امریکی کانگریس میں ٹین ایج لڑکے چھوٹی موٹی جابز کرتے ہیں۔ یہ ٹریڈیشنل ہے اور مجھے اس کا سب کچھ بھول چکا ہے۔ میرے خیال سے یہ ڈیسک جاب تھی۔ خیر ایک کانگریس مین نے ایسے ایک لڑکے کو ای میل کی جس میں اس سے سیکس کے موضوع پر مختلف باتیں کیں۔ اس پر ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا اور مذکورہ صاحب کو جاتے ہی بنی۔ ساتھ ہی ایک نئی بحث کہ کیا اس نوعیت کی جابز ختم کر دی جائیں یا ان کے لئے بالغ عمر کی شرط لاگو کر دی جائے تا کہ ہمارے بچے اس قسم کی حرکات اور ادارے ایسی بدنامی سے بچ سکیں اور ان کا وقار قائم رہ سکے۔ ہمارے تمام حکمران بشمول "شہزادی" ایسے میگزین کی ملک میں امپورٹ بند کر دیتی تھی جس میں کسی کرتوت یا "کرتوت خاص" کا ذکر ہوتا تھا۔ اگر یہ میگزین کسی پورٹ یا ائیر پورٹ پر پڑا گل سڑ رہا ہے تو اس کی قیمت عوام کی خون پسینے کی کمائی سے ادا کی جاتی تھی۔
اس سال ایک ناول پر نئی بحث شروع ہو گئی کہ اگر کسی دہشت گردی کے حملے میں امریکی صدور سمیت تمام کانگریس مین مارے گئے تو ملک کی لیڈ کون کرے گا۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں تمام کانگریس مین۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جی سپریم کورٹ کا جج لیکن جج کا کام انصاف کرنا ہے نہ کہ صدارت کرنا۔ لہذا ایسی پلاننگ کی جارہی ہے کہ تمام میٹنگز جن میں صدر نائب صدر اور کانگریس مین شرکت کرتے ہیں میں لازم ہے کہ کچھ یا کم از کم ایک کانگریس مین کسی محفوظ مقام پر رہے تا کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں ملک سربراہ سے محروم نہ ہو۔ ہمارے ملک میں اول تو حاضر سروس نوکر یعنی فوج کا سربراہ ملک کا سربراہ بن جاتا ہے۔ ورنہ کوئی مرتے مرتے باہر سے کسی بیٹے کو بلا لاتی ہے۔ جو آمریت کے خلاف ہیں اس پارٹی آمریت کی کچھ توجیہ پیش کر سکیں تو۔
ساری دنیا میں قائدہ ہے اگر ساری دنیا میں نہیں تو ایشیا کے بیشتر حصہ میں صحیح چلو ایشیا کو بھی گولی ماریں پاکستان میں کہ بیٹے کے نام کے ساتھ باپ کا نام لگتا ہے۔ خاتون کے ساتھ شوہر کا۔ امریکہ میں چونکہ ولدالزنا بہت ہیں یعنی پاکستانی زبان میں حرامی بہت پیدا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ماں کا نام لگتا ہے۔ بینظیر زرداری کا بیٹا بھٹو کیسے ہو گیا مجھے سمجھ نہیں لگ سکی۔ ویسے اس کو بہت سے لوگ بلاول زرداری بھٹو کہہ رہے ہیں۔ قسم لے لیں جو جو اسٹیج ڈرامہ دیکھتے ہیں اس سے کیا ذہن میں آتا ہے۔ کل کو اسٹیج پر پابندی کہ "شہزادہ" کو چھیڑا جا رہا ہے۔ پنجاب میں شہزادہ ایسے فارغ ویلے نکمے شخص کو طنزیہ طور پر کہا جاتا ہے جو ماں باپ کے سر پر عیش کر رہا ہو۔ میں امید کرتا ہوں ساری دنیا میں جمہوریت کے اس نئے زمانے میں ہمارا "شہزادہ" شہزادہ نہ ہو۔
