ٹائم کیپسول
431 views Published December 16th, 2007 in دنیا نامہ.Terminator فلم کس نے نہیں دیکھی ہو گی؟ خاص طور پر اس کا تیسرا پارٹ مجھے بہت پسند تھا۔ سب سے زیادہ اچھا اس بڑے ٹرک کے ساتھ سڑک پر تباہی مچانے کا سین لگا تھا۔ اس فلم کے آخر میں دیکھایا جاتا ہے کہ ہر ملک نے دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیار چلا ڈالے ہیں۔ اگر ایسا سچ مچ ہو؟
اگر ایسا سچ مچ ہو تو ظاہری سی بات ہے دنیا کی ایک بڑی آبادی کا صفایا ہو جائے گا۔ تمام شہر پتھر اور راکھ کا ڈھیر ہونگے۔ ہو سکتا ہے افریقہ کے جنگلوں کے اندر یا پھر ہمالیہ کے غاروں میں کچھ انسانی آبادی بچ جائے۔ انسان ارتقا کے دائرے میں سفر کرتا ہوا پھر وہی کھڑا ہو گا جہاں سے چلا تھا یعنی پیدل۔ اب یہ انسان پہاڑوں اور جنگلوں میں صدیوں رہے گا اور اپنی اپنی قوم میں اضافہ کرے گا اور اتنے عرصہ میں تابکاری اثرات ختم ہونگے۔ پھر یہ اتر کر وادیوں میں جائے گا۔ جہاں آج شہر ہیں وہاں جنگل اگے ہونگے یا صحرا سے اٹا پڑا ہو گا۔ اس میں سے مستقبل کا انسان ہمارے اٹیمی مراکز ڈھونڈے گا۔ اب اہرام مصر یا مایا ٹیمپلز جیسے مظبوط چند ایک ہی ایٹمی مراکز ہونگے۔ اور وہ ان کو آثار قدیمہ قرار دے گا۔ باقی شہر وغیرہ اسکو شائد نہیں مل سکیں گیں۔ کوئی بہت دور دراز کا قصبہ شائد ایسا نکلے جیسے کسی تہذیب کے آثار ہوں۔
ایسے وقتوں میں ہمالیہ کا انسان جس نے تبت یا چترال کے آس پاس کہیں گاڑیاں اور طیارے دیکھ رکھے ہونگے جس نے ٹی وی اور ریڈیو موبائل دیکھ رکھا ہو گا وہ ان غاروں یا جنگلوں میں اپنی نسل کو یہ چیزیں دیکھا نہ سکے گا۔ لہذا وہ بیان کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ نتیجتا ان کے پاس جام جم، اڑن کھٹولے، جن اور پریاں جن کے پاس بہت طاقت ہوا کرے گی اور صرف ہاتھ ہلانے یعنی گولی چلانے سے ہی دور کھڑا بندہ مر جایا کرے گا۔ جیسی کہانیوں کا وجود ہو جائے گا۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ایج میں بچوں کی باتیں بن کر رہ جائیں گیں۔ بہت ممکن ہے اس تباہی سے قبل انسانوں کی کچھ تعداد اس تباہی سے بچنے کے لئے خلا میں سپیس شٹل میں رہے اور کچھ عرصہ بعد واپس آئے اور تابکاری کے باعث اپنے حفاظتی سوٹ اتارنا پسند نہ کرے لہذا بچا کھچا انسان اس کو وہ خلائی مخلوق سمجھے جس نے ان آسمان سے آ کر کچھ عرصہ تک مدد فراہم کی۔
میں نے 2001 یا 2002 میں ایک خبر پڑھی تھی کہ مغربی سائنسدان ورلڈ وار 3 یا ایسے کسی خطرے کے پیش نظر جس سے انسانوں کی ایک بڑی یا مکمل آبادی ختم ہو جائے بالکل ویسے ہی جیسے ڈائنو سارز ختم ہو گئے تو مستقبل کے بچے کھچے انسانوں یا دوسرے سیاروں سے آنے والی مخلوق کی راہنمائی کے لئے آجکل کے زمانہ کے رسم و رواج ثقافتوں علوم وغیرہ کی نقلیں تیار کروا کر دفن کر رہی ہیں تا کہ کل کلاں کو حضرت انسان ہم سے اور ہماری تہذیبوں سے روشناس ہو سکے اور ہماری طرح اس کو کھنڈرات میں مارا مارا نہ پھرنا پڑے۔ مجھے اس وقت جو وژن ہو سکا تھا وہ صرف اتنا تھا کہ ایک صندوق میں کتنا کچھ دفن کر لیتے ہونگے؟
لیکن مستقبل کے انسان کے لئے صرف ایک صندوق یا اس جیسے کئی صندوقوں کو دفن کرنا کافی نہیں ہے۔ اس مقصدر کے لئے سوئمنگ پولز جتنے بڑے بڑے کمرے تیار کئے جاتے ہیں جن میں معلوم ہسٹری سے لے کر اس سال تک کے تمام artifacts اور علوم کو جمع کر دیا جاتا ہے اور اس کےبعد اس کو سیل کر کے تاریخ مقرر کر دی جاتی ہے کہ کب کھولا جائے۔ کچھ تو بہت قریب یعنی 10 25 یا 50 سال کے بعد کھولے جانے کی غرض سے دفن کئے جاتے ہیں اور کچھ 1000 سے لے کر 5000 سال تک کے لئے محفوظ کئے جا رہے ہیں۔ جیسے crypt of civilizations نامی کمرہ 8113 میں کھولا جائے گا۔
