میری نظر میں
203 views Published November 10th, 2007 in پاکستان نامہ.صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش کروں اور اگر میری سمجھ ہی آپ کی سمجھ نکلی تو ہم دونوں ہی ناسمجھ ہیں۔
[ڈرم بیٹ]
پاک سر زمین شاد باد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو اسلام علیکم۔
میرے عزیز بھائیوں مولانا فضل الرحمن (شائد ان کے جثہ کی وجہ سے ان کو بھائیوں کہہ دیا اور بہنو بی بی، بینظیر، وعلیکم سلام
آج جو میں آپ لوگوں سے خطاب کر رہا ہوں یہ آپ کی بڑی مہربانی ہے کہ مجھے سن رہے ہیں۔ نہیں تو میری کوئی نہیں سنتا میری اپنی بیگم تک میری نہیں سنتی اور افسوس تو یہ ہے کہ کونڈی بھی میری بات نہیں سنتی۔ اور ہاں یاد آیا میں نے پاکستان بہت خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان اس وقت اندرونی بحران کا شکار ہے اس کو میں نے اندرونی خلفشار ایک نیا لفظ سیکھا ہے اس سے اس کا تعلق ہے۔ اس وقت ایک اہم فیصلہ کرنا ہے اور قوموں کی تاریخ میں تکلیف دہ فیصلے کرنے کا وقت آتا ہے۔ لہذا پاکستان کے حق میں میں پچھلے 8 سالوں سے ایسے تکلیف دہ فیصلے کرتا آیا ہوں کہ آپ کو اس تکلیف کا ہر لمحہ احساس رہے۔
اس وقت مجھے شک ہے کہ اگر بروقت فیصلہ نہ لیا گیا تو خدانخواستہ میری سالمیت اور بقا کو خطرہ ہے۔ اس سے قبل میں کچھ بولو آپ کو علم تو ہو گیا ہو گا اپنے اپنے ٹی وی بند کر دیں نہیں تو ہم نے تو پہلے ہی بند کر دئے ہوئے ہیں۔ ویسے میں قوم کو اپنا اکتوبر 99 کا وعدہ یاد کروانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے مشرف اور اس بنیاد پر میں نے کتنے فیصلے کئے وہ تو ہر منہ زبانی یاد ہیں۔ ایسا ہی ایک اور فیصلہ لے لیا ہے امید ہے مائنڈ نہیں کریں گیں۔ ذاتی مفاد اور ذاتی consideration سے لبا لب میرا ماٹو می فرسٹ
اور یہی مجھے امید ہے کہ تمام قوم پچھلے برسوں کی طرح بے حسی سے اس فیصلے کو بھی قبول کر لے گی۔
میرے بھائی فضل الرحمان اور بی بی، پاکستان میں پچھلے مہینوں میں میں کچھ ناعاقبت اندیشوں کے مشوروں پر بہت تیزی سے پاکستان میں تجربے کرتا رہا۔ آپ دونوں کا بے حد شکریہ کہ آپ نے خود غرضی کا بہت بہت مظاہرہ کیا۔ اس کے بارے میں میں بہت فرینکلی کچھ بات کرنا چاہوں گا۔
دہشت گردی اور انتہا پسندی میری اور امریکہ کی نظر میں انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔ اس وقت میری وجہ سے خود کش حملے پوری فوج پر ہو رہے ہیں۔ کراچی سے لے کر پشاور تک میں نے ملک کو بے ترتیبی بدنظمی اور ابتری کا شکار کر دیا ہے۔ اور دیکھا مجھے شہروں کے نام بھی معلوم ہیں :d کونڈی کہتی ہے پورے پاکستان میں شدت بڑھ گئی ہے۔ الگور بھی یہی کہتا ہے کہ شدت بڑھ گئی ہے۔ extremist یعنی انتہا پسند پوری شدت سے دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں۔ یہ حق میرا تھا۔ بلکہ Law inforcement agencies سے ڈر ہی نہیں رہے الٹا وہ ان سے ڈر رہی ہیں۔ میں امریکہ کافی عرصے سے نہیں بلایا گیا نہیں تو مجھے کچھ کچھ یاد ہے کہ nothing dangerous than a man with nothin to loose وہاں لکھا جاتا ہے۔
