مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت مذاق اڑایا گیا ہے۔ کسی کو علم ہو کہ کسی بلاگر یا اخبار نے صدر کی مکمل تقریر انگلش میں ٹرانسلیٹ کی ہو؟ میں نے صدر کی تخریب معاف کیجئے گا تقریر کا مکمل متن لکھ لیا تا کہ بوقت ضرورت کام آئے۔

 

[ڈرم بیٹ]

پاک سر زمین شاد باد

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو اسلام علیکم۔

 

آج جو میں آپ لوگوں سے خطاب کر رہا ہوں۔ اس وقت پاکستان ایک بہت خطرناک موڑ پر پہنچا ہوا ہے۔ اندرونی بحران کا شکار ہے یہ تمام جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔ اس کا اندرونی خلفشار سے تعلق ہے۔ اس وقت بہت اہم اور بعض وقت قوموں کی تاریخ میں تکلیف دہ فیصلوں کا وقت آتا ہے۔ پاکستان کے لئے بھی ایسا ہی وقت ہے  کہ کچھ اہم اور تکلیف دہ فیصلے لینے پڑیں گیں۔ اور اگر، مجھے شک ہے کہ یہ بروقت ایکشن اس وقت اگر نہیں لیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ہے۔ اور کچھ قبل اس کے میں اور کچھ بولوں میں صرف ایک وعدہ تمام قوم سے کرنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ بھی میں کرونگا جو کچھ فیصلہ بھی میں نے لیا ہے وہ سب سے پہلے پاکستان کی بنیاد پر میں نے لیا ہے۔ اور یہی میرا ایک گائیڈینس پرنسپل رہے گا۔ سب سے پہلے پاکستان۔ ذاتی مفاد، ذاتی کنسیڈریشن سے بالاتر ہو کر پاکستان فرسٹ۔ اور یہی مجھے امید ہے کہ تمام قوم اسی لائنز پر سوچے گی۔

میرے بھائیوں اور بہنوں پچھلے مہینوں میں پاکستان میں بہت تیزی سے صورتحال بدلتی رہی ہے۔ اس کے بارے میں میں کچھ آپ سے بات کرنا چاہونگا بہت فرینکلی۔ پہلی چیز جو میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی۔ میری نظر میں انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔ اس وقت خود کش حملے پورے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ کراچی میں جو ہوا، اس کے بعد راولپنڈی میں سرگودھا میں۔ پورے پاکستان میں ان کی شدت بڑھ گئی ہے۔ ایکسٹریمیسٹ، انتہا پسند پورے ملک میں دندناتے ہوئے پھر رے ہیں۔ بلکہ لا انفورسمینٹ ایجنسیز سے ڈر ہی نہیں رہے ہیں۔ بہت کانفیڈینٹ ہیں۔ frontier province میں تو سب کچھ ہو ہی رہا تھا۔ اور اس سے ہم نمٹ رہے تھے۔ اس کا کچھ پھیلاؤ سیٹلڈ ایریاز میں بھی آیا۔ آپ کو پتہ ہی ہے سوات میں کیا ہو رہا ہے۔ اور southren districts میں بھی صورتحال سے نمٹنا پڑے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اسلام آباد یعنی heart of pakistan, the capital of pakistan اس میں بھی انتہا پسندی پھیل گئی ہے۔ اور لوگوں کو بہت تشویش ہے۔ یہ انتہا پسند rit of government کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ government within a government حکومت کے اندر ایک اپنی حکومت چلانا چاہ رہے ہیں۔ اور سب سے بری بات یہ ہے کہ ایک اپنے انتہا پسند فرسودہ religious ideas, اسلام کے بارے میں فرسودہ خیال، اعتدال پسند لوگوں کے اوپر مسلط، زبردستی ٹھونسنا چاہ رہے ہیں۔ اور میری نظر میں یہ ایک پاکستان کی سالمیت پر ایک direct challenge پھینک رہے ہیں۔ یہ بہت ہی سنگین صورتحال ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی۔

