زکریا نے اردو بلاگنگ کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے بہت معذرت کے ساتھ ان کے سوالات کے جواب میں مزید سوالات ہی ملے ہیں جواب کسی بھی دوست نے دینا پسند نہیں کیا۔ میرے خیال سے اردو کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی رکاوٹ اردو کے علمبردار ہی ہیں۔
مجھے زیادہ جگہوں کا تجربہ نہیں لیکن اردو ویب کے ارد گرد کافی بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جن کی حالت قلعہ بند سپاہ کی مانند ہے۔ اگر آپ ہر چیز کو اردو کر دیتے ہیں اور پھر خیال رکھتے ہیں کہ بہت بڑی تعداد ونڈوز ایکس پی یا ونڈوز 2k استعمال کر رہی ہو گی جس میں اردو سپورٹ انسٹال کئے بغیر اردو مواد دیکھنا ممکن ہو گا تو آپ از حد غلطی پر ہیں۔
اگر آپ اپنے statistics کی بنیاد پر کہیں کہ جی ہمارے نوے یا پچانوے فیصد لوگ ونڈوز ایکس پی استعمال کرتے ہیں تو آپ اس نکتہ کو مد نظر رکھیں کہ سب لوگ نہیں صرف وہ لوگ جن کے پاس ونڈوز ایکس پی ہے اس کے کچھ لوگ آپ کی سائیٹ یا بلاگ وزٹ کرتے ہیں۔ یعنی دو scenario ہیں ایک تو صرف ونڈوز ایکس پی والے کے وہ کتنے ہیں اور اس میں سے کتنے لوگ آپ کو وزٹ کر رہے ہیں پھر دوسرا کہ سب آپریٹنگ سسٹم ڈال کر کیا فیصد بنتا ہے۔ نتائج آپ کے قلعہ کو توڑنے کے لئے کافی ہونگے۔
پھر دوسری بات کے آپ اردو میں سرچ کر سکتے ہیں۔ لیکن باقی سب نہیں۔ ایک انٹر یا گریجویشن لیول کے انسان کے لئے آپ نے کیا ایسی دستاویز چھوڑ رکھی ہے جو اس کو اس قابل بنائے کہ وہ بھی اپنے کمپیوٹر کو اردو لکھنے اور پڑھنے کے قابل بنا سکیں۔ (with the exception of OS) اب آپ کہیں جی کہ فلاں بلاگ پر ہے نہ یا فلاں تھریڈ میں ہے۔ لیکن ایک نیا یوزر کیسے ان سب جگہوں کا علم رکھ سکتا ہے؟ میں نے کچھ مہینوں پہلے گزارش کی تھی کہ سب اپنے اپنے بلاگ پر ایک پیج اردو لکھنے پڑھنے سے متعلق رکھیں۔ اس پر انتہائی افسوس کے ساتھ کسی نے عمل نہیں کیا۔ شائد تعصب یا تنگ نظری مانع تھی۔ خیر صرف جہانزیب نے اس کو قابل توجہ سمجھا۔
کچھ عرصہ تک میرا خیال تھا کہ شائد نفع بخش نہ ہونے کی وجہ سے اردو بلاگنگ اتنی پھل پھول نہیں رہی۔ لیکن یہ خیال غلط نکلا۔ بہت سے انگلش بلاگ بغیر کسی ایڈز کے ہیں۔ اسکا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ دراصل شعور ایسے لوگوں میں زیادہ بیدار ہے جن کا میڈیم انگلش تھا۔ اردو میڈیم والے ایک احساس کمتری کا شکار رہے ہیں اور اظہار خیال ان کے نزدیک اتنا اہم نہیں جتنا پیسے بنانا۔ سب سے بری بات کہ اردو میں لکھنے والے کچھ لوگ ابھی تک اس احساس کمتری سے باہر نہیں نکل سکے۔ جس کا وقتا فوقتا اظہار انگلش بلاگز کے اجرا کے اعلانات سے ہوتا رہا ہے۔
یہی نہیں اردو بلاگرز عام طور پر صرف اردو پوسٹس کو پڑھتے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ شائد سیارہ جیسے ایگریگیٹرز کا زیادہ استعمال ہے کہ اچھا دیکھ لیا کوئی پوسٹ ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے اگر میں انگلش میں کچھ لکھوں تو اس دن بہت کم لوگ وزٹ کرتے ہیں کیونکہ ان کو علم ہی نہیں ہوتا۔ اور علم اس لئے نہیں ہوتا کہ ان کی دلچسپی نہیں۔ صرف اسی پر نہیں بس میں نے زکریا یا کسی اور انگلش بلاگ پر بھی بہت ہی کم کسی اردو بلاگر کو دیکھا ہے۔ اس کا واضع مطلب کہ اردو بلاگزر اپنا vision محدود کر لیتے ہیں۔ سیارہ کی اسی پالیسی کہ صرف اردو پوسٹس ہوں اور بلاگر اتنے عرصہ میں ایک پوسٹ ضرور کرے سے مطمعن نہ ہونے کی وجہ سے میں نے وینس انسٹال کیا تھا۔ اندازہ لگانے کو یہی کافی ہے کہ ڈاکٹر افتخار راجہ نے طویل عرصے بعد ایک دو پوسٹس لکھی جو سیارہ پر نظر نہیں آئی نتیجتا ان کے پاس کوئی کمنٹ نہیں ہوا۔ ایسے حالات میں اردو بلاگز بتدریج دم توڑتے جائیں گیں کہ بہرحال بعض اوقات مصروفیت کی وجہ سے انسان بلاگنگ سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور جب کبھی پوسٹ کرتا ہے تو کوئی آڈینس نہ پا کر بتدریج پیچے ہٹتا چلا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک بہت اہم جڑی بات یہ ہے کہ اردو میڈیم والے اول تو مطالعہ پر توجہ نہیں دیتے۔ اگر بہت دیں تو زیادہ تر ان کی توجہ مذہبی کتب پر ہوتی ہے جو کہ کٹر پن کی حد میں داخل ہو جاتی ہے۔ یا پھر اس کے برعکس لوگ لٹھ لے کر گھومتے رہتے ہیں۔ اعتدال عنقا ہے نتیجتا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غور و فکر بھی ختم۔ اس کے نتیجہ اردو بلاگرز ایک جیسے موضوعات سے باہر نہیں نکل سکتے۔
بہت ہی کم کسی بلاگر نے اپنے ارد گرد ہونے والے کسی واقعے پر بات کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ باہر رہنے والے بلاگرز کے پاس دیکھنے کے زیادہ مواقع ہیں لیکن آپ کے پاس بھی بہت کچھ لکھنے کو مل سکتا ہے۔ یہ نہیں تو انٹرنیٹ سے آپ کسی واقعہ پر تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسے برٹش جوڑے کی بچی کا واقعہ تھا جس میں پولیس نے والدین کو accuse کیا اب یہ میرا ریجنل نہیں لیکن مجھے معلومات ہیں۔ اس پر دریجہ نے بھی لکھا۔ آپ بھی دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقعے پر لکھ سکتے ہیں۔ تبدیلی ایک خوشگوار احساس دلاتی ہے۔
بہت سے اردو کے علمبردار اردو کی اردو کرتے پائے جاتے ہیں۔ جیسے زکریا نے لکھا کہ سینما کو ایوان عکس نہ لکھیں۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک امر ہے جس کو لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور میرا خیال ہے کہ ان کی جنریشن گزرے گی تب ہی نئے لوگ سمجھ سکیں گیں۔ میرا خیال تھا کہ جدید علوم کو اردو میں ترجمہ کیا جائے لیکن یار لوگ ترجمے کے لئے انتہائی ثقیل الفاظ ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں جس میں وقت اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔ اب آپ سیٹلائیٹ بنانے کے علم کو نہ لیں صرف پہلے دس گریڈز کی کتابوں کا ترجمہ کر دیں یقین مانیں اس میں اس قدر علم ہے جو کہ آپ کے ماسٹرز کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ آئس ایج یا گلوبل وارمنگ یا قطبین کا آپس میں جگہ بدلنے کے بارے میں ہمارے پاس معلومات تو کیا آئیڈیا تک نہیں کیونکہ ہم ابھی تک ڈیسکٹاپ کرسر اور فولڈر کے ترجمہ میں مصروف ہیں۔
