سپریم کورٹ سے کچھ لوگوں نے زیادہ ہی امید وابستہ کر لی تھی۔ اس امید کا نتیجہ نہ آنے پر اب پھر سے اس کے خلاف باتیں شروع ہیں۔ جاہلوں (سیاستدانوں) کو چھوڑ کر ہم جیسے پڑھے لکھے بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ سپریم کورٹ کا کام قانون سازی نہیں قانون پر عملدرآمد کے احکامات دینا یعنی فیصلہ کرنا ہے۔ یہ صرف فیصلہ دے سکتی ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں کر سکتی۔ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے اور سید مروت شاہ جیسے لوگوں کا کام قانون پر عملدرآمد کروانا ہے۔
اگر سپریم کورٹ فیصلہ دے بھی دیتی تو اس سے کیا ہونا تھا؟ یہ سب شیو بڑھا کر سرحد اسمبلی میں جو ڈرامے کرتے پھر رہے ہیں۔ وہ عیاں ہے۔ آخری تنخواہ بٹور کر استعفی کیا معنی رکھتا ہے؟
سپریم کورٹ کے فیصلے کے قانونی نکات وکیل ڈاٹ آرگ کے شعیب صفدر نے بیان کر دئیے تھے۔ صدر اینڈ کمپنی اس وقت سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔ لہذا یہ ملی بھگت سے زیادہ کچھ اور ہے۔
بینظیر کے بارے میں شائد ایک سابق برطانوی کھیل یا کسی اور وزیر نے ایک انکشاف کیا تھا۔ اس کے بعد سے جب جب بینظیر منہ کھولتی ہے مجھے وہی بات یاد آ جاتی ہے۔ ان کے بارے میں بہت سارا مواد لکھا ہوا جو جو یہ پھول منہ سے جھاڑتی ہیں وہ لکھا جائے تو یہ پاکستان نام کی چار دیواری میں اس سب سے انکاری ہو جاتی ہیں لہذا ان کی ویڈیوز کا آرکائیوز بنایا جانا چائیے۔
اب آتے ہیں جنرل اشفاق کیانی کی تقرری پر۔ کیا صدر مشرف اب کم طاقت کے حامل ہوتے ہوتے منظر عام سے بالکل ہی ہٹنے والے ہیں؟ کیا جنرل اشفاق کیانی اب منظور نظر ہونگے؟ ان سے کچھ زیادہ توقعات نہیں لگانی چاہیے جیسے جنرل حمید گل نے جیو پر آ کر فرمایا کہ فوج کا چیف امریکہ کی مرضی کا ہوتا ہے تو اگر جنرل کیانی بھی امریکہ کی مرضی سے منتخب ہیں تو وہ بھی اسی ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گیں؟
فوج جو کل تک مقدس گائے کی حیثیت رکھتی تھی جنرل مشرف کے بابرکت دور میں ہر طرف سے حملوں کی ضد میں ہے۔ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اگر سیدنا صاحب سے چھٹکارا با بھی لے تو بھی شر پسند عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ وہ آئندہ آنے والی حکومتوں میں بھی امن و امان کو تباہ کر کے مطالبات منوانے کے سلسلے کو جاری رکھیں گیں۔
Popularity: 6% [?]
Popularity: 6% [?]
221 views
Related Posts
- None Found



























0 Responses to “بہت سے کیوں”
Please Wait
Leave a Reply