اب بات کے اور آگے چلتے ہیں۔ حکومتی نظام کیسا چل رہا ہے۔ میری نظر میں ایک semi paralysis یعنی مفلوج ہوا کھڑا ہوا ہے۔ تمام سینئیر عہدیدار حکومت کے وہ کورٹس کے چکر لگا رہے ہیں۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کے۔ ان کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ان کی بےعزتی کی جا رہی ہے۔ کورٹس کے اندر۔ لہذا وہ کوئی فیصلہ نہیں دینا چاہ رہے۔ تقریبا ایک سو سو موٹو کیسز چل رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں۔ اور مجھے بتایا جا رہا ہے کہ ہزاروں اپلیکیشنز آئی ہوئی ہیں۔ اور یہ تمام سو موٹو کیسز گورنمنٹ کے اداروں کے یعنی executives سے concerned ہیں۔ تو لہذا ایک حکومتی نظام اس وقت مفلوج ہوا ہوا ہے۔ law inforcement agencis کو دیکھیں۔ میری نظر میں de-morelized ہیں۔ خاص طور پر اسلام آباد میں۔ ناامیدی کا شکار ہیں۔ ہمت ہار چکے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے آفیسرز کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔وہی سپریم کورٹ کے چکر۔ کورٹس کے چکر لگائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے دس آفیسرز کو جن میں سے دو آئی جی بھی ہیں۔ ان کو suspend کیا ہوا ہے۔ یا convict ہو گئے ہیں۔ تو لہذا ایک de-moralized force مورال نیچے ایکشن لینے سے گھبرا رہے ہیں۔ کچھ نہیں کرنا چاہتے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جمہوریتی نظام کو دیکھیں۔ جمہوریت کے عمل کو دیکھیں۔ اس میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ 99 میں جب ہماری حکومت آئی تو میں نے اس وقت ایک حکمت عملی بنائی تھی۔ کہ ایک three stage transition کی جائے۔ ملک کو لے کر جایا جائے۔ جمہوریت کی طرف کیونکہ 99 میں تو ایک failed defaulted state تھے۔ جمہوریت کا نظام “ٹوٹھا پوٹھا” تھا۔ کوئی حکومت اپنا ٹینیور پورا نہیں کر رہی تھی۔ جمہوریت نام کا تھا۔ لہذا stage one میں جو 99 سے 2002 میں میری نظر میں اس حکمت عملی کے تحت ہم نے کیا اس میں میرا ایک ٹوٹل کنٹرول رہا۔ میں نے حکومت چلائی۔ stage two پھر آیا، دوسرا مرحلہ جو 2002 سے 2007 تک چلا۔ یہ ایک democratic system۔ گورنمنٹس پوئی elected گورنمنٹس، سینٹ، نیشنل اسمبلی، provencial assembly، لوکل گورنمنٹس۔ یہ ایک elected government کا جمہوری نظام جس میں میں نے اور سیل کی۔ نگرانی کی۔ لیکن حکومت اپنی طرف سے چل رہی تھی۔ میں پریزیڈنٹ اور چیف آف آرمی سٹاف رہا۔ تو یہ دوسرا مرحلہ ہم نے گزارا۔ خوش اسلوبی سے گزارا۔ کچھ پرابلمز رہی ہیں لیکن ایک ریکارڈ قائم کیا کہ پہلی دفعہ سینٹ، نیشنل اسمبلی، لوکل گورنمنٹس نے اپنا پورا، پوری مدت پوری کی۔ اب ہم آخری مرحلے پر آ گئے۔ اسی ٹرانزیشن کے۔ تیسرا مرحلہ۔ یعنی میرا، مجھے امید تھی کہ 2007 جبکہ اسمبلیاں 15 نومبر کو اپنا ٹینیور پورا کر رہی ہیں۔ مدت پوری کر ری ہیں۔ اس میں ایک خوش اسلوبی سے presidential election ہو جائیں۔ جو بھی candidates  ہیں  presidential elections کے۔ اور پھر جنرل الیکشنز ہوں۔ اور پھر ایک elected government جو بھی جیتتا ہے۔  ایک political reconciliation کے طور پر ایک آگے نیا دور، full democracy کا دور آگے چلے پاکستان میں۔ مجھے امید تھی اس کی۔ جیسے میں نے کہا۔ یہ پہلی دفعہ پاکستان میں یہ ٹرانزیشن ایک دانستہ طور پر ایک حکمت عملی کے مطابق یہ ٹرانزیشن ہم نے آگے پاکستان میں introduce کی اور آگے لے جانا چاہ رہے ہیں۔ لیکن میری نظر میں بڑے افسوس کے ساتھ مجھے کہنا چاہتا ہے کہ کچھ عناصر اس جمہوری عمل میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ اس میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور اس کو allow نہیں کرنا چاہ رہے ہیں۔ جبکہ تمام عمل ہو گیا ہے ٹائم بھی گزر گیا ہے صرف دو تین مہینے رہ گئے ہیں۔ اس تین تیسرے مرحلے کو ختم کرنے میں۔ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں جان کے ذاتی مفاد کے لئے سیاسی مفاد کے لئے۔ اور پاکستان کے نقصان میں۔ یہ ایک خوامخواہ میں خلفشار مچایا جا رہا ہے اور رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ان تمام جو میں نے بتایا ہے۔ terrorism, extremism, حکومتی نظام، paralysis, Demoralized law enforcement agencies, جمہوریت کے نظام میں دخل اندازی رکاوٹیں۔ اس کی وجہ سے سب سے افسوس سے مجھے کہنا پڑ رہا ہے۔ کہ معاشی upside معاشی پاکستان کی جو اوپر کی طرف جا رہی تھی۔ خوشحالی کی طرف ہم جا رہے تھے۔ میں بہت افسوس سے مجھے دیکھ رہا ہوں میں کہ اس میں رکاوٹ آ گئی ہے اور وہ ایک ڈاؤن کرو، نیچے کی طرف خدانخواستہ چل رہا ہے۔  indications ہیں لیکن ابھی تک چلا نہیں ہے۔ اگر ہم روک سکے تو وہی کاروائی چاہئے۔ تمام انویسٹ، میں دیکھ رہا ہوں کہ انویسٹرز اور جتنا بھی سرمایہ اتنا زیادہ ادھر آ رہا تھا پاکستان میں، انہوں نے ہاتھ روک لیا ہے۔ وہ رک گئے ہیں دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے پاکستان میں۔ کی پاکستان ایک Stable طریقے سے آگے جائے گا۔ تا کہ ہم سرمایہ یہاں لگائیں۔ یا روک لیں اور کہیں اور جانے لگیں۔ تمام اکانومی ہماری معیشت، ہماری عوام کی معاشی حالت، جو پچھلے سات سالوں میں ہم نے دیکھی ہے۔ imporvement معیشت ہمنے معاشی حالت میں۔ infrastructure development سڑکیں، بندرگاہ، ایرپورٹ، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن، موبائل فون، لینڈ لائن، گاؤؤں میں دیہی علاقے میں ٹیلی فون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن، تعمیراتی نظام، پورے پاکستان میں ایک گہما گہمی ہے۔ بلڈنگیں بن رہی ہیں۔ سڑکیں بن رہی ہیں، فلائی اوورز بن رہے ہیں۔ پھر انڈسٹریز، صنعتیں لگ رہی ہیں۔ آبپاشی کا نظام، ڈیم بنائے ہیں۔ کنالز بن رہے ہیں۔ پانی کی brick lining ہو رہی ہیں۔ واٹر کورسز کھالوں کی۔ پھر ایک سوشل سیکٹر، تعلیم اور صحت کے لحاظ سے۔ پرائمری اور سیکنڈری لیول کی صحت۔ اور ہر لیول کے تعلیمی ادارے۔ ان کے اوپر جو ایک آگے بڑھتا ہوا پاکستان تھا۔ تمام شعبوں میں ابھرتا ہوا، بہتری کی طرف جاتا ہوا۔ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ یہ خدانخواستہ کہیں سات سال کی محنت پر کہیں پانی نہ پھر جائے۔ اور اس بات کا مجھے بہت افسوس ہے اور میرے خیال میں کیونکہ میں انوالو رہا ہوں بہت اس ترقیاتی منصوبوں میں، میں اس کو نیچے جاتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا۔ تو مجموعی طور پر ان تمام وجوہات کی بنا پر قوم، پوری قوم ایک مایوسی غیر یقینی کا شکار ہوئی ہوئی ہے۔ مجھے ٹیلیفون آ رہے ہیں ہر طرف سے میرے جاننے والے اپنے، پرائیوٹ باہر سے، بیرون پاکستان، اندرون پاکستان، پوچھ رہے ہیں کیا ہو رہا ہے۔ مجھے بار بارطعنے بھی دے رہے ہیں کہ آپ کر کیا رہے ہیں۔ مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ تو بڑے decesion maker تھے۔ اب آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ اب decesion کیوں نہیں لے سکتے ہیں۔ میں اس سب طعنوں کو خاموشی سے سنتا رہا ہوں۔ خاموشی سے سنتا رہا ہوں۔ غیر یقینی سے دیکھتا رہا ہوں۔ ہو کیا رہا ہے پاکستان کے لئے، پاکستان میں۔ مجھے امید تھی کہ عدلیہ اور حکومتی ادارے اس سب صورتحال سے نمٹ لیں گیں۔ اس امید سے  میں خاموشی سے بیٹھا رہا۔ اور دیکھتا رہا کہ شائد وہ اس سچویشن سے ڈیل کر لیں۔ اور صورتحال کو بہتر کر دیں۔ لیکن میری نظر میں یہ نہیں ہوا۔ یہ نہیں ہو سکا۔ اور صورتحال بد سے بدتر چلتی جا رہی ہے۔ اور پاکستان تیزی سے ایک نیگیٹو سائیڈ پر چل رہا ہے۔ اور ادھر میں یہ بھی کہنا چاہونگا۔ میں میڈیا میں بیٹھا ہوا ہو، ٹیلیویژن پر بیٹھا ہوا ہوں۔ میں یہ کہنا چاہونگا میڈیا نے بھی اور کچھ، کچھ چینل نے اور ان چینل کے کچھ پروگرامز میں انہوں نے بھی اس down slide اس negativeism منفی سوچ، منفی پروجیکشن کو روکنے میں کوئی مدد نہیں دی۔ بلکہ اس کو، اس غیر یقنی کی فضا میں کچھ اضافہ ہی انہوں نے کیا ہے۔ یہ بھی مجھے بہت افسوس، اسی افسوس ہے مجھے۔ یہ وہی میڈیا ہے جو پاکستان میں صرف ptv تھا۔ اور کوئی independence نہیں تھی۔ یہ وہی میڈیا ہے جس کو میں نے انڈپنڈنس دی ہے۔ اور ہماری حکومت نے انڈپنڈنس دی ہے۔ کیونکہ مجھے یقین تھا کہ انڈیپنڈنس ہی ہونا چاہئے میڈیا کو۔ یہی راستہ ہے آگے جانے کا civilized سوسائٹی، اس لئے مجھے افسوس ہوتا ہے۔ اور میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ نیگیٹوازم کو روکیں۔ پوزیٹوازم کی طرف جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میڈیا۔ میڈیا کو انڈیپینڈنس بالکل ہونا چاہئے لیکن ریسپانسیبلٹی، قوم کے لئے ریسپانسیبلٹی۔ اس پر مجھے۔ میں افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں۔ یا کہنا چاہونگا کہ اس نے مجھے، کچھ چینل نے جیسے میں نے کہا ٹھیک نہیں صورتحال نظر آئی۔ میں پوچھنا چاہونگا پوری قوم سے۔ یہ کیوں ہوا ہے۔ یہ صورتحال کیوں؟ why? میری نظر میں یہ judicial activism اور عدلیہ کا جو ایک piller of state ہے۔ دوسرے دو پلر یعنی legislative قانون ساز، قانون ساز ادارے۔ اور ایگزیکٹو پلر حکومت کے نظام جو ہے اس کے ساتھ clash اس میں دخل کہ اس کی وجہ سے دونوں ادارے قانون ساز ادارے بھی تکلیف میں ان کی رٹ چیلنج ہو رہی تھی۔ قانون انہوں نے بنانا ہے لیکن وہ چیلنج ہو رہا ہے۔ اور حکومتی نظام مفلوج ہوا ہوا ہے۔ ہر لحاظ سے ہر شعبے۔ بیسک تو یہ بات ہے۔ یہ میری نظر میں نو مارچ اسی سال۔ اس وقت سے یہ سلسلہ شروع ہوا جبکہ ایک ریفرنس پرائم منسٹر کی recommendation پر میں نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا یہ ایک بالکل آئینی اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق تھا یہ کوئی میرا اس میں پرسن ذات نہیں انوالڈ تھا۔ بہت سنگین اس  میں میں نے دیکھا کہ الزامات تھے۔ اس کی وجہ سے میں نے بالکل آئینی ایک قدم اٹھایا اور کچھ میں نے نہیں کیا۔ however اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کی صورتحال اس سے اس کے بعد جو ہوئی۔ اور بہت بگڑی لا اینڈ آرڈر کا بریک ڈاؤن افسوس ناک حد تک اور اس میں کیونکہ کچھ سیاسی عناصر چونکہ گھس گئے۔ تو صورتحال اور زیادہ خراب ہوئی۔ میں اس کی ڈیٹیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی لا انفورسمینٹ ایجنسی کے کسی فرد سے کوئی غلطی ہوئی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں پورے ملک کو destablized کرنا شروع کیا جائے اور دوسری چیز یہ ہے کہ یہ ریفرنس کی جیسا میں نے کہا ایک سنگین شکایات تھی اس کی وجہ سے یہ ہوا اس کو سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا جو کچھ بھی ہوا اس کی ججمنٹ جو ہے وہ نکلی یہ ججمنٹ چاہے میں اس سے agree کروں یا نا کروں کیونکہ میری نظر میں اس ریفرنس جو کہ سنگین تھا شکایات تھی اس کو تو examine ہی نہیں کیا گیا اور فیصلہ دے دیا گیا اس فیصلے کو میں نے پوری، خوش اسلوبی سے اس اچھی نیت سے قبول کیا۔ اس فیصلے کو کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ اس کو قبول کر لیا۔ نیک نیتی سے قبول کیا اور ایک مفاہمت کا رویہ اختیار کیا۔ کہ conciliation ہو لڑائی جھگڑا بند ہو پاکستان کے حق میں۔ ذات سے اوپر ہٹ کے اداروں کی stability اس کیطرف کام کیا جائے۔ اس کے لئے اور پاکستان کے حق میں کام کیا جائے۔ بدقسمتی سے سلسلہ حل نہیں ہوا۔ حالانکہ پوری کوشش کی۔ پوری co-operation دیکھائی۔ نیک نیتی سے لیکن پھر بھی سلسلہ حل نہیں ہوا۔ یہ تو تھا ریفرنس جوڈیشل ایشو قانونی ایشو۔

