خواتین بالکل مت پڑھیں۔ نہیں تو اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ شکریہ
سارا قصور راشد کامران کا ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سب لوگ صدر پاکستان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ ایسے میں انہوں نے “قوفیوں” کے کہنے پر ایک تحریر لکھ دی۔ اس کے بعد فرحت نے بھی لکھی اور تو اور قبلہ و کعبہ حضرت مولانا قدیر احمد رانا ملتانی رحمت اللہ علیہ نے بھی لیکچر ملتانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
کچھ لوگوں کو کسی جشن کی ضرورت نہیں ہوتی لاہور میں انارکلی میں اکثر آوارہ لڑکے خواتین کو مختلف جگہوں پر ہاتھ لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن آپ ان خواتین کو بھی دیکھیں میں یہ کہہ کر ان لڑکوں کو justify نہیں کر رہا لیکن بہر حال اگر آپ اشتہار بن کر نکلیں گیں تو گندگی لپکے گی۔ لیکن اس پر مردوں کو الزام دینا اتنا آسان نہیں۔ کیا خواتین خود یہ نہیں جانتی یا وہ اس کو گھر بیان کرتی ہیں؟ بالکل نہیں کیونکہ اس کا مطلب جھگڑا اور بازار جانا بند ہے جو ان کو گوارہ نہیں اور کونسی خاتون ہونگی جو شاپنگ کی دلدادہ نہ ہوں؟ اس کا ذہین لوگوں نے آسان حل نکالا ہوا ہے۔ اول اپنی خواتین کو مناسب پردے میں لے کر جائیں۔ دوئم آگے پیچھے لڑکے ہوں اب اس کے باوجود بھی کچھ ایسا ویسا پیش آئے تو مرمت کریں اور ثواب کمائیں۔ اس پر میرے ایک دوست نے کہا ایسے اوباشوں کا گروہ ہوتا ہے اور اسلحہ بھی۔ میں نے کہا کبھی جا کر دیکھا ہے؟ لفنگے ہوتے ہیں جو خواتین کے سامنے نہیں ٹکتے اور ویسے بھی اگر وہ بہادر بنیں تو تم بھی بنو یا جان پیاری رکھو یا عزت۔
صدر مشرف کے بابرکت دور میں میں نے ایک منظر یہ بھی دیکھا کہ ایک کالی گاڑی کو کافی سارے موٹر سائیکل سوار 14 اگست کی رات گھیرے ہوئے ہیں۔ اس میں خواتین تھیں۔ ڈرائیور لڑکا شائد ٹرینڈ تھا اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر صرف ہاتھ گھمایا literally تمام موٹر سائیکل سوار بھاگے اور تین چار تو نہر میں کود گئے۔ جوان کے ہاتھ میں ایک عدد پستول تھا وہ واپس گاڑی میں بیٹھا اور اسکے بعد وہ موٹر سائیکل سوار کبھی نظر نہیں آئے۔
یونیورسٹی میں میری کسی کو اہمیت نہ دینے کی عادت کو دیکھتے ہوئے دو جوکروں نے مجھے متاثر کرنے کے لئے اپنے حوالے جمعیت سے ملائے۔ ان کا حلئیہ کسی صورت جمعیت سے میل نہیں کھاتا تھا لیکن دونوں گورنمنٹ کالج سول لائنز سے تھے۔ فرمایا جمعیت کے لڑکے کسی خاتوں کی شکایت پر متعلقہ اوباش کو پکڑتے اس کو سگریٹ اور استری سے داغتے اور پھر دو عیسائی گے چوڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے۔ مجھے یقین نہیں آیا میرا خیال تھا کہ ایسے ہی بنے بنائے بدھو کو بدھو بنا رہے ہیں لیکن قدیر کا مضمون پڑھ کر سوچا کیا پتہ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو اور انہوں نے اس پر عمل بھی کیا ہوں۔ اگر جمعیت سے متعقلہ یا سول لائنز کالج لاہور کے کسی سابق طالب علم کو علم ہو تو تصدیق یا تردید کر کے ثواب دارین کمائیں۔ ہ
