بالآخر انٹرویو
200 views Published December 29th, 2007 in جانا ہمارا امریکہ کو.دسمبر 2005 کا انٹرویو تھا۔ ہم سے پہلے کسی کا انٹرویو اکتوبر میں ہوا تھا۔ ان کو ابو جب پوچھیں کہ ہاں کیا کیا پوچھا وہ یہی کہے کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں۔ ایک دن وہ اپنے کچھ ڈاکیومنٹ لے کر آیا۔ ابو نے دیکھا تو ایک کو پڑھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ وہ کہتا کہ یہ پاسپورٹ پر مقام پیدائش شناختی کارڈ سے مختلف تھا لہذا اس کو ٹھیک کروانے کا کہا گیا تھا۔ پھر ابو نے کچھ اور سوال بھی کئے تو وہ بھی اس نے بتائے اب کہتے میں اتنے عرصے سے پوچھ رہا ہوں تو یہی کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں اب بتا رہا ہے۔ اب اس کو پریشانی تھی کہ انہوں نے کہا تھا یہ ڈاکیومنٹ ٹھیک کروا کر لاؤ تو جا سکو گے۔
اسی سے اندازہ لگا لیں کہ بہت سے لوگ ذرا بھاپ نہیں لگواتے۔ اب میرا پاسپورٹ بھی ایسا ہی تھا۔ ایک جگہ پیدائش بہاولپور کی لکھی گئی تھی جبکہ دوسری جگہ پر لاہور تھی۔ بھاگ دوڑ کر کے ٹھیک کروایا۔ اور ہم اسلام آباد کو نکلے۔ ٹرین لاہور اسٹیشن سے نکلی ہی تھی کہ ایسی شدید دھند۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ اگر ادھر کوئی گم ہو جائے تو کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ٹرین کو میرا خیال شیخ رشید الاٹ ہو چکے تھے۔ پارلر بالکل خالی تھا۔ Daewoo نے جسقدر ٹرین کا نقصان کیا کسی اور نے نہیں کیا۔ لیکن ٹرین ہو یا بس ملک تو ہر جگہ ہی سیکیورٹی رسک بنا ہوا ہے۔ ٹرین کو شائد سنبھالا دینے کے لئے مفت چائے اور چکن پیس دیا جا رہا تھا۔ Daewoo کی طرز پر ایک آنٹی بھی پارلر کے لئے تھیں۔ آنٹی مجھے کہتی یہ فری ہے۔ میں نے کہا نو تھینکس اور دل میں سوچا فری ہے لیکن دونوں چیزیں ہیں تو ٹرین کے گندے کچن کیں۔ ویسے اب تک مجھے اچھی طرح سمجھ آ چکی تھی کہ ہر سفرنامہ نگار کے سفرنامہ میں خواتین کہاں سے ٹپک پڑتی ہیں۔
راولپنڈی اسٹیشن کے باہر ٹیکسی والے راجہ بازار کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ بالآخر ایک انکل کو راضی کیا کہ انکل چلیں راجہ بازار نہیں ارد گرد کسی ہوٹل کو جہاں صبح سویرے ٹیکسی مل سکے لے جاؤ۔ بھلا آدمی تھا۔ اس نے اچھی طرح سمجھا دیا کہ ٹیکسی سٹینڈ جو تھوڑا آگے ہے اور وہیں ریسٹورنٹس بھی ہیں۔ ہمارا ہوٹل ذرا آگے تھے۔ اگر آپ میں سے کسی نے فیملی کے ساتھ جانا ہو اور جانا بھی کسی ایمبیسی میں تو میرا مشورہ ہے کہ بس سے جائیں۔ جہاں نیو خان یا نیو لائن بس کا اڈہ ہے Daewoo کے اڈے کے بالکل پاس اس کے عقب میں ہوٹل میں رہیں۔ نیچے آگے ریسٹورنٹ بھی ہے اور ٹیکسی اسٹینڈ بھی۔ ہمارے ہوٹل والے انکل پہلے تو ہر ڈش کے دام دگنے لکھ کر لگا رہے تھے پھر ساتھ ہی سروس چارجز اور یقین کریں 2 بجے کا کھانا آرڈر کئے شام 4 بجے آیا۔ رات کو ابو نے پوچھا تو میں نے منع کر دیا کہ ہم باہر خود کھائیں گیں۔ کیونکہ جو بھی بندہ رکھا ہوا ہے اس نے صرف آپ کو نہیں کھانا لا کر دینا اس نے باقی 15٫20 کمروں کو سرو کرنا ہے۔
رات کو زلزلہ آیا۔ جس میں حسب معمول میں غافل سوتا رہا۔ باقی ساری بلڈنگ کو اللہ یاد آ گیا میرے جیسوں کو اس وقت بھی نہیں آتا۔ دلوں پر مہر لگی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ صبح 5 بجے اٹھنا پڑا۔ سب نماز پڑھیں اور میں چپس اور فانٹا اڑاؤں۔ جانے سے پہلے کمرے کو خود ہی ٹھیک کر جائیں۔ اپنی ہر چیز ساتھ لے لیں۔ بیگز کو تالے لگا کر جائیں۔ آپ کے پیچھے روم سروس والے بھی کمرے کا چکر لگاتے ہیں۔
اسلام آباد میں تو واقعی بہت ٹھنڈ تھی۔ میں اپنی طرف سے بڑی گرم جیکٹ پہن کر گیا تھا۔ لیکن اس قدر ٹھنڈ تھی اسلام آباد میں کہ بس۔ دو ٹیکسیاں کروا کر ہم کنوینشن سینٹر کے لئے نکلے۔ میرا خیال تھا کہ کنوینشن سینٹر ایک بڑی سی عمارت ہو گی لاتعداد بینچوں کے ساتھ۔ اور وہیں سے نمبر پکارے جائیں گے لیکن یہ نظارہ ہی کچھ اور تھا۔ کنوینشن سینٹر غالبا وہ جگہ ہے جہاں عدنان کاکا خیلی نے صدر مشرف کو چت کیا تھا۔ یہاں ایک پارکنگ لاٹ میں آپ کو جمع کیا جاتا ہے۔ اس پارکنگ لاٹ میں گھستے وقت آپ سے دو روپے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور بندے کا پتر ہو تو وہ خود دے دیتا ہے۔ ابو کی ٹیکسی والا بندے کا پتر نہیں تھا۔ لہذا وہ رونا ڈال کر بیٹھ گیا۔ ہماری ٹیکسی والے نے اس کو اتنا سمجھایا کہ یار دو روپے ہیں میں دے دیتا ہوں لیکن وہ بقایا ہی واپس نہ کرے۔ ابو نے اس کو کہا اچھا تم اتنے بدمعاش ادھر دو پیسے اور دو روپے دے کر باقی آٹھ روپے ہماری ٹیکسی والے کو دے دئیے۔ دو روپے کے پیچھے بچے نے ٹپ گنوائی۔
اس پارکنگ لاٹ کو انتہائی گھٹیا درجہ کے اسٹیشن کا رنگ دیا گیا ہے۔ ٹین کی چادروں سے دیورایں اور چھتیں بنا بنا کر کمرے سے بنائے گئے ہیں۔ پہلے جائیں اور اپنے بریف کیس اور موبائل فونز جمع کروائیں۔ کیونکہ امریکی ایمبیسی آپ کو فون وغیرہ لانے نہیں دیتے۔ بریف کیس سے ان کو ڈر لگتا ہے۔ اب دوسری لائن میں لگیں یہاں سے 15 روپے فی کس دے کر bothways بس ٹکٹ لیں۔ جب میرے چچا وغیرہ جاتے تھے تو رات تین بجے نکلے صبح سات بجے ٹیکسی سیدھی اسلام آباد ایمبیسی کے سامنے اترتے تھے۔ اب سیکیورٹی رسک کی وجہ سے یہ بس سروس ہے۔ جس فاصلے کا 7٫8 روپے ایک طرف کا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے وہ بمشکل آدھا کلومیٹر ہے۔
ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں تو ایک نئی قسم کی سکیورٹی فیچر سے گزریں یعنی پولیس والے انکل۔ یہ تلاشی لیتے ہیں۔ یہ تلاشی انتہائی بوگس قسم کی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ پتہ نہیں کس ائیر پورٹ پر میری جیب میں پھل کاٹنے والا چاقو تھا اور انکل کو ذرا پتہ نہیں چلا۔ مجھے تو تب پتہ چلا جب میں سارا سفر کر کے گھر بھی آ گیا۔ شائد یہ گیارہ ستمبر سے کافی پہلے کی بات ہے اس لئے اتنی سختی نہیں تھی۔ خیر اس تلاشی کے بعد آپ جا کر بس میں گھسنے کی لائین میں لگ جائیں۔ سارا پاکستان چونکہ امریکہ جا رہا ہے لہذا سب سے لمبی لائین اس کی ہے۔ پھر دوسرے نمبر پر انگلستان جا رہا ہے اس لئے اس کی لمبی لائیں ہوتی ہے۔ فرانس اور امریکی ایمبیسی ایک روٹ پر ہے۔ انگلستان کی دوسرے روٹ پر۔ بس شائد ایک ہی ہے چھوڑ کر آتی ہے تو ہی نئے مسافر لے کر جا سکتی ہے۔ میرے خیال سے یہ ایمبیسی اینڈ پر رش کم کرنے کے لئے ہے۔
فرانس کی ایمبیسی کے لئے صرف ایک نوجوان لڑکا اترا۔ باقی سب صدر بش سے ملنا چاہتے تھے۔ امریکن ایمبیسی کے باہر زمیں میں فولادی راڈ گاڑے ہوئے ہیں جن میں کنکریٹ بھر دی گئی ہے۔ تاکہ اگر کوئی کار ٹکرا کر تباہ کرنا چاہے تو نہ کر سکے۔ یہاں بس سے اتر کر کچھ لوگ سائیڈ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کیونکہ اندر صرف ان کو جانے کی اجازت ہے جن کو بلایا گیا ہو۔ امریکی ایمبیسی کے باہر بہت کیمرے ہیں۔ ہر وقت مانیٹرنگ۔ یہاں ایک دفعہ پھر تلاشی ہوتی ہے۔ کاغذات دیکھے جاتے ہیں۔ پاسپورٹ بھی۔ اس کے بعد پھر ایک لائن میں لگ جائیں۔ اپنے انٹرویو لیٹر نکال لیں۔ ایک وقت میں صرف پانچ لوگوں کو اندر جانے دیتے ہیں۔ ان کی تلاشی ہوتی ہے تو پھر اگلے پانچ بھیجے جاتے ہیں۔
یہاں حیرت کا سب سے بڑا جھٹکا جو ہوتا ہے وہ پریشان چہرے ہوتے ہیں۔ ہمارے آگے بھی ایک فیملی کی امیگریشن تھی۔ خاتون پریشان اور ان کے خاوند اتنے ہی ہنس مکھ۔ نتیجتا بیگم سے ڈانٹ پڑ گئی۔ بہرحال وہ بندہ مجھے بہت اچھا لگا۔ سب لوگ ٹائی لگا کر پینٹ شرٹ پہنے خوب تیار ہو کر آتے ہیں۔ میں حسب معمول جینز اور شرٹ باہر نکال اوپر جیکٹ پہن پہنچ گیا تھا جس کو ابا جان نے بالکل پسند نہیں کیا۔ میرا خیال تھا امریکی داڑھی سے سخت نفرت کرتے ہونگے لیکن ایک اور حیرت ناک بات۔ انٹرویو لیٹر دیکھ کر اندر بھیجنے والا اہلکار داڑھی والا تھا۔ اندر آپ سے گھڑی عینک اور پرس وغیرہ اتروا کر ایک باسکٹ میں رکھ کر آگے کر دیا جاتا ہے اور آپ کو ایک دروازے سے گزرنے کا کہا جاتا ہے۔ اس سے گزریں کلئیر کا سائن ہو گا اور آپ باسکٹ سے اپنی چیزیں اٹھائیں اور آگے ہو جائیں۔