دوسرا پھر ہم نے اسلام آباد میں دیکھا کہ ایک لال مسجد کا سانحہ ہمارے سامنے آیا۔ اٹھا۔ یہاں انتہا پسندوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہ واقعہ ہارٹ آف پاکستان۔ کیپیٹل سٹی آف پاکستان۔ اسلام آباد میں ہوا۔ اور اس کی embarrasement ملک کو بیرون ملک پوری دنیا میں اتنی زیادہ ہوئی ہے کہ میں ہی جانتا ہوں کہ کتنی زیادہ ہوئی ہے پوری دنیا میں۔ کہ ہم ایک اتنی بڑی طاقت ہو کر اپنی کیپیٹل کو۔ کنٹرول میں نہیں ہے ہمارے۔ اس کے اندر ہی حکومت میں لوگوں نے حکومت بنا لی ہے۔ بہت ہی ہمارا امیج متاثر ہوا۔ ہمارا رتبہ ہماری standing متاثر ہوئی۔ ان لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ انتہا پسندوں نے۔ انہوں نے پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا۔ انہوں نے پولیس کے لوگوں کو hostage لے لیا۔ پکڑ کر زبردستی۔ انہوں نے دوکانیں جا کر جلا دیں۔ انہوں نے چائینیز جو ہمارے اتنے بڑے دوست ہیں۔ ان کو ان لوگوں نے پکڑ کر یرغمال بنا کر مارا پیٹا جس کی وجہ سے پھر مجھے بذات خود embarrasement  ہوئی۔ کیونکہ مجھے ان چائینیز لیڈرز سے apologise کرنا پڑا۔ اپلوجیز کرنی پڑی۔ کہ شرم آتی ہے ہمیں۔ کہ  آپ لوگ ہمارے اتنے بڑے دوست ہیں۔ اور آپ لوگوں کے ساتھ یہ ہوا ہے۔ اور پھر ان لوگوں نے envoirnmental ministry جو ہے اس میں گھس کر اس کو جلا دیا ہے۔ اس کی گاڑیوں کو جلا دیا۔ کیا کریں اس صورتحال میں۔ بےعزتی ہوتی رہی ہے ہماری۔ کئی مہینے۔ اور لوگ یہی کہتے رہے ہیں کہ ایکشن کیوں نہیں لے رہے ہیں لیکن ایکشن نہیں لے رہے تھے کہ ہم جان بچانا چاہ رہے تھے ہم جانیں نہیں لینا چاہ رہے تھے۔ لہذا جب ایکشن لیا۔ ایک آخری حربہ تھا۔ last resort, as a last resort  ایکشن لیا۔ میں تمام لا انفورسمینٹ ایجنسیز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں دوبارہ۔ کہ انہوں نے ایک ایکشن لیا۔ اور ہمیں جو ہمارے ساتھ یہ بے عزتی اور embarrasement ہو رہی تھی اس کو ختم کیا۔ ان میں بہت سے شہید ہوئے۔ میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔ اللہ تعالی ان سب کو جنت نصیب کرے۔ انہوں نے اس قوم اور ملک کے لئے ایکشن کیا کوئی اپنے لئے نہیں کیا۔ اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے بعد، بدقسمتی سے۔ decesion آیا۔ سپریم کورٹ کا decesion آیا۔ فائلز چلتی رہیں اب صورتحال یہ ہے کہ ان میں سے اکسٹھ terrorist جو کہ انٹیلیجنس ایجنسیز نے بلیک ڈکلئیر کیا تھا یعنی بالکل کنفرمڈ ٹیررسٹ۔ دہشت گرد۔ ان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ کوئی پتہ نہیں یہ پنڈی والا بم بلاسٹ یا کراچی یا سرگودھا والا انہوں نے ہی کیا ہو۔ یہ وہ ابھی at large ہیں۔ پتہ نہیں وہ آگے کیا ایکشنز کرتے رہیں گیں۔ اور کتنا آگے  نقصان پھیلاتے رہیں گیں۔

