کل میں نے ایسے ہی سلائس کی سائیڈ الگ کی اور اس کو کھانے لگا۔ فورا فلیش بیک ہوا اور مجھے کچھ یاد آیا۔ چھوٹے ہوتے مجھے سلائس کی سائیڈز، نان کا درمیانی حصہ اور لال مرچوں والا انڈہ بہت زہر لگتا تھا۔ لال مرچوں کا تو حل یہ نکالا گیا کہ اس کو کالی مرچوں سے تبدیل کر دیا گیا۔ نان ویسے ہی جلدی اکٹر جاتا تو درمیانی حصہ واپس ہاٹ پاٹ میں لیکن سلائس کی سائیڈز کا کوئی حل نہیں تھا۔ لہذا میں دونوں سلائسز کی سائیڈز الگ کرتا ان کو بڑی مشکل سے نگلتا پھر مزے سے سلائس کھاتا اور پھدک کر ڈبل بیڈ کے آخری کونے پر پہنچ جاتا۔ کیونکہ اب دوائی کا وقت ہونے لگتا تھا۔ < ?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />
چھوٹے ہوتے بیمار ہونا اتنا برا نہیں ہوتا تھا جتنا ڈاکٹر کے پاس جانا اور دوائی لینا۔ اب ابو کہیں چلو ڈاکٹر کے پاس چلیں میں کہوں نہیں جانا لیکن ابو زبردستی اٹھائیں جیکٹ پہنائی اور پہنچ گئے ڈاکٹر کے پاس۔ اب ڈاکٹر صاحب کے ایک طرف بندوں کا حصہ ہوتا تھا ایک طرف عورتوں کا۔ بیچ میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی میز سجائی ہوتی تھی اور ان کے میز کے بالکل سامنے کمپاؤڈر کے لئے “حجرہ” بنایا ہوتا تھا جہاں سے وہ صرف دوا بنا کر نازل ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے منہ میں تھرما میٹر گھسا دیتے ہیں جبکہ آپ کا سر درد ہونے کے باعث دل چاہ رہا ہوتا ہے کہ کلینک میں موجود سبھی باتونی لوگوں کے منہ میں ایک ایک تھرما میٹر گھسا دیں۔
اب دوائی سے میرا ازل کا بیر ہے۔ اتنی کڑوی لگتی تھیں کہ بس۔ اب ہوتا کچھ یوں تھا کہ امی نے ڈبل بیڈ دیوار کے ساتھ جوڑا ہوا تھا کہ بچے نیند میں نیچے نہ گر جائیں۔ لہذا میں بیڈ کے آخری possible کنارے پر کھڑا نہیں پینی نہیں پینی کی رٹ لگائے ہوتا تھا۔ اب امی کبھی ابو کا ڈراوا دیں یا شام کو ڈاکٹر صاحب کا۔ کبھی اگر کمزوری زیادہ ہو تو تو میں جان چھڑانے کے لئے جا کر پی لیتا تھا اور پھر دھم سے گر کر سو گیا۔ نہیں تو امی کو پیڈ پر آنا پڑتا تھا۔ اب کبھی دوائی گر گئی تو دوائی کے ساتھ ساتھ ایک آدھ تھپڑ بھی پڑ جاتا تھا۔
بڑے ہونے پر میں نے دوائی کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک شروع کر دیا۔ کتنا ہی سر دکھے یا زکام ہو یا کھانسی میں دوائی نہیں لیتا تھا۔ کھانسی کی کھوں کھوں کا علاج امی نے گنڈیریاں کھلا کر کیا ہوا تھا۔ اور سچ میں یہ کام کرتا ہے۔ آپ صرف دو دن کھائیں اگر کھانسی کو فوری آرام نہ آئے تو مجھے کہیں میں آپ کو رونڈیک بھیج دونگا۔
لہذا بڑے ہو کر بھی میں نے گنڈیریاں ہی ڈھونڈی کبھی بھی دوائی نہیں لی۔ زکام کا علاج وہی ڈاکٹروں والا کہ چھینکیں مار لیں یا ٹشو خود ہی ٹھیک ہو جاتا تھا۔
سر درد نے بہت تنگ کیا تھا۔ بڑے ہو کر سرگرمیاں بڑھ گئیں تو گرمیوں میں تو ہر ہفتے ہی ہوا کرتا تھا۔ اب ڈسپرین لینے کو دل نہیں کرتا تھا کہ آخر کار دوائی میں شامل ہے۔ لہذا سارا دن صبر کرو رات کو سو۔ صبح ٹھیک ہو گیا تو بہت اچھی قسمت نہیں تو اگر سردیاں ہیں تو possibility ہے کہ صبح بھی ٹھیک نہیں ہو گا تو اب ڈسپرین لے لو۔ اور لو بھی کیسے؟ اس پر لکھا ہوتا تھا دو گولیاں پانی میں حل کر کے۔ میں آدھی گولی پانی میں حل کر کے پی لیتا تھا