پھر ایک بہت عجیب سی بات اکثر اوقات لوگوں کو نام کا شوق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کسی دوسرے کی محنت پر اپنا نام لکھنے کے شوقین ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر لڑنے کے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ اگر میں اس کو ایسے لکھوں تو چوری ہو جائے گا۔ بہت معذرت کے ساتھ یہ آپ کی سوچ اور کردار میں ایک کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ٹھیک ہے ایسا کرنے والے نے بری حرکت کی لیکن اگر آپ اپنے نام کی خاطر لڑ رہے ہیں تو مناسب نہیں اور اگر آخری الزکر توجیہ کی بات ہے تو ایسے تو شعرا کلام لکھنا بند کر دیتے کہ جی لوگ اپنے نام سے رسالوں میں چھپواتے پھریں گیں۔ بہرحال یہ منطق انتہائی بچگانہ ہے۔ بدقسمتی سے اس میں ملوث دونوں قسم کے لوگوں کا وژن کافی محدود ہے۔
اس طرح اگر آپ عزیز رشتہ دار کی فوج ظفر موج سے نالاں ہیں کہ وہ بلاگنگ پر توجہ نہیں دیتے یا ان کے نزدیک فضول کام ہے تو آپ کبھی بھی کسی بھی کام کے لئے دعوت دیں تو ضروری نہیں کہ سبھی لوگ آپ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں۔ صرف وہی لوگ ہوتے ہیں۔ جن کو اس میں دلچسپی ہو۔ مثال کے طور پر میرے خاندان یا میرے دوستوں میں کسی کو میرے بلاگ کا علم نہیں۔ کیونکہ مجھے علم ہے کہ کس کے کس قسم کے مشاغل ہیں لہذا میں نے صرف انہی لوگوں سے بات کی جن کا کچھ جھکاؤ اس جانب تھا۔ اب آپ نالاں ہیں کہ ان لوگوں نے بات نہیں سنی اور میں شاداں ہوں کہ اچھا کیا نہیں سنی۔ اگر آپ نے جس قسم کے characteristics گنوائے (apart from chatting with bibi
) ہو سکتا ہے کہ حضرات بلاگ پر بھی اسی قسم کی کوئی نہ کوئی کارستانی دیکھا کر آپ کی شہرت کو چار چاند لگا سکتے تھے۔ بے ہدیتے ہمیشہ الٹے کام کرتے ہیں۔
اس سے ایک اور بات کہ کچھ بلاگرز ذاتیات بیان نہیں کرتے کچھ اسقدر لبرل نہیں ہوتے کہ چند موضوعات پر بات کر سکیں۔ اس کے برعکس کچھ حضرات بہت الٹی باتیں کرتے ہیں۔ پھر لڑائی شروع اور ادب شناسی ختم۔ بحیثیت قوم ہم ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ بلاگز کیتھارسس کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اکثر ہی یہ ایک دوسرے کے کیتھارسس کے کام آ رہا ہوتا ہے۔
اردو بلاگرز کو سب سے اہم نکتہ سمجھے کی ضرورت ہے کہ اردو بلاگنگ یا ٹیوٹوریل لکھنا دراصل اظہار خیال اور دوسروں کو اظہار خیال میں مدد فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اس کے بدلے میں کسی صلے کی توقع بچگانہ پن ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ میں نے کسی کو offend نہیں کیا ہو گا اتنی لمبی اور بہت سوں کے نزدیک بیکار بات کو ختم کرتا ہوں۔
Popularity: 21% [?]
Popularity: 21% [?]
349 views
Related Posts
- Test Scenario for Windows Live OneCare Family Safety (beta) On January 13, 2007, 0 Comments
- Those of you who had been selected to participate into managed beta of Windowls Live OneCare Family Safety Beta should have recieved the email for the opening of test scenario. Hers is the mail we recieved go complete the scenario and hope for the best. Hello Beta Tester, If you joined the Windows Live OneCare Family Safety
- تبدیلی جنس On April 30, 2007, 6 Comments
- اکثر اخبار میں خبر آتی ہے کہ فلاں جگہ لڑکی یا لڑکے کو آپریشن کے بعد مخالف جنس میں تبدیل کر دیا گیا۔ عام طور پر اس کی details صرف اتنی ہوتی ہیں کہ جی کچھ عرصے سے ان کے پیٹ میں بڑا شدید درد تھا ڈاکٹر کو دیکھایا گیا انہوں نے فوری آپریشن سے
