Skip to content


بے بے نذیر

میری مسکراہٹ فورا غائب ہو گئی۔ چہرے پر ازلی بیزاری کے آثار نمودار ہو گئے۔ کافی معصومانہ سوال تھا۔ بینظیر ہیلی کاپٹر میں کیوں نہیں گئ؟ سوال پوچھنے والے تھے ایک انڈین۔ جواب کے منتظر لوگوں میں ایک ہجوم تھا۔ میں نے خود کو ایک لمحے کے لئے صدر پاکستان محسوس کیا۔ بالآخر کہا وہ اتنے سالوں بعد آئی تھی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی تھی۔ ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ یہ سوال اگر یہ لوگ میرے ملک میں کریں تو وہاں ایک ہی جواب ملے گا۔ چیف جسٹس ایسا کر سکتا ہے تو بینظیر کیوں نہیں اور حیرت انگیز طور پر شام کو جب نعمان کا بلاگ دیکھا تو اس نے یہی لکھا ہوا تھا۔

یہ بات مجھے ہمیشہ بچگانہ لگی ہے۔ اسکول میں بچے کہتے ہوتے تھے مس اس نے کیا تو میں نے بھی کر دیا۔ کالج میں لڑکے کہتے ہوتے تھے فلاں کرتا ہے تو میں کیوں نہ کروں؟ اب بینظیر کہتی ہے چیف جسٹس کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں؟

کسی اور نے غور کیا کہ نہیں لیکن چیف جسٹس اور بینظیر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چیف جسٹس کی گاڑی پر دو دو درجن بندے چڑھے ہوئے ہیں۔ بینظیر کے لئے (شائد بم پروف تھا جس کو یار لوگ راکٹ پروف کہتے رہے) مینارہ تھا۔ چیف جسٹس کے لئے ایسی سیکیورٹی کبھی مہیا نہیں کی گئی تھی۔ میں تبھی حیران ہوا تھا کہ بینظیر کے لئے جیالوں سے ٹکا ٹکا مانگ کر استقبال کی تیاری کی گئی تھی۔ اتنا بڑا بجٹ۔ چیف جسٹس نے کسی قسم کی بیان بازی سے گریز کیا تھا۔ بینظیر موچی سے لے کر نائی تک کے خلاف بیان دے چکی تھی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق بینظیر کچھ ہی دیر پہلے نیچے گئی تھی نامعلوم صحیح یا غلط۔ اس بم دھماکے سے سب سے زیادہ کس کو فائدہ ہوا؟ بینظیر کی ساکھ اس کے بیانات کی وجہ سے بری طرح مجروح ہوئی تھی۔ بھٹو کو کیش کرانے کے لئے اس کی تقاریر کی ریکارڈنگ مسلسل “بج” رہی تھیں۔

مجھے ایسے واقعات پر کبھی سمجھ نہیں لگتی کہ “لاکھوں” کی “اسلامی فوج” میں سے “جنت” حاصل کرنے کے لئے ایک یا دو ہی بندے ہر واقعے پر کیوں ملتے ہیں؟ یہ کوئی دس بارہ کیوں نہیں بھیجتے؟ اور یہ لوگ ہمیشہ دھماکہ ہی کیوں فرماتے ہیں؟ شارپ شوٹر نام کی کوئی چیز ان میں پیدا نہیں ہوتی؟ اس کا مطلب تو یہ سب جھوٹ ہے۔ مرنے والا تو مر گیا اب کیا معلوم اس سے جنت کا وعدہ تھا یا “اہل و عیال” کی خیریت کا؟

جب معلوم ہے کہ جان کو خطرہ ہے تو بینظیر کو اس سارے ڈرامے سے کیا مطلب تھا؟ اگر وہ لوگوں کی جان و مال کی اتنی حامی ہے تو اس کو اس سب ڈرامے کو روک دینا چاہئے تھے۔ خود محفوظ جگہ چڑھی بیٹھی ہے اور معصوم لوگ مر رہے ہیں۔

جذباتیت اتار کر اگر سارے واقعے کا جائزہ لیں اور صرف یہ دیکھیں کہ اس دھماکے کا فائدہ کس کو ہے تو  زیادہ مناسب ہے۔ اس کو تقویت اس بات سے بھی ملے گی کہ اگر یہ دعویٰ سچ ہے کہ نواز شریف کو بھی اگلے ایک دو ماہ میں وطن واپسی کی اجازت مل جائے گی۔ جو کہ اگر بیرونی دباؤ پر نہیں ہے تو بینظیر کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بلاشبہ بہت زبردست چال ہو گی۔