پھر وہ مدارس انتہا پسندی میں انوالوڈ تھے۔ ان کو کھولنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم مدرسے بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت کا پلان ہے کہ ماڈل مدرسے بنائیں۔ اور یہ غریب ترین بچوں کو ادھر رکھیں۔ ان کا خوراک کا رہنے سہنے کا بندوبست کریں اور بہترین سٹینڈرڈ کے بنائیں۔ یہ بات نہیں کہ کوئی یہاں حکومت میں مدرسوں کے خلاف ہے۔ بہترین جگہ میں لے کر جائیں گیں۔ اچھی ایجوکیشن دیں۔ اچھے رہنے سہنے کا بندوبست کریں وہ ایک پلان جامع پلان بن رہا ہے حکومت بنا رہی ہے۔ تو ان کو جیسے میں نے کہا انتہا پسند بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو کھولنے کا بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور اب اس وقت لال مسجد میں سیکیورٹی کا انتظام بھی کہ وہی اہلکار کہ جو پہلے تھے ان میں سے کوئی سیکیورٹی کا بھی خیال رکھیں۔ کسی مسجد میں مسجد کو سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اب ہمیں پتہ نہیں ہے کہ وہ سیکیورٹی کے لوگ جو ہیں۔ وہ پھر رائفلیں لے کر اندر چلنا شروع کر دیں۔ اور ہم پھر وہیں آ جائیں جہاں ہم تھے۔ اور اسی اب وہی عناصر جو پہلے حکومت کو چیلنج کر رہے تھے۔ انہی کے relatives اب بیٹھے ہوئے حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ لا انفورسمینٹ ایجنسیز جو بھی ایکشن کر رہے ہیں چاہے سوات میں۔ ان کو برا بھلا۔ اور جو دہشت گرد ہیں پورے پاکستان میں ان کے ساتھ یکجہتی کھلے عام اسلام آباد سے دیکھا رہے ہیں۔ تو یہ دوسری صورتحال کا سامنا ہے۔

