نہیں لاؤڈ سپیکر کی آواز اتنی بھی تیز نہیں۔ ویسے بھی ہم اس بند ہال میں یہ سب کریں گیں۔ آواز باہر نہیں جائے گی۔ ہم ان کی نظروں میں بد تہذیب قوم نہیں بنیں گیں۔ ویسے یہ لوگ پوپ میوزک کی تیز آواز کے عادی ہوتے ہیں۔ اور آپ کو شائد علم نہیں کہ مساجد میں تو آمین بھی زور سے کہنے کا حکم ہے کہ سن کر کفار کے دل دہل جائیں۔
وہ میری طرف دیکھ کر ہولے ہولے یہ سب کہہ رہا تھا۔ اب سے ایک گھنٹہ قبل میں ڈھٹائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امی چھ دفعہ اٹھا کر جا چکی تھیں اور میرا کہنا تھا کہ میں نے عید کی نماز پڑھنے نہیں جانا بلکہ سونا ہے۔ پچھلے سال عیدالفطر پر جن صاحب کو میں نے کہا کہ عید کی نماز کے لئے لیتے جانا انہوں نے کہا وہ تم سو رہے تھے اس لئے نہیں لے کر گیا۔ اب یہ اتنے شریف ہیں کہ چاہے ان کو میری کتنی سخت ضرورت ہو یہ کبھی مجھے نیند سے نہیں جگانے کا کہتے اس لئے میں چپ کر گیا۔ بڑی عید پر ہم جا کر مسجد ڈھونڈتے رہے۔ پتہ چلا وہ تو جلا دی گئی۔ دوسرے شہر گئے تو وہاں پتہ چلا نماز پڑھی جا چکی ہے۔ لہذا تب بھی دو گھنٹے خوار ہونے کے بعد بغیر نماز کے واپس ہوئے۔ اب اس دفعہ بھی میرا خیال تھا کہ یہی کچھ ہونا ہے لہذا نماز تو جانی ہی جانی ہے نیند پوری کر لوں۔ پھر ایک خیال آیا اور سوچا شائد کچھ نیا سیکھنے کو مل جائے اور لیں جی ہم بستر سے باہر اور پچھلے سال کے تجربات کی بنا پر ہم اسلامک سینٹر میں نماز سے پورے ڈیڑھ گھنٹہ قبل موجود۔
میں نے اس سے پوچھا کیا اس نعت کو پاپ میوزک کے ہم پلہ قرار دینا درست ہو گا؟ اور اب صرف آمین زور سے کہنے کا حکم تھا یا سپیکر پر نعت کو شور بنانے کا بھی حکم تھا؟
اس وقت سپیکر نہیں ہوتے تھے نہ۔ اس نے گویا جیسے میری کم عقلی پر ماتم کیا۔ میں نے کہا بالکل یہی بات اس وقت سپیکر نہیں تھے لیکن اب ہیں تو استعمال کرتے ہو۔ اس وقت چاند کو predict نہیں کیا جا سکتا تھا تو دیکھتے تھے۔ اب انتہائی جدید ٹیکنالوجی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے اور علم ہے کہ چاند کب طلوع ہو گا تو کیوں اپنی اپنی ڈفلی بنانے پر زور؟ تفرقہ سے بچنے کے لئے بہتر نہیں کہ اب چاند کی ذمہ داری علما کے نازک کندھوں سے اٹھا کو جدید تعلیم سے آراستہ نوجوانوں کو سونپ دی جائے اور اس سے علما کی شان گھٹتی نہیں وہ ان نوجوانوں کی نگرانی کا کام سرانجام دے سکتےہیں۔
اس دفعہ مسلمانوں نے کچھ ترقی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ دو مساجد پہلے جگہ کم ہونے کے باعث بہت دو دو دفعہ نماز پڑھاتی تھیں۔ اس دفعہ گریٹر رچمنڈ کنوینشن سینٹر میں ان مساجد نے مشترکہ طور پر ایک ہال بک کروا لیا۔ اس ہال میں مجھے وہ سپیکر بری طرح کھٹک رہے تھے جن سے نعت کے تقدس اور سامعین کے کانوں کا بیڑہ غرق کیا جا رہا تھا۔