ان لوگوں کی جن کی جان گئی۔ ان کا لہو ان کے اپنے لیڈر نے چوسا یا کسی اور نے۔ جذباتی لوگ تھے اور ان کا یہی انجام ہوا کرتا ہے۔ مجھے افسوس صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈیوٹی کر رہے تھے۔ جن لوگوں کا ماٹو ہی قائد کی آن پر قربان وہ اگر قربان ہو گئے تو جس کی انہوں نے تمنا کی پا لیا اس پر افسوس کیسا؟

بینظیر ایک عام سی عورت ہے جس کو بھٹو کی بیٹی ہونے کا اعزاز ہے اور جس کو کیش کروا کروا کر وہ اقتدار کے خواب دیکھ رہی ہے۔ بینظیر ملکی پریس کو کیا کہتی رہی نامعلوم میں بہت بزی تھا۔ لیکن یہاں کے اخبارات نے جو اس کے بیانات چھاپے یقین رکھئے بینظیر ہی اگلی وزیراعظم ہے۔ شارٹ کٹ عزیز اور میں جلد ایک ہی آسمان تلے ہونگے۔

مندرجہ بالا پوسٹ میں نے کسی بھی قسم کی جذباتیت سے بالاتر ہو کر بے لاگ رائے کے طور پر رکھی ہے بچگانہ یا بہت عقلمندانہ سے بالاتر اور صرف سمجھنے والی کی سمجھ پر منحصر کرتی ہے۔

 

 

 

 

Popularity: 8% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Posted in Uncategorized.

286 views

9 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.

  1. Sajid Iqbal says

    بہت خوب بدتمیز تم نے بالکل درست تجزیہ کیا ہے۔

  2. میرا پاکستان says

    ہم بھی آپ کے خیالات سے متفق ہیں

  3. نعمان says

    میں آپ کی پوسٹ کے چند نکات کا جواب دینا چاہوں گا۔ آپ نے درست فرمایا کہ میں نے اپنے بلاگ پر یہ بچکانہ بات کہی تھی کہ جب چیف جسٹس نے ہیلی کاپٹر استعمال نہ کیا تو بے نظیر کیوں کرتیں۔ غلطی یہ ہے کہ اس کی وضاحت نہ کی۔

    بے نظیر کے استقبال کے لئے دس لاکھ لوگ جمع تھے۔ چیف جسٹس کے استقبال کو صرف وکلاء موجود تھے اور اگر انہیں فری ہینڈ بھی ملتا تب بھی دس ہزار سے زیادہ لوگ ان کے استقبال کو باہر موجود نہ ہوتے۔ کیوں کہ کراچی میں اور پنجاب کے سیاسی اور سماجی اینوائرنمنٹ میں کافی فرق ہے۔ یوں چیف جسٹس اگر ہیلی کاپٹر استعمال کرلیتے تو کوئی ہرج نہ تھا۔ ان جلسہ بقول ان کے حامیوں کے سیاسی نہیں تھا۔

    جمہوری معاشروں میں سیاسی جلسے، ریلیاں، لیڈران کے عوام الناس سے خطابات رائے عامہ بنانے کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان کا انعقاد بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے بے نظیر کا ہیلی کاپٹر نہ استعمال کرنا درست تھا کیونکہ آپ دہشت گردی سے ڈر کر اس سے کبھی نہیں لڑ سکتے۔

    حکومت پاکستان نے، سندھ ہائیکورٹ نے، سندھ حکومت نے پیپلز پارٹی کو فول پروف سیکیوریٹی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ بلٹ پروف آرمر خود کش حملوں سے بچاؤ کی یقین دہانی نہیں تھا۔ اگر تیسرا دھماکہ ہوجاتا تو شاید ہم بے نظیر کا سوگ منارہے ہوتے۔ بے نظیر نے آرمر کی چھت پر نصب بلٹ پروف شیلڈ کے پیچھے ایک لمحہ نہیں گذارا۔ جس طرح بے نظیر کو علم تھا کہ حملے کا امکان ہے اسی طرح میڈیا اور ان کے استقبال کے لئے آنے والے لوگوں کو بھی معلوم تھا کہ حملے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود وہ سب لوگ وہاں موجود تھے۔ یا تو وہ سب لوگ بہت زیادہ بے وقوف تھے یا شاید وہ لوگ بہت زیادہ دلیر تھے۔ آپ چاہیں تو انہیں بے وقوف کہہ لیں۔ یا چاہیں تو جانثار، فرض شناس، جمہوریت پسند۔

