سپریم کورٹ کی عمارت پر انڈے اور ٹماٹروں کی بارش کی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ اب پھر ہر جگہ شرمندہ ہونا پڑے گا۔ بھارتی دوست زیر لب مسکرائیں گیں۔ عرب مہربان پوچھیں گے یہ کیا ہوا تھا؟ امریکی حیران ہونگے کہ کیا یہ سچ ہے؟ میں کیا جواب دونگا؟ کچھ بھی نہیں۔
یہی سپریم کورٹ اگر صدر کے خلاف ہے تو یہ صحیح ہے۔ اور اگر یہ خلاف فیصلہ نہیں کرتی تو یہ ویسی ہی معتوب ہے جیسے مارچ میں تھی۔ لیکن فرق اس دفعہ عتاب نازل کرنے والے کا ہے۔
قاضی صاحب بتا سکیں گیں کہ فیصلہ آنے سے پہلے ہی وہ کیسے سپریم کورٹ کے خلاف بیان دے رہے تھے۔ انکو ٹی وی پر لا کر یہ سوال کرنا چاہئے۔
اس قدر انڈے اور ٹماٹر کہاں سے برآمد ہو گئے؟ فیصلہ سے قبل ہی فیصلہ کا علم تھا؟
کیا عدلیہ کا احترام ہر کسی پر اسی صورت فرض ہے اگر عدلیہ من پسند فیصلہ کرے؟ عدلیہ کسی کی داشتہ نہیں ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ افسوس صدر سے طلاق دلوائی تو قاضی صاحب اینڈ کمپنی نے رکھیل بنانے کی کوشش شروع کر دی۔
عدلیہ کا کام فیصلہ دینا ہے تھانیداری نہیں۔ صدر کے خلاف فیصلہ دے بھی دے تو کیا صدر رک جائیں گیں؟ عدلیہ کو آزاد رہنے دیں اور اس کے فیصلوں کا احترام کریں۔ ضروری نہیں صدر نہیں کر سکتے تو آپ بھی نہیں۔ جتنے صدر مجرم ہیں اتنے ہی اس بارش کے برسانے والے۔
کیا صدر کو ہٹا کر قاضی صاحب جیسے انسان کو مسلط کرنا ہی اس جدوجہد کا مقصد ہے؟ جواب یقینی طور پر نہیں ہی ہے۔
Popularity: 15% [?]
يہ وہ لوگ ہيں جو اپني ذمہ داري عدليہ پر ڈالنا چاہتے ہيں اور انكا مفاد اس بات سے وابستہ ہے كہ كسي طرح اداروں كا تصادم كرواديا جائے ۔۔ انتہائي شرم كا مقام ہے ۔۔ اور يہ بات طے ہوگئي كے ہم لوگ صرف اسكو حق مانتے ہيں جو ہمارے موقف كا حامي ہو۔۔۔ عوام سے لے كر خواص تك۔
یار! یہ کون سی نئی بات ہے؟ ہماری قوم کا سیاسی شعور ابھی یہیں تک ہے۔ عددلیہ ہمارے حق میں فیصلہ دے تو آزاد ہے اور ہمارے خلاف فیصلہ دے تو نظریہ ضرورت۔۔۔۔
ویسے اس بار نظریہ ضرورت نہیں تھا، نظریہ مجبوری تھا۔ میڈیا رپورٹس ہیں کہ ججوں پر دباؤ ڈال کر فیصلہ لیا گیا ہے۔
App ka blog parh k really acha laga..kuj ayse hi khialat hen humare..Kash humara mulk in siasatdanu se paak ho jaye to pir to “Rola” hi khatam ho jaye
ab dekhiye kia hota hia..umeed pe duniya kaaim hen aur hum be..:)
slam
راشد کامران: سب سے زیادہ افسوس تب وہتا ہے جب کافی پڑھے لکھوں کو اس بات کی سمجھ نہیں لگتی۔
رابہر: ٓپ کی بھی وہی سوچ ہے۔ شعیب صفدر نے اچھے نکتے بیان کءے ہیں۔
حانیہ: سیاست دان بھی ہم میں سے ہی ٓتے ہیں۔ یہ لوگ ٓسمان سے نہیں اترتے۔ ہم سب کے سب ایسے ہی ہیں۔
ٓپ اردو میں نہیں لکھتی؟ مزید تفصیلات کے لءے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/
http://www.urdutech.com/help/urdu/how%20to%20write%20urdu.htm