پھر presidential election کا دور دورہ آیا ابھی recent پچھلے ایک مہینہ ہی گزرا ہے۔ اس میں بالکل ایک قانونی آئینی طریقے سے اس کا procedure adopt ہوا۔ الیکشن کمیشن نے شیڈول دیا۔ آئینی لحاظ سے اس کے ٹائم فریم میں اس کے الیکشن کا شیڈول آیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے nomination papers examine کئے سب کے جو بھی candidate تھے۔ میرے بھی ایگزامین ہوئے۔ اور وہ accept ہوئے۔ لیکن کچھ ریفرنسز آ گئے۔ خاص طور پر میرے خلاف وہ سپریم کورٹ میں کنسیڈریشن کے لئے لے لئے گئے۔ کوئی پرابلم نہیں ہے بالکل ٹھیک ہے۔ ایک قانونی فرض ہے لیکن اس کے بعد پہلے ساتھ ممبرز کا بینچ بنا پھر اٹھا کر اس کو کچھ دیر بعد 9 ممبرز کا بینچ بنا دیا۔ پھر اس کو 11 ممبرز کا بینچ بنا دیا اور کیس لہذا لٹکے چلا جا رہا ہے۔ آگے چلتا چلے جا رہا ہے اس کا فیصلہ کوئی نہیں ہو رہا۔ اور غیر یقنی جو پولیٹیکل اینوائرنمنٹ میں ہے وہ چلتی چلی جا رہی ہے۔ پھر الیکشنز ہوئے۔ پریزیڈینشل الیکشن ادھر مجھے میں بہت اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں شکر گزار ہوں کہ میری اسمبلیز نے مجھے 57 پرسنٹ ووٹ دے کر مجھے elect کیا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ تمام چاروں پرووینشل اسمبلیز، سینٹ، نیشنل اسمبلی سے مجھے ووٹ ملے۔ اور ففٹی سیون پرسنٹ ووٹ ملے۔ لیکن کیس پھر بھی لٹکا ہوا ہے۔ ووٹ مل گئے۔ un-official رزلٹ اناؤنس ہو گئے۔ لیکن فیصلہ یہ ہے کہ نوٹیفیکیشن نہیں کیا جائے گا۔ تو لہذا کیس کو آگے اور لٹکایا ہوا ہے۔ اب کیس چل رہا ہے فیصلہ ہو نہیں رہا ہے۔ کھسکتا چلا جا رہا ہے۔ ابھی ایک صاحب نے کہا دیا کہ انہوں نے بیٹی کی شادی پر جانا ہے اس لئے اور آگے کر دیا۔ جیسے کہ یہ قوم پوری ایک ناامیدی ایک عجیب سی کیفیت میں ہے۔ uncertainety کی کیفیت میں ہے۔ اس کو لٹکایا ہوا ہے اور آگے لے کر چلتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کا پرائم منسٹر نے بھی جائزہ لیا انہوں نے اس جائزہ کو مجھے لکھ کر بھی بھیجا کہ حکومت کا چلانا اس صورتحال میں بڑا دشوار ہوا ہوا ہے۔

