انڈونیشیا کے جزیرے بالی پر گلوبل وارمنگ کے حوالے سےکانفرنس ہو رہی ہے جہاں سب مل کر امریکہ کی بدمعاشی کے چشم دید گواہ بن رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں سائنسدانوں نے بہت disturbing تحقیقات پیش کی ہیں۔ جن سے صرف مہذب دنیا پریشان ہے۔ مشرق میں سارا ایشیا اور مغرب میں صدر بش کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ واہ کیا تضاد ہے۔
سب سے پہلے سائنسدانوں نے ایک نئی تھیوری پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ کے پیش نظر گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرنے کے لئے صرف درختوں کی طرف توجہ دینا کافی نہیں۔ سمندر جو کہ سورج کی روشنی سب سے زیادہ جذب کرتے ہیں میں بھی کچھ ایسا کیا جا سکتا ہے جو کہ گلوبل وارمنگ کم کرنے میں مدد دے اور وہ ہے seaweed یعنی سمندری گھاس۔ امریکہ کے ساحلوں پر ایسی کوئی حرکت نہیں کی جاتی جس سے اس کو نقصان پہنچے۔ اور اس پر کافی بھاری جرمانہ ہے۔ لیکن ایشیا میں پیلی رنگت والی اقوام یعنی چینی کورین وغیرہ اس کو سوپ میں استعمال کرتے ہیں جو کہ بلینز ڈالر کی صنعت ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سمندری گھاس photosynthesis یعنی ضیائی تالیف کے عمل سے روشنی جذب کر کے اس کو آکسیجن میں تبدیل کر سکتی ہے جو کہ ماحول دوست گیس ہے۔ اور یہ صرف تین ماہ میں 8 سے 12 فٹ تک لمبی ہو سکتی ہے۔ میرے پاس مکمل معلومات نہیں کہ سائنسدان اس کو کس حد تک پھیلنے کی اجازت دیں گیں کیونکہ زیادتی تو کسی بھی چیز کی اچھی نہیں۔
اس کانفرنس کا انعقاد کیوٹو پروٹوکول کی مدت ختم ہونے کے بعد ایسا قابل عمل پلان بنانا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے خلاف مہم جاری رہ سکے۔ کیوٹو پروٹوکول پر ابھی تک امریکہ عملدرآمد نہیں کر رہا بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ صدر بش اپنی تیل کی فیکٹری کی کسی چمنی سے نکلتے کالے دھوئیں کے آگے کھڑے ہو کر ہمیشہ اس پروٹوکول پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اور تو اور صدر بش نے شائد صدر مشرف سے ایک آدھی کلاس لے لی تھی لہذا اپنے سابق ڈاکٹر جنرل (یا پتہ نہیں کیا کہتے ہیں سگریٹ کے ڈبے پر لکھا ہوتا ہے اس کا۔ ) کو گلوبل وارمنگ پر بات کرنے سے زبردستی روک دیا تھا۔
اسی پر بس نہیں۔ بالی کانفرنس میں اس بات کی بھی امریکہ نے مخالفت کی کہ کوئی بھی ایسا goal سیٹ کیا جائے کہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج اس سطح تک کم کیا جائے۔ امریکہ نے موقف پیش کیا کہ اس سے مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں رخنہ پڑ سکتا ہے۔ جبکہ صدر بش نے ہمیشہ کی طرح نیند میں بیان دیا کہ امریکہ سے زیادہ چائنا اور انڈیا جیسے ممالک کو گرین ہاؤس گیسز میں اخراج کا ذمہ دار ٹھہر کر ان سے مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ وہ اس میں کمی کے لئے خاطر خواہ اقدامات کریں۔ اگر صرف ایک مثال دوں تو صرف میری اسٹیٹ ورجینیا ہی اکیلی 83 ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ گرین ہاؤس گیس پروڈکشن سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کرتی ہے تو سارا امریکہ مل کر کتنا کرتا ہو گا؟ جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ یا تو صدر بش سنجیدہ ہوں ورنہ دنیا کو جنوری 2009 تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔
اس سے قبل اس سال کے شروع میں امریکہ کے ریٹائرڈ جنرلز اور ایڈمرلز نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ جس قدر جلد ہو سکے گرین ہاؤس گیسز کے خلاف دنیا کو لیڈ کرے ورنہ سب سے زیادہ نقصان امریکہ کا ہی ہے۔ دراصل یہ جنرلز پاکستانی فوج کے نہیں لہذا ان کو پڑھنا پڑتا ہے اور خوب سکالرز ہوتے ہیں۔ یہ امریکہ کے ساحلی فوجی تنصیبات کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ ان تنصیبات کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
یہاں تیل کو گیس کہتے ہیں اور کلومیٹر کی جگہ میل ہوتا ہے۔ گاڑیوں کی مائیلیج یعنی ایک گیلن میں کتنے میل چلے گی اس کی ایک خاصیت ہوتی ہے۔ جیسے میری گاڑی ایوریج 28 سے 32 میل فی گیلن کرتی ہے۔ جبکہ suv 14 میل فی گیلن کرتی ہے۔ تیل کے بحران کے وقت امریکہ میں چھوٹی گاڑیاں متعارف کروائی گئی تھیں۔ اس سے قبل یہاں بڑی بڑی گاڑیوں کا رواج تھا۔ اب ایک دفعہ پھر کانگریس کاریں بنانے والے اداروں پر پابندی لگانے کے لئے منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں ان کو گاڑی پر ایک مخصوص میل فی گیلن کرنے کی سختی ہو گی۔ یعنی فی گیلن کم میل کا خاتمہ۔ دوسری طرف اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشہور فلم ڈاونچی کوڈ میں پروفیسر صاحب جس چھوٹی سی کار میں فرار ہوئے تھے کی کمپنی نے اس کار کو امریکہ میں متعارف کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔
ناسا میں سٹیفن ریسرچ گروپ نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ یہ رپورٹ سب سے زیادہ تشویشناک تھی۔ سمر 2007 دنیا پر بالعموم اور پولز پر بالخصوص بہت بھاری گزرے ہیں۔ عام طور پر 400 ٹن کے اردگرد برف پگھلتی ہے لیکن اس سال 552 ٹن برف پگھلی ہے جو کہ 2005 (اب تک معلوم گرم ترین سال تھا) سے بھی 19 بلین ٹن زیادہ برف پگھلنے کا ریکارڈ تھا۔ اسی پر بس نہیں۔ 2004 میں جس قدر برف تھی سمر 2007 کے آخر تک یہ برف پگھل کر آدھی رہ چکی ہے۔ اور پچھلے سال اس گروپ نے اپنی رپورٹس کے مطابق اندازہ لگایا تھا کہ اس رفتار پر 2040 تک آرکٹیک ختم ہو جائے گا لیکن اس ہفتہ کے ڈیٹا کے بعد اندازہ ہے کہ سمر 2012 تک آرکٹیک برف ختم ہو چکی ہو گی۔ آرکٹیک اوشن کی سطح کا درجہ حرارت اس سال نارمل سے آٹھ درجے زیادہ ٹمپریچر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برف کی موٹائی کم ہو چکی ہے جس کا نتیجہ یہ کہ اگلے سمر میں زیادہ جگہ برف سے پاک ہو چکی ہو گی۔ اس سب کا اثر موسموں کی شدت پر ہے۔ ہمارے جیسوں ملکوں پر تو آگے چیل کوے نئے نئے طیارے خرید فرما رہے ہیں بھگتنا تو ایک عام انسان کو ہے۔ سمر 2012 سے پہلے ہم جنوری 2009 کا انتظار کرتے ہیں۔ ظاہری بات ہے صدر بش صحیح نہیں ہو سکتے۔
Popularity: 26% [?]
Popularity: 26% [?]
417 views
Related Posts
- 2006 On January 1, 2007, 0 Comments
- 2006 another year I lost. Gained a lot and didn’t repay a penny. Should I be shamefull? I dont kno. May be I should and may be I shouldnt. I became less emotional and more stable than the previous years. I was never been some one looking for trouble but troubles always found me. This year
- Am i weird? On December 27, 2006, 0 Comments
- I have been tagged by Zikria Ajmal for the meme where I have to write down 6 weird things about me. What I believe and most would agree is that I my self am weird. I can’t sit back and relax. I need something to do all the time even if its doesn’t worth at all and



























Quit nice and informative. Thanks for writing about such topic.
It is quite unfortunate to see that the developed countries damage the environment more than 70-80% of the total damage. But in the end the non developed countries will suffer more from these environmental changes.
http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2007/12/071210_climate_wars.shtml
Meraj Khattak’s last blog post..ہو فنا ذات میں
میں اک صبح اس بات پر لکنے جا رها تها که انڈونیشا میں جنگلات کی کمی اور پهر
ان دنوں جنگلات کی خالی جگه پر آگ اور اس کی وجه سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کا اخراج
اور ان کے مسائل
لیکن وقت هی نہیں ملا اور پهر خیالات هی منتشر هوگیے
آپ نے صرف امریکی حکومت کے گلے لکهے هیں
میرے خیال میں اپ بهی امریکه کے رهائشی لوگوں کے اس ٹرینڈ کا شکار هیں که
پٹرولیم مافیا
اور
ڈرگ مافیا
دنیاکو نقصان بهنچارہے هیں
خاور’s last blog post..دھتکارے لوگ
acha mazmoon hay,
amrerica ki Mahool dusmin policies per Algor nay apni film inconvient truth mein sakht tanqeed ki hay,
ensaan es dunia ko apnay hatoon say jahanum bananay per tula huwa hay ,mahool doost taraz a zindi ZAROORI hay.
alif nizami’s last blog post..بے احتیاط پڑھے لکھے
http://urdutech.net/
پر بلاگ بنانے کے عمل میں تصویری تصدیق ڈالیں۔
اس کی غیرموجودگی کی وجہ سے اشتہاری آٹومیٹک اطلاقیوں نے دھاوا بولا ہوا ہے۔
ایسے پروگرام کو جو تصویری تصدیق کے لیے استمعال ہوتا ہے اسے Captcha کہتے ہیں۔
http://codex.wordpress.org/Plugins/Spam_Tools
alif nizami’s last blog post..بے احتیاط پڑھے لکھے
سلام
معراج خٹک: ویلکم، آپ کا بلاگ دیکھا۔ آپ اردو میں کیوں نہیں لکھتے؟
خاور: امریکی حکومت سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ صرف اوزون گیس کا معامل دیکھ لیں امریکہ نے کیسے فٹا فٹ اس سے نبٹا کیونکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان گوری رنگت کو کینسر کی شکل میں ہے کیونکہ ان کے پگمنٹس کم ہوتےہیں۔ نتیجتا ان کو جلد کا کینسر جلد ہوتا ہے۔
الف نظامی: الگور نے بہت کام کیا ہے اور اب جا کر اس کو نوبل پرائز ملا ہے۔
میں نے کپچا لگایا تھا لیکن یہ کام نیہں کرتا۔ ابھی بھی مجھے کوئی ایسا قابل عمل پلگ ان نہیں ملا۔ اس پیج پر زیادہ تر بلاگ کے پلگ ان ہیں میو کے لئے نہین۔
شاید یہ ربط کام کا ہو:
http://wpmudev.org/project/WPMU-Signup-Captcha
الف نظامی’s last blog post..ہمارا طرزِ حیات اور قائد