- allah On March 14, 2008, 3 Comments
- originally here, thanks to munazza bibi AKPC_IDS += "663,";Popularity: 21% [?] Share and Enjoy:
- شرافت کا زمانہ ہی نہیں On November 27, 2007, 5 Comments
- ہم سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ وہ بھی ہنس رہا تھا ساتھ ساتھ بار بار مڑ کر اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں وہ بندہ غائب ہوا تھا۔ پھر کہتا ایرانی بالکل صحیح کرتے ہیں۔ gays کو پھانسی لٹکا دیتے ہیں۔ ان دنوں ایرانی صدر کو واپس گئے ایک ہی ہفتہ ہوا
- بے پر کی On December 20, 2006, 1 Comments
- لوگوں کو میری عادتیں بڑی سخت ناپسند ہیں۔ اوپر سے میری فرمائشیں۔ لوگ تنگ آ جاتے ہیں۔ اکثر کو تو عاجز کر کر مار ڈالا اور وہ گاتے پائے گئے مار ڈالا مار ڈالا۔ لوگ ختم ہو سکتے ہیں میری الٹی سیدھی فرمائشیں شائد ہی ختم ہوں۔ میری حرکات سے نالاں لوگ میرا نام سنتے ہی
- نئے بلاگرز :( On March 24, 2008, 14 Comments
- میں نے کچھ عرصہ سے تنقید بند کی ہوئی ہے کیونکہ عام طور پر یہ سخت درشت اور کئی معنی رکھتی ہے جس سے جس پر تنقید نہ بھی کی جا رہی ہو وہ بھی offend ہو جاتا ہے۔ میں ایسا ہی رہتا اگر جہانزیب اور خاص طور پر شعیب صفدر سے بات چیت نہ
- ہائے رے مسلمان On November 15, 2006, 0 Comments
- ہم مسلمان دنیا کی عجیب ترین قوم ہیں۔ ہمارے عقائد ہائی جیکڈ ہیں۔ ہم سب انڈوں میں سوئی ہوئی مخلوق ہیں۔ دنیا نے ناقابل یقین ترقی کر لی ہے مگر ہمارے خراٹے بند ہونے میں نہیں آ رہے۔ ہم ابھی تک انتہائی بنیادی باتوں سے نکل نہیں سکے۔ اور ہم سب ماضی میں زندہ رہنے
- crazy On November 25, 2007, 5 Comments
- فلو، ساری رات کھانسی کے بعد آپ کا کیا حال ہو سکتا ہے؟ بہت برا۔ بس اسی برے کے ساتھ ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ ricky hatton یا floyd mayweather کو اگر کھانسی ہو جائے تو وہ کیا کریں گیں؟ فائیٹ کینسل ہو تو سکتی نہیں تو پھر تو بندہ بہتر ہو کر بھی
- ایک اور سال On January 8, 2007, 4 Comments
- بلاگنگ اب بہت کامن ہو چکی ہے۔ لوگ مختلف سروسز استعمال کرتے ہوئے بلاگ لکھتے ہیں۔ میں نے 2003 میں جب بلاگ لکھنا شروع کیا تھا تب گوگل کو بلاگر لئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ تب میری بلاگنگ سوائے ایک پرسنل ڈائری کے کچھ نہیں تھی جسکو میں کہیں سے بھی اپڈیٹ کر سکتا
- Now P*** bot? On August 29, 2008, 0 Comments
- نامعلوم وجوہات سے مجھے آجکل بہت سے لوگ میسینجر پر ایڈ کر رہے ہیں۔ جاپان، مڈل ایسٹ، یورپ۔ حتی کہ سخت ترین سپیم فلٹر سیٹنگ کے باوجود افریقہ کے ان ملٹی ملین ڈالر کے وارثوں نے بھی مجھے ڈھونڈ لیا ہے جن کو ہمیشہ میری مدد چاہئے ہوتی ہے۔ کل ایک “چیز” نے مجھے ایڈ
9 Responses to “جواب آں غزل”
- 1 Pingback on Dec 1st, 2007 at 3:27 pm
- 2 Pingback on Dec 3rd, 2007 at 5:02 am


























کیا کہو!!!
مجھ نالائق کی چند خامیاں اس نئی بحث سے روشن ہو گئی ہیں!
میں دیگر موضوعات کو بھی پڑھتا ہوں مگر اُن پر اظہار رائے نہیں کرتا!!! البتہ مجھے اپنے پیشے کی وجہ سے سیاست پر بات کرنا اچھا لگتا ہے کیا کرو!!