نہیں تو سر درد کا علاج سونا ہی رکھا ہوتا تھا۔
اب پچپن میں حالات بدل گئے ہیں۔ اب میں دوائی کے ساتھ مزید برا سلوک کرتا ہوں۔ اب گولی تو پوری لے لیتا ہوں لیکن اس پر لکھا ہوتا ہے ہر چار گھنٹے بعد یا ہر آٹھ گھنٹے بعد۔ میں ایک ڈوز لے کر تین دن انتظار کرتا ہوں کہ دوا نے کام دیکھایا کہ اثر دیکھایا۔ نتیجہ تقریبا دو ہزار ڈالر کا نقصان نکلا۔ اس لئے شئیر کر رہا ہوں میری طرح کی غلطی مت کریں۔
امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کوئی بھی دوا جا کر لے آئیں۔ کچھ میڈیسینز prescription ہیں اور کچھ non prescription ہیں۔ non prescription کو over the counter بھی کہا جاتا ہے یعنی آپ اسٹور سے جا کر خرید سکتے ہیں۔ prescription drugs کے لئے آپ کو جا کر ڈاکٹر سے نسخہ لکھوانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مناسب سمجھے تبھی لکھ کر دیتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو فیمس کہ بہت سی ڈرگز نشہ آور بھی ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے آپ اپنی ڈاکٹری لگائیں اور کسی کو وہ دوا دے دیں جو اس کو نہیں بھی چاہئے۔
اب ہوا صرف اتنا تھا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی میں نے سالانہ ٹھنڈ لگوائی۔ سردی کے موسم کا اندازہ مجھے تب تک نہیں ہوتا جب تک ٹھنڈ نہ لگے۔ (ہیں نہ الٹے کام میرے) بس ٹھنڈ لگے گی تبھی گرم کپڑے پہنیں جائیں گیں ورنہ نہیں۔ بس ٹھنڈ لگوائی۔ لیکن دوائی نہیں لی۔ نتیجتہ فلو کی شکل اختیار ہو گئی۔ اب فلو کی دوائی نہیں ہوتی۔ ویسے بھی میں دوائی ایسے لے رہا تھا کہ آج لے لی اور پھر ویٹ کے کچھ اثر ہوا کہ نہیں
اب فلو صاحب نمونیا میں کنورٹ ہو گئے۔
لیکن بخار نہیں تھا تو مجھے احساس نہیں ہوا۔
ساتھ میں کھانسی بھی تھی لیکن میں نے پروا نہیں کی۔ باہر ٹھنڈ میں جا کر raking کرتا رہا۔ نتیجتا کچھ کچھ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا تو نہیں لیکن جو انہلیر دیا ہے وہ asthma کنٹرول کا ہے۔ لہذا ہم دونوں سے نبٹ رہے ہیں۔ آپ کو اگر فلو کے ساتھ جسم درد ہو لیکن بخار نہ ہو تو میری طرح ہفتہ بالکل انتظار مت کریں نمونیا بغیر بخار کے بھی ہو جاتا ہے۔
میں تو اوپر جاتے جاتے بچا ہوں پچھلے منگل کو سانس بالکل بند تھی۔ میں ڈھیٹ پھر جا کر سو گیا اور یہی کہوں کے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا اب ٹھیک ہے۔ وہ تو دوپہر کو ماموں آئے صبح کا حال سن کر زبردستی لے گئے۔ فرمایا اس حال میں اگلے دیر نہ کرنے کے لئے ایمبولینس سے نہیں ہیلی کاپٹر سے لے کر جاتے ہیں اور تم مزے سے سو رہےہو۔