امریکی ایمبیسی کی سیکیورٹی بہت سخت ہے۔ خار دار تاریں اور کیمرے۔ سٹیل کے انتہائی مظبوط دروازے اور سلاخیں۔ اندر ہال میں پہنچیں تو سب سیٹیں فل لہذا کھڑے رہیں۔ تھوڑی دیر بعد رش کم ہو گا تو بیٹھنے کو جگہ مل جائے گی۔ کہیں کوئی خاتون ہاتھوں میں لگی مہندی کے نقوش دیکھتے ہوئے اپنے کاغذات سنبھالے پیا کی سوچوں میں گم ہے تو کہیں کوئی ماں اپنے بچہ کو سینے سے لگائے اپنے شوہر کے پاس جانے کو بیٹھی ہے۔ کہیں کوئی اپنے بیٹے سے ملنے کی آرزو میں ہے تو کہیں کوئی بہتر مستقبل کے لئے۔ بیٹھے سبھی پریشان اور سر جھکائے کہ کیا پتہ کب کسی کیمرے سے ان کی حرکت کا کوئی مطلب نکال لیا جائے۔ توبہ اس قدر سیرئیس قوم کو میں نے اسی جگہ دیکھا۔
جب آپ اس کمرے میں نشت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو آپ کی بالکل سامنے والی دیوار پر امریکی صدر اور نائب صدر سے ملاقات ہوتی ہے۔ ساتھ ایک ٹی وی جو کچھ معلومات فراہم کر رہا ہوتا ہے اور دیوار پر جا بجا لگے پوسٹر اور موسٹ وانٹڈ اشتہارات۔ دیوار کے دونوں کونوں پر ایک ایک اہلکار ہوتا ہے۔ ایک اہلکار نوجوان کی تو داڑھی بھی تھی۔ سیدھے ہاتھ پر ریسٹ روم ہوتے ہیں۔ الٹے ہاتھ پر نان امیگرینٹ ویزہ کی کھڑکیاں ہیں۔ اور بالکل پیچھے امیگرینٹ ویزہ کی کھڑکیاں۔ آپ لوگ اپنے اپنے نام کا خاص دھیان رکھیں۔ اکثر امریکی اہلکار نام ذرا گڑ بڑ کر دیتے ہیں لہذا سمجھ نہیں لگتی۔ یہاں بہت دلچسپ صورتحال ہوتی ہے۔ ایک انکل کا خیال تھا کہ انتہائی ماڈرن باجی نے ان کے موقف کی صحیح ترجمانی نہیں کی جبکہ وہ انگلش جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر بش کے والد نے ان کو خط لکھ کر تعریف کی تھی تو انکو ویزہ کیسے ریجیکٹ ہو سکتا ہے۔ سیکیورٹی اہلکار ان کو آرام آرام سے باہر لے گیا۔ ایک خاتون اور ان کے بیمار خاوند کی جب باری آئی تو خاتون کو ویزہ مل گیا جبکہ ان کے بیمار خاوند کو نہ ملا۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس خاتون اور اس کی بچیوں کو ویزہ ملنے پر ہوئی جس کی ایک بچی کی شکل disfigure تھی۔ ان کا نان امیگرینٹ ویزہ تھا ان سے پاسپورٹ لے کر ان کو ٹوکن دے دئے گئے کہ یہ دیکھا کر پاسپورٹ لے لیں۔
