میں جس علاقے میں رہتا ہوں اس کو tri-cities کہتے ہیں۔ وجہ ہے کہ تین شہر بہت قریب قریب اور بالکل جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں میرے شہر کا تو آپ کو علم ہے۔ اس کے پڑوس میں ہیں hopewell اور petersurg۔
اس علاقے میں کچھ عرصے سے بہت ترقیاتی کام ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں فورٹ لی واقع ہے۔ فورٹ لی میں اس وقت اس کی expansion کے لئے بڑے پیمانے پر کنسٹرکشن کا کام ہو رہا ہے۔ جو کہ 2009 تک مکمل ہو گا۔ کسی اور جگہ سے فوجی بیس بند کر کے اس کو یہاں شفٹ کیا جا رہا ہے۔ اس لئے یہاں کی آبادی وغیرہ میں بہت اضافہ متوقع ہے۔
اس وجہ سے کمپنیاں بھی ادھر کا رخ کر رہی ہیں اور تینوں شہری حکومتیں بھی پورا زور لگا رہی ہیں کہ نئے لوگوں کا سب سے زیادہ فائدہ ان کو ہو۔ اس لئے petersburg کی افریقن امریکن آبادی نے شکائیت کی کہ ان کے کاروبار کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تا کہ یہ ان سے چھن جائے اور وہ یہاں سے نکل جائیں۔ اس پر احتجاج کی کال آرگنائزیشن کی صدر نے دی۔ سٹی ہال یا عدالت کے باہر وہ اپنے احتجاج ریکارڈ کروا رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے بچے بھی شامل تھے۔ جی ہاں بچے۔ ان کے ہاتھوں میں بھی مختلف پلے کارڈز تھے۔ یہ سب جاری تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے ان کے ایک بیٹے پر حملہ کر دیا۔ اس کو مار پیٹ کر فرار ہو گیا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑا گیا۔
اب ادھر hopewell میں کچھ عرصے سے ایک کمپنی ایتھانول کا پلانٹ لگانا چاہتی ہے۔ ایتھانول ایک نئی شے ہے جو کہ کارن سے بنائی جا رہی ہے۔ اس کا فائدہ کسان کو ہوتا ہے یا پھر ماحول کو کہ گلوبل وارمنگ سر پر ہے اور اس کا نقصان ہوتا ہے گاڑی مالکان کو کہ اس کے ساتھ ملا تیل جلدی جلدی جلتا ہے۔ یعنی کم milage۔ اب اس پلانٹ کے لگنے پر چند لوگوں کے کچھ سیفٹی ایشو تھے۔ اس پر کچھ عرصے سے احتجاج جاری تھا لیکن بالآخر یہ منظور کر لیا گیا ہے۔ اس کا پبلک اعلان سٹی ہال کے سامنے ہوا۔ اس کی سب سے پرزور تائید کرنے والی کونسل ویمن بھی وہیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے جو کہ اس پلانٹ کو ویلکم کرنے کے لئے موجود تھے۔ جی ہاں ان کے بچے۔
ہمارے کسی بھی سیاستدان کو دیکھ لیں اس کے بچے باہر ہونگے۔ معمولی ایم این اے ایم پی اے سے لے کر صدر پاکستان کے بچے بیرون ملک ہونگے۔ ہمارے یہ قومی رہنما شیو بڑھا کر قوم کے بچے امریکہ کے جہاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کچھ دوپٹے لے کر اپنے آگے مروا کر خود دوسری گاڑی میں بیٹھ کر “فرار” ہو جاتی ہے۔
ان لوگوں کے بچے سب محفوظ جگہوں پر ہوتے ہیں۔ جہاں ان لوگوں کو خطرہ ہوتا ہے یہ وہاں جاتے نہیں اور جہاں خطرہ نہیں ہوتا یہ وہاں بلٹ پروف گلاس میں گھستے نہیں۔