ویسے سول لائنز کالج لاہور کے طلبہ کی طاقت اس حد تک تو میں نے دیکھ رکھی ہے کہ اس کے بغلی دروازے جو کہ اس سڑک پر ہے جو راوی کے نئے پل کی طرف جاتی ہے، کے بالکل سامنے لاہور پولیس کیپیٹل سٹی ہے۔ یہاں سے پولیس کا سارا نظام چلتا ہے۔ جمعیت کا مظاہرہ ہو رہا تھا اور پولیس کی بھاری نفری اس کے احاطے میں دبکی ہوئی تھی جبکہ طلبہ باہر اپنی طرف کی سڑک تک بلاک کر کے نعرے لگا رہے تھے۔
کچھ لوگ ہر کام میں ملا کا قصور نکال لیتے ہیں۔ یہ آجکل فیشن ہے۔ اور ایسے ایسے طریقوں سے ملا کو جوڑا جاتا ہے کہ ہنسی آتی ہے۔
شادیوں میں پڑھے لکھے خاندان ہی سب سے زیادہ فضول رسمیں کرتےہیں۔ ابھی پچھلے دنوں میرے کسی جاننے والی کی شادی ہوئی۔ خاتون خان فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اور یہ لوگ پنجابی تھے۔ مہندی بارات پر ان لوگوں نے لڑکوں کو اندر نہیں جانے دیا۔ صرف چند بزرگوں کو جس پر یہ سب ناراض لیکن بدمزگی نہیں ہوئی۔ ایسے وقت میں ایک بڑی احمقانہ دلیل سب اپنے ہی ہیں۔ یعنی سب اپنے ہیں تو پھر بعد میں رونا کیسا؟ اس پر کسی ملا نے نہیں کہا کہ تم یہ رسمیں کرو
ہمارے معاشرے کا سب سے تکلیف دہ پہلو ان تمام چیزوں کو سب کے سامنے جائز کرنا ہے جو کہ تنہائی یا چھوٹے پیمانے میں قابل قبول نہیں۔ جیسے فنکشنز میں لڑکیوں کا ڈانس کرنا اور اس کی ویڈیو بننا۔ بازار میں ناچنے والی عورت کو سب دیکھتے ہیں آپ اپنی بیٹیوں کو نچاتےہیں یہ کہہ کر کہ خوشی کا موقعہ ہے۔ اب جملہ مہمان “سب اپنے” ہی ہیں لیکن آپ کی بیٹی کے بارے میں جو جو نوجوان نسل ہارمونز کے تحت کہہ رہی وہ آپ کے کان متعلقہ ہارمونز کی انتہائی کمی کے باعث سننے سے قاصر ہیں۔ یہ کسی ملا نے نہیں کہا کہ تم کرو۔ یہی لڑکے ہیں جو آپ کے خاندان اور عزیز دوستوں کی وجہ سے فنکشن میں شامل ہیں اور یہی ہیں جو بعد میں سڑکوں پر پھیل کر معاشرے کو گندا کرتے ہیں۔
قدیر نے لکھا کہ اس کے دوست مانتے نہیں۔ میں نے کبھی اوچھے لوگوں کو اپنی لسٹ میں شامل نہیں ہونے دیا۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جنکا میں دوست ہوں لیکن وہ میرے دوست نہیں۔ اوچھے لڑکوں کی بےعزتی کرنے میں میں دیر نہیں لگاتا۔ فیملی کے خبیث اتنی شیطان سے پناہ نہیں مانگتے جتنی میرے سے۔ پھر مجھے ڈر بھی کسی کا نہیں چاہے آپ کی اماں لڑاکا نمبر ون ہوں یا آپ کے ابا تیس مار خاں ہو۔ اگر آپ کسی خاتون کے بارے میں ایسی ویسی بات کرتے ہیں تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ اچھے خاص پڑھے لکھیں ہیں ماشااللہ ایم اے اور پھر یہ کرتوت ہیں تو آپ کو کسی ملا نے یہ نہیں کہا۔
اسی طرح ایک آنٹی کہتی شادی پر لوگ کیا کہیں گیں۔ میں نے کہا یا لوگوں کی فکر کریں یا شادی کی۔ ایسا تو نہیں کہ سب فضول کام کرتے ہیں تو آپ بھی کریں۔ آنٹی کی میری بات کچھ خاص پسند نہیں آئی نتیجتہ خفا خفا سی رہیں۔ اب شادی کا فنکشن پر خواتین فیشن کرتی ہیں پھر ان کے انڈر گارمنٹس تک نظر آ رہے ہوتے ہیں یہ نہ کسی ملا نے کہا ہے نہ ان کے شوہر نے یہ خود ان کی بےحیائی ہے۔ میں ایسی خواتین اور ادھر ادھر پھرتے لڑکوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ سب سے بڑا لطیفہ آپ کا شوہر اگر کسی بازاری عورت کے پاس جاتا ہے تو وہ برا آپ خود بازاری عورت جیسا کام کسی بھی فنکشن میں کھلے عام کرتی ہیں وہ برا نہیں۔
