الوداع
281 views Published December 27th, 2007 in پاکستان نامہ.ہر خاندان میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے خاندان میں قبل مسیح کی ایک زمین پر جھگڑا تھا۔ اس زمین پر جھگڑنے والے سبھی فوت ہو گئے سوائے 3 کے۔ اب ان سبھی کے بچے اس زمین کے پیچھے جانا نہیں چاہتے اور جس کے جانا چاہتے ہیں ان کو کوئی جانے نہیں دیتا :d تو میں نے دو تین دن پہلے مرحومین میں سے ایک کا نام لیا تو جواب ملا ہاں بہت اچھے تھے۔ میں نے کہا ہاں واقعی ہمارے خاندان میں بندہ مر کر ہی غیر متنازعہ طور پر اچھا بن سکتا ہے :d یہ بات ہماری پوری قوم پر لاگو ہوتی ہے۔ نو سو چوہے کھا کر حج کر لیا اور حاجی صاحب بن گئے۔ مرتے ساتھ ہی تعریفوں کے پل بندھ جاتے ہیں۔ ادھر اس مرحوم بیچارے کو مار لگنی شروع ہو جاتی ہے کہ یہ گن تم میں کیوں نہیں یا یہ گن کیوں گائے جا رہے ہیں تم کیوں دھوکہ دیتے رہے۔ جیسے ابھی میں عیب نکالوں تو میری نیکیاں اس کو ملنی شروع ہو جائیں گیں (ہونگی تو ملیں گی نہ) اور اگر سچ کہوں تو آنٹی کو مار تو پڑنی ہی پڑنی ہے۔
اگر سچ کہوں تو واقعی کلیجہ میں ٹھنڈ پڑی ہے کہ عوام ہی نہیں مرتے خواص بھی مر جاتے ہیں۔ چاہے سرے محل ہو چاہے سوئس بینکوں کی دولت۔ امریکہ یورپ ہو یا دوبئی کے محل۔ کچھ کام نہیں آتا۔ بے نظیر 12 سالوں سے ماری ماری پھر رہی تھی۔ پھندے میں اس کی جان پھنسی ہوئی تھی صرف اس لئے کہ اگر سوئس عدالت میں کیس ثابت ہو گیا تو امریکہ اور یورپ کے قانوں کے مطابق کرپٹ ثابت شدہ لیڈر ان کے ملکوں کے ویزہ کے اہل نہیں۔ میرے خیال سے بےنظیر کا پاسپورٹ اب لاہور میوزیم میں رکھا جا سکتا ہے۔
کسی کے مرنے پر میرا ایمان ہے کہ اب اس کو برا بھلا مت کہا جائے۔ لیکن لیڈران کا معاملہ مختلف ہے۔ لیڈران بھی ایسے جو کہ اپنی پارٹی میں آمر ہوں ان کا طرز حکومت مافیا کی طرز پر ہو اور ان کے نیچے سے کسی اور لیڈر کے پیدا ہونے کے امکانات سختی سے کچلے جاتے ہوں۔ ان کے بطن سے جو بھی لیڈر ہو وہ ضروری ہے ان ہی کا چشم ہو چراغ ہو۔ تاحیات پارٹی صدارت۔ کیا مذاق ہے۔ ذرا نہیں سوچا جاتا تاحیات چپکا جائے تو پھر حیات کا چراغ گل کر کے ہی کوئی آپ کو ہٹا سکتا ہے۔ قوم جان لے کہ جب جام اٹھایا تھا تو علم تھا کہ جان سے گزریں گے یا گزارے جائیں گیں تو سوگ کیسا؟
اگر مستقبل قریب میں بلاول ویسا ہی استقبال دیکھے جیسا بینظیر کے لئے کیا گیا تھا تو تعجب کی بات نہیں۔ بلاول کو بےنظیر نے خود اسی سال ایک دم روشناس کیا تھا۔ بینظیر امریکہ میں جس قسم کی لابی کرتی رہی تھی اور جس طرح کے بیانات دیئے تھے اس کے بعد اس کے سبھی دشمن تھے۔
