صدر پاکستان نوازشریف سے ملنے کے لئے خود چل کر سعودی عرب گئے۔ اگر حجر اسود بول سکتا تو وہ تو اللہ سے اچھی خاصی جنگ کر لیتا۔ انسان اور باقی مخلوق میں یہی فرق ہے۔ اللہ سے لڑائی انسان ہی کر سکتا ہے۔
بےنظیر زرداری مجھے تو پکی پکی صدر پاکستان کے کیمپ کی لگتی ہے۔ ڈرامہ ہوتا لگ رہا تھا لیکن باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان عورت ذات کے ساتھ رل مل کر حکومت کرنا نہیں چاہتے۔ امریکہ صدر کو مناتا ہے صدر مانتے نہیں۔ ویسے بھی مستحکم پاکستان کسی کے مفاد میں نہیں۔
نواز شریف کا ملاقات سے انکار بھی مجھے کچھ پسند نہیں آیا۔ صدر پاکستان کو اس وقت ایک باعزت راستہ کی تلاش ہے جبکہ ہم لوگ مخالف کو باعزت راستہ دیتے نہیں۔ بڑے ہی کم ظرف لوگ ہیں۔ کیوں نہ کریں بھئی جب ہمیں نہیں ملا تو ہم کیوں دیں؟ پاکستان کی ایسی کی تیسی ہم اپنی جنگ لڑیں گیں۔
پاکستان میں جس پولیس والے کو گولی کا ڈر ہو وہ ٹریف پولیس میں لگ جاتا تھا۔ اس طرح جس کو صرف حلوے سے مطلب ہو وہ بھاگ کر دینی جماعت میں گھس جاتا تھا اور جو جس قدر زیادہ حلوہ اپنے معدے میں جمع کر سکتا تھا وہ اس کا سربراہ بن جاتا تھا۔ جو ڈبل شفٹ لگاتا تھا وہ اپنے ساتھ مولانا لگا لیتا ہے۔ ایسے مولانا اکثر و بیشتر اسلام سے صرف اتنی شد بد رکھتے ہیں کہ کہہ سکیں کہ معاملہ گھمبیر ہے علما سے مشورہ کر کے فیصلہ ہو گا۔
98 میں انہی حلوہ خوروں نے یا فوج یا فوج کے نعرے لگائے تھے۔ 99 میں انہیں حلوہ خوروں نے فوجی ٹیک اوور پر مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ یہی حلوہ خور تھے جو کسی بھی عوامی موضوع کو اسمبلی یا باہر اٹھانے سے گریز کرتے رہے۔ اور یہی حلوہ خور ہیں جو پاکستان کے صدام حسین کے پرائیوٹ فوج ہیں۔
عراق کا صدام بہت برا تھا لیکن اس نے اپنے دور میں مذہب کے نام پر قتل و غارت پر سختی سے کنٹرول رکھا۔ پاکستان کا صدام حسین اس کو پنکھے (ہیلی کاپٹر) لگا لگا کر ہوا دے رہا ہے۔ جو فوج کل تک سرح کی محافظ تھی آج بھی سرحد کی ہی محافظ ہے فرق فقط اتنا ہے کہ سرحد اب غیروں کی ہے۔
اس وقت جنرل اشفاق کیانی کو دیکھا جا رہا ہے۔ ان سے امیدیں لگائی جا رہی ہیں۔ ساری انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ انسان بھی سب ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن صدر مشرف بھی تو اس تاریخی تصویر میں امر ہو گئے ہیں جس میں وہ نوازشریف سے ایک ادنی سرکاری ملازم کی حیثیت سے مل رہے ہیں۔ اگر جنرل اشفاق کیانی بھی ٹیک اوور کر لیں تو صدر مشرف ہی جیسے ہیں۔ best bet یہی ہونی چاہئے کہ اگر انتخابات ہو جائیں تو صدر پاکستان سے ٹیک اوور کر کے ان کو گھر اور حکومت جیسی تیسی گورنمنٹ کو سونپ کر جنرل کیانی بھی فوج کو بیرک تک محدود رکھیں۔ تبھی وہ صحیح ہیں ورنہ نہیں کیونکہ صدر پاکستان ایسے تو مانیں گیں نہیں کیونکہ صدام بھی نہیں مانا تھا۔
Popularity: 14% [?]
Popularity: 14% [?]
271 views
Related Posts
- None Found


























0 Responses to “پاکستان کا صدام حسین”
Please Wait
Leave a Reply