فرنٹئیر میں میں کیا کر رہا تھا یہ تو آپ کو علم ہے ہی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ یہ settled areas میں بھی آئے گا۔ اور ابھی ابھی مجھے احساس ہوا ہے کہ سدرن علاقے ابھی تک پرسکون ہیں تو میں ادھر بھی کوئی شرارت کروں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ میں نے heart of Pakistan لاہور سے تبدیل کر کے اسلام آباد کو بنا دیا ہے۔ اب میں کیپیٹل اور ہارٹ میں ایک ساتھ تو نہیں ہو سکتا نہ ویسے بھی عمر کے اس حصے میں اور 8 سالوں کے کارناموں پر میں صرف ہارٹ آف پاکستان کو ہی قبول ہو سکتا ہوں۔ اور ساتھ ساتھ یاد آیا کل ہی امریکہ سے فون کر کے مجھے بہت دیر تک سمجھایا گیا ہے کہ انتہا پسند فرسودہ مذہبی آئیڈیے لگا رہے ہیں اس لئے میں نے نصاب میں تو تبدیلی کر دی تھی لیکن ابھی مجھ پر مزید اقدامت کے لئے دباؤ ٹھونسا جا رہا ہے۔
اب بات کے آگے چلتے ہیں۔ حکومتی نظام کیسا چل رہا ہے؟ یہ جو میں ہر بات آپ سے پوچھ رہا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔ مجھے سب پتہ پے۔ ہاں تو میری نظر میں حکومت مفلوج ہوئی کھڑی ہے۔ کورٹس کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ عوام تو برسوں سے لگاتے چلے آ رہے تھے یہ اب سینئیر عہدیدار بھی لگا رہے ہیں ان کو سزائیں مل رہی ہیں۔ ہم اسلام سے صرف اپنی مرضی کے قصے یاد اور نکالتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ خلفائے راشدین کو بھی قاضی کے سامنے عدالت میں حاضر ہونا پڑتا تھا لیکن وہ اور لوگ تھے اور ہم اور لوگ ہیں۔ ہم امریکی فوج کا حصہ ہیں اور امریکہ کہتا ہے میری فوج کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے پتہ چلا ہے کہ ایک سو سے زیادہ سو موٹو کیسز گورنمنٹ کے خلاف ہیں اور مزید ہزاروں اپلیکشنز آ چکی ہیں لیکن 16 کروڑ میں سے چند ہزار درخواستوں سے یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ عوام حکومت سے تنگ ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیکھیں میری نظر میں خوفزدہ ہیں۔ کہتے ہیں صدر کی وجہ سے ہم کیوں مریں؟ میں کہتا ہوں مرو اور جنت میں جاؤ میں ہو نہ سیلوٹ کرنے کے لئے۔ مانتے ہیں نہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا چاہ رہے ہیں اگر وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے تو میں کیا کرونگا؟
جمہوریاتی نظام کو دیکھیں۔ اس میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ 99 میں جب میں نے حکومت بنائی تو میں نے جھوٹ بولا کہ جلدی چلا جاؤں گا میں نے تین سٹیج فیز کے ساتھ 15 سال گزارنے کا منصوبہ بنایا۔ پہلا فیز میں نے 99 سے 2002 تک مکمل کیا۔ پھر 2007 تک دوسرا کیا۔ لیکن اب یہ مجھے تیسرا مکمل نہیں کرنے دیتے۔ ان کو روکا جائے۔ میرا اس عرصے ٹوٹل کنٹرول رہا اب نہیں ہے میرا کنٹرول واپس دیا جائے نہیں تو میں نیا لے لونگا۔ ہمیں کچھ مشکلات تو آئیں جیسے زلزلے کے بعد لوگوں نے آ کر میرا شہر خراب کر دیا یا میں باہر گیا تو پیچھے سے افوا اڑا کر میرا دم نکال دیا لیکن میں نے ریکارڈ بنا کر ہی چھوڑا 5 سال تک اپنی زیر نگرانی ملک کو خوب لوٹا۔