میرے بھائیوں اور بہنو، یہ ہو کیا رہا ہے پاکستان میں۔ یا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ کس رخ پر جا رہے ہیں ہم۔ یہ ملک میں دل میں بستا ہے۔ میرے خون میں بستا ہے۔ اور میرے روح میں بستا ہے۔ اس کو نیچے جاتے ہوئے میں دیکھ نہیں سکتا ہوں۔ تولہذا اس لئے۔ ایک ایکشن کا وقت آ گیا ہے۔ اس ایکشن کی کور کیا ہے۔ کیا کرنا ہے۔ کرنا کیا ہے۔ میں نے پورا جائزہ لیا ہے۔ پوری سچویشن کا۔ اس کو روکنا اس down slide کو اس نیچے جانے کو روکنا کیسے ہے۔ میری نظر میں۔ ہم نے یہ تین پلرز آف اسٹیٹ جوڈیشری۔ ایگزیکٹو، لیجیسلیٹو۔ ان تینوں میں ہم آہنگی لانی ہے۔ ان تینوں میں ہم آہنگی ہم لے آئیں گے۔ یکجہتی لائیں گے۔ تو پھر ہم پوری طریقے سے اچھی گورننس کر سکیں گیں۔ یہی طریقہ ہے کہ گورنمنٹ کو اتری ہوئی پٹڑی سے واپس پٹڑی پر چلا دیا جائے۔ پیشتر اس کے کہ بالکل ہی ہم لڑھک نہ جائیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لے کر میں نے تمام فوجی حکومتی سیاسی اور پرائیوٹ عہدیدار دوستوں بیرون ملک پاکستانیوں ان تمام سے ڈسکشن کے بعد ان کے ویوز لے کر میں نے کچھ فیصلہ کیا ہے۔ اور یہ فیصلہ بنیادی طور پر جمہوریاتی عمل کا تیسرا مرحلہ جس کے بارے میں میں نے ذکر کیا تھا۔ اس کو پورا کرنا ہے انشاءاللہ۔ جمہوریت کے راستے میں جو رکاوٹیں پڑی ہیں۔ ان کو ہٹانا ہے۔ اور جو میرا پورا ارادہ ہے۔ ارادہ تھا ارادہ ہے۔ اس تیسرے مرحلے کو کمپلیٹ کرنے کا۔ انشاءاللہ تعالی اس کو پورا کیا جائے گا۔ اور یہ کرنے کے لئے میں نے ایمرجنسی ڈکلئیر کی ہے۔ میں نے ایک provincial, provesional constitutional order  ایشو کیا ہے۔ وہ ٹیلیوژن پر آ رہا تھا آپ نے دیکھا ہو گا۔ میں یہ بتاتا چلوں اس میں گورنمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ پرائم منسٹر۔ چیف منسٹرز گورنز تمام اپنے اپنے عہدوں پر رہیں گیں۔ تمام اسمبلیز continue کریں گیں۔ یعنی سینٹ نیشنل اسمبلی پرووینشنل اسمبلی یہ تمام اپنی جگہ پر ویسے ہی چلتی رہیں گیں جیسے چل رہے تھے۔ وہی عمل جاری رہے گا۔ اس کا فیصلہ میں نے کیا ہے میری نظر میں یہی طریقہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ پاکستان کو جلدی سے جلدی پٹڑی پر چڑھایا جائے۔ اور جو معاشی ڈویلوپمینٹ aspects سے ہم آگے جا رہے تھے۔ اس کو اس کا تسلسل جاری رکھا جائے۔ اور جمہوریاتی نظام کا لاسٹ ٹرانزیشن فیز اس کو مکمل کیا جائے۔ اب اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں کچھ انگریزی میں بھی بولنا چاہونگا