امیگرنٹ ویزہ والوں کو سب سے پہلے جب پکارا جاتا ہے تو آپکو ویزہ فیس جمع کروانی ہوتی ہے۔ ایگزیکٹ چینج لائیں ورنہ آپ کیشیئیر کو اچھی خاصی مشکل میں ڈال دیتے ہیں کہ بہر حال اس پر بھی کیمرہ لگا ہوا ہے۔ یہ پاکستانی تھا۔ ہم سے پہلے کافی لوگ اس کو مشکل میں ڈال چکے تھے لہذا ہم نے اس کی مشکل آسان کی کافی ساری ریزگاری اس سے ایکسچینج کر لی۔ اس کے بعد آپ بیٹھیں۔ پھر نمبر پکارا جائے گا تو ایک افسر آ کر آپ کے سارے کاغذات کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ آپ کو کہا جاتا ہے کہ اپنے رشتہ دار کے ساتھ جتنی بھی تصاویر آپ کے پاس ہوں لے کر آئیں۔ جیسے اگر بھائی بہن ہے تو فیملی فوٹو گرافس اور ساتھ ہی اگر آپ اپنے بچے لے کر جارے ہیں تو ان کی بھی بچپن سے لے کر اب تک کی تصاویر۔ اگر خاوند کے پاس جا رہی ہیں تو شادی کی تصاویر اور سی ڈی وغیرہ۔ ویسے میرا نہیں خیال سی ڈی چلا کر دیکھنے کا وقت ہوتا ہو گا۔ اگر آپ اپنے کسی بچے کہ تصویر نہ دے سکیں اور ان کو شک ہو جائے تو پھر dna ٹیسٹ ہوتا ہے۔ میرے ایک جاننے والے نے دو شادیاں کی تھیں تو پہلے بیٹے کی عمر باقی بچوں سے بہت زیادہ تھی تو اس کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا۔ افسر پر تمام کاغذات لاد مت دیں جو وہ مانگے ساتھ ساتھ دیتے جائیں۔ جب اس نے البم مانگی تو میری تصویر دیکھ کر کہتا یہ کون ہے۔ امی نے بتایا۔ اس طرح وہ تصویر دیکھا دیکھا کر تصدیق کرتا ہے کہ یہ جانتی بھی ہیں کہ نہیں۔ کیا پتا فراڈ ہو رہا ہو۔ جیسے میری ایک پھپھو کو بڑا شوق تھا کہ ان کے لڑکے کو بھی ہم ساتھ لے جاتے لیکن ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ صاحب آپ سے جیل جانے کسی جہادی تنظیم سے رابطہ اور عمرہ حج پر جانے کا سوال بھی کرتے ہیں۔
اب آپ پھر آ کر ہال میں نشتیں ڈھونڈیں۔ کچھ دیر بعد پھر نام پکارا جائے گا۔ اب کے اہلکار جو ہو گا وہ انگریز ہو گا۔ اور اتنی شستہ اردو بولے گا کہ کیا پاکستانی بولتے ہونگے۔ یہ صاحب بہت ہلکی پھلکی گفتگو کرتے ہیں۔ مجھے اب یاد نہیں کہ جیل اور حج وغیرہ کا انہوں نے پوچھا تھا۔ انہوں نے ہم سے حلف لیا تھا اس کے بعد فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں۔ میرے سب سے چھوٹے بھائی کی عمر سن کر اس نے کہا کہ اس کے فنگر پرنٹس نہیں ضروری لیکن بعد میں اس نے لے لئے۔ جس سے میرا خیال ہے کہ کیمرہ سے لوگوں کو دیکھا بھی جاتا ہے اور اس فرنٹ فیس اہلکار کو مائیکرو فون سے ہدایات دی جاتی ہیں۔ اس نے مجھ سے پوچھا تمہاری شادی تو نہیں ہوئی میں نے کہا نہیں کہتا کوئی منگنی وغیرہ میں نے ٹھنڈی آہ بھر کر سوچا کہا کوئی مانے تو۔