اب اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر رہی تھیں لہذا میں نے سوچا کہ نئی اسمبلیاں پتہ نہیں کیا کیا بلیک میل کریں ان کو میں نے رجا دیا ہے انہی سے صدر بن جاؤ بس تا کہ میں 8 سال کے مذاق کو ختم کر کے مکمل طور پر جمہوریت نافذ کر سکوں لیکن کچھ لوگ مزید مذاق برداشت نہیں کر رہے۔ سارا وقت گزر گیا صرف دو تین مہینے رہ گئے لیکن اب یہ مانتے نہیں۔ اس تمام میں مجھے خوشی ہے کہ میری وجہ سے جو ملک پیچھے کی جانب جا رہا تھا اور جس کو میں روزانہ دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا وہ مجھے بہانہ مل گیا کہ اب میں ان لوگوں کے سر الزام ڈال دوں۔ اور اس کا بہانہ بنا کر میں وہی کاروائی کرنے لگا ہوں جس کی مجھے عادت ہے اور آپ کو دیکھنے کی۔ پچھے سات سالوں میں یہ جو میں سات سات کہہ رہا ہوں مجھے حساب میں کمزور مت سمجھیں مجھے علم ہے کہ یہ سات نہیں آٹھ ہے یہ تو میں آپ سے جھوٹ بول رہا ہوں ابھی انگلش میں آٹھ ہی کہونگا نہیں تو وہ مجھے ویزہ نہیں دیں گیں۔ ہاں تو جیسے میں نے بتایا پچھے سات سالوں میں جتنا بیڑہ غرق ہم نے کیا کوئی نہیں کر سکا۔ اور کیونکہ میں افتتاح کر کے ہی بھول جاتا ہوں لہذا میں اس کو نیچے جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
مجھے ٹیلیفون آ رہے ہیں ہر طرف سے۔ امریکہ سے۔ انگلستان سے۔ مجھے میرے دوست طعنے مار رہے ہیں کہ ہمیشہ باہر سے حکمنامے پر عمل کرتے ہو کبھی بھی خود سے فیصلہ نہیں کیا تو اب کیا ہو گیا۔ میں نے کہا ابھی بھی ان کے ماننے کا انتظار کر رہا ہوں وہ مانتے نہیں۔
پاکستان میں مجھے امید تھی کہ میرے کارناموں پر عدلیہ اور ادارے چپ کر جائیں گیں اور میں من مانی کرتا رہونگا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ عدلیہ کو دیکھ کر سبھی شیر ہونے لگے۔ اور تو اور میڈیا کے چند پروگرامز نے بھی صورتحال ویسی پیش نہیں کی جیسی مجھے رپورٹس آتی ہیں۔ میں ادھر ٹیلی ویژن پر بیٹھا ہوا ہوں۔ سب کو کرسی پر بیٹھایا ہوا ہے ادھر مجھے ٹیلی ویژن پر بیٹھا دیا ہے۔ اور مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ وہی میڈیا ہے جو کبھی صرف ptv ہوتا تھا۔ میں نے آ کر کہا یہ چینل بنا دو وہ چینل بنا دو۔ امریکہ یورپ نے پانیوں پر چینلز بنائی تھیں میں نے میڈیا پر چینلز بنا دی۔ ایک میں نے ایم کیو ایم کا چینل بنا دیا تو ایک بی بی کا۔
اس سے پہلے کے قوم مجھ سے پوچھے کہ یہ کیوں ہوا میں قوم سے خود ہی پوچھ لیتا ہوں کہ یہ کیوں ہوا؟ انگلش میں why? مجھے انگلش بھی آتی ہے ایسی بات نہیں ہے اللہ کے فضل سے سبھی زبانیں آتی ہیں۔ لیکن دوسروں کو نہیں آتی ہیں اس لئے میں دوسروں سے صرف لاتوں میں بات کرتا ہوں۔
میں بتاتا ہوں کیوں، یہ جو نو مارچ آیا میں نے اپنے جج کو بلا کر کمرے میں بیٹھا کر سمجھایا۔ لیکن نہیں سمجھتا پشتو بولتا ہے نہ اس لئے۔ پھر جمعہ کا دن تھا مسجد کو سیکیورٹی چاہیے تھی وردی میں نے پہنی ہوئی تھی میں ادھر چلا گیا۔ اب بتاؤ وردی اتار دوں تو جمعہ کے جمعہ سیکیورٹی کون فراہم کرے گا؟ لال مسجد کو جیسی سیکیورٹی دی کوئی اور دے سکتا ہے؟
یہ جو میں نے کیا یہ آئین کے بالکل مطابق تھا لوگ کہتے ہیں نہیں مطابق تھا۔ کوئی ڈاکٹر شیر افگن کو پوچھ لو کہ مطابق تھا کہ نہیں تھا۔ پھر بہت سنگین شکایات تھیِں۔ جسٹس چوہدری کا بیٹا میرے سامنے جیو پر انگلش میں باتیں کر کے گیا۔ انگلش میں صرف میں بات کرتا ہوں۔ میں پریزیڈنٹ ہاؤس میں رہتا ہوں۔ شارٹ کٹ پرائم منسٹر ہاؤس میں رہتا ہے تو چیف جسٹس کیسے جسٹس ہاؤس میں رہ سکتا ہے؟ یہ سراسر قانون کے خلاف ہے۔ اور سپریم کورٹ نے تو ان سنگین شکایات کو تو سنا ہی نہیں۔ سیدھا فیصلہ دے دیا میں کوئی توہین عدالت نہیں کر رہا میں صدر ہوں۔