مجھے بلاول کے پارٹی لیڈر بننے پر تو کیا ملک کے وزیر اعظم سے ہوتے ہوئے صدر پاکستان تک بننے پر اعتراض نہیں۔ اگر بلاول خود کو اس کا اہل ثابت کر سکے تو۔ میرے خیال سے بینظیر کی بہن صنم بھٹو، جس وراثت کے قانون کو فالو کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کی صدر ہونی چاہئے تھی تاوقتیکہ بلاول خود کو منوا سکے۔ بہر حال پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی ملکیت ہے۔ پیپلز پارٹی کے افق پر مخدوم امین فہیم بھی قائم مقام صدر ہونے جس کو ایک عرصہ وزیراعظم کی پوسٹ کا جھانسا دیا جاتا رہا اور اعتزاز احسن ہیں جو پہلے نوازشریف کا کیس لینے اور پھر جسٹس چوہدری کا کیس لینے کی وجہ سے مقبول ہوتے گئے ہی ایسی رہنما بچے ہیں جن کو سب جگہ پہچانا جاتا ہے۔ باقی سب پیپلز پارٹی کے گھونسلے میں مرغی کے نیچے ہی رہے حالانکہ انڈوں سے تو کب کے نکل آئے تھے۔
بلاول سے پہلے وہ تمام کہنہ مشق سیاستدان ہیں جو کہ بہر حال فرشتہ سیرت نہیں نہ بی بی سے اس درجہ عقیدت رکھتے ہوں کہ بلاول کو ہی سب کچھ مان لیں۔ بی بی کی اپنی فیملی سے نہ بن سکی اس کے بھائی کی مسلح جدوجہد کو دیکھ کر اس کے پیش عوامل نظر انداز کرنے والے، صنم، غنویٰ اور فاطمہ بھٹو سے بیان بازی کو نظر انداز کرنے والے، جو بویا وہی کاٹا کو نظر انداز کرنے والے ہی بہتر جان سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اندر اکھاڑ پچھاڑ کیسے ہو گی۔ اگر زرداری صاحب سب کو قابو کر سکیں تو اچھا نہیں تو برا ہی برا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شائد ووٹر بھٹو خاندان کو لیڈ کرتا دیکھنا چاہتا ہے۔ کچھ لوگ بھٹو خاندان کو سارا مکس اپ کر دیتے ہیں۔ ووٹر بھٹو کے نام پر مرتے ہیں۔ بلاول بلاشبہ بینظیر سے ابھی لاکھ درجہ اچھا ہے۔ پہلی بات بھٹو خاندان نہیں ذوالفقار علی بھٹو کو لوگ یاد کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر بینظیر کے آنے پر اس کی تقاریر کی ریکارڈنگ کے بجائے بینظیر کی تقاریر کی ریکارڈنگ بجتیں۔ ووٹر سمجھتا ہے کہ اس نئے بھٹو میں جس کو وراثت میں ہم ہمارے ماں باپ اور جملہ خاندان ملا ہے، وہ تمام خوبیاں ہونگی جو کہ ذوالفقار علی بھٹو میں تھیں۔ پھر پنجاب اور سندھ کے ووٹر میں فرق ہے۔ پنجاب کا "پڑھا لکھا" ووٹر دیکھتا ہے کہ کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا وہ یا تو ووٹ نہیں ڈالتا یا پھر مخالف کو ڈال آتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں برادری ازم پر ووٹ ڈالا جاتا ہے لیکن وہاں بھی دیکھیں کہ برادری میں سب مل بانٹ کر "کھایا" گیا ہوتا ہے۔ سندھ کا ووٹر کہتا ہے۔ "یار کی ہو گیا اگر کم نئیں کرایا تے۔ ساڈی بھین ہے چل ووٹ پا آئیے۔"