بزرگ حضرات کے لئے کرسیوں کا بندوبست کیا گیا تھا۔ بجلی کی تاریں جو فرش پر سے گزر رہی تھیں کو ٹیپ سے فرش کے ساتھ چپکایا جا رہا تھا تا کہ مسلمان جب سلام پھیرتے ہی قوم سے ہجوم کی تبدیلی سے گزریں تو اس دوران ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے کسی حادثے سے بچ سکیں۔ مردوں کے لئے آگے انتظام تھا۔ اور خواتین کے لئے پیچھے۔ درمیان میں سپیکرز تھے۔ مجھے نہیں علم تھا کہ ورجینیا میں اس قدر مسلمان ہونگے۔ میرا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ تین یا پانچ سو ہونگے۔ سلام پھیرنے پر پیچھے کا جو منظر دیکھا تو محتاط اندازے کے مطابق شائد چار ہزار کے قریب لوگ جمع تھے۔ جو کہ فائر مارشل کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو گی کہ اس ہال میں 2866 افراد کو داخلہ کی اجازت تھی۔ ہاں اس قدر ہجوم کے لئے پولیس افسر صرف ایک ہی تھا۔ پولیس کا بیان ہے کہ مسلمان خاص طور پر عرب اور ایشیائی کبھی بھی لڑائی نہیں کرتے۔ لہذا ایک پولیس افسر کا ہونا خانہ پری ہوتی ہے۔
مسلمان عورتوں یا بچیوں کا پینٹ شرٹ پہننا نہ جانے کیوں مجھے بوسنیا کی یاد دلا دیتا ہے۔ بس عقل پر ماتم ہی کی جا سکتی ہے۔ کچھ ہماری پر کریں اور ہم ان کی۔
یہاں میں نے پہلی دفعہ سفید فام مسلمان دیکھے۔ شائد یورپ کے کسی علاقے سے تھے۔ کم از کم مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے بوسنیا کے ارد گرد کسی علاقے کے تھے۔ ان کی زبان بالکل مختلف تھی۔ پی سی یا آواری ٹاورز میں جیسے باتھ روم بنے ہوتے ہیں ویسے ہی ریسٹ روم تھے جہاں مسلمان اس سنک میں پاؤں ڈال ڈال کر وضو کر رہے تھے نہ معلوم گھر سے کر کے آنے میں کیا قباحت تھی۔
امام صاحب اور انتظامیہ اسلام اور انگلش سے قطعی نابلد معلوم ہوتی تھی۔ رہی سہی کثر سپیکرز نے پوری کر دی۔ مسلمانوں کو گونچ تک کا تو علم نہیں۔ اب ساؤنڈ جذب کرنے والی آوازیں مسلمانوں کے حلقان کا کہاں تک مقابلہ کریں؟ ان لوگوں کا سارا زور فطرانے پر تھا جو کہ میرے خیال سے اس ہال کو بک کرنے کے لئے صرف ہو گا۔ عید کی نماز سے پہلے والا خطبہ گول کر دیا گیا امام صاحب نے نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں سات تکبریں ہیں 5 زائد ہیں۔ دوسری رکعت میں بھی 5 اضافی ہیں چلیں جی نماز شروع کریں۔ اس وقت دل کی گہرائیوں سے اس مولوی کے لئے تشکر کا احساس جاگا جو پاکستان میں تفصیل سے یہ سب بیان کرتا تھا۔
امام صاحب شائد جلدی میں تھے لہذا لوگوں کے صف بندی کا انتظار نہ کر سکے۔ نماز بھی اتنی جلد جلد پڑھائی جیسے ٹرین میں سوار ہوں۔ خطبہ انگلش میں دیا جو کہ لکھ کر لائے تھے۔ اس پر ذرا غور نہیں کیا کہ اتنی تیز آواز اور اس کے بعد گونج میں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ پاکستان سے شائد تعلق تھا لہذا لوگوں کے اٹھ اٹھ کر جانے پر بھی دھیان نہیں دی اور اپنی ضد پوری کر کے ہی چھوڑی۔
انسانی لحاظ سے یہ بہت کامیاب عید تھی لیکن اسلامی پہلوؤں سے بالکل ناقص اور ادھوری۔
کنوشن سینٹر کے کئی داخلے دروازے تھے اور کسی پر سیکیورٹی نہیں نظر آئی۔ جس دروازے سے ہم داخل ہوئے وہاں استقبالیہ پر کوئی نہیں تھا۔ اس طرح اندر ہی اندر تقریبا 6 بلاک چلنے کے باوجود کہیں کسی قسم کے سیکیورٹی اہلکار کی شکل نظر نہیں آئی۔ مقصد سیکیورٹی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ رچمنڈ کنوینشن سینٹر کی انتظامیہ کا اس اعتبار پر شکریہ ادا کرنا ہے۔ نہیں تو صدر بش کے کھڑے کئے ہوئے ہوا اور مسلمانوں کی نالائقی کے باعث قدم قدم پر باوردی اہلکار کھڑا کر کے مسلمانوں کی اچھی خاصی عزت افزائی کی جا سکتی تھی۔
Popularity: 11% [?]