اس کے بعد لال مسجد کا واقعہ کیا۔ میں نے سارے پنجاب کی پولیس بلا لی۔ لیکن میں ان کو اجازت دیتا رہا کہ جانے دو جہاں جاتے ہیں۔ میرا خیال تھا نکڑ والی دکان سے پکوڑے اور ساتھ والی دکان سے دودھ، ڈبل روٹی لے کر واپس آ جائیں گیں لیکن یہ ذرا آگے نکل جاتے تھے کبھی کسی منسٹری کی عمارت جلا کر تو کبھی میرے کسی وزیر کو چائنیز مساج سینٹر سے پکڑتے اس کو چھوڑ کر چائنیز کو مارتے۔ حالانکہ چائنیز کو مارنے کا ٹھیکہ امریکہ نے بھارت کو دیا ہوا ہے جو بلوچستان میں ان انجئنیرز کو مارتا ہے۔ میں آج تک صرف صدر بش اور کونڈی کے آگے معافی مانگتا رہا اب انہوں نے مجھ سے چینی صدر کے سامنے معافی منگوائی۔
ہم سے سب پوچھیں ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ ہم دیکھ رہے تھے کہ کب امریکہ مطلوبہ اسلحہ فراہم کر کے اجازت دے کہ ایکشن لیا جائے۔ ہمیں علم نہیں تھا کہ امریکہ اس واقعے کو اس قدر اچھالنا چاہتا ہے کہ ہماری بےعزتی ہو۔ اب امریکہ نے جو ہمیں 61 دہشت گردوں کے نام دیئے تھے ان کو چیف جسٹس نے رہا کر دیا کہ معصوم ہیں۔ اب امریکہ کہتا ہے تو صحیح کہتا ہو گا نہ اب کوئی پتہ نہیں پنڈی کراچی یا سرگودھا کا انہی میں سے کسی نے کیا ہو۔ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔ اب کہتے ہیں لال مسجد کا آپریشن ان کے پرانے لوگوں کے سپرد کرو اور پیلا پینٹ نہ کرو میں تو لال پیلا ہونے پر عمل کر رہا تھا پہلے لال کیا اب پیلا کر رہا ہوں۔ اور یہ میڈیا ان کی حمایت کرتا رہا۔ اور جو میرے ساتھ نہیں ہے وہ پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔
اب پھر ہم نے شاہراہ دستور بند کی۔ صرف میں نے کاغذات جمع کروائے باقیوں کو مارا پیٹا۔ اسمبلیوں میں قوم کے گناہ گاروں کا شکر گزار ہوں مجھے منتخب کر لیا۔ شکر ہے کر لیا نہیں تو اب تو کوئی نہٰن کرتا۔
لیکن کچھ ریفرنسز آ گئے۔ اور حد یہ کہ سپریم کورٹ نے قبول کر لئے۔ حالانکہ میں نے پیغام بھیج دیا تھا کہ جو مرضی کروں لیکن پاکستان یعنی میرے خلاف کچھ مت کرو اب پہلے 7 ممبرز کا بینچ بنا پھر 9 کا پھر 11 کا اب میں کتنے بندوں کو دھمکیاں دینے کے لئے فون کروں؟ ایک رات میں یہ سب کرنا ممکن نہیں۔ پھر ایک صاحب کہتے انہوں نے بیٹی کی شادی میں جانا ہے۔ مجھے انوائیٹ ہی نہیں کیا۔
اب قوم اپنے مقدمے 40 سال تک چلاتی نہیں گھبراتی میں ملک کا صدر اور میرا مقدمہ بھی لٹکایا ہوا ہے اور شادی میں انوائیٹ بھی نہیں کیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے پہلے ہی کہہ دیا ایمرجنسی لگا لی اب ہم انوائیٹ نہیں کرتے۔
میرے بھائی فضلو اور بے بی یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ ہو کیا رہا ہے؟ یہ پیچھے کون ہے اور آگے کون ہے۔ یہ کیمرہ مین کون ہے اور یہ پیچھے قید اعظم کون ہے؟ یہ ٹیبل کیوں ہل رہی ہے۔ مجھے چکر کیوں آ رہے ہیں۔ میں کس سمت میں جا رہا ہوں۔ اچھا تو میں اب ایکشن لینے لگا ہوں۔ جی لے لیا ایکشن ملک بچانا ہے وردی بچانی ہے مارشل لا لگانا ہے تو ابھی سے لگ گیا۔ تو انشااللہ تعالی میں نے تیسری دفعہ بھی قوم کے سر پر سوار رہنا ہے۔ تو آئین معطل ہے لیکن تمام لوگ اپنے عہدوں پر ہیں اور اسمبلیاں قائم ہیں اب کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آئین معطل ہے تو اسمبلیاں کیسے کام کریں گیں تو مجھے تو شیر افگن نے ایسے ہی بتایا ہے اسی سے پوچھ لیں۔