ڈاکٹر صاحب کا کلینک بالکل مختلف تھا۔ کاؤنٹر والی آنٹی کے پاس جائیں۔ اس سے کہیں فلاں ڈاکٹر کی اپوائنٹمینٹ دے دیں۔ وہ آپ کو تین چار فارم پکڑا دے گی یہ سب فل کریں۔۔ اب آپ فارم فل کریں۔ اس فارم میں آپ کی مکمل انفارمیشن بشمول سوشل سیکیورٹی نمبر لیا جاتا ہے۔ فل کر کے واپس کریں اور انتظار کریں۔ میرے سے پہلے کافی لوگ تھے لیکن ان کی اپوائنٹمینٹ دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ تھی لہذا میرا نمبر فورا ہی آ گیا۔ آپ کو ایک نرس لے جا کر بلڈ پریشر چیک کرتی ہے پھر ٹمپریچر لیتی ہے۔ پھر وزن لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ آپ کو ایک دوسرے کمرے میں لے جا کر بیٹھا دیتی ہے۔
اس کمرے میں بیٹھنے کے لئے دو کرسیاں، ایک اسٹول، ایک کیبنٹ اور ایک بیڈ ہوتا ہے۔ یعنی ڈاکٹر صاحب کھڑے رہتے ہیں۔ کمرے کے دروازے پر فلاں ڈاکٹر نیکسٹ کا پیپر لگا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب آئیں گیں حالات پوچھیں گیں۔ پھر ناک کان گلا آنکھیں چیک کریں گیں۔ سٹیتھو سکوپ سے wheezing چیک کریں گیں۔ اس کے بعد سگریٹ اور شراب کا پوچھیں گیں۔ سچ میں سگریٹ اور شراب نہ پینا ہم لوگوں کے لئے ایک نعمت ہے۔ بہت سی دوائیں ان لوگوں پر اثر تو دور کی بات الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔ خاص طور پر الکوحلک لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ تنگ آ کر ان لوگوں کو بیماریوں والی عمر میں چھوڑنی پڑتی ہے یا شراب یا جان۔ اب ڈاکٹر صاحب گئے اور ایک مشین اٹھا لائے۔ اس میں سے بخارات نکلتے ہیں جو آپ نے منہ کے ذریعے سانس سے اندر لے جانے ہوتے ہیں۔ اب ڈاکٹر صاحب جائیں گیں اور دوا لکھ لائیں گیں۔ اور بس کام ختم۔ جائیں فیس پے کریں اور گھر کو۔
دوا ڈاکٹر کے آفس سے نہیں ملتی۔ آپ کو فارمیسی سے لینی پڑتی ہے۔ یہاں چار بڑی فارمیسیز ہیں۔ پہلی Walgreens یہ چوپیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ اس کے بعد riteaid ہے۔ ایک cvs ہے اور چوتھی والمارٹ کی فارمیسی ہوتی ہے۔ والمارٹ کافی ساری دوائیں جنیریک بناتا یا بیچتا ہے لہذا یہاں بہت سستی ملتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر وال گرینز پر سستی ہونگی۔ اب دوا لینے کے لئے بھی آپ کی مکمل معلومات کمیسٹ لے لی گی۔ ڈاکٹر کے نسخہ یہ رکھ لیتی ہے۔ یہ آپ کو واپس نہیں ملتے۔ دوا پر آپ کا نام پتا سٹیکرز سے چپکایا جاتا ہے کیونکہ یہ دوا صرف آپ استعمال کر سکتے ہیں یہ نہیں کہ کسی اور کو بھی اپنی ہی دوا استعمال کروا دیں۔ ساتھ میں ڈاکٹر کا نام بھی لکھا ہوتا ہے۔ refill ہو سکتی ہے یا نہیں یہ بھی لکھا ہوتا ہے اور کس تاریخ تک۔ ساتھ میں ہدایات کے اسٹیکر بھی کیمسٹ چپکاتی ہے کونسی کھانی ہے اور کونسی انہیل کرنی ہے کس کو ہلانا ہے اور کس نے آپ کو ہلا چھوڑنا ہے لہذا کھانے کے ساتھ لیں۔ مجھے تو اس نے ایک نشہ دیا ہے کھا کر اتنی گہری نیند آتی ہے کہ بس۔ اتنی گہری نیند میں کبھی نہیں سویا۔
اب دوائیں کھائیں اور سوئیں۔ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔
Popularity: 20% [?]
Popularity: 20% [?]
