنڈہ کی تکمیل میرے ذمہ کر کے مجھے جانے دیں اثرو رسوخ کہلاتا ہے تو بہت بہتر۔ ایسے تو یاسر عرفات بھی کہے اور پرویز مشرف تو زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہو گا اگر آپ نے اس کے آخری دورہ کی کوریج دیکھ رکھی ہو۔ مجھے دونوں دفعہ وزیراعظم بننے کے حالات علم ہیں۔ اور انجام بھی۔ ڈاکٹر قدیر کے اس انٹرویو کے ٹیکسٹ یا وڈیو لنک کی فراہمی آپ کے موقف کی مظبوطی کے لئے لازم و ملزم ہے۔ باقی لوگ پھر اس حوالے سے غلط کہتے اور لکھتے ہیں؟ ایسے اجلاس میں ہمارے جیسے ملکوں کے وزیراعظم بھاگے بھاگے جاتے ہیں بھارت اپنا کوئی چھوٹا موٹا وزیر بھیج دیتا ہے اور ونزویلا جیسا ملک کوئی چھوٹا موٹا افسر اور یہ افسر تک وہی کہتا ہے جو آپ کی سب سے بڑی لیڈر کہہ کر شرمندہ تھیں اور سیکیورٹی طلب کر رہی تھیں۔ باپ کو ضیاع نے قتل کیا لیکن بھائی کو اس کے شوہر نے اور مظلوم یہ؟ آپ کو شائد بڑے لوگوں کے جیل میں رکھے جانے کے طریقے کا علم نہین۔ فتویٰ تو ہر کسی پر جاری ہو جاتے ہیں۔ ایک دو ٹکے کے میراثی پر بھی۔ نجس حکومت قرار دینے والے سندھ سے ہی ہیں۔ ان کے اپنے بھائی بند۔ اتنی بیک ورڈ سوچ وہ تعیلم سے ٹھیک نہ کر سکیں اور کیا کرتیں؟
میرا خیال ہے اس سانحہ نے آپ کے اعصاب پر کافی برا اثر ڈالا ہے۔ آپ کو ذہنی سکون کی ضرورت ہے۔ آپ کے لٕے۔ منان کو پڑھنا کچھ راحت کا باعث بن سکتا ہے۔
http://www.chapatimystery.com/