 

I have spoken in urdu to my countrymen. I would like to take this opertunity to speak to the world in general but particularly to my friends in the west, United States, europeon union and the commonewealth. I would ask u to kindly understand the criticality of envorinment inside paksitan and around paksitan. Pakistan is on the verge of destablization if not arrested in time now without losing anyfurther time or delaying the issue the sadest part of every thing which sadens me the most that after all we have achieved in the past seven years I see in front of my eyes pakistan upserge turn taking a downward trend. I personally with all my conviction and with all the fact available to me consider at incation at this moment is suicide for pakistan and I cannot allow this country to commit suicide. There for I had to take this action in order to preserve the democratic transition which I initiated 8  years back I would like to repeat that which I have said in urdu that I started with a three stage transition, the first stage from 99 to 2002. where I remained in control. The second stage 2002 to 2007, five years of democratic rule all assemblies functioning, local govenments functioning. I only over saw it as the chief of army staff and president combine. Now I was launching the third phase which had to be completed only in few months. Where complete democracy return to civil rule. Myself being only a civilian president if elected. It is that third stage that is being subverted today.  And it is this third stage which I want to complete with all my conviction and if we don’t take action I don’t think we are goin into this third stage I don’t kno what chaos or confusion may follow. So therefore I request you all to bare with us. To the critics and idealist against this action I would like to say please do not expect or demand your level of democracy which you learned over a number of centuries. We are also trying to learn and we are doing well. Please give us time.

Please also do not demand and expect your level of civil rights, human rights, civil liberties which you learned over the centuries. We are trying to learn and we are doing very well also.

 

       image with thanks from bbc

 

Please give us time. I would at this time venture to read out an excerpt of President Abraham lincon especially to all my listeners in United States.

As an idealist Abraham lincon had one consuming passion during that time of supreme crisis. And this was to preserve the union. Becais the union was in danger. Towards at that end he broke laws, he voilated the constitution. He used arbitry power, he tempered individuals’ liberties. His justification was neccessity. And explaining his sweeping violation of constituitonal limits he wrote a letter in 1864 and I quote,

My oath, to preserve the constitution imposed on me, the duty of preserving by every indespencible means that government that nation of which the constitution was the organic law. Was it possible to loose the nation? And yet preserve the constitution. By general law life and lim must be protected. Yet often a lim must be emputated to save a life. But a life is never wisely given to save a lim. I felt that measures other wise unconstitutional might become lawfull by becoming indespensable to the preservation of the contitution through the preservation of the nation. Right or wrong I assumed this ground and now I avow it.

We are also learning democracy. We are going through a difficult stage. It is the nation which is important and for me and every Pakistani. Pakistani comes first. And any one else’ considerations comes after that. I look at it from this point of view. Whatever I do is for Pakistan and whatever any one else’ thinks comes after Pakistan. With all my sincerity what ever I am doing is in the interest of Pakistan and therefor I am doing this with full conviction and by full heart and soul and mind in.

میرے عزیز بھائیو اور بہنو،

مجھے امید ہے کہ آپ سب اس صورتحال کی سنگین کیفیت کو سمجھیں گیں۔ میری نظر میں اس وقت جو کچھ میں نے کیا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس ملک کے لئے اگر جان کا نذرانہ دینا ہے تو میری جان حاضر ہے۔ میں صورتحال کے سامنے ہتھیار ڈالنا میں نے نہیں سیکھا ہے۔ میں نے میں صورتحال کا مقابلہ کرنا جانتا ہوں۔ میں ہتھیار کبھی نہیں ڈالتا ہوں۔ میں مقابلہ کرتا ہوں۔ اور وہی میں مقابلہ کرونگا۔ اپنے لئے نہیں۔ اس قوم کے عوام کے لئے۔ ان کی خوشحالی ان کی ترقی کے لئے۔ اگر آپکا ساتھ ہوا مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ آپ اگر میرے ساتھ چلتے رہے۔ انشاءاللہ تعالی پاکستان کو اسی ترقی اسی ابھرتے ہوئے پاکستان کو آگے لے کر جائیں گیں۔ اور اس اتری ہوئی ریل کو پٹڑی پر انشاءاللہ تعالی سب مل کر واپس لے آئیں گیں۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قوم ترقی چاہتی ہے۔ قوم آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ عوام کو قیمتوں سے تعلق ہے۔ عوام کو بےروزگاری غربت سے تعلق ہے۔ عوام تنگ پڑی ہوئی ہے کہ ہم جمہوریت کے نام پر یہ ایک غیر یقینی کی فضا پھیلاتے رہیں۔ عوام تنگ پڑی ہوئی ہے ان انتہاپسند اور دہشت گردوں سے جو آئے دن اسلام کے نام پر مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ میں تمام اپنے بھائیوں اور بہنوں کو کہنا چاہتا ہوں۔ مل کر اس کا مقابلہ کریں گیں۔ اور پاکستان کو انشاءاللہ تعالی آگے لے کر جائیں گیں۔ اللہ تعالی آپ سب کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

پاکستان ہمیشہ پائندہ باد

 

[ڈرم بیٹ]

Popularity: 30%

Popularity: 30%

293 views

 

 