شعیب صفدر’s last blog post..سلیکشن کی تیاری
آپ نے کافی اچھا طرح اردو بلاگز اور بلاگرز کی خامیوں کا احاطہ کیا ہے امید ہے کہ خود احتسابی کی جو ہوا چل پڑی ہے اسکے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔۔ ویسے میرا خیال ہے تھوڑا وقت اور دیں ۔۔ ابھی تین چار سال میں وہ میچورٹی نہیں آئے گی جو دس سال میں آتی ہے ۔۔
راشد کامران’s last blog post..نئے پرانے اردو فانٹس اور سفاری میں اردو
har blog per urdu liknay parhnay kay baray mein tasveeri shakal mein mawad hona chaheay. bilkul durust kaha!
alif Nizami’s last blog post..وادی زیارت اور صنوبری جنگل
سلام
شعیب صفدر: کہتے کہیں یا نہ کہیں لیکن نون غنہ تو لگا دیا کریں۔ کرو اور کہو ایسا لگتا ہے جیں مجھے کہ رہے ہو کہ تم کرو یا کہو
راشد کامران: بالکل وقت لگے گا لیکن ان کی توجیہ یہ ہے کہ ابھی تک جتنا وقت گزرا ہے اس حساب سے کیوں نہیں ہوا۔
الف نظامی: تصویری شکل کا زکریا کہہ چکے ہیں۔ میں نے یونیکوڈ میں لکھ رکھا ہے تا کہ اگر کوئی سرچ کرے تو اس کو فوری مل سکے اور وہ آگے اس کو ریفر کر سکے۔ جاہنزیب نے انگلش میں لکھا ہے تا کہ انگلش میں بھی سرچ کرنا ممکن ہو۔ اپنی اپنی اپروچ کی بات ہے۔
ایکس۔پی میں اردو لکھنے کا طریقہ میں نے تصویری شکل میں لکھا تھا۔ اردو محفل پر بھی ربط دیا تھا۔ پی۔ڈی۔ایف کا ڈاؤنلوڈ ربط یہ ہے:
http://www.4shared.com/file/13635329/433395f6/urdu_installer_guide.html
فی الحال میرا ارادہ ہے کہ اسی کو اپنے بلاگ پر بھی ڈال دوں۔۔۔۔
بہت شکریہ اتنی معلوماتی اور کھنچائی کرنے والی تحریر لکھنے کا۔
راہبر’s last blog post..اردو بلاگنگ اور میرے آس پاس
راہبر: جن کی کحینچائی کی تھی وہاں مکمل خاموشی ہے۔ ویسے کحنیچائی ہمیشہ ڈھٹائی ہر ہوا کرتی ہے۔
میں نے آپ کا پیج دیکھا ہے۔ کافی ہیوی ہے اس کی تصاویر فارمیٹ کو
gif
سے بدل لیں۔ ساتھ میں فائر فاکس میں یہ سیدھے ہاتھ کی طرف نکل جاتی ہیں۔ اور انٹرنیٹ ایکسپلورر میں سائیڈ بارز سے متصادم ہیں۔
اسلام علیکم بدتمیز بھائی
جناب آپ میرے بلاگ پر آئے اور راے دی مجھ بڑا حوصلہ ہوا۔ اور یہ ہمت پیدا ہو ئی کے میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
آپ کا اصل نام معلوم نہیں اس کے بدتمیز لکھ رہا ہوں۔ جو کے مجھ بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔
جناب جہاں تک اردو بلاگنگ کی بات ہے تو سچ پوچئے تو نومبر 2007 سے پہلے مجھ بھی نہیں پتا تھا کے یہ کیا بلا ہے یہ تو کمپیوٹنگ کے شمارے میں محب کا مضبون پڑا تو اس طرف آنا ہوا ۔اس پہلے شاکر یا مکی بھائی کا بلاگ پر جانا ہو ۔لیکن بلاگنگ کے بارے میں معلومات محب کے مضمبون سے ملی۔
بات تو یہ ہے کے اگر محب کا مضمبوں اردو کے فورمز پر لکھ جائے تو اس سے بلاگنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کیونکہ ہر فورم پر 1000 بندہ تو ہے ہی اور اردو بھی لکھ سکتا ہے ۔اگر وہ بلاگنگ شروع کرے تو اچھا اضافہ ہو سکتا ہے۔
مجھ جو بلاگنگ اور بلاگ بنانے میں تجربات ہوئے ہیں میں اس کو لکھ رہا ہوں اور جلد پوسٹ کروں گا بلاگ اور فورمز پر تاکہ نئے آنے والوں کو آسانی ہو اور اردو بلاگنگ بھی ذیادہ ہو
دعا گو
اکرام
اسلام آباد
اکرام’s last blog post..اوپن آفس کلاس نمبر1