16 نومبر کو جیو کی لائیو کوریج اور نیوز ٹرانسمیشن بند کر دی گئی۔ حکومتی موقف اس سلسلے میں سامنے نہیں آیا اور آئے بھی تو عوام اس قدر حکومت بیزار ہیں کہ سنے ہی نہ۔
جیو کہتا ہے کہ اس کے سامنے چند مطالبات رکھے گئے تھے جن میں حکومی سینسر شپ قبول کرنے، ناپسندیدہ لوگوں کو نکال باہر کرنے اور حکومت کے لئے مثبت زبان استعمال کرنے کا کہا گیا تھا۔ انکار پر پہلے تمام اشتہارات اور بالآخر نشریات بند کر دی گئی۔
حامد میر نے اس پر مزید روشنی اپنے اس کالم میں ڈالی۔
بی بی سی کہتا ہے کہ دراصل جیو اور اے آر وائی سے تو بات ہی نہیں کی جا رہی بلکہ کہا جا رہا ہے کہ بس بند رہو کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
اب اگر آپ ہمت کر کے اس ویڈیو کو برداشت کر لیں اس میں بونگیاں تو خیر ہیں ہی لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود، کامران خان اور حامد میر کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
حامد میر نے شائد اسی ویڈیو جیسی قسم کے ہونے والے پراپیگینڈے یا بھانڈ پنے کا جواب لکھا ہے۔ کیا ابھی بھی اس میڈیا سرکس کی کچھ تصویر واضح ہوتی ہے کہ نہیں؟ ہنوز جواب طلب ہے۔
Popularity: 13% [?]
Popularity: 13% [?]
258 views
Related Posts
- None Found


























0 Responses to “میڈیا سرکس”
Please Wait
Leave a Reply