345 views
Related Posts
- $2 a day On December 3, 2007, 0 Comments
- گرمیوں میں کالج کے چند طلبا کو ایک پروگرام میں شامل کیا گیا۔ اس کا نام $2 a day تھا۔ اس میں ان طلبا کو روزانہ صرف دو ڈالر خرچ کرتے ہوئے ایک ہفتہ تک زندگی گزارنی تھی۔ اسی میں انہوں نے سر چھپانے تن ڈھانپنے اور رہنے سہنے کا بندوبست کرنا تھا۔ اس پروگرام
- اردو ٹیک نیوز On December 4, 2007, 6 Comments
- میں کچھ عرصہ سے اردو یونیکوڈ نیوز سورسز کی فیڈز کو سیارہ کی طرز پر اکٹھا کرنے کا سوچ رہا تھا۔ بدقسمتی سے سبھی پاکستانی اردو اخبارات فیڈز فراہم نہیں کرتے۔ اور سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ اس کو اردو وینس میں شامل کر لوں یا الگ سے سیٹ اپ کرو۔ بالآخر الگ سے
- misconceptions On December 9, 2007, 8 Comments
- کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مغرب میں عورت کو انسان سمجھا جاتا ہے یا بہرحال وہاں حالات قدرے بہتر ہیں اور عورت کو اتنا نہیں گھورا جاتا ہے۔ اس طرح ایک تھیوری یہ ہے کہ شائد نوعمری کی شادی یا نوعمری میں جنسی جذبات کی تسکین اگر فراہم ہوں تو لوگ ایسا نہ کریں۔
- دوسرا تھپڑ On January 9, 2008, 1 Comments
- بزرگوں کا قول ہے کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کر دو۔ میرا خیال ہے یہ قول کسی بزرگ کا اپنے فرزند کے لئے ہو گا کہ جان عزیز روتا کیوں ہے تجھے تو ایک تھپڑ کھا کر دوسرا گال آگے کر دینا چاہئے۔ میں نے ایسی غلطی کبھی نہیں کی
- میں کتھے جاواں میں منجی کتھے ڈاواں On February 5, 2008, 6 Comments
- میں کتھے جاواں میں منجھی کتھے ڈاواں والا حساب ہے آجکل میرے ساتھ۔ دماغ میرا parallyze ہوا ہوا ہے۔ الٹے کام عروج پر ہیں عقل کو دور کا سلام کر دیا ہے اور انتہائی غیر سنجیدگی کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ بل سارے لیٹ کر دئے ہیں۔ ٹیبل پر پڑے پڑے خاک ہو رہے ہیں۔
- bing.com On June 1, 2009, 1 Comments
- bing.com, a new search technology from microsoft. I must say so far so good but still to c if it impresses or not, seems microsoft is so keen to spread the news that they have redirected live.com to bing.com AKPC_IDS += "665,";Popularity: 20% [?] Share and Enjoy:
- Updated version of Microsoft Phonetic Input Tool Beta On January 10, 2007, 0 Comments
- Microsft updated the phonetic input tool beta with a newer version, this is the mail we recieved. The Microsoft Phonetic Input Tool Team would like to thank everyone who tested and provided feedback for the version 1.1 beta. As a reminder, the license for the version 1.1 beta (posted in August 2006) will end on January
- Network Monitor 3.0 has released to web! On December 8, 2006, 0 Comments
- You are receiving this email because of your participation in the Microsoft Network Monitor 3.0 beta program. The final release of version 3.0 has now been posted to http://connect.microsoft.com. Please update from your beta version to the released version if you have not already done so. It is available free of charge. The team has chosen
- گوگل ایڈسینس On August 4, 2007, 16 Comments
- میرے چند دوستوں نے اردو سے انگلش کی طرف ہجرت کی۔ اب انگلش بلاگ بھی مذاق تھا اور اردو بلاگ بھی مذاق ہی تھا۔ خیر یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔ یہ کچھ عجیب سا ہے کہ ایک طرف آپ اردو اردو کریں اور پھر انگلش میں مشقیں کریں۔ اور انگلش کو برتر ماننے والے
- Speechless On October 9, 2009, 6 Comments
- I just wana kno how and for what they gave Mr Obama the Noble Prize for Peace? What he has accomplished so far that they had to award this to him? any one? Its not ridiculous but its surprising that he hasnt been to office for a full year and got the prize, may b



























appni sahat ka khayal rekha karan …
yaar aap itna lamba mazmoon likhtay hain..thora chota kar liyya karain ya 15 kistoon main pesh kar diyya karain sahoolat kay leeay..
سلام
بوچھی: ابھی میری اتنی بھی عمر نہیں ہوئی کہ آپ ایسی نصیحت کریں۔ ایسی نصیحت کم از کم بھی 60 کے بعد ہونی چائے اور ابھی تو 60 کا ہونے میں 36 سال پڑے ہیں۔