یہ سوال اس لئے ہوتا ہے کہ شادی شدہ بچہ کی کیٹگری الگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ آپ کو مبارکباد دیتا ہے کہ آپ کو امیگرینٹ ویزہ جاری کر دیا گیا ہے۔ خواتین کے پاسپورٹ چاہیں تو کل دوپہر بارہ بجے لے جائیں جبکہ مردوں کے پاسپورٹ آپ کو 45 دنوں کے بعد ملیں گے کیونکہ یہ مزید پراسیسنگ کے لئے واشنگٹن بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ سب آپ کو ایک صفحہ پر پرنٹڈ بھی ملتا ہے اور ساتھ میں ٹوکن بھی۔ اگر آپ کے اپنے شہر میں امریکن ایکسپریس کا آفس ہو تو اپنے شہر منگوا لیں کیا ایک دن اور اجاڑ اسلام آباد میں لٹکیں گیں۔ یہی ہم نے کیا۔
پاکستانی دن گنتے ہیں تو سارے ہی دن کاؤنٹ کر لیتے ہیں۔ یہی ابھی ابھی میرے ایک دوست نے کیا۔ یاد رکھیں کہ امریکہ میں دو دن چھٹی ہوتی ہے۔ اگر آپ نے جمعہ کو شام 5 بجے کے بعد کانٹیکٹ کیا تو جواب آپ کو پیر کی صبح مل سکے گا۔ امریکہ میں دس دن کا مطلب پاکستان کے دو ہفتہ ہیں۔ اسی طرح 45 دن کا ترجمہ سب نے ڈیڑھ مہینہ کیا جبکہ میرا خیال تھا کہ نو ہفتہ ہونگے۔ وہی ہوا۔ ہم سے زیادہ سارا خاندان بے صبرا ہو رہا تھا۔ جن لوگوں کی میں نے ناک میں دم کیا ہوا تھا وہ تو کہتے پائے گئے کہ کوئی ویزہ نہیں لگا ایسے ہی کہہ رہے ہیں لگنا ہوتا تو اب تک باہر چلے گئے ہوتے
خیر مارچ کے مہینے میں یعنی 9 ہفتے بعد ہی ہمارے پاسپورٹ آئے۔ اس کے بعد تیاریاں اور ٹکٹیں کسی بچے کے پیپر تو کسی کی جاب۔ لہذا ہم نے مئی کر ہی دیا۔
اب ہم مئی میں آخری روداد لکھیں گیں۔
یہاں سے نکلیں تو باہر وہی بس اس میں بیٹھیں جا کر اپنے بریف کیس اور موبائل لیں اور زبردستی اپنے پاس رکھنے کے پیسے دیں۔ ہوٹل جائیں۔ چیک آوٹ کریں کھانا کھائیں۔ اور اسلام آباد ایک منٹ مزید رکیں۔ جنگل بیابان شہر مجھے بہت برا لگا۔ لاہور واقعی لاہور ہے۔
Popularity: 30%
Popularity: 30%
200 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







اوہ ۔ صرف انٹرویو دینے میں اتنی دشواری۔۔۔اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ امریکہ جائے ہی نا۔
اور بائے دا وے اسلام آباد سے اچھا کوئی شہر نہیں۔
ماوراء’s last blog post..بے نظیر: تصویری جھلکیاں
دشواری تو اتنی نہیں ہاں سردی بہت تھی۔ آپ نے پھر لاہور یاترا نہیں کی ہوئی۔ اسلام آباد بہت ویران سا ہے۔
I cant read a word of your blog, for heaven’s sake, fix it up!!!
what exactly you see? i have no idea to fix what?
use firefox thats every body using ubuntu use to visit my blog