بینظیر کی موت سے سب سے زیادہ کس کو فائدہ ہو گا؟ سپ اپنے اپنے ہاتھ صدر مشرف کی طرف موڑ لیں۔ وہ بےحد اکیلی تھی۔ اب یہ نہیں معلوم کہ زرداری سے طلاق ہو چکی تھی یا نہیں۔ بغیر ثبوت کے لگتا تو ایسے ہی تھا کہ اس کو طلاق ہو چکی تھی یا زرداری سے تعلقات خراب تھے۔ اس وقت اس کی موت سے چوہدری، زرداری اور امریکہ تینوں کو فوائد حاصل ہونے کی امید ہے۔ چوہدریوں کی بوکھلاہٹ تو ہر روز کے اخبار میں عیاں ہے۔ اتنے مزے مزے کے بیان ہوتے ہیں۔ زرداری بینظیر کے ہوئے ہوئے پارٹی سے استفادہ کبھی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ویسے بھی ہندوستانی فلم بادشاہ کے زیر اثر دماغ تو یہی سوچ سکتا ہے نہ کہ خود اس کا خاوند ایسی حرکت کر رہا ہو۔ زرداری نے بادشاہ دیکھ رکھی تھی یا نہیں علم نہیں۔ امریکہ اپنی عوام کو جسٹس صاحب کا بتائے یا چوہدری کا یا نواز شریف کا امریکی عوام کو کسی کا علم نہیں۔ بے نظیر کی لاپیاں اور امریکی پریس کو بیانات اس کو لے ڈوب سکتے ہیں۔ وہی اتنی یہاں well known تھی کہ امریکی اخبارات مرچ مسالے لگا کر پاکستان کے بارے میں خبریں پھیلا سکتے ہیں۔ آرمرڈ ٹرک بنوانے والے اب بلٹ پروف گلاس کیوں نہ لا سکے۔ اور حکومت اپنی فوج کو پروٹیکشن مہیا نہیں کر سکتی بینظیر کو کیوں کر کرتی اور اس کا مطالبہ کرنے والوں نے روزانہ مرتے فوجیوں اور اہلکاروں کے لئے کبھی ایسا مطالبہ کیا یا ان کے لواحقین کے لئے کچھ کیا؟
بینظیر کے مرتے ساتھ ہی اتنی جذباتی تحریرں نظر آئیں کہ میں پریشان اللہ میاں اچھے بھلے لوگوں کو ہوا کیا ہے۔ سب سے مزے کی بات اس کے دور کی کرپشنز زرداری کے کھاتے ڈالی جاتی ہیں۔ چلیں مان لیا کہ زرداری کرپٹ تھا لیکن اس کے ادوار ملک کے لئے کس قدر برے ثابت ہوئے۔ ابھی چند دنوں قبل میں ایک بہت محتاط لکھی گئی رپورٹ پڑھ رہا تھا جس میں بینظیر پر الزامات سے گریز کرتے ہوئے اس کے نیچے افسروں کی بازگشت تھی کہ وہ کس کے ایجنٹ تھے۔ امید ہے بینظیر کی موت کے بعد اس طرح کھلم کھلا لٹریچر عوام کی وسیع تر بھلائی کے لئے دستیاب ہو گا۔
بہت سے لوگ شائد بینظر کو مشرف کے خلاف ایک نجات دہندہ سمجھتے ہوں لیکن میرے خیال سے ایک چھوٹا نقصان بڑے نقصان سے بہتر ہے۔ بینظیر کی موت کی مزمت کرنا درست لیکن اس کے لئے جذباتی ہونا بےوقوفی ہوتی ہے۔ ملکوں کے معاملات جذبات پر نہیں چلتے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی بینظیر کے لئے اتنے لوگ مرے۔ ہر روز ملک میں ایسے ہی دھماکوں سے لوگ مرتے ہیں۔ کتنی بیٹیاں اجڑتی ہیں۔ کتنے کماؤ پوٹ گھر نہیں لوٹتے۔ ہم بے حس ان کے لئے سوگوار نہیں ہوتے۔ کوئی ان کے لئے نہیں لکھتا۔ ہم نے صدر مشرف سے اجتماعی شکوہ کیا کہ تم نے بڑے مجرموں کے لئے عرق آرڈینننس جاری کر دیا۔ سب اپنے سے سوال پوچھیں کیا ہم بھی اپنی جگہ مشرف نہیں؟ کیا ہم سب بھی صرف بڑے لوگوں کی موت کا دکھ محسوس کرتے نہیں؟ کیا کبھی ایک لمحہ سے زیادہ ہم نے کسی عام آدمی کے دکھ کو محسوس کیا ہے؟ یہ ہمارے لیڈر ہی نہیں ہم بھی ویسے ہی کرپٹ ہیں۔ ہمارے پیمانے بہت بڑے ہیں جس میں عام آدمی نہیں سماتا۔ جب تک ہم عام آدمی کو محسوس کرنا نہیں سیکھیں گیں ملک ایسا ہی رہے گا۔
اس وقت لاہور میں پولیس سڑکوں سے غائب ہے۔ لوگ اسقدر خوفزدہ ہو کر گھروں میں دبکے ہیں اور جو گھر جا رہے ہیں وہ اپنی جان کی حفاظت کی دعائیں کرتے جا رہے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھانے والے امن و امان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور مشرف سے نفرت سب کو ان کا ساتھ دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ لیکن ہم سب بینظر کے سوگ میں بیٹھ جائیں۔ یہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
پہلی کلاس میں ایک نظم تھی یا پتہ نہیں کہانی تھی چڑیا اور جگنو۔ یہ پڑھ کر میرے آنسو نکل آتے ہیں۔ اب بینظر پر میں نارمل ہوں تو سب کہتے ہیں بے حس ہو۔ شکر ہے میں سب کی طرز کا بے حس نہیں۔
Popularity: 59%
Popularity: 59%
281 views
Related Posts
- None Found
Related Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
چلیں، آپ کو تو ٹھنڈ پڑ گئی۔ لڈیاں ڈال رہے ہیں نا؟ :smile: :razz:
ماوراء’s last blog post..بے نظیر قتل ہو گئی۔۔؟
بے نظٰر کی سیاست کا ہمیشہ مخآلف رہا مگر اس طرح قتل کردینا انتہائی ظلم ہے۔ اس میںسبق بھی ہے سیکھنے والوں کے لیے کہ سارے محٌلات ایک طرف رہ جاتے ہیں۔ ساری زندگی جس کے لئے لڑٹی رہیں اس میںایک دن بھی نہ رہ سکیںبلآخر وہی دو گز
اس کا قتل کردینا انتہائی افسوس ناک ہے۔ عام آدمی مر جائے تو دو چار کو پسوڑی پڑتی ہے لیڈر مارا جائے تو پوری قوم میں پسوڑی پڑتی ہے اور وہی کچھ اب ہورہا ہے۔ اب اس کے نتیجے میں جانے اور کیا کیا فتے سر اٹھائیں گے۔
محمد شاکر عزیز’s last blog post..بےنظیر چلی گئی۔۔۔۔۔
لیڈر کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے کہ کئی لوگ اسے اپنا مائی باپ مانتے ہیں!!!
اس لئے اُن کا زندہ رہنا ضروری اور طبعی موت مرنا قوم کو فتنے میں پڑنے سے بچا جاتا ہے!!