  4. Qadeer Ahmad says

    بینظیر کے بیانات کی وجہ سے جو لوگ اس کے سخت خلاف تھے اب ان کی آواز کہیں سنائی نہیں دے رہی ۔ ہر طرف اس عورت کی مظلومیت کا چرچا ہو رہا ہے ۔ کیا خیال ہے یہ دھماکے بے نظیر نے خود تو نہیں کروائے؟

  5. رضوان says

    اپنی تو پھر وہی ایک ہی ڈفلی ہے بابو کہ اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ ہر شخص کو یہ خطرہ تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا پھر بھی لوگ دیوانہ وار گئے۔ آخر وہ کونسا جادو ہے جو لوگوں کو کھینچ لاتا ہے؟؟؟

  6. بدتمیز says

    سلام

    نعمان: اعداد وشمار کو ہم رہنے ہی دیتے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ٓپ نے دونوں طرف کے اعداد بہت غلط بتائے ہیں۔

    اچھا اسی لئے ایم کیو ایم کو ڈر کے مارے کنٹینر رکھ رکھ کر راستے بندے کرنے پڑے تھے اور اس پر ہی بس نہیں فائرنگ کر کر کے لوگوں کو قتل اور خوفزدہ کرنا پڑا تھا؟ صرف دس ہزار لوگوں کے لءے؟ یہ تو مذاق ہی ہوا۔

    جمہوری معاشروں والی بات پر بھی دنیا کے کئی ممالک آپ سے متفق نہ ہونگے۔ امریکی یا چین یا روسی صدر ایسی ریلیوں کی لیڈ کرتے کیسے لگیں گیں؟ ویسے ایسی مثال تو تھڑڈ ورلڈ میں بھی نہ ہوگی۔

    سندھ ہاءیکورٹ صرف احکامات جاری کر سکتی ہے۔ اس کی یقین دہانی؟ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت فول پروف انتظامات اپنے اینڈ پر کر بیٹھی ہے تو پھر خلا کس طرف ہے؟ خود ہی کروا دیا کیا؟

    اگر سوگ منانے والی کوءی بات ہوتی تو محترمہ آتی ہی نہ۔ میڈیا والے کورنگ کرنے پر کیوں مجبور تھے یہ تو سبھی جانتے ہیں۔
    لوگ کیوں آئے تو کچھ قائد کی آن پر قربان ہونے آئے تھے اور کچھ کو گھیر گھار کر لایا گیا ہو گا۔ اور یہ وہاں ایک عام سی بات ہے۔

    قدیر احمد رانا ملتانی: لگتا تو کچھ یونہی ہے اور بہت سےبڑے نام اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

    رضوان: دیوانہ وار۔، قاف لیگ کی پہلی جلسی ہوی تو برا شور مچا۔ بعد مین انکل نے بتایا کہ ٹارگٹ ملا تھا کہ اتنے بندے لاؤ نہیں تو جاؤ۔
    کچھ لوگ اس وجہ سے بھی آجاتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔، یعنی کچھ نہ کچھ ہوگا ضرور لیکن ہم بج چائیں گیں تو بس بچ تو جاتے ہیں لیکن کچھ نہیں بچتے۔
    ویسے میں تو ووٹ نہیں ڈالا کبھی۔ ٓپ کس کو ووٹ دالٹے تھے؟

  7. قدیر احمد says

    دیکھا میرے تُکے کیسے فِٹ بیٹھتے ہیں ۔ سستی غالب ہے ورنہ میں بھی اس موضوع پر لکھتا ۔
    ویسے وہ کون سے بڑے نام ہیں جو “میرے موقف” کی حمایت کر رہے ہیں :P

  8. ماوراء says

    قدیر ان بڑے ناموں میں گجرات کے چوہدریوں کا نام بھی ہے۔ اور بے نظیر نے آپ کے لیے میرا مطلب ہے ان کے لیے کیا کہا ہے وہ بھی یہاں دیکھ لیں۔ :grin:

  9. بدتمیز says

    سلام

    ساجد اقبال اور میرا پاکستان: بہت شکریہ

    قدیر احمر رانا ملتانی اور ماورا: بڑے ناموں کا کہا تھا ماورا نے چھوٹے نام گنوانے شروع کر دئے۔
    بڑے ناموں میں دانشور اور کالم نگار ہوتے ہیں چودہری یا بی بی نہیں۔



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

CommentLuv Enabled