Skip to content


آبجیکشن

کہتے ہیں شکر خورے کو خدا شکر ضرور دیتا ہے۔ بس ابو کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ ان کو آبجیکشن کا شوق تھا اور ایمبیسی سے آبجیکشن لگ کر آ گیا۔ فرمایا گیا کہ چونکہ بندے زیادہ اور سپانسر کرنے والے کی آمدنی بہت کم لہذا ان کو کہیں کہ کوئی کو سپانسر شامل کریں۔ نہیں تو صبر کریں۔

ماموں سے کہا تو انہوں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اور کاغذ بنوا کر بھجوا دئیے۔ ابا جان کچھ پریشر میں آ چکے تھے لہذا پہلے جو کاغذات انہوں نے بنوانے سے انکار کیا تھا اس دفعہ میں نے وہ بھی دھکے سے بنوا لئے۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی بھی کاغذ کو چھوڑیں مت۔ اگر اپلائی کرنے لگے ہیں تو عقلمندی کا ثبوت دیں۔ ان کو کسی بھی کاغذ کی بنیاد پر ریجیکشن کا موقع نہ دیں جو جو کاغذ مانگیں جائیں سب کے سب فراہم کریں۔ آئیں بائیں شائیں وہاں نہیں چلتی۔

پاکستان کا سرکاری سسٹم بہت خراب ہے۔ اس لئے بھی لوگ کاغذات مکمل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال گوجرانوالہ سے ایک کاغذ بنوانے کی تھی۔ اب گوجرانوالہ تھانے پہنچے تو معلوم ہوا صاحب باہر گئے ہوئے ہیں۔ اس کے اردلی یا جو بھی چیز تھی سے جب پوچھو وہ یہی کہے بس آتے ہی ہونگے۔ سب سے بری بات کہ وہاں خواتین کے بیٹھنے تک کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ لاہور میں یہ اچھی بات تھی کہ نہ صرف انتظام تھا بلکہ اگر مرد بیٹھے ہوتے تو فورا اہلکار آ کر ان کو اٹھا دیتا تھا۔

یہ صاحب کسی کی شادی (شائد گجرات کے چودھریوں کے گھرانے میں سے کسی کی پکا یاد نہیں) پر گئے ہوئے تھے۔ اب صبح 11 سے شام کے 6 بج گئے تو اعلان کر دیا کہ صاحب تو نہیں آئیں گیں آپ اب کل آئیں۔ اس کے برعکس جب میں اپنے کزن کا لاہور میں کیپیٹل سٹی پولیس کام کروانے گیا تھا تب بھی صاحب کو کوئی کام پڑ گیا تھا اور وہ آ نہیں سکتے تھے لیکن انہوں نے مقررہ وقت (2 بجے) فون کر دیا تھا کہ سب کو کہو کہ میں نہیں آ سکتا تو آپ کل آ کر لے جائیں۔ کل حاضری یا شکل دیکھانے کی تکلیف نہیں دی جائے گی۔ (اس کاغذ یعنی پولیس سرٹیفیکیٹ کے لئے بندے کا سامنے ہونا ضروری ہوتا ہے)

بس اب تمام کاغذات مکمل کر کے ہم نے دوبارہ بھیجے۔ امریکن ایکسپریس والی آنٹی کا رویہ ابھی تک ایسے ہی تھا جیسے ویزہ انہوں نے جاری کرنا ہے :P اور اگلے پندرہ دنوں میں انٹرویو کی ڈیٹ مل گئی جو کہ 28 دسمبر تھی۔ ویسے اس وقت وہاں اتنا رش ہے کہ چھ سے آٹھ ماہ بعد کی تاریخ ملتی ہے۔ لیکن ایک تو ہم نے پہلے اگست میں کاغذات بھیجے تھے دوسرے چونکہ میری عمر 21 ہونے ہی والی تھی اس لئے انٹرویو کی تاریخ اتنی جلدی مل گئی۔ اور یہ برکت تھی پیٹریاٹ ایکٹ کی وجہ سے۔ مشہور زمانہ پیٹریاٹ ایکٹ جو کہ ساری دنیا کے لئے بدقسمتی کا باعث ہے میرے لئے خوش قسمت بن گیا۔ نہیں تو میں شائد ابھی تک پاکستان بیٹھا باری کا انتظار کر رہا ہوتا۔ کہ کب میرا نمبر آئے اور میں امریکہ لینڈ ہو سکوں۔

اس سے قبل ایسے بچے جو کہ غیر شادی شدہ ہوتے تھے اور اکیس سال کی عمر کو پہنچ جاتے تھے وہ اپنے والدین کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے۔ ان کو پھر change of status کے ساتھ دوبارہ ایک نئی لائن میں لگ کر انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس دوران والدین اور باقی لوگ امریکہ جا سکتے تھے۔

اگر کسی کی انٹرویو تاریخ اس کی 21 سالگرہ سے پہلے ہے لیکن 911 کے بعد سے سیکیورٹی کے انتظامات کی وجہ سے اس کی مزید سکروٹنی درکار ہے تو تو وہ 21 سال کی عمر سے بڑھ جائے گا تو اس کے لئے قانون میں ترمیم کر کے پیٹریاٹ ایکٹ میں ایک شق شامل کر دی گئی کہ ایسے بچے جن کی عمر 21 ہونے ہی والی ہو ان کو ان کی 21 سالگرہ سے اوپر گریس پیریڈ دیا جاتا ہے۔ تا کہ اس دوران امریکی شہریت کا ادارہ اپنی کاروائی مکمل کر لے۔  یہ گریس پیریڈ کیس کب اپلائی کیا۔ پھر فائل کب کیا وغیرہ وغیرہ پر منحصر کرتا ہے۔ میرے ابا جان جو دیر کرتے رہے وہ اگر زیادہ دیر کر دیتے تو کام ہو گیا تھا۔

اس کاروائی میں 40+ ایجنسیاں آپ کی انگلیوں کے نشانات اپنے ڈیٹا بیس سے میچ کر کے آپ کی کلئیرنس دیتی ہیں۔ تبھی آپ کو ویزہ لگا کر پاسپورٹ بھیجا جاتا ہے۔ خواتین کو فوری ویزہ مل جاتا ہے۔ اگلے دن دوپہر بارہ بجے ایمبیسی سے اپنا پاسپورٹ حاصل کر لیں۔

ویزہ اپروو ہوتے ساتھ ہی ٹکٹ کروا لیں کیونکہ اگر آپ کو پاسپورٹ گریس پیریڈ ختم ہونے سے 5 دن پہلے بھی واپس کیا گیا تب بھی آپ ان پانچ دنوں کے اندر اندر امریکہ پہنچنے کے خود ذمہ دار ہیں۔ اس لئے پاسپورٹ واپس آنے کا انتظار مت کریں وہ آپ کو 45 بزنس دنوں کا کہتے ہیں جو کہ امریکہ کے حساب سے ڈھائی ماہ بنتے ہیں۔

Popularity: 12% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Posted in Uncategorized.

256 views

0 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

CommentLuv Enabled