امریکہ میں ہر سال اکتوبر کی اکتیس کو ہالوین کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ اپنے گھروں کو بھوت بنگلے کی طرز پر سجاتے ہیں۔ یارڈ میں پتلے اور ڈھانچے کھڑے کرتے ہیں۔ بیرونی دیواروں جھاڑیوں پر جالے بناتے ہیں۔ اس رات سب لوگ ہالووین پارٹی منعقد کرتے ہیں جس میں سب کے سب ڈراؤنے روپ بنا کر ملتے ہیں۔
بچے اس شام ٹرک اور ٹریٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے لئے آپ ایک دو دن پہلے جا کر کافی ساری candies لے آئیں۔ مہذب معاشرے کے قاعدے الگ ہوتے ہیں۔ لہذا اگر آپ نے گھر کے باہر لائٹ آن کی ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بچوں کو آنے کی دعوت ہے۔ اگر گھر کے باہر لگی روشنی گل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا participate کرنے کا کوئی موڈ نہیں لہذا بچے بیل بجا کر آپ کو تنگ نہیں کریں گیں۔
پچھلے سال ہالووین سے چند دن قبل ایک سفید فام شخص سٹور میں داخل ہوا۔ نشے میں لگ رہا تھا۔ آخر کار سگریٹ لیا۔ باہر جاتے جاتے کہتا۔ یو انڈین؟ میں نے کہا ہاں۔ کہتا اللہ و اکبر، اسلام و علیکم۔ پھر بے تحاشہ ہنسنے لگا کہتا میں ہالووین پر اپنے دوستوں کو ایسے ڈراؤں گا۔ اس کا خیال تھا کہ شائد ہم انڈین ہیں تو ہندو ہیں۔ مجھے اس کی بات اس وقت سے چمٹ گئی ہے۔
اس سال پاکستان میں بم دھماکے پر دھماکہ ہوا۔ بینظیر کے آنے سے قبل بھی دھماکے ہوئے۔ اسی طرح کہیں مجھے کسی نے سلام کیا۔ میں نے وعلیکم سلام کہا۔ ارد گرد کافی افریقن امریکن تھے۔ یہ لوگ عام طور پر بالکل پروا نہیں کرتے۔ لیکن ایک افریقن امریکن کہتا مسلم لوگ خود کش حملہ کر کے 42 کنواریاں حاصل کرتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا تمہیں کس نے کہا۔ کہتا بس مجھے علم ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوتا؟ میں نے کہا نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوتا تمہیں مسلمانوں کے بارے میں کچھ علم نہیں تمہیں کسنے ایسا کہا؟ وہ کہتا نہیں مجھے علم ہے۔ ارد گرد کے دو تین افریقن امریکن کہتے اسے تمہارے دین کا کچھ علم نہیں جانے دو۔
ہالووین کی ڈیکوریشن دیکھ کر باقی دیسی لوگوں کو کیا خیال آتا ہو گا؟ کوئی پسندیدہ ڈراؤنی کہانی۔ میرے جیسے بدتمیز کو کوئی سخت ناپسند آنٹی۔ کسی کو فلم تو کسی کو کوئی ڈرامہ۔ مجھے اس سال ہالووین کی ڈیکوریشن دیکھ کر پاکستان یاد آتا رہا۔ حالات بدتر اور حکمران بدترین۔ مسخ چہروں والی اپوزیشن اور گھٹیا اعمال والی پارلیمنٹ۔ بد روحیں جمع بین کر رہی ہیں۔ باز ہی نہیں آتی۔
اس کے بعد ایمرجنسی لگ گئی۔ اخلاقی پستی کا یہ عالم کہ ایک شخص من مانی کی انتہا کر رہا ہے اور لوگ ملک ٹوٹنے کا خطرہ بھی مول لینے کو تیار ہیں۔ چودھریوں سے تو عوامی نفرت بڑھنی ہی ہے بینظیر اس کا مقابلہ کیسے کرے گی علم نہیں۔ خاص طور پر انڈین میڈیا بینظیر کو جیسے پیش کر رہا ہے وہ قابل غور ہے۔
صدر مشرف کو شائد اب جان کی بھی فکر ہے۔ ظاہر ہے آپ کسی کا گھر اجاڑیں گیں تو اگلا آپ کو نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ کرسی چھوڑنے کا مطلب ہے صدر اپنی جان داؤ پر لگا دیں جو کہ بہر حال ملک داؤ پر لگانے سے زیادہ اہم ہے۔
چودھریوں کی تقریر سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہ صاحب ہمارے حکمران ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ابھی تک مشرف اور حواری اس کو برداشت کیسے کر رہے ہیں؟ جن کو بیان دینا نہیں آتا کسی سے لکھوا ہی لیا کریں۔ اگر لکھواتے ہیں تو تقریر نویس کو چودھری خود ہی فارغ کر دیں (لیکن بھٹو والا فارغ نہیں) کہ ان کی عزت کا فالودہ بنا دیا ہے اس نے۔
اگر وائس چیف آف آرمی ایمر جنسی نافذ کر رہا ہے تو صدر کس لئے ہیں؟ کیا صدر کے دن گنے گئے؟ کسی وقت بھی چیف صدر کو الٹ سکتے ہیں؟ خاص طور پر اگر صاف واضح ہو کہ ایمرجنسی ملک کے وسیع تر مفاد کے بجائے ایک شخص کے وسیع تر مفاد میں ہے تب؟ اور اگر اس سب سے بڑھ کر اپنے وسیع تر مفاد میں امریکہ پاکستانی عوام کی طاقت کو انقلاب ایران کی طرز پر جانے سے روکنے کے لئے صدر مشرف کی قربانی کا فیصلہ کر لے اور چیف آف اسٹاف کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے سبز جھنڈی دیکھا دے تو؟
صدر نے فرمایا اور اس کی تقریر پر چودھری اللہ دتہ نے same to same بغل بجایا۔ مجھے سمجھ نہیں لگتی اگر ایمرجنسی کی وجہ مختلف اداروں کا حدود سے تجاوز ہے اور اس کے نتیجے میں یہ اپنی اپنی “اوقات” پر آنے چاہئے تو فوج اور جرنیل صاحب کا پامالی حدود کس کھاتے جائے گا اور یہ اپنی حدود اربعہ کب پہچان کر اس کے اندر سمٹیں گیں؟ ضروری تو نہیں قبر ہی سمیٹے انسان خود بھی ہمت کر سکتا ہے نہیں تو خود کش حملہ آور تو تیار بیٹھے ہیں۔
اس سب سے بڑھ کر اگر خود کش حملہ آور اپنے مقاصد میں اس قدر پختہ ہو جائیں کہ اس جنگ کو وہ پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد اور تمام چھاؤنیوں میں پھیلا دیں تو؟ ان لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے والے لوگوں سے ایک سوال تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کب کسی سویلین جگہ پر انہوں نے حملہ کیا؟ میں ان کے سخت خلاف ہوں لیکن کسی کی عزت اور جان و مال سے کھیل کر توقع رکھنا کہ وہ بدلہ نہ لے گا بےوقوفی ہے۔ ان لوگوں کے علاقوں میں آپریشنز نہیں تعلیم انصاف اور سہولیات کی ضرورت ہے۔
پچھلی دفعات کے برعکس حیرت انگیز طور پر مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا کہ صدر نے یہ کیا کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ لوگ عادی ہو گئے ہیں۔ امریکی ہمارے برعکس بے حس لوگ نہیں۔ ہم لوگ بے حس ہیں کہ جو مرضی ہو جائے فرق ہی نہیں پڑتا ہمیں۔ اس دفعہ سب نے مجھ سے اظہار افسوس کیا۔ صدر پاکستان اگر دنیا افسوس کر رہی ہے تو آپ کیا کر رہے ہیں؟
اپنے گھروں کی روشنی رات کو الیکشن کے دوران گل رکھیں خاص طور پر حکومتی پارٹیوں کے علاقے کے دورے کے دوران، یہ خاموش احتجاج ان کو اپنی مقبولیت دیکھا دے گا۔ ویسے بھی صدر پاکستان اور حواریوں کو ووٹ چاہئے اور تہذیب یافتہ معاشرے میں ہی بتی گل ہونے پر بیل نہیں بجائی جاتی لیکن بے ضمیروں کے لئے خون پسینے کی کمائی جلانا کہاں کا انصاف ہے؟
Popularity: 15% [?]
Popularity: 15% [?]
246 views
Related Posts
- آغا خان On April 18, 2008, 19 Comments
- بڑے لوگ اتنے بھی بڑے نہیں ہوتے۔ اکثر بڑے لوگ بڑے فقیر ہوتے ہیں۔ ویسے فقیر بہت مالدار ہوتے ہیں۔ بچپن میں جب ہمارے گھر بلکہ دور دور تک پی ٹی وی کے انٹینے ہوتے تھے اور پی ٹی وی کو ایس ٹی این کے ساتھ یکجان کرنا مسئلہ ہوا کرتا تھا اور ہمہ وقت
- کارٹون On February 6, 2008, 12 Comments
- انسان کھوئے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں لا سکتا۔ مجھے سب سے زیادہ جو چیز fascinated لگتی ہے وہ ٹائم مشین ہے۔ اس کو لے کر کتنے دلچسپ اور مزے کے آئیڈیاز فلمسازوں نے بنائے ہیں۔ فلم کو لے کر ہر ایک حصہ کی جزئیات پر غور کرنا پھر اس کو پیش کرنا۔ اب میں
- Now Zune? On May 22, 2007, 0 Comments
- I was a part of Windows live messenger’s managed beta. those were fun days waiting for new realease and wathcing messenger transforming into a shining new product. Sending out invitations to all the pplz, to show appreciation windows live messenger team sent the managed beta testers a windows live messenger logo bag I receivd mine
- t3ch On May 31, 2007, 2 Comments
- Ok when is the time you are suppose to be most excited? when you plan to visit newyork city? nah. I can imagine qadeer ahmad rana’s face turning red to dark maroon into black with steam coming out of his ears muttering somethin in my honor. Before you say some find it our where I am? well if
- Network Monitor 3.0 has released to web! On December 8, 2006, 0 Comments
- You are receiving this email because of your participation in the Microsoft Network Monitor 3.0 beta program. The final release of version 3.0 has now been posted to http://connect.microsoft.com. Please update from your beta version to the released version if you have not already done so. It is available free of charge. The team has chosen
- Test Scenario for Windows Live OneCare Family Safety (beta) On January 13, 2007, 0 Comments
- Those of you who had been selected to participate into managed beta of Windowls Live OneCare Family Safety Beta should have recieved the email for the opening of test scenario. Hers is the mail we recieved go complete the scenario and hope for the best. Hello Beta Tester, If you joined the Windows Live OneCare Family Safety
- @live.com.pk On November 26, 2007, 0 Comments
- Hotmail officially allowed the registration of @live.com addresses a few days ago. I have this address for over a year. how? lets not talk abt that you can always go to Create LIVE.COM address this should automatically take you to your country’s domain page. however if it doesnt take you you can use the links


























ہمارے صدر صاحب نے فرمایا ہے کہ ہمیں جمہوریت سیکھنے میں کچھ وقت لگے گا، ہمیں وقت دیا جائے۔ ہم سیکھ رہے ہیں۔
کاش صدر بھی جمہوریت سیکھ لیں