جیسے کلاس ری یونین کا یعنی batch کے آخری دن سب اپنی اپنی چیزیں اور تصویریں جمع کر کے دس سال کا عرصہ مختص کر دیتے ہیں کہ دس سال بعد اس جگہ جمع ہو کر اس کو کھولیں گیں۔ باقی جو مستقبل کے انسان کے لئے رکھا جاتا ہے اس میں مذہی کتابوں سے لے کر ایڈوولف ہٹلر کی آواز کی ریکارڈنگ تک شامل کر دی جاتی ہے۔ تا کہ مستقبل کا انسان ہماری حرکات سے واقف ہو سکے
اس کو ٹائم کیپسول کہا جاتا ہے۔ مجھے دو سوالوں کے جواب نہیں مل سکے پہلا یہ کہ کیا یہ کیپسولز خود بخود کھلنے کی اہلیت رکھتے ہیں جیسے اگر 5000 سال بعد کا انسان پتھر کے دور میں ہو تو وہ کیسے کھول سکتا ہے؟ اور کیا اس میں صرف حضرت انسان کو تاریخ سے ہی روشناس کروانا شامل ہے؟
مستقبل کے انسان کے لئے، جب وہ اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہو گا، شائد تاریخ اتنی اہم نہ ہو جتنا وہ علم ہے جو ہم نے آگ جلانے سے لے کر پہیہ اور پھر ایجادات کے زمانہ میں سیکھا ہے۔ یعنی دو تین صدیاں قبل تک کی سبھی ایجادات جن کو سیکھنے میں ہم نے ہزاروں سال لگا دئے۔ اور جو بغیر کسی لیبارٹری کے انسان سیکھا سکتا ہے۔
سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ ساری باتیں جو میں نے 2007 میں سوچیں وہ تھارن ویل جیکب نے 1936 میں سوچ لیں جو کہ کم و بیش 70 سال کی بےایمانی ہے۔ اسی لئے گورے ترقی کر گئے کہ وہ ہم سے پہلے ہی سوچ لیتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں اس نے پہیہ اور دوسری چھوٹی موٹی ایجادات مستقبل کے انسان کو سیکھانے کا نہیں سوچا ہو گا
لنکس حسب معمول زکریا کی مرہون منت ہیں۔
Popularity: 90%
Popularity: 90%
431 views
Related Posts
- میری نظر میں On November 10, 2007, 3 Comments
- صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش
- Fairy Tales On June 24, 2007, 2 Comments
- Fairy tales کیا ہوتی ہیں؟ یہ بچوں کے لئے لکھی گئی مزے مزے کی کہانیاں ہوتی ہیں جس میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ میں ابھی بھی بڑے بڑے نام اور حالات حاظرہ پر الٹی سیدھی پراپیگنڈہ کتابیں پڑھنے کی بجائے ایسی fairy tales ہی پڑھتا ہوں۔ جیسے میں نے ابھی harry potter and the
- Lord of the rings, the battle for middle earth 2 On March 29, 2007, 2 Comments
- I like strategy games. infact I love playin them. I bought lord of the rings back in 2005 I guess but at that time I didnt have the 3d graphics card. It was a huge disappointment but since spending thousad to play a 30 rupees game wasnt a gud idea so I didnt bother but
- صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
- مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
یہ کافر سائنسدان سارے اچھے آئیڈیاز مجھ سے چراتے ہیں
یہ آئیڈیا میں نے بچپن میں سوچ رکھا تھا کہ بڑا ہو کر پیسے کما کر کروں گا ۔ کئی بار تو میں نے سکے اور دوسری چیزیں اپنے گھر کے صحن میں دبائی بھی تھیں ۔ مگر جب پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ سکے نکال لیتا تھا ۔ اب تو چونی اور اٹھنی کے سکے ملتے ہی نہیں :roll:
Qadeer Ahmad’s last blog post..بدتمیز کہیں کا ۔ قسط1
:smile: ارے واہ یہاں بھی اردو کی بورڈ آگیا ہے ۔ اب ٹھیک ہ۔ اچھا لگ رہا ہے ۔
قدیر انکل آپ کے برعکس میں نے اس خبر کے پڑھنے کے بعد اس کو ذرا بہتر کیا تھا۔ بچپچن میں میں نے چوزوں سے لے کر کھلونے تک سبھی کچھ دفن کیا ہوا ہے۔ لیکن نکال کر نہیں دیکھا۔ آُپ کے حالات بتاتے ہیں آپ ہمیشہ تنگی کا شکار رہیں گیں۔
بوچھی اب بچوں نے اردو پیڈ ڈال لیا تو مجھے بھی ڈالنا پڑا۔
ل و ل ، ۔۔
خیر ٹیرمینیٹر 4 ا رہی ہے جس میں پتا چل جائیگا کیا ہواگا
بہت اچھا لکھا میں سچ ُمچ اس دور میں پہنچ گیا تھا ۔۔
وقاص’s last blog post..Baal baal bach gaye