$2 a day
223 views Published December 3rd, 2007 in بش کے دیس میں.گرمیوں میں کالج کے چند طلبا کو ایک پروگرام میں شامل کیا گیا۔ اس کا نام $2 a day تھا۔ اس میں ان طلبا کو روزانہ صرف دو ڈالر خرچ کرتے ہوئے ایک ہفتہ تک زندگی گزارنی تھی۔ اسی میں انہوں نے سر چھپانے تن ڈھانپنے اور رہنے سہنے کا بندوبست کرنا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد ان لوگوں کو غریب لوگوں کی زندگی سے صحیح طور پر آشنا کرنا تھا۔ جیسے دنیا کی بہت بڑی تعدا روزانہ اس سے بھی کم رقم میں گزارہ کرتی ہے۔< ?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
بچپن میں میرے اسکول میں ریڈ کراس کی ٹکٹس بیچی جاتی تھیں۔ گورنمنٹ اسکول میں ریڈ کراس کافی اچھنبے کی بات ہوا کرتی تھی۔ دو ہی سالوں میں یہ ہلال احمر سے بدل دی گئیں لیکن ٹکٹس لینا لازمی تھا۔ یہ دھونس اور دھاندلی کی بدترین مثال تھی۔ بچوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ٹکٹس لیں۔ پہلے تو انعام کا لالچ دیا جاتا تھا کہ ان کی قرعہ اندازی ہو گی اور انعام ملیں گیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی نہیں لے رہا تو مس اس کے سر پر پہنچ جایا کرتی تھیں۔
اس طرح چارٹس بنوا کر لانا یا اسکول کے لئے چندہ جمع کرنا عام سی بات تھی۔ بلیک بورڈ کے لئے سیاہی خریدنا ڈسٹر لانا اور کبھی کبھار چاک بھی بچوں کے عطیات سے ممکن تھا حتی کہ سکول کا بلیک بورڈ خریدنا بھی بچوں کے ذمہ تھا۔ یعنی اگر گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہیں اور آپ کی کلاس سکول کے بڑے درخت کے نیچے شفٹ ہو گئی ہے تو لکڑی کا بلیک بورڈ لانا اب بچوں کے چندے پر ہے۔
یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ آپ جس شہر یا کاؤنٹی میں رہتے ہیں اس کے پبلک اسکول میں آپ کا بچہ مفت پڑھتا ہے۔ اس کی اسکول بس آپ کے بچہ کے لئے مفت ہیں۔ اگر آپ غریب ہیں تو اسکول سے رابطہ کریں آپ کے بچہ کو اسکول مفت دوپہر کا کھانا فراہم کرے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس شہر کے رہائشی ہوں ایسا ممکن نہیں کہ آپ کسی کاؤنٹی یا شہر میں نہ رہتے ہوں لیکن اس کے اسکول سسٹم کے اچھا ہونے کے باعث اپنا بچہ وہاں بھیجتے ہوں۔ ایسا اگر دھوکے سے کر لیا تو اب آپ کو فیس ادا کرنی پڑے گی۔ اگلے سال یا تو اس شہر میں شفٹ ہوں یا بچہ اپنے علاقے کے اسکول میں بھیجیں۔ ہاں پرائیوٹ اسکول جہاں مرضی ہو اس پر یہ شرط نہیں۔
اگر کلاس پراجیکٹ کے لئے کچھ سازوسامان یا کاسٹیومز چاہئے تو اس کے لئے ہرگز ہرگز بچوں کو لانے یا پیسے دینے کے لئے نہیں کہا جاتا۔ اس کے لئے ایک الگ ہی طریقہ ہے۔ اس میں کسی ویک اینڈ پر بچے کار واش کا کام کرتے ہیں۔
سب سے پہلے انچارج یا ٹیچر کسی مصروف سڑک پر کسی بزنس سے رابطہ کرتے ہیں۔ تا کہ اس بزنس اونر کی پارکنگ لاٹ اور اس سے پانی حاصل کر سکیں۔ یہ گڈ ول کہلاتی ہے کہ آپ اگر کسی جگہ بزنس کر رہے ہیں تو اس کمیونٹی کے لئے بغیر کسی غرض کے کیا کیا خدمات فراہم کر دیتے ہیں۔ اب بچے اس مقررہ دن یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ پانچ چھ بچے کار واش کے بینر لے کر سڑک پر کھڑے ہوتے ہیں جبکہ باقی سب پارکنگ لاٹ میں جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اگر بزی نہ ہوں تو ان سے گاڑی دھلواتے ہیں۔ ایک تو نیکی ہو جاتی ہے۔ دوسرے جنتی محنت سے بچے دھوتے ہیں اتنی محنت نہ آپ کر سکتے ہیں نہ آٹو میٹک کار واش اتنی صفائی کرتی ہے۔ یہ بچے رم اور چھوٹی چھوٹی جگہوں تک کو چمکا دیتے ہیں۔
عام طور پر لوگ دس ڈالر تک بخوشی دے دیتے ہیں۔ میری کزن نے بتایا کہ ان کے پاس ایک دفعہ ایک ایسا بندہ بھی آیا جس نے صرف دو ڈالر دئیے۔ عام طور پر بچوں کے والدین بھی حصہ ڈالنے کے لئے اپنی کار لے جاتے ہیں۔ یعنی اب یہ والدین پر بوجھ نہیں پڑا اور بچوں کی تربیت بھی ہو گئی جو نا صرف ان کے کام آتی ہے بلکہ ان کو دیکھایا جاتا ہے کہ کام کوئی بھی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔
اسکولز میں پڑھائی عام طور پر ڈسکشنز کی صورت میں ہوتی ہے۔ آپ کو کچھ پڑھنے کے لئے دیا جائے گا اور کلاس میں اس کو ڈسکس کیا جاتا ہے۔ اس صورت مین نوٹس بنائے جاتے ہیں اور ان کا ہوم ورک ملتا ہے۔ کلاس کے اختتام پر بتایا جاتا ہے کہ اگلا ٹاپک کیا ہے جس پر اگلی کلاس میں ڈسکشن ہو گی۔
اسکول سے چھٹی کا کوئی تصور نہیں۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کے غیر حاضر ہونے کی اطلاع اور اس کا اس دن کا ہوم ورک لے کر آئیں۔ اسکولز میں جم جوائن کرنا مسٹ ہیں جس میں جسمانی کھیل ہیں۔ جو کہ ہلکی پھلکی ورزش ہے۔ دوڑ، فٹ بال یا ایسے کھیل جنکا اسکول کی سطح پر مقابلہ ہوتا ہے میں شمولیت کے لئے فزیشن سے فٹنس سرٹیفیکیٹ لانا لازمی ہے۔
اسکولز میں سر یا میڈیم کا کوئی تصور نہیں۔ ان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہمارے اسکولوں کی طرح سر یا پرنسپل صاحب اکڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ بچوں سے اس قدر فرینک ہو کر بات کرتے ہیں جیسے ان کے دوست ہوں۔ اگر کسی ٹیچر کی rude behavior کی شکائیت ہو تو اس کا کنٹریکٹ ریلیز بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے اسکولوں میں نصاب ہی نہیں استاد بھی نہیں صحیح۔ اول تو ہمارے اساتذہ ڈنڈہ زیادہ اور منہ کم چلاتے ہیں۔ پھر بچوں پر دھونس اور زبردستی کرتےہیں جس سے بچے ڈھیٹ ہوتے جاتے ہیں۔ ہمارے اکثر اساتذہ ذہنی مریض ہیں۔ ہمارا سارا نصاب فارغ کر دیا جانا چاہئے۔ تاریخ کو 1857 کے بجائے فراعین یا اس سے بھی قبل معلوم ہسٹری سے شروع کرنا چاہئے۔ سائنس میں ارتھ سائنس مسٹ شامل کی جانی چاہئے۔ سائنس کی جو مذاق نما کتب ہیں ان کو پہلی فرصت میں جلا کر راکھ کریں۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو فارغ کریں۔ سارا نصاب آپ برٹش یا امریکہ سے لیں بہر حال وہ آپ کو بورڈ کے برعکس وقت پر کتب مل جائیں گیں۔ آپ کو بھی علم ہو کہ انڈے سے باہر بھی کوئی دنیا ہے۔ فکر نہ کریں برٹش یا امریکی نصاب آپ کی نسل کا کباڑہ نہیں کرے گا۔ اگر آپ مولوی ہیں تو آپ جن کے پیروکار ہیں ان کے اپنے بچے باہر یہی نصاب پڑھ رہے ہیں۔ اگر آپ ایک عام شہری ہیں تو اپنے بچوں کی خود تربیت کریں۔
ایران کے حوالے سے مجھے بات بھول گئی ہے۔ اس کے کسی شاہ کا ذکر غلط لکھا ہوا تھا۔ ہڑپہ کا یاد ہے۔ یہ پاکستان میں ہے لیکن یہ تہذیب ہندوستان اور افغانستان کے بالکل چھوٹے علاقے تک پھیلی ہوئی تھی۔ باقی اس کا نقشہ میں مرکز سارا وہ علاقہ تھا جو کہ پاکستان ہے۔ آج ہڑپہ انڈیا کے حوالے سے پڑھایا جا رہا ہے۔ اور ہم ابھی تک پتلی پتلی کتابوں اور چھوٹے چھوٹے مضامین کے سہانے خوابوں میں ہیں۔ یہاں کی موٹی اور بھاری بھرکم کتب ان سب لوگوں کو منہ چڑاتی ہیں۔ ہم لوگ مستقبل کیا بنائیں گیں ماضی کی درست نشاندہی نہیں کر سکتے۔
رہی بات ایسے نکموں کی جن کے لئے پاکستانی نصاب ہی بہت تھا۔ اسی سے ان کا حال برا تھا اور اختصار کے متلاشی تھے، اور آپ صدقہ واری کے ہائے بچہ پر کتنا بوجھ لد گیا ان کی فکر نہ کریں یہ آپ کے بچے قوم کے معمار ہیں موچی درزی اور ترکھان نہ ہوں تو آپ کا ملک خاک ترقی کرے گا؟
Popularity: 27%
Popularity: 27%
223 views
Related Posts
- اردو ٹیک نیوز On December 4, 2007, 6 Comments
- میں کچھ عرصہ سے اردو یونیکوڈ نیوز سورسز کی فیڈز کو سیارہ کی طرز پر اکٹھا کرنے کا سوچ رہا تھا۔ بدقسمتی سے سبھی پاکستانی اردو اخبارات فیڈز فراہم نہیں کرتے۔ اور سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ اس کو اردو وینس میں شامل کر لوں یا الگ سے سیٹ اپ کرو۔ بالآخر الگ سے
- misconceptions On December 9, 2007, 8 Comments
- کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مغرب میں عورت کو انسان سمجھا جاتا ہے یا بہرحال وہاں حالات قدرے بہتر ہیں اور عورت کو اتنا نہیں گھورا جاتا ہے۔ اس طرح ایک تھیوری یہ ہے کہ شائد نوعمری کی شادی یا نوعمری میں جنسی جذبات کی تسکین اگر فراہم ہوں تو لوگ ایسا نہ کریں۔
- حال بے حال On December 2, 2007, 3 Comments
- کل میں نے ایسے ہی سلائس کی سائیڈ الگ کی اور اس کو کھانے لگا۔ فورا فلیش بیک ہوا اور مجھے کچھ یاد آیا۔ چھوٹے ہوتے مجھے سلائس کی سائیڈز، نان کا درمیانی حصہ اور لال مرچوں والا انڈہ بہت زہر لگتا تھا۔ لال مرچوں کا تو حل یہ نکالا گیا کہ اس کو کالی
- دوسرا تھپڑ On January 9, 2008, 1 Comments
- بزرگوں کا قول ہے کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کر دو۔ میرا خیال ہے یہ قول کسی بزرگ کا اپنے فرزند کے لئے ہو گا کہ جان عزیز روتا کیوں ہے تجھے تو ایک تھپڑ کھا کر دوسرا گال آگے کر دینا چاہئے۔ میں نے ایسی غلطی کبھی نہیں کی
- tag On June 20, 2008, 6 Comments
- v\:* {behavior:url(#default#VML);} o\:* {behavior:url(#default#VML);} w\:* {behavior:url(#default#VML);} .shape {behavior:url(#default#VML);} st1\:*{behavior:url(#ieooui) } جہانزیب ٹیگ ٹیگ کھیل رہے ہیں۔ قبلہ کو میں نے 2006 میں یہاں اور 2007 میں یہاں ٹیگ کیا تھا۔ ابھی تک نہیں ملے۔ ان کے علاوہ اکرام نے بھی ٹیگ کیا تھا اردو بلاگر اتنے تھوڑے ہیں کہ میرا خیال ہے ہر بلاگر آگے صرف دو کو ٹیگ کرے۔ کھیل
- لوگ On July 31, 2008, 4 Comments
- کہا جاتا ہے کہ چوہے کی یاداشت بہت کمزور ہوتی ہے۔ لہذا یہ جیسے ہی بلی سے ڈر کر بھاگ کر اپنے بل میں چھپتا ہے کچھ دیر بعد ہی بھول کر دوبارہ باہر نکلتا ہے اور تاک میں بیٹھی بلی کا شکار بن جاتا ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگوں کی یاداشت
- Updated version of Microsoft Phonetic Input Tool Beta On January 10, 2007, 0 Comments
- Microsft updated the phonetic input tool beta with a newer version, this is the mail we recieved. The Microsoft Phonetic Input Tool Team would like to thank everyone who tested and provided feedback for the version 1.1 beta. As a reminder, the license for the version 1.1 beta (posted in August 2006) will end on January
- Network Monitor 3.0 has released to web! On December 8, 2006, 0 Comments
- You are receiving this email because of your participation in the Microsoft Network Monitor 3.0 beta program. The final release of version 3.0 has now been posted to http://connect.microsoft.com. Please update from your beta version to the released version if you have not already done so. It is available free of charge. The team has chosen
- youtube On May 27, 2007, 4 Comments
- پاکستان کی بدلتی صورتحال اور صدر مشرف کے حمائتیوں کی حرکات سے تنگ بہت سے لوگ اور بلاگر اب سیاست کی طرف لکھنے پر مائل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تصویر ہزار الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہے تو پھر متحرک تصویر کتنا اثر رکھتی ہو گی؟ میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ یوٹیوب
- Photosynth On December 5, 2007, 0 Comments
- میں نے کچھ عرصہ پہلے لکھا تھا کہ اگر اب سرچ انجن تصاویر کو روایتی طریقے یعنی ٹیکسٹ کے ذریعے ڈھونڈنے کی بجائے خود تصویر سے معلومات حاصل کر کے اس کو ڈھونڈ سکیں تو کتنا اچھا ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے آپ ایفل ٹاور کی تصاویر مینار پاکستان لکھ کر پوسٹ کر دیں اور
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
0 Responses to “$2 a day”
Please Wait
Leave a Reply