یونیورسٹی میں بھی میں نے ملا کے پیروکار لڑکوں کو خواتین کے بارے میں باتیں کرتے نہیں سنا۔ لیکن اچھے پڑھے لکھے گھرانوں کے سپوت جو بک بک کر رہے ہوتے ہیں وہ سچ ہے اور اس میں قصور خاتون کا زیادہ ہے۔ آپ اس قدر باریک کپڑے پہن کر نازل ہو رہی ہیں تو باتیں تو ہونگی۔ اب یہ کسی ملا نے تو نہیں کہا نا؟
اب معاشرے میں ایک افسوسناک امر لڑکی کو ایک فرشتہ کے روپ میں دیکھنا ہے جس کے جذبات نہیں یعنی وہ کسی سے محبت نہیں کر سکتی۔ اگر کرتی ہے تو بری۔ یہ ملا سے زیادہ غیرت میں شامل ہے۔ آپ چھ خواتین کو سہانے سپنے دیکھائیں اور شادی کے لئے ڈھونڈیں کوئی پاکباز؟ کیا پتہ وہ بھی کسی کے ہاتھوں سپنے دیکھنے کے بعد آپ کے حصے آئی ہو۔ اگر آپ نے ساری عمر ایسی حرکت نہیں کی لیکن خاتوں ایسی ملیں تو اب آپ معاف کرنے پر تیار نہیں۔ سارا بدلہ خاتون سے لے لیا۔ خاتون سے پوچھیں ساتھ رہنے کو تیار ہے تو صحیح نہیں تو جو چاہتی ہے کر کے نیکی کریں۔ اور یہ برائی صرف ان پڑھ میں ہیں اچھے خاصے پڑھے لکھے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ خاتون کبھی کسی دوسرے سے بھی محبت کر سکتی ہے۔ یہ ان کے لئے ناقابل قبول ہے جس کا سرا چاہے کوئی اسلام سے جوڑے تو کوئی پاکیزگی سے لیکن خاتوں ایک انسان ہے اور کسی بھی انسان سے محبت کر سکتی ہیں یہ ایک فطری بات ہے اور اس کو بالکل نارمل لینا چاہئے۔
بہت سے لوگ بازاری عورت یا ایسی خاتون جو لڑکوں سے فری ہو جاتی ہو کی بالکل عزت نہیں کرتے۔ اس میں قصور نہ مرد کا ہے نہ ملا کا۔ آپ خود کو اگر پلیٹ میں رکھ کر پیش کریں تو فرشتے آجکل بننا بند ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاک صاف مردوں کو آپ کی بےعزتی کرنے کا حق ہے۔ عورت جیسی بھی ہو اس کو بحیثیت عورت عزت ملنی چاہئے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ جس گھٹن کا شکار ہے اور جس طرح خواہش کو روکا جاتا ہے کے نتیجہ میں آپ کو اچھے سے اچھے لوگ بھی برے مقاصد کے لئے استعمال کریں گیں۔
میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو کہ اچھے ہیں اور عورتوں پر بری نگاہ نہیں رکھتے لیکن اگر کوئی عورت ان پر فریفتہ ہو تو اس سے خواہش پوری کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے۔ یہ اب نہ ان کو ملا نے کہا ہے نہ انہوں نے مجبور کیا۔ قصور وار نہ مرد ہیں نہ عورت یہ معاشرہ ہے جس کو اس طرز پر ڈھالا گیا ہے اور تبدیلی کی خواہش کی جاتی ہے لیکن عملی اقدام کچھ نہیں۔
ہم معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن جہاں تک ہمارا کنٹرول ہے یا جہاں تک ہم اثر انداز ہوتے ہیں اس کو لوگ کیا کہیں گیں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم لوگ جہیز کو برا مانتے ہیں لیکن دیتے یا لیتے وقت لوگ کیا کہیں گیں ڈال دیتے ہیں۔ متمول ایک گھر بنا کر اور غریب ایک کمرہ بنا کر ہونے والی سسرال کو مدعو کرتے ہیں کہ آپ نے یہ بھرنا ہے۔ ہم اس کو روک کر عورت کی بےقدری کو روک سکتےہیں لیکن نہیں اور اس میں پیش پیش عورت ہی ہوتی ہے نہ مرد نہ ملا۔
ہم میں سے کتنے ہونگے جنہوں نے یا جن کے خاندان میں سادگی سے شادی کا رواج ہو؟ لوگ کیا کہیں گیا یا ہمارا حلقہ اثر وسیع ہے اور ہوتے ہوتے سبھی رسوم شامل ہو جاتی ہیں سوائے چند ایک کے۔ معاشرے کی تبدیلی کی خواہش بہت ہے لیکن خود کچھ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ معاشرہ فرد واحد سے تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ آج کے گندے انڈے آپ قتل کر کے ہی معاشرہ صحیح کر سکتے ہیں جو کہ ناممکن ہے۔ لہذا آپ آج سے کوشش کریں تا کہ بیس سال بعد جو نسل ہو وہ ساری نہ صحیح ریشو وائز آج کے مقابلے میں بہتر ہو۔ ساتھ میں خواتین کو اور مردوں کو ملا سے زیادہ جذبات اور تعلیم کی کمی یا زیادتی ایفیکٹ کرتی ہے۔ ملا کو الزام دینا سراسر مسئلہ سے نظر چرانا ہے۔
Popularity: 19% [?]
Popularity: 19% [?]
779 views
Related Posts
- خاور کھوکھر On June 2, 2007, 4 Comments
- خاور کھوکھر، اردو بلاگرز میں شائد سب سے الگ۔ ان کا انداز اس قدر مختلف ہے کہ قدیر جیسے میسنے معاف کیجئے گا معصوم لوگ تو خوامخواہ ہر بات میں کہہ دیتے ہیں کہ اوئے ان کا دھیان رکھنا۔ وہ کچھ لکھ نہ دیں۔ کچھ دنوں پہلے میں نے ایسے ہی سوچا کہ نہ جانے
- فرق On November 2, 2008, 2 Comments
- گورے کا گھر ہو تو وہ ایک ایک کر کے پائین ٹری کے foliage اکٹھے کرتا ہے۔ یہ بہت پتلے ہوتے ہیں ان کو ہاتھ سے اکٹھا کرنا بڑا کام ہوتا ہے۔ میں نے گوروں کو ہاتھ سے اکٹھے کرتے خود دیکھا ہے۔ گورے یہ ایک ایک کر کے جمع کرتے ہیں اور ان
- سیاسیات On January 14, 2008, 2 Comments
- اگر ہیلری یا اوبامہ کوئی بھی ڈیموکریٹ امیدوار بن کر الیکشن لڑ کر جیت بھی جاتا ہے تب وہ کس کو نائب صدر بنائے گا؟ کیا ہیلری اوبامہ کو نائب صدر کی آفر کرے گی؟ کیا اوبامہ ہیلری کو ایسی آفر کرے گا؟ یا وہ جان ایڈمنڈ کو ترجیح دے گا۔ نیو ہیمپشائر ڈیبیٹس میں
- Gustav On August 31, 2008, 0 Comments
- صدر بش صرف 29 فیصد حمایت کے ساتھ اس وقت پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ یعنی ان کو پولز کےمطابق عوام میں سے صرف 29 فیصد کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں چاہے ہیوی مینڈیٹ ہو یا زرداری حکومت ختم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ consistency کی کمی کی وجہ سے ہمارے
17 Responses to “ہم اس لئے گھورتے ہیں۔”
- 1 Pingback on Dec 7th, 2007 at 10:14 am
- 2 Pingback on Dec 8th, 2007 at 11:57 am
- 3 Pingback on Dec 17th, 2007 at 2:12 am

























بدتمیز تم نے کچھ زیادہ ہی کھری کھری سنا دیں۔ جب بات معاشرے کی کر رہے ہیں تو خواتین کیوں نہ پڑیں؟ اور جب انکا پڑھنا ضروری ہے تو ہتھ زرا ہولہ رکھیں۔