شعیب صفدر’s last blog post..آس جمہوریت!!؟
پتہ نہیں لوگ کب تلک سوئس بینکوں، سرے محل کو روتے رہیں گے۔ بدتمیز میرے بھائی جو لوگ لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں وہ جان نہیں دیتے۔ اگر زرداری کرپٹ تھا تو سات سال جیل کیوں کاٹی؟ اور آُکی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کسی سوئس عدالت میں، کسی پاکستانی عدالت میں، محترمہ کے خلاف کرپشن کا ایک الزام بھی سچ ثآبت نہیں ہوا تھا۔ جو لوگ بے نظیر پر حملے کے دوران مرے تھے کیا آپ نے ان کے گھر والوں کے تاثرات ٹی وی پر سنے تھے؟ جب محترمہ ان کے گھر گئیں تو ان کے ماؤں نے کہا ہمارے دس بیٹے محترمہ پر قربان۔ میرے بھائی بے ایمانوں اور لٹیروں پر اگر لوگ جان قربان کرتے تو شجاعت اور پرویز الہی پر جان دینے والے سب سے زیادہ ہوتے۔ لیکن لوگ اتنے بے وقوف نہیں جتنا آپ انہیں سمجھتے ہیں۔
بے شک آپ اپنی روایتی سنگ دلی کا مظاہرہ کریں۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ بے نظٰیر کی موت کا سب سے زیادہ فائدہ خود بے نظٰیر ہی کو ہوا ہے؟ شاید آپ یہ لکھنا بھول گئے کہ خود کو عظیم لیڈر ثآبت کرنے کے لئے بے نظٰیر نے ہی اپنے اوپر حملہ کروا کر خود کو مروایا۔
سلام
ماورا: اس میں اتنا جذباتی ہونے والی کیا بات ہے؟ کیا آپ کبھی کسی اور کے لٕے اس حد تک جذباتی ہوٕئیں؟ انسانی بنیادوں پر توآپ کو سب کے لٕئے سوگوار ہونا چاہئے اگر ہوئی تھیں تو اس قدر جذباتی تو نہین ہوئیں تھی نہ؟
احمد: اگر آپ دولت کے ڈھیر پر پھن پھلائے بیٹھے ہوں تو ایسے ہی قتل ہوتے ہیں۔ کوئی بھی پیپلز پارٹی کا بندہ مجھے نہیں بتا سکتا کہ بی بی کے ہوتے ہوئے کسی اور لیڈر کی لیڈری پنپ سکی؟ ایسے لوگوں کے دشمن پارٹی کے اندر اور باہر ہر جگہ ہوتے ہیں۔
شاکر: عام آدمی مر جائے تو اس کے گھر میں پسوڑی پڑ جاتی ہے۔ ہم ایک عام آدمی کو آدمی تو سمجھتے نہیں لیڈر ہمارے سارے عیاش اور بدمعاش۔ کسی ملک میں لیڈر کے مرنے پر پسوڑی نہیں پڑتی جہاں قانون کمزور اور انصاف عنقا ہو وہی پڑتی ہے۔ اس کے جانے سے نہ جانتے کیا کیا فتنہ دب گئے۔
شعیب صفدر: سر لوگوں کو اتنی عقل ہونی چاہٕے کہ مائی باپ کسی بندے کے پتر کو بنائیں۔ یہاںجاہلوںکو چھوڑ پڑھے لکھے جذباتی لوگوں کی کمی نہیں۔ ہمارے قوم کو ایسے فتنے چمٹتے رہے گیں قوم کو لیڈروں کی نہیں تعلیم اور انصاٍ کی ضرورت ہے۔
نعمان: جب تک آپ جیسے پڑھے لکھے اور سمجھدار باشعور لوگ جذباتیت کی سبھی حدیں کراس کرتے رہے گیں لوگ سرے محل کو نہیں بھول سکیں گیں۔ یہ ایک سچ ہے جس کو آپ جھٹلا نہیں سکتے۔ ہماری جیلیں زرداری جیسے لوگوں کے لئے دنیا کی آرام دہ ترین جگہوں میں سے ایک ہیں۔ صرف صحافیوں سے ملاقات کے وقت کسی کوٹھٹری میں ان کو لے جایا جاتا ہے باقی وقت تو اندر عیاشی ہوتی ہے۔
آپ کی اطلاع کے لٕے میں عرض کرتا ہوں کہ کسی عدالت میں اس لئے ثابت نہیں کچھ ہو سکا کہ بینظیر نے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں مشرف کے سامنے کتھک ڈانس کیا تھا۔ وہ مشرف کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا رہی تھی۔ اس کو ہر قدم کے لٕے اجازت لینا پڑتی تھی کہ پتہ تھا سینیٹر سیف الرحمان کے بریف کیس میں تمام ثبوت اس کی او کے ٹکٹ کے ساتھ پڑے ہیں۔ ویسے بھی یہ تمام ثبوت پاکستانی حکومت نے نہیں ایک لا فرم نے جمع کئے تھے۔ اور عدالت مین تبھی جاتے جب بینظیر کچھ خلاف مرضی کام کرتی۔
شجاعت اور پرویز کو تو پنجاب میں دلال سمجھا جاتا ہے۔ اس پر جان قربان کرنے کے بجإے مجھے تو سبھی نے یہی کہا ہے تھوکنا تک پسند نہ کریں۔
بہت ممکن ہے۔ یہ ایک اچھی تھیوری ہے۔ چلیں میں اس کو بہتر کر کے لکھتا ہوں۔ لوگ بےوقوف ہوںیا نہیں ان کے لئے ضروری ہے بینظیر کی موت کو انسانیت کے حوالے سے دیکھیں ایک عظیم لیڈر والی خوبیاں پاکستان کے کسی بھی لیڈر میں ایک فیصد بھی نہیں۔
بھٹو خاندان کے آگے اگر کسی کی لیڈری نہیں پنپ سکی تو اس لئے کہ بھٹو نے جو کچھ پاکستان کو دیا وہ کوئی اور اب سو سال تک بھی نہیں دے سکتا ۔۔۔ اسٹیل مل سے لے کر ایٹمی طاقت تک ۔۔۔ بھٹو نے پاکستان کو ترقی کے لئے مضبوط بنیادیں فراپم کیں ۔۔ بے نظیر بھی اس ہی با ہمت اور با حوصلہ باپ کے نقش قدم پر چل رہی تھی ۔۔ ان کو دولت کی کیا حوس ہو سکتی ہے جن کو آبائی دولت اتنی ملی ہو کہ سات پشتیں بیٹھ کے کھا سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ ہماری ہوم دنیا کی بد ترین قوم ہے جس نے قائد اعظم سمیت سب عظیم رہنماؤں کو خود قتل کیا ۔۔۔۔ وہ مر گئی ہے ۔۔ اب لوگ جشن منائیں یا سوگ ۔۔ اس جیسا لیڈر نہ کوئی ہے نہ پیدا ہو سکتا ہے اب ۔۔۔۔۔۔
بدتمیز صاحب، بچھڑنا اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے شاید یہ آپ کے لیے ایک عام سی بات ہو۔ لیکن میرے لیے نہیں ہے۔ بے نظیر کے لیے جتنی جذباتیت آپ نے میری دیکھی ہے یہ کچھ بھی نہیں تھی۔ میں نے اپنے دنیا کے عزیز ترین رشتے کی جان اپنے ہاتھ میں نکلتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی ہے۔ اس دن کے بعد سے میں کسی کو مرتا ہوئے دیکھوں تو جذباتی خود بخود ہو جاتی ہوں۔ میں ایسے لوگوں کے لیے بھی جذباتی ہوئی ہوں، جن سے کبھی میرا کوئی تعلق نہ تھا، اور ان کے بارے میں صرف سنا تھا۔ میرا شمار آپ جیسے لوگوں میں نہیں ہوتا، جو جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔(بقول آپ کے ہی)۔ میں ایک انسان ہوں، اور بہت کمزور انسان ہوں۔ جذباتی ہونا میری عادتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میں آپ جیسی جذباتی نہیں کہ لوگوں پر ہنسوں، اور ان کے لیے جو دل میں آئے، بولتی جاؤں۔ میں دوسروں کی سوچ، خیالات کا احترام اور ان کی قدر کرتی ہوں۔ اور میں خود بھی کوشش کرتی ہوں کہ کوئی ایسی بات نہ کہوں جو دوسروں کو پسند نا آئے یا اس بات سے اگلے کی دل آزاری ہو۔ اس سے اوپر والی پوسٹ “بی بی“ میں آپ نے جو کچھ لکھا۔ اور جس طرح طنزیہ جملے کہے ہیں، مجھے بالکل بھی اچھے نہیں لگے۔ مانا کہ آپ بدتمیز ہیں لیکن ہر وقت بدتمیزی کرنا بھی اچھا نہیں ہوتا۔ یا اگر آپ بہت ہی زیادہ عقلمند اور شعور رکھنے والے ہیں، تو یہ مت سوچیں کہ سبھی آپ جیسے ہوں گے۔ ایک عام انسان میں بہت کمزوریاں ہوتی ہیں۔ آپ کو بے نظیر اچھی نہیں لگتی۔ اوکے میں نے مان لیا۔ لیکن مجھے یا اور کسی کو یہاں اچھی لگتی تھی۔ کیوں لگتی تھی؟ یہ کسی اور کو جاننے کی ضرورت نہیں۔ ضروری نہیں جو خوبیاں کسی اور کو نظر آ رہی ہیں، وہ آپ کو بھی دکھائی دے رہی ہوں۔ میں یہ سب لکھنا نہیں چاہتی تھی، اور کل سے میں نے ہاتھ کئی بار روکے تھے۔ لیکن اب لکھ دیا۔ امید ہے کہ آپ جو جذبات نہیں رکھتے، میری بات کا بھی برا نہیں منائیں گے۔ لیکن ایک درخواست ہے۔ دوسرے جو کرنا یا کہنا چاہتے ہیں ان کو وہ کرنے اور کہنے کی اجازت دیں۔ اگر کسی کی پوسٹ یا باتوں سے آپ متفق نہیں ہوتے تو آپ طنزیہ باتوں سمیت ایک جوابی کاروائی اپنے بلاگ پر کرنے کے بجائے صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا کریں۔
ماوراء’s last blog post..بے نظیر: تصویری جھلکیاں
بدتمیز میرے خیال میں انکا باب بند ہو چکا۔ اب انہیں معاف ہی رکھیں تو اچھا ہے۔ ہاں البتہ آگے آنے والی جو بھی ہیں چاہے وہ پی پی پی ہے، ن لیگ، ق لیگ یا جوبھی انکے خوب لتے لیں۔ پی پی پی بینظیر کی وفات سے کوئی پوتر نہیں ہوگئی۔
ساجداقبال’s last blog post..نیا بلاگ اور عید مبارکباد
سلام
——: معذرت کے ساتھ بھٹو خاندان نے دیا پتہ نہیں کیا لیکن لیا کافی کچھ۔ سٹیل مل 68 میں سائن ہوئی۔ بھٹو نے نہیں روس کی مہربانی ہماری حرکات کے باوجود دے دی۔ بھوٹو اگست میں وزیر اعظم بنا اور دسمبر میں اس نے سنگ بنیاد رکھا۔ سٹیل مل اس کا کارنامہ نہیں۔ ایٹمی طاقت بھٹو نے بننے کی کوشش کی لیکن بینظیر نے باقاعدہ اس کو رول بیک کرنے کی کوشش کی۔ بھٹو اور بینظیر کو مکس مت کریں۔ جی واقعی ان کو اتنی دولت وراثت میں ملی۔ تو کیا کرپشن ان کے ابا نے کی تھی؟ یا پھر اس دولت کا ماخذ سارا میڈیا اور انٹرنیشنل تحقیقاتی ایجنیساں نے فراہم کیں وہ غلط ہے؟ وہ مر گئی افسوس ہوا لیکن فرشتہ تو کیا ایک اچھا انسان ماننے کو دل نہیں کرتا۔
ماورا: میرے خیال سے آپ نے مجھے لاجواب کر دیا ہے۔
ساجد اقبال: کوشش کرونگا۔ تاہم ایسے کسی کو روکنا میرے خیال سے مناسب بات نہیں۔ جس حکم کے تابع آپ کا خیال ہے کہ ایسا نہیں کہنا چاہئے اس میں مردے کی اچھائیاں بھی نہیں بیان کرنے کا حکم جو اس میں نہ ہوں۔ بینظیر کا باب بند نہیں ہوا۔ اس نے جو کیا اس کی قیمت پاکستان کو اور اس کے عوام کو چکانی پڑے گی۔
ٹھیک ہے کہ ایک لیڈر تھی، غلط طریقے سے مار دیا۔ قصہ ختم۔ اب کوئی اس کی شان میں قصیدہ کہنے لگے، اس کو گالیاں دینے والے اس کی وہ اچھائیاں بیان کرنے لگیں جو شاید اس کے مرنے کے بعد ہی ان پر کھلیں تو یہ بھی ایک بیکار بات ہی ہے۔ پہلے تو وہ چودھری صاحبان کو زہر لگا کرتی تھی، اس کی حب الوطنی پر انگلیاں اٹھاتے تھے، اب کہتے ہیں کہ بڑی اچھی خاتون تھی۔ دوغلے لوگ۔
میرے ابو کہتے ہیں کہ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں، برے لوگوں کے مرنے پر برا ہی ہوتا ہے۔
راہبر’s last blog post..سانحہ ٢٧ دسمبر۔ جو میں نے دیکھا
بھٹو کے دیئے گئے تحفے گنوانے والے لوگ شاید ایک بڑا تحفہ گنوانا بھول گئے کہ بنگلہ دیش کا تحفہ عطا کرنے میں بھی بھٹو صاحب ہی کا احسان تھا۔
راہبر’s last blog post..سانحہ ٢٧ دسمبر۔ جو میں نے دیکھا
راہبر آپ کو پاکستانی سیاست کی ہسٹری پڑھنے کی سخت ضرورت ہے
————: اگر آپ کو کسی بات پر اعتراض ہے تو کیوں نہ آپ ہی میری سیاست کی تاریخ درست کردیں۔۔۔۔ بنگلہ دیش عطا کرنے میں صرف فوج کا نہیں، بھٹو صاحب کا کردار بھی اہم تھا۔ یہ حقیقت ہے۔
راہبر’s last blog post..نواب شاہ
راہبر میں تو آپ کی وجہ سے خاموش تھا کہ جواب نہ دوں آپ نے بھی ابھی پوری بات نہیں کی۔ بھٹو صاحب کے کردار پر تھوڑی روشنی ڈال دینی تھی۔ ان کے تو ایک دو نعرے بڑے مشہور تھے۔ اگر چاہیں تو ایکسپریس کے پانچ جنوری والے سے جاوید چوہدری نے بہت نرم نرم کر کے جو لکھا ہے اس میں سے ہی کچھ ڈھونڈ کر لکھ دیں۔/
میں نے جاوید چوہدری کا کالم پڑھا نہیں اب تک۔۔۔ اس کو پڑھ لیتا ہوں اور اپنی نصابی کتاب بھی کھنگالتا ہوں۔۔۔ اس میں بھی کچھ تذکرہ ہے اس کا۔ پھر لکھوں گا اس بارے میں، ان شاء اللہ۔
راہبر’s last blog post..نواب شاہ