Popularity: 11% [?]
268 views
Related Posts
- سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
- خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان



























ہم تو اج تک چھ تکبیروں کے ساتھ نماز پڑهتے رہے هیں آپ گے امام نے پانچ كردیں؟
ایك دفعه تیره تكبیروں كے ساتھ نماز پڑهنے كا اتفاق هواتها
لیكن پانچ والی بات پہلي دفعه پڑهی ہے
“مساجد میں تو آمین بھی زور سے کہنے کا حکم ہے کہ سن کر کفار کے دل دہل جائی”
HAHAHAHA
مسجد کیوں جلائی؟ کس نے جلائی؟
ہمارے مولانا تو چھ زائد واجب تکبروں کے ساتھ نماز عید پڑھاتے ہیں۔ تین پہلی رکعت میں سبحان اللہ کے بعد اور تین دوسری میں رکوع سے پہلے۔
اور ہر بار طریقہ مفصل بیان کرتے ہیں۔
تکبیر والی بات ۃضم نہیں ہو رہی!!!
عید سے پہلے کیا خطبہ ہوتا ہے?
تکبیر میں بھی مسلکی اختلاف ہے جو معمولی بات ہے پاکستان میں چونکہ امام ابو حنیفہ کے پیروکار زیادہ ہیں تو طریقہ بھی وہی ہے لیکن باقی بھی صحیح مانے جاتے ہیں
فرش کے ساتھ چپکایا جا رہا تھا تا کہ مسلمان جب سلام پھیرتے ہی قوم سے ہجوم کی تبدیلی سے گزریں تو اس دوران ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے کسی حادثے سے بچ سکیں۔
قوم سے ہجوم۔ کیا بات کہی ہے۔ ویسے ہماری مسجد کے امام صاحب پہلے ہی صراحت سے بیان کردیتے ہیں کہ نماز کا طریقہ کیا ہوگا اور یہ کہ بعد از نماز خطبہ سننا واجب ہے۔ یہ خطبہ مختصر ہوتا ہے اور عربی میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد چونکہ یہ ہمارے محلے کی مسجد ہے تو عید ملنے والوں کا ایک اژدھام ہوتا ہے جس سے بچ کر نکلنا ناممکن ہوتا ہے تو چار و ناچار زیادہ سے زیادہ لوگوں سے عید ملنا پڑتی ہے اور اتنا وقت تو نماز میں نہیں لگتا جتنا عید ملنے اور مسجد سے باہر نکلنے میں لگ جاتا ہے۔
I am in Bay Area California and I find the eid ijtamah here much better than Karachi. May be the reason is that most muslims here are very highly educated. In fact when I was in Chicago, I found it very good there too.
I have been reading your blog for quite a time and I always thought you use sarcasm but honestly this post made me think that you are a negative person as you could not simply find a single positive thing from the eid ijtamhah. Any how who am I to judge you. Have fun and enjoy eid.
And FYI , there is no khutba before eid prayers as it is always after prayers and it is wajib to hear that.