نواز شریف کا میں کبھی بھی فین نہیں رہا۔ اس کی حکومت مجھے صرف شہباز شریف کی وجہ سے پسند تھی۔ شہباز شریف کے دور حکومت میں میرے سبھی جاننے والے پولیس انسپکٹر کام پر لگے ہوئے تھے۔ سبھی جاننے والے سرکاری اہلکار جو صبح دس بجے حاضری لگا کر واپس گھر پہنچ جاتے تھے شام ڈھلے تک دفتر بیٹھنے لگے تھے اس کے دور میں “دیسی صاحب” کی ساری اکڑ نکل چکی تھی۔ لاہورئیوں نے رات کے 2 بجے اس کو طوفان میں اپنی نگرانی میں کام کرواتے دیکھا تھا۔
بینظیر اگر دھماکوں کے بعد وہی رہتی تو شائد کچھ ہیرو بنتی لیکن اس طرح دم دبا کر فرار ہونے پر کیا کہا جا سکتا ہے؟ اس طرح بعد میں تو صدر پاکستان بھی زخمیوں کی عیادت فرماتے رہتے ہیں۔
اخبار کے مطابق بی بی نے بلٹ پروف گلاس کے پیچھے جانے سے انکار کر دیا۔ تو پھر اس خبر کو کیا کہوں کے کچھ دیر پہلے وہ نیچے چلی گئی تھی؟ اتفاق؟ پہلے ہیرو بنی رہی اور جب وقت آیا تو نیچے۔
اور یہ کتنی ہنسی والی بات ہے کہ اگر آرمرڈ ٹرک بنوانا پڑا اور بلٹ پروف گلاس بھی لانا پڑا تو کیا حالات کو نارمل کہا جا سکتا ہے؟ اگر حالات نارمل نہیں تو پھر آپ کس کی جان سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ لوگوں کی ہی نہ۔
جلسے ریلیاں لیڈران کے خطابات جمہوری معاشروں کے لئے بہت ضروری ہیں۔ لیکن اس کے طریقہ کار سے دنیا کے آدھے سے زیادہ ممالک متفق نہ ہونگے۔ کسی ملک کا صدر یا حزب اختلاف کا صدر ایسی ریلیوں کی لیڈ نہیں کرتا۔ نہ یہ لوگ اپنے لئے لاکھوں کا مجمع کہہ کر آرمرڈ ٹرک بنواتے ہیں نہ یہ سیکیورٹی رسک کہہ کر بلٹ پروف گلاس کے کیبن سجاتے ہیں نہ یہ سب خطاب کے لئے کھلے جلسے جن کا مقصدر رائے عامہ بنانے کے بجائے صرف طاقت کا اظہار ہوتا ہے منعقد کرتے ہیں۔ شہر شہر گھوما صرف ایڈوانی تھا اور اس کا انجام جو تباہی اور بربادی ہوا اس کو سبھی جانتے ہیں۔
امریکہ کہتا ہے کہ بینظیر جن خطوط پر کہتی ہے ان پر تفتیش کی جائے۔ یہ کچھ حیران کن بات نہیں؟
پاکستان میں جس پر شک کیا جائے اس کو پولیس مار مار کر ملزم سے مجرم بنا دیتی ہے۔ مہذب ملکوں میں جس کو کسی واقعے سے فائدہ ہو اس کی سب سے زیادہ تفتیش ہوتی ہے اور زیادہ تر کیسوں میں وہی مجرم نکلتا ہے۔
اگر بینظیر ایک عام گاڑی میں اس جلسہ کی لیڈ کر رہی ہوتی تو کیا یہ دھماکہ ہوتا؟ اس پر ایک سوالیہ نشان لگا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سوال کو گھما پھرا کر پوچھتے ہیں۔ اگر بےنظیر ایک عام گاڑی پر ہوتی تو کیا وہ یہ ریلی لیڈ کرتی؟ اگر ان کے بچے بھی اس قافلے میں شامل ہوتے تب؟
میں بینظیر کے قتل کے حق میں بالکل نہیں۔ ان کے اقدامات اور بیانات قابل نفرت ہیں لیکن بہر حال جمہوری عمل کے لئے پاکستان کے شخصیت پرستی والے معاشرے میں وہ ناگزیر ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کے کرتوت جان کے نذرانے پیش کرنے والوں کو پتہ نہیں اور جن کو پتہ ہے وہ شخصیت پرستی میں گوڈے گوڈے دھنسے ہیں۔ ان کا قتل پاکستان کو ون مین شو میں دھکیل دے گا لیکن جیسے بینظیر ایک ڈیل کر کے تشریف لائیں ہیں اگر وہ جمہوریت سے زیادہ اس ڈیل کا احترام کرتی رہیں تو پھر جمہوریت تو نہیں چوں چوں کر مربہ ضرور پروان چڑھے گا۔
Popularity: 11% [?]
Popularity: 11% [?]