Related Posts

  • میری نظر میں On November 10, 2007, 3 Comments
  • صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش
  • google adsense payments through westron union On October 6, 2007, 4 Comments
  • Google announced a new way of payments to a few more countries other than check. Inclduing is Pakistan. A very interesting line in the official news reads as “This choice can also cut down on bank fees and long clearing times associated with depositing checks.”
  • New Presidential coins On January 7, 2007, 0 Comments
  • A new presidential dollar coin will be appearing in circulation beginning February 16, 2007.  United States Mint officials for the first time revealed designs for the presidential dollar coin series at a November 20, 2006 ceremony held at the Smithsonian Institution’s National Portrait Gallery.The dollars are to be produced because of the Presidential $1 Coin
  • سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
  • خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
  • youtube On May 27, 2007, 4 Comments
  • پاکستان کی بدلتی صورتحال اور صدر مشرف کے حمائتیوں کی حرکات سے تنگ بہت سے لوگ اور بلاگر اب سیاست کی طرف لکھنے پر مائل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تصویر ہزار الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہے تو پھر متحرک تصویر کتنا اثر رکھتی ہو گی؟ میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ یوٹیوب
  • The Male Brain, Explained On August 20, 2008, 0 Comments
  • یہ ایک بڑے مزے کا آرٹیکل ہے۔ چونکہ ماشاللہ سب بہت ignorant ہیں اور لنک کرنے پر پڑھیں گے نہیں لہذا میں نے اس کو دلچسپ کرنے کی خاطر اپنے کمنٹس ساتھ دے دئیے ہیں۔ پڑھیئے اور سر دھنئے، پر اپنا، میرا نہیں۔ Women have puzzled over it for years—why the
  • gov gone wild On March 6, 2007, 4 Comments
  • If you live on planet earth you would have known “girls gone wild”, If you live in United States of America, You must have known “guys gone wild”. But there is somethin you are missing. The famous gov gone wild. The next release of “guvs gone wild”, we all have been watching this crazy drama over
  • 2 more betas On June 27, 2007, 0 Comments
  • Dont know microsoft just launched 2 more betas or just one now and one had already been there. but 2 more betas r live now. windows live Photo Gallery and Windows Live Folders (though folder is only available for signup in between 10 am to 4 pm Pacific Standard Time on june 27th) To get into
  • Am i weird? On December 27, 2006, 0 Comments
  • I have been tagged by Zikria Ajmal for the meme where I have to write down 6 weird things about me. What I believe and most would agree is that I my self am weird. I can’t sit back and relax. I need something to do all the time even if its doesn’t worth at all and
  • 2006 On January 1, 2007, 0 Comments
  • 2006 another year I lost. Gained a lot and didn’t repay a penny. Should I be shamefull? I dont kno. May be I should and may be I shouldnt. I became less emotional and more stable than the previous years. I was never been some one looking for trouble but troubles always found me. This year

 

Random Posts


4 Responses to “صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن”

  1. 1 Sajid Iqbal(6)

    Very Very funny…….. :D
    Sajid Iqbal’s last blog post..فائرفاکس2.0.0.8 اور ایڈآن(Add On) نہ چلنے کا مسئلہ

  2. 2 ماوراء(48)

    :O
    اف اتنی محنت۔۔۔اور وہ بھی پرویز مشرف کی اتنی لمبی تقریر پر۔۔۔

    ماوراء’s last blog post..عام اعلان۔۔۔!!

  3. 3 Zack(49)

    میرا بلاگ غور سے نہیں پڑھتے۔ میں نے چپاتی مسٹری کا لنک دیا تھا جہاں منان نے تقریر کا پورا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا۔

  4. 4 بدتمیز(503)

    سلام

    ساجد اقبال: سب کو ہی یہی لگ رہا ہے کہ صدر نے خطاب نہیں مذاق کیا ہے۔

    ماورا: بس کبھی غرور نہیں کیا۔

    زکریا: اچھا تو وہ آپ نے لکھا تھا میں دوسرے بلاگ چھان چھان کر پاگل ہو گیا کہ کس نے ذکر کیا تھا۔ اکثر دماغ غیر حاضر رہتا ہے۔

Leave a Reply







Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • زیک: آئ‌فون کو انٹرنیٹ کے ساتھ چلانے کے لئے وائ‌فائ کا استعمال...
    • بدتمیز: ایسر کے ساتھ میرا کوئی ذاتی تجربہ نہین۔ نیٹ پر ایسر لیپ...
    • عبدالقدوس: ہیں‌ :green: ایسا بھی ہوتا ہے کیا :muziq/ عبدالقدوس’s last...
    • ڈفر: مسکراہٹ بھی صدقہ ہے :)
    • Bakhtawar: Shukria. Sirf ye bata dain ke kya Acer ka laptop bhi thek hain infact acer ke rates sab se kam hain to kya...
    • بوچھی: ون پاؤنڈ میری طرف سے بھی ۔ :party/
    • شعیب صفدر: یار! ایک روپے کا صدقہ چلے گا!!! ڈاکر کافی مہنگا ہے...
    • بدتمیز: فون کا نیٹ ورک سے ہوتا ہے۔ پہلے فون کا دیکھو کہ وہ نیٹورک...
    • بدتمیز: بختاور مجھے پاکستان میں ملنے والے لیپ تاپس کا علم نہیں...
    • بدتمیز: مجھے خود نہیں پتہ :D

     

    Recent Trackbacks: