لمحہ فکریہ
214 views Published December 17th, 2007 in پاکستان نامہ, کیوں؟.پاکستانی سپیکٹیٹر نے ایک لمحہ فکریہ جیسی تحریر لکھی ہے جس پر شعیب صفدر نے بھی لکھا۔ اس سے قبل کچھ ایسی ہی تحریر جاوید چوہدری نے بھی لکھی تھی۔ قانون اور انصاف کی عدم دستیابی ہی اس سب مسئلے کی جڑ ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے تعلیم قانون کی پاسداری اور انصاف ناگزیر ہے ورنہ قبائلی رواج جڑ پکڑتا ہے جس میں طاقت ور اور آمر (صدر مشرف) ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے اکثر عقلمند سب چیزوں کو ملا یا مذہب سے جوڑ دیتے ہیں۔ مذہب اور قانون پر علمدرآمد ہو تو یہ فائدہ مند ہوتا ہے اگر آپ اس پر عمل نہیں کرتے تو یہ الفاظ ہی ہیں ان الفاظ کو طاقت عمل کرنے پر حاصل ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی ہمارے جیسے ملکوں میں آ جاتی ہے لیکن اس کا استعمال اور گورن کرنا کسی کو نہیں آتا۔ جیسے جیسے یہ پھیلتا جائے گا اور قانون اسی طرح کمزور ہوتا جائے گا ہمارے ملکوں میں خواتین کے خلاف جرائم منظم اور بڑھتے جائیں گیں۔ ہمارے جیسے ملکوں میں جہاں تعلیم کی شدید کمی ہے وہاں ظاہریت سے کسی کو جج کرنا بہت عام ہو چکا ہے۔ سب سے بڑا مذاق ہمارے ملکوں میں تعیلم کا مطلب خواندگی اور بدتر اپنا نام پتہ اور خط لکھ لینے والے کو خواندہ تصور کرنا ہے۔
جیسے ایزی لوڈ والے اینڈ پر جو صاحب یہ مکروہ دھندہ کر رہے ہونگے ان کی تعلیم ان کو صرف اتنی اجازت دیتی ہو گی کہ جو خاتون کام کرتی ہیں اور باہر کے سارے کام ان کے ذمہ ہیں ان کے لئے کسی بھی مرد سے دوستی کرنا عام سی بات ہو گی لہذا ان کا نمبر بیچنا جائز ہے۔ جو صاحبان کال فرما رہے ہونگے ان کا ماننا ہو گا کہ ویسے تو کوئی پٹتی نہیں چلو فون پر پٹا لیں۔ اور انہوں نے ضرور کسی نہ کسی فضول بندے سے سن رکھا ہو گا یار لڑکیاں فون پر بڑی فری ہو جاتی ہیں۔ لہذا عقل کے اندھے شروع ہو جاتے ہیں۔
ایک اور خوفناک امر یہ کہ صرف مرد اس کام میں ملوث نہیں۔ دو لڑکیوں میں ٹھن گئی جو ذرا زیادہ اکھڑ ہو گی وہ دوسری کا نمبر پبلکلی پوسٹ کر دے گی۔ اب اس معصوم کو تو لوگ ذرا بھی تمیز سے مخاطب نہیں کرتے۔ عام طور پر ایسی جگہوں سے انتہائی آوارہ لوگ فون نمبر اٹھاتے ہیں اور اس قدر واہیات زبان استعمال کرتے ہیں کہ لڑکی شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہے۔ ایسی لڑکیوں کو سب سے بڑا مسئلہ نہ صرف اس کو ٹریس کرنا ہوتا ہے جس نے کسی رنجش سے نمبر پوسٹ کیا تاکہ نئے نمبر کو اس تک نہ پہنچنے دے بلکہ گھر والوں کو بھی فیس کرنا ہوتا ہے کہ اول کیوں نیا نمبر لینا ہے؟ دوئم اگر ایسے فون آتے ہیں تو بھی لڑکی بری کہ فون کیوں رکھا ہوا ہے؟
انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ہی سوشل نیٹ ورکنگ نے ہمارے ملکوں میں بظاہر زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ اکثر واقعات دیکھ کر مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شائد نوجوانوں کا مقصد لڑکیوں سے دوستی کرنا رہ گیا ہے۔ ایک صاحب جو دوستی کے بہت دلدادہ ہیں کا کہنا ہے میں سنگل اچھا لگتا ہوں؟ اور یہ مجھے مذاق لگتا ہے۔ لڑکی ہی آپ کی بہترین دوست کیوں کر ہو سکتی ہے؟ آپ کسی کے ساتھ نتھی کیوں ہونا چاہتے ہیں۔ چند ایک خواتین نے مجھے ایسی ایسی باتیں بتائی ہیں کہ میں حیران کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے۔
لڑکیاں بظاہر انٹرنیٹ پر یہ سوچ کر کہ اس پر ان کو کوئی نہیں جان سکتا لہذا زیادہ ہمت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ نتیجتہ مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔ بہت سی بات چیت میں کافی حد کراس کر جاتی ہیں جس سے لڑکے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ سوشل نیٹورکنگ سائیٹس پر بےوقوفی کے مارے اپنی کافی ساری انفارمیشن پوسٹ کر دیتی ہیں۔ اورکٹ جیسی سائیٹ جو اوپن ہے کافی مشکلات لاتی ہیں۔ اگر آپ کی ٹھن گئی تو آپ کی پروفائل بالکل مغربی طرز کی بنا دی جائے گی۔ خاتون رو رو کر ہلکان اور سارے جہاں کے گھٹیا وہاں جمع۔ سب سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب کوئی اچھا خاصا عقلمند بھی اس پروفائل کی بنیاد پر اس لڑکی کو معصوم ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ جو کہ کافی تکلیف دہ امر ہے اور اگر ان کو سمجھائیں تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ بہت سی پروفائلز لڑکیوں کی نہیں ہوتیں لہذا ان سے پریشان یا دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں۔
یہاں آنے سے پہلے میں اپنے ایک دوست کو اس کے کالج ملنے گیا۔ اب یہ سب ماسٹرز کر رہے تھے۔ کیسا نامعلوم۔ کچھ لڑکے ایک ریکارڈنگ سن کر بڑے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دوست سے پوچھا کیا ماجرا ہے بولا کسی لڑکی کے نمبر پر کال کیا۔ اس کے باپ نے اٹھا لیا۔ اب انہوں نے پنجابی میں جو گالیاں نکالیں وہ ان لڑکوں نے موبائل پر ریکارڈ کر لیں اور اب سن سن کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ایسے بیمار ذہینت لوگ پہلی دفعہ دیکھے جو ایسی حرکت بھی کرتے ہیں اور انتہائی گندی گالیاں خود کو پڑتے سن کر ہنستے بھی ہیں۔
کچھ لڑکے دوستی میں اس قدر possessive ہو جاتے ہیں کہ پہلے خاتون کو اپنی مرضی پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں بعد میں ان کی ذاتیات میں دخل دیتے ہیں۔ میری کلاس کے لڑکے لڑکیوں سے اتنی فری ہوتے تھے کہ ان کے موبائل اٹھا کر میسج تک چیک کرنا شروع کر دیتے تھے۔ ایسے لڑکے دوست کم اور لڑکی کے ابا زیادہ لگتے ہیں۔ اگر لڑکی اعتراض کرے تو یہ نہ صرف اس کو بدنام کرتے ہیں بلکہ نمبر پوسٹ کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ تھنکس ٹو اورکٹ یا ایسی ہی دوسری سائیٹس آپ کسی بھی فورم پر پوسٹ کر دیں۔ لڑکی کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔
اسی طرح کچھ لڑکے ایک نیا ٹرک سیکھ لیتے ہیں کہ کسی کے میل ایڈریس کا پاسورڈ نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے میل ایڈریس سے میل بھیجنا۔ اس کے لئے میل سرور استعمال کرتے ہیں۔ ریپلائز بھی سارے اس میل ایڈرس پر جاتے ہیں۔ یہ کوئی تیر مارنے والی بات نہیں لیکن اس سے معصوم لوگ ڈر جاتے ہیں۔ سکون سے پوچھیں کہ تم نے میل کی تھی نہیں تو ڈیلیٹ کر دیں۔ احتیاط اپنا پاسورڈ تبدیل کر دیں۔ آپ کا اکاؤنٹ کمپرومائز کر کے میل نہیں بھیجی گئی تھی۔ ہاں اگر آپ نے کسی کو اتنا فری کیا ہوا تھا کہ اس نے آپ کے سیسٹم میں کی لاگر اینڈ میلر انسٹال کر دیا اور آپ کے پاس اینٹی وائرس اینڈ سپائی وئیر نہیں انسٹال تو معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔ تب وہ آپکے اکاؤنٹ سے میل کر سکتا ہے۔
اپنی معلومات انٹرنیٹ پر کم سے کم دیں۔ اس سب کا نقصان خواتین کو ہی ہے اور ہمارے ملکوں میں انصاف ملنا ناممکن ہے۔ ایک بہت اہم بات کسی بھی انسان خاص طور پر خواتین کو ظاہری حالت سے مت پرکھیں۔ ہو سکتا ہے جو شرافت کا معیار آپ نے مقرر کیا ہوا ہے اس پر خاتون پوری نہ اتریں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شریف نہیں۔ اصل میں شریف آپ نہیں جو ایسی حرکات کرتے پھرتے ہیں اور شرافت کے پیمانے بھی جیبوں میں بھرے ہوئے ہیں۔
Popularity: 66%
Popularity: 66%
214 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
:sad:
اتنی تمیز کی باتیں ؟؟
ایسا لگتا ہے کوئی میچور بندھ لکھ رها ہے ـ
لیکن اپ تو بد تمیز هیں یه کیسے لکھ لیتے هیں تمیز کی باتیں ؟؟
باقی اج کل آپ لڑکیوں کی حمایت میں کمر باندھے هیں
کہیں بدتمیز لوگوں میں هیرو بننے کی کوشش تو نہیں ہے ناں جی؟؟
(ایک مذاق)
محسوس ناں کرناجی ، اپنے بد تمیز صاحب
اپ کافی تمیز دار هیں اور اپ کی یه پوسٹ واقعی تعریف کے لائق ہے ـ
اسی طرح کی تحاریر سے هی هو سکتا ہے که معاشرے میں کچھ سدهار آجائے ـ
خاور’s last blog post..ایک اور سوله دسمبر
اچھا لکھا ہے!!
درست لکھا ہے!! ہمیں خود کو اور اپنے آس پاس موجودافراد کو سیکھانا ہے!!
ایک بہت اہم بات کسی بھی انسان خاص طور پر خواتین کو ظاہری حالت سے مت پرکھیں۔ ہو سکتا ہے جو شرافت کا معیار آپ نے مقرر کیا ہوا ہے اس پر خاتون پوری نہ اتریں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شریف نہیں۔ اصل میں شریف آپ نہیں جو ایسی حرکات کرتے پھرتے ہیں اور شرافت کے پیمانے بھی جیبوں میں بھرے ہوئے ہیں۔
very well said. agar aik yehi baat hum apne logon ko samjha dein to kayee masle hal ho jaein ge
woman in a men’s world’s last blog post..Dealing with misery
بوچھی :twisted:
خاور: آپ کو یہ اندر کی بات کیسے پتہ چلی؟ واقعی بڑی چیز ہیں آپ۔ اچھا یعنی کسی سے لکھوا کر خود پوسٹ کروں تو پتہ چل جاتا ہا :shock: :twisted:
شعیب صفدر: آپ ڈبل سیرئیس کیوں ہیں؟
مردوں کی دنیا میں خاتون: ویلکم، اب تو یہاں اردو پیڈ تھا آپ نے ابھی بھی اردو میں نہیں لکھا۔