بھارتیہ کانگریس کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اس نے بھی گاندھی خاندان کا سہارا لیا۔ میری ابھی بھارتیہ کانگریس سے اتنی جان پہچان نہیں لیکن بھارت میں پارٹی صدر ملک کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ پارٹی صدر اور ملک کے سربراہ ہمیشہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ پارٹی میں باقاعدہ الیکشن ہوتے ہیں۔ جذبات سے زیادہ قاعدہ قانون کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ گاندھی خاندان بھی اسی نفرت کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ کانگریس نے گاندھی خاندان کو کیش تو کروایا لیکن پیپلز پارٹی کی طرح اس کو اس خاندان کے پاس گروی نہ رکھ دیا۔ بلاشبہ بھارت کے عوام پاکستان کے عوام سے شعور اور آگاہی میں کچھ بڑھ کر ہیں۔
بینظیر زرداری بلاشبہ کبھی کوئی کام صحیح نہ کر سکیں۔ جاتے جاتے بھی نہ کر سکیں۔ پارٹی کو پہلے ایک زرداری کا تحفہ دیا اور پھر اب ایک اور میں امید کرتا ہوں یہ نوعمر زرداری "شریف" ہو۔ عقیدت کے دریا سے باہر نکل سکیں تو سوچیں کیا جمہوریت پارٹی کے اندر ناگزیر تھی؟ عام طور پر جو پارٹی جذبات سے کھیل کر قائم ہو اور ترقیامی کام صرف اپنی ذات تک محدود ہوں انہی کو ناموں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے سبھی پارٹیاں ناموں کے سہارے چل رہی ہیں اور بدترین ادوار کے ساتھ پیپلز پارٹی سرفہرست ہے۔ کم و بیش پانچ سال حکومت کرنے والی بی بی کے ذاتی اثاثہ جات جن کا سراغ ایک لافرم نے لگایا اور اس دوران ملک کو کیسے لوٹا گیا سب محفوظ ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس کو منظر عام پر نہیں لاتی تو کم از کم تیس سال بعد امریکہ کے آرکائیو سے تو کرتوت مل ہی جائیں گیں۔ تب تک ہم بھی بالغ ہو جائیں گیں۔
سندھی ووٹر چاہے تعلیم یافتہ ہے یا ان پڑھ بہت افسوس کے ساتھ مخالف کو گھڑے کا مینڈک سمجھتا ہے۔ ضروری نہیں اگر آپ باخبر نہیں تو سب آپ کے محبوب لیڈر کی خامیوں سے آگاہ نہ ہوں۔ بلاشبہ پیپلز پارٹی بی بی کے ادوار میں سندھ کی حالت بہت بہتر کر سکتی تھی۔ لیکن نہ کر سکی۔ یہ پنجاب کا عمل نہیں سندھ کے لیڈر کا عمل ہے۔ ابھی بھی صدر مشرف ہمارے سروں پر سندھی ہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں لگتی کبھی پنجاب سے ایسے تعصب بھرے جملے نہیں نکلے جیسے دوسرے صوبوں سے۔ کیا یہ تعلیم اور شعور کی کمی نہیں؟
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
356 views
Related Posts
- None Found


























نہ صنم بھٹو، نہ بلاول، نہ زرداری۔
سیاسی جماعت کسی کی ذاتی میراث یا جائیداد تو نہیں ہوتی کہ وصیت میں کسی کو وارث بناگئے۔۔۔۔ میری نظر میں مخدوم امین فہیم اس کے بہترین حقدار تھے۔۔۔ لیکن عوامی پارٹی کا نعرہ لگانے والی جماعت میں خود بادشاہت کا رواج ہے۔
راہبر’s last blog post..سالِ نو کی آمد مبارک
راہبر یہ بات پڑھے لکھے طبقہ کی سمجھ سے باہر ہے تو کہاں جاہل ان پڑھ۔ بھٹو خاندان اسی طرح جگ ہنسائی کا باعث بنتا رہا ہے اور بنتا رہے گا۔ ان کو آپس میں اتفاق سے رہنا نہیں آیا تو کہاں ملک میں اتفاق رکھنا