اب پاکستانیوں تمکو انگلش نہیں آتی لہذا ٹی وی بند کر دو میں انگلش بولنے والوں سے خطاب کرنے لگا ہوں۔ ان پر میرا زور نہیں پتہ نہیں وہ ٹی وی اب بند کرتے ہیں کہ کھلے رکھتے ہیں
I have spoken to filthy Pakistanis’ in Urdu now I want to request my masters
I would ask you to kindly understand what terrible things I have done in
I personally am convicted of this downfall
and I cannot allow this country to commit suicide I will kill it my self
complete democracy return to civil rule so I admit it wasn’t a democrady during the past 8 years
I request you all to bare with me
To the critics and idealist against this action I would like to say please shut up
Please give me time
. Please also do not demand and expect your level of civil rights, human rights, civil liberties which you learned over the centuries. We are trying to learn and we are doing very well also.
I would at this time venture to read out an excerpt of President Abraham lincon especially to all my listeners in
i know he refused to become the president for the third time but he was him I am me.
His violation were not against civilians mine are
I look at it from this point of view. Whatever I do is for me
With all my sincerity, to whom?
What ever I am doing is in the interest of me
therefore I am doing this for myself
مجھے امید ہے کہ آپ سب اس صورتحال کی سنگین کیفیت کو سمجھیں گیں اور اپنے بچوں کو سڑکوں پر آنے سے منع کریں گیں ورنہ میرا ذمہ کوئی نہیں۔ میں نے صورتحال کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے تو بچوں کا بھی کر لونگا۔ امریکہ میرے ساتھ ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں مقابلہ کرونگا اپنی وردی کے لئے اپنے عہدے کے لئے۔ اپنی ترقی کے لئے۔ اور مجھے ابھی ابھی کسی نے کہا ہے کہ عوام کو قیمتوں سے تعلق ہے مجھے پہلے پتا نہیں تھا اس لئے پیٹرول کی اتنی قیمت بڑھا دی آئی ایم ساری۔ یعنی سارا کچھ میرا ہے۔ عوام تنگ پڑی ہوئی ہے تو پڑی رہے میں کیا کروں؟ اب میں تھک گیا ہوں لہذا اللہ آپ کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑونگا۔
پاکستان پائندہ باد (اب مجھے کوئی نیلام گھر کہہ کر چھیڑے گا نہیں)
[ڈرم بیٹ]
Popularity: 23%
Popularity: 23%
203 views
Related Posts
- صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
- مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت
- google adsense payments through westron union On October 6, 2007, 4 Comments
- Google announced a new way of payments to a few more countries other than check. Inclduing is Pakistan. A very interesting line in the official news reads as “This choice can also cut down on bank fees and long clearing times associated with depositing checks.”