ساجداقبال’s last blog post..فارم کسطرح خوبصورت بنائیں؟
آپ لاہور کے رہنے والے ہیں ۔ دس سال قبل میں لاہور ایک شادی پر گیا ۔ اس شادی پر جو کچھ سڑک پر اور ہوٹل کے حال میں ہوا ۔ میرے لئے عذاب سے کم نہ تھا ۔ جب سڑک پر ناچ ہو رہا تھا تو میں ہوٹل میں گھُس گیا ۔ ناچ مین لڑے لڑکیاں سب شامل تھے ۔ پھر ہوٹل کے ہال میں شروع ہو گیا تو میں باہر نکل گیا اور سڑک کے کنارے ٹہلتا رہا ۔ جب تھک گیا تو ہوٹل کے ہال میں جا کر بالکل پیچھے دیوار کی طرف منہ کر کے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں ۔ یہ سب لوگ پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ تھے جن کے منہ سے اکثر سنا جاتا ہے “معاشرہ خراب ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ”۔ رہی بات مولوی کی تو اس کے متعلق میری آج کی تحریر پڑھ لیجئے ۔ ایک پانچ وقت کے نمازی صاحب کو مین نے یہ کہتے سنا “آج تو میری بیٹی نے کمال کر دیا”۔ میری داڑھی تو نہیں تھی لیکن ان سب لوگوں میں شائد صرف میں ہی جاہل مُلّا تھا ۔
اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع
یعنی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
قوفیوں کا مطلب کیا ہے؟
Qadeer Ahmad’s last blog post..تعلیمِ اسلام ۔ قسط03 ۔ ہمارے نبی کی حکمت عملی کیا تھی
حضرت آپ نے تو ایک ٹیبو چھیڑ دیا ہے ہمارا تو خالی نام بدنام ہوا ہے۔۔ ویسے یہی وہ معاشرہ ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں اور ان چیزوں پر بات نہیں کرنا چاہتے ۔۔ چھڈوجی ۔۔ سانوں کی۔۔ اپنے باپ کا کیا جارہا ہے ۔۔ وغیرہ بول کر ریت میں منہ گھسا دیتے ہیں۔۔ خوش آئند بات ہے کہ کم از کم بات شروع تو ہوئی۔۔ مسائل کا تعین ہوگا۔۔ سوالات اٹھیں گے تو پھر حل بھی نکلے گے اور جوابات بھی ملیں گے
راشد کامران’s last blog post..میاں، بی بی راضی، تو کیا کرے گا قاضی؟
سلام
ساجد اقبال: ابھی جو میں نے لکھنا تھا وہ نہیں لکھا بہت احتیاط سے لکھا ہے پھر بھِی میرا نہیں خیال تھا کہ خواتین کے پڑھنے کے قابل ہے۔
اجمل انکل: دس سال پہلے۔۔ آپ اب چکر لگائیں انشاءاللہ دوبارہ لاہور کا نہیں سوچیں گیں۔ بہت تیزی سے بہت بےوقوفی پھیل چکی ہے۔
شاکر: صورتحال گھبیر ہے کیونکہ شعور ہے لیکن ایک حمام میں سب ننگے۔
قدیر احمد رانا ملتانی: جن کو آپ ووٹ ڈالیں گیں۔
راشد کامران: حل سب کو پتہ ہے ہمت نہیں اتنی کہ اس پر عمل کر سکیں۔ ہاں الزام تراشی کافی آسان ہے جو کہ آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔
بدتمیز’s last blog post..افتخار اجمل بھوپال
آہا اہا۔۔۔ دل کی ترجمانی کردی بھئی۔۔۔۔۔۔
اور یہ جو لکھا ہے کہ:
“اب شادی کا فنکشن پر خواتین فیشن کرتی ہیں پھر ان کے انڈر گارمنٹس تک نظر آ رہے ہوتے ہیں”