263 views
Related Posts
- رائے عامہ On October 27, 2007, 3 Comments
- رائے عامہ بنانا بھی ایک مزے کا کام ہے۔ پاکستان میں یہ عام طور پر وقت پڑنے پر بنایا جاتا ہے۔ اور جو نہ مانے اس پر کبھی صدر پاکستان راکٹ مارتے ہیں تو کبھی 12 مئی کی “چھٹی” دی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر لال مسجد کو لال/پیلا کر کے یا اسلام آباد کے
- تصیح On December 24, 2006, 5 Comments
- میری کچھ باتوں پر میرے دوست نے کہا کہ تم باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں سے کچھ زیادہ نالاں ہو اور بلا وجہ بھی ہو ان کو اتنا کریڈٹ تو دو کہ وہ یہ سب کرتے شرماتے نہیں۔ اور جیسے ہیں ویسا ظاہر کرتے ہیں۔ باہر رہنے والے بہت اچھے ہیں۔ مجھے اعتراف ہے
- فوج On April 26, 2007, 5 Comments
- میرے بچپن تک پاکستان میں فوج ایک اچھا ادارہ تھا۔ نوازشریف کے دوسرے دور سے صدر جنرل مشرف کی آمد سے پہلے تک باوجود یحیٰ خان جیسے جرنیلوں اور ضیا الحق کی مطلعق العنانی کے باوجود فوج کے ادارے کی عزت باقی تھی بلکہ اس دور کی سب سے اچھی بات کے صدر ضیا الحق
- پاکستانی؟ On July 16, 2007, 5 Comments
- امریکہ میں ایک سوال بہت عام ہے۔ where are you from? یعنی تم کہاں کے ہو؟ 911 کے بعد جب امریکہ محفوظ نہیں رہا اور مسلمانوں پر حملے ہوئے حتی کہ سکھوں کو بھی شبے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تو سکھوں نے باقاعدہ ہر شہر کے کمیونٹی سینٹرز میں دیکھایا کہ ہم
- فوج ۲ On April 28, 2007, 1 Comments
- امریکی عوام واضح طور پر جنگ کے خلاف ہو چکی ہے۔ 6 سال کے طویل عرصے میں صدر بش کا اسٹیج کیا ہوا ڈرامہ اختتام پذیر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ صدر بش اینڈ کمپنی بری طرح ناکام ہوئی ہے تو یہ اس کی بےوقوفی ہی ہو گی۔ صدر بش اپنے مقاصد میں کامیاب ہو
- Boulevard Of Broken Dreams On March 11, 2007, 0 Comments
- I walk a lonely roadThe only one that I have ever knownDon’t know where it goesBut it’s home to me and I walk aloneI walk this empty street On the Boulevard of Broken DreamsWhere the city sleepsand I’m the only one and I walk alone I walk aloneI walk alone I walk aloneI walk a… My shadow’s the only
- مزید کارڈز پلیز On March 16, 2008, 7 Comments
- میں نے کریڈٹ کارڈ کیسے لیا یہ ایک درد بھری کہانی ہے۔ سارے درد سہہ کر مرہم ملا تھا۔ اب سال ہو چلا ہے اور دل پھر سے کریڈٹ کارڈ اپلائی کرنے کے لئے مچل رہا ہے۔ اصل میں میرے سر پر جس چیز کا خناص سوار ہو جائے وہ ہر صورت پورا کرکے چھوڑنا
- Special Xbox 360 offer for Windows Live Mail members On December 19, 2006, 0 Comments
- Want a XBOX this season? why dont save 30 bucks with windows live mail offer? get in ur inbox to find out wether you have the invitation or not or I can give you mine link to do so. Exclusively for Windows Live™ Mail users—Windows Live Mail has teamed up with Xbox to help you
- Ultimate Windows Vista Celebration On January 26, 2007, 0 Comments
- Exclusive Invitation to Our Valuable Windows Community,Join us as we celebrate the launch of Windows Vista around the country! You’ve heard the buzz, tested the product and drove excitement and news, now it’s time to celebrate! Join us for 24 hours of Windows Vista Launch Celebrations on January 29th and 30th taking place at
- t3ch On May 31, 2007, 2 Comments
- Ok when is the time you are suppose to be most excited? when you plan to visit newyork city? nah. I can imagine qadeer ahmad rana’s face turning red to dark maroon into black with steam coming out of his ears muttering somethin in my honor. Before you say some find it our where I am? well if
Random Posts






میں اکثر یہ بات کرتا ہوں کہ ہزاروں معصوم بچوں کو کشمیر میں مروانے والے قاضی حسین احمد کے بچے امریکہ میں کیوں ہیں ؟
سلام
کبھی لاہور جاﷺ تو منصور کی طرف یعنی ملتان روڈ پر لاہور کی طرف جاتے وقت ٹحوکر کے آّس پاس مت رکنا۔ بہت مار پڑے گی۔
منصورہ*