- 2006 On January 1, 2007, 0 Comments
- 2006 another year I lost. Gained a lot and didn’t repay a penny. Should I be shamefull? I dont kno. May be I should and may be I shouldnt. I became less emotional and more stable than the previous years. I was never been some one looking for trouble but troubles always found me. This year
- سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
- خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
- gps now On October 29, 2007, 2 Comments
- I wrote about gps a while ago and now finally I am ready to buy one but I am a bit confuse what to chose n what not to. We are sorted down to garmin now but the question remains which one, I mean which model? I am not that multimedia so mp3 player, FM transmitter,
- New Presidential coins On January 7, 2007, 0 Comments
- A new presidential dollar coin will be appearing in circulation beginning February 16, 2007. United States Mint officials for the first time revealed designs for the presidential dollar coin series at a November 20, 2006 ceremony held at the Smithsonian Institution’s National Portrait Gallery.The dollars are to be produced because of the Presidential $1 Coin
- Am i weird? On December 27, 2006, 0 Comments
- I have been tagged by Zikria Ajmal for the meme where I have to write down 6 weird things about me. What I believe and most would agree is that I my self am weird. I can’t sit back and relax. I need something to do all the time even if its doesn’t worth at all and
- youtube On May 27, 2007, 4 Comments
- پاکستان کی بدلتی صورتحال اور صدر مشرف کے حمائتیوں کی حرکات سے تنگ بہت سے لوگ اور بلاگر اب سیاست کی طرف لکھنے پر مائل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تصویر ہزار الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہے تو پھر متحرک تصویر کتنا اثر رکھتی ہو گی؟ میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ یوٹیوب
- gov gone wild On March 6, 2007, 4 Comments
- If you live on planet earth you would have known “girls gone wild”, If you live in United States of America, You must have known “guys gone wild”. But there is somethin you are missing. The famous gov gone wild. The next release of “guvs gone wild”, we all have been watching this crazy drama over
- Unappreciated On January 6, 2007, 0 Comments
- I’m feeling really unappreciated. You takin` my love for granted, babe. I don’t know how much more, I can take from you. You don’t do the things you use to do. You don’t even say I love you too. And lately I’ve been feeling, Feeling unappreciated. Woke up this morning and saw your face And you didn’t look the same as
Random Posts








ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
بہت اچهے لیکن بہت زیاده اچهے نہیں که
بین السطور میں یه صاحب اس سے بهی تلخ زبان استعمال کر رهے تهے آپ نے کافی ہتھ ہولا رکها ہے ـ
میں نے پہلی دفعه ان کو سنا ہے یه صاحب تو کافی کم عقل واقع هوئے هیں
ان کا حکومت میں هونا کسی اور کی مہربانی ہے ـ
وه امریکه سے زیاده مفاد پرست جرنیلوں کا ٹولا بهی هوسکتا ہے
جنہوں نے اس کم عقل کو اگے کیا هوا ہے ـ
خاور’s last blog post..جاپان سے
واہ واہ جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی دلچسپ تقریر لکھی ہے آپ نے۔ خاص طور پر اس میں جملوں کا انداز ویسا ہی ہے جیسا کہ چاچو کا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
راہبر’s last blog post..احتجاج کیسے؟
سلام
خاور: نو کمنٹس :d
راہبر: چاچو کی ہی تقریر کا حشر نشر کیا ہے۔