تو اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب کم سے کم کراچی میں یہ افسوسناک صورتحال صرف شادیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عام کپڑے بھی ایسے ہی مقبول ہیں۔ دوسری طرف اب یہ صرف اونچے گھرانوں تک نہیں بلکہ متوسط اور شریف گھرانوں کی خواتین بھی ایسے ہی شرمناک لباس پہنا کرتی ہیں جس کو دیکھ کر مجھے شدید غصہ چڑھتا ہے۔ باپ اگر اپنی بیٹی کو اور شوہر اپنی بیوی کو اگر ایسے بے غیرتانہ لباسوں سے نہ روکے تو بے غیرتی میں ان کا بھی برابر ہی کا حصہ ہے۔
اوپر سے لطیفہ یہ ہے کہ اتنی بے شرم بن کر گھر سے نکلے، پھر اگر لڑکے دیکھیں یا آوازیں ماریں تو الزام بھی انہی پر۔ ایک وقت تھا کہ شریف اور دھندا کرنے والے الگ پہچانے جاتے تھے، اب شاید یہ پہچان بھی مٹ گئی ہے۔
مولوی حضرت بے چارے یقینا ان تمام برائیوں کی وجہ نہیں۔ شاید آپ نے بھی “ME” کا جواب دیا ہے۔۔۔۔۔
مجموعی طور پر تحریر اچھی اور اہم لکھی ہے۔ خواتین کو پڑھ لینے دیں۔۔۔۔۔۔ شاید ان کو بھی احساس ہوسکے۔
راہبر’s last blog post..غیر مستقل مزاجی
راہبر بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئی۔ ہاں ٹرینڈ شرمناک ہے۔
تم ایک بہت اچھے آدمی ہو اگر تم میں سے “میں” نکل جائے۔
اور ہاں بہت اچھا لکھا ہے۔
Faisal’s last blog post..لینکس کے متوالوں کےلئے ایک اچھی (یا شائد بری) خبر
فیصل اس عزت افزائی کا بہت شکریہ۔ لیکن چھٹی نہیں کافر منہ کو لگی ہوئی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آجکل کی ماڈرن ازم کا شکار 50فیصد پاکستانی عورتیں شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ چکی ہےں ۔۔۔ لیکن یہ کہ کر مردوں کو سیف نہیں کیا جا سکتا کہ عورت پردہ نہیں کرتی تو مرد کو گھورنے کا موقع ملتا ہے ۔۔۔ میں ایسے علاقے سے تعلق رکھتی ہوں جہاں گیارہ بارہ سال کی عمر سے پردہ کروایا جاتا ہے لڑکی کو پردہ بھی ایسا جس میں آنکھیں بھی کھلی نہیں ہوتیں ۔۔ پھر بھی یہ مردوں کی تیز نظروں کا کمال ہے کہ برقعے کے اندر بھی پہچان جاتے ہیں کہ یہ فلاں گھر کی عورت ہے ۔۔۔ سعودی عرب میں جہاں پردے کی پابندی ہے ۔۔ اکیلی عورت کو دیکھ کر لوگ گھروں میں گھس آتے ہیں ۔۔ یہ انسانی فطرت ہے مرد کسی حال میں بھی گھورے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ آج کے دور میں چند فیصد لوگ جو بہت متقی اور پرہیزگار ہون گے اور ان خرافات سے دور ہوں گے ۔۔
مجموعی طور پر میں اس سب کا ذمہ دار عورت کو نہیں مرد کو سمجھتا ہوں۔ جن پچاس فیصد نے شرم و حیا کو اللہ کے سپرد کیا ان کو مردوں کے اس معاشرے میں مرد کی ؔشیر باد ھاصل تھی بہت کم خود سے ایسے فیصلے کرتی ہیں۔ سعودی عرب کے حوالے سے نٕی بات پتہ چلی۔ فطرت بدلی کب جا سکتی ہے
بہت ہی اچھا لکھا بدتمیز بھای میرے خیال سے سب کو پڑھنا چاہیے سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے اگر آپ لوگوں کو اسی لیے روکیں گے کہ وہ کڑوا ہے تو پھر انکو سچ کیسے پتا چلا انارکلی میں یہ حرکت عورت کے ساتھ ہوتی ہے اور عورت کو ہی پڑھنے سے روکنے کا مقصد مجھے سمجھ نہیںآیا
آہا مزہ آ گیا پڑھ کر

ایویں ریلیٹڈ پوسٹس میںنظر آ گئی یہ تحریر
سولہ آنے سچی باتیں لکھی ہیں
ڈفر – DuFFeR´s last blog ..عزت بچائی مبلغ چار ہزار روپے