جہاں تک آواز باہر جانے کی بات ہے مختلف علاقوں میں اس سلسلے میں مختلف قوانین ہوتے ہیں۔ ممکن ہے اس جگہ بھی کوئی شور کے خلاف قانون ہو۔
کنونشن سنٹر وغیرہ میں نماز کا اپناہی مزا ہے کہ بہت خلقت ہوتی ہے۔
ایسے مواقع پر عام طور سے پولیس کو آپ ہائر کرتے ہیں۔ سو لگتا ہے آرگنائزرز نے صرف ایک ہی کو بلایا ہو گا مگر حیرت ہے۔ کیا ٹریفک کے لئے کوئی لوگ موجود تھے؟
عورتیں یا لڑکیاں جو چاہیں پہنیں آپ کو اس سے کیا لینا دینا؟
پہلی دفعہ سفیدفام مسلمان دیکھے تو ان کو گھورا تو نہیں؟؟
وضو وہاں کرنا ضرورت بھی ہو سکتا ہے کہ کیا پتہ دور سے آئے ہوں یا زیادہ دیر وضو قائم نہ رکھ سکتے ہوں۔
عید کی نماز ے پہلے کوئی خطبہ نہیں ہوتا۔ ہاں کچھ امام صاحبان اپنا شوق خطابت آزماتے ہیں اور جلدی آنے والوں کو بور ہونے سے بچاتے ہیں۔
سو 10 تکبیریں زائد ہوئیں۔ مختلف مسالک کی اس بارے میں مختلف رائے ہے۔
نماز جلدی میں پڑھانے کی کیا وجہ تھی؟ کہیں وقت سے لیٹ تو نہیں ہو گئے تھے؟
میں نے مسجد سے لیکر کنونشن سنٹر اور سٹیڈیم تک ناز پڑھی ہے اور سیکورٹی کے انتظام کی کہیں ضرورت محسوس نہین کی نہ دیکھی۔
سلام
خاور: مجھ خود بڑی حیرانی ہوئی تھی لیکن مسءلہ یہ ہے کہ دین ہم نے مولوی کو تھما دیا ہوا ہے تو بس بھڑ کی طرح اقتدا ہی رہ گئی ہے۔
قدیر احمد رانا ملتانی: ٓپ ننے سے دماغ پر زور مت ڈالیں شکریہ
شاکر: جی یہی طریقہ مجھے علم تھا۔ اور ہمارے خطیب صاحب یہ تفصیل سے بتاتے تھے۔
شعیب صفدر: امریکہ آ کر مجھے بہت کچھ ہضم کرنا پڑا ہے۔ یہاں کافی تضاد ہے۔
احمد: عید سے پہلے واجب خطبہ نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستان میں رواج ہے کہ خطیب عید کی نماز سے قبل کے اھخکامات وغیرہ تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ میرا اشارہ اس طرف تھا۔
نعمان: ٓپ کے کمنٹ کے بعد او بی وان سمجھ سکتے ہونگے کہ جب ٓپ کسی بہتر جگہ سے کچھ نیچے جاتے ہیں تو کچھ کمیاں محسوس ہوتی ہیں۔ بہرحال سب جانتے ہیں میں اسلام بیزار لوگوں سے نفرت کرتا ہوں۔ لہذا ویسا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
obi-wan: welcome my quite friend. quite frankly yes I dont like the trends described as religion. this is where I differ from “islam-bezar” and conflict with innocent islamic tredition defenders. I tend not to be negative, I might sound like one but I am not or atleast I think so.
thanks but I didnt say the khutba before prayer is wajib. in general khateeb tend to explain eid, faraiz and fitrana etc before the prayer.
زکریا: کنوینشن سینٹر ڈاؤن ٹاؤن رچمنڈ میں تھا۔ ہفتہ ہونے کی وجہ سے تمام دفاتر بند تھے۔ لہذا ارد گرد کی تمام پارکنگ مسلمانوں نے استعمال کی۔ یہاں جا بجا تہہ خانوں مین پارکنگ تھی۔ ہمیں وہ پلاٹ مل گیا تو ہم نے وہاں پارک کر لی۔ اس ہجوم کے نکلنے پر بھی مجھے کہیں ٹریفک کا مسءلہ نظر نہیں ٓیا۔
امریکہ میں دیسی خواتین دیسی مردوں کی نظروں سے اس لئے بچ جاتی ہیں کہ ہمہ وقت ہم لوگ سفید چمڑی کو گھورتے رہتے ہیں۔ وہ برا بھی نہیں مناتی ایسے میں پینٹ شرٹ پہنے دیسی خاتون نکل آئے تو سارا مزہ خراب ہو جاتا ہے
مذاق ایک طرف مجھے خواتین کے جسم پر چست کپڑے نہیں پسند۔ لہذا لکھ دیا۔
ریسٹ روم میں جن مسلمانوں کا ذکر کیا یہ جاننے والے تھے اور ہمیشہ مسجھ کے بابرکت پانی سے وضو کرتے پاءے جاتے ہیں۔
وقت سے کچھ ایسا خاص لیٹ تو نہیں ہوءے تھے بلکہ سستی دیسی انتظامیہ کی تھی۔ افریقی لڑکے بھاگ بھاگ کر صفیں اور الیکٹرک نظام سنبھالے ہوئے تھے۔ دیسی صرف فطرانہ اکٹھے پر معمور تھی۔
جہانزیب جب نیویارک کی سیر کروا رہے تھے تو کسی بلڈنگ کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ یہاں بلڈنگز کے اندر جانے کے لئے شناختی کارڈ دیکھانا پڑتا ہے تو بس یہی تاثر بنا ہوا تھا۔