ظلمت کو ضیاء صرصر کو صباء بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گوہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
یہ شعر بہت عرصہ سے ڈھونڈ رہا تھا۔ اپنے ہی پرانے بلاگ پر کہیں لکھ رکھا تھا۔ مل ہی نہیں رہا تھا۔ کیا زبردست شعر ہے۔ اس قدر کہ مجھ جیسے شاعری کے دشمن کو پسند آگیا۔ شاعر شائد حفیظ جالندھری تھے۔ ان کی ہمت تھی کہ صدر ضیاع کو لکھ ڈالا میں بھی ہمت کر لوں صدر پاکستان کو پیش کرنے کی اگر وہ شیروانی زیب تن کر لیں۔ ویسے بھی میں دل سے صدر پاکستان کی اس تھوڑی بہت آزادی سے ان کا قاءل ہوں۔ ایک بار پھر عرض کیا ہے
ظلمت کو ضیاء صرصر کو صباء بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گوہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
Popularity: 8% [?]
Popularity: 8% [?]
229 views
Related Posts
- None Found

























اچھا شعر ہے۔
یہ حبیب جالب کا شعر ہے!!! بلکہ اُس کی نظم کا حصہ ہے پوری نظم ہے کمال کی ہے یہ والی
سلام
شاکر:
شکریہ
شعیب صفدر: ٓخر میں لکھنا ٓتا ہے یا کہنا؟ اور پوری نظم کہاں ہے؟ اور میری عیدی کہاں ہے؟ :p