فرانس کا کندھا
184 views Published September 19th, 2007 in اردو, امریکہ نامہ, پاکستان نامہ.ایرانی صدر احمدی نژاد پر میں پہلے بھی تنقید کر چکا ہوں کہ ان کے نعرے بازی اور تصادم انگیز بیانات ان کے کچھ کام نہیں آنے والے۔ ان جیسے لوگ دراصل اپنی ہی قوم کے بہت بڑے دشمن ہوتے ہیں۔ مغرب بشمول امریکہ میں جمہوریت ہے۔ جنگ کرنے سے پہلے رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے۔ عراق میں فوج کم کرنے کے لئے روزانہ بحث ہو رہی ہے۔ کالم نگار اور تھینک ٹینک سب اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں۔ افغانستان میں مسلم ممالک کی فوجیں بھیجنے کی سفارشات مرتب ہو رہی ہیں۔
ایرانی صدر کا پہلے پرسنیلٹی چیک اپ۔ وہ داڑھی رکھتے ہیں۔ خطاب میں جوش میں آ جاتے ہیں۔ للکارنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کے بیانات کے ٹوٹے اخبارات میں ساری گرمیاں شائع ہوتے رہے۔ امریکہ کا غریب طبقہ نہ تو سیاست میں دلچسپی لیتا ہے نہ ووٹ ڈالتا ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ جس نے نوکریاں کرنی ہے اور اکثر ادارے سنبھالنے اور چلانے ہیں وہ ایسے بیانات سنتا اور پڑھتا ہے۔ ان کو ایرانی صدر جنونی نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کو اگر کسی چیز کی پرواہ ہے تو وہ تیل کی قیمت ہے۔ تیل کی قیمت کم رکھیں اور جو مرضی کریں۔
امریکی صدر فوج نہیں نکال سکتے لیکن فوج نکالی جائے گی نئے صدر کے ہاتھوں۔ تب تک صدر بش جھک نہیں سکتے۔۔ برطانیہ ٹونی بلئیر کی قیادت میں افغانستان اور عراق میں کاروائی کر چکا ہے۔ وہ اب نئے وزیراعظم گورڈن براؤن کی قیادت میں کسی نئی جنگ میں نہیں جا سکتا۔ کیونکہ گورڈن براؤن کی ساری پالیسی ٹونی بلئیر مخالف تھی۔
اگست میں فرانس کے صدر اپنی چھٹیاں گزارنے کے لئے بہت عرصے بعد امریکہ آئے۔ اس سے قبل وہ لندن کا رخ کرتے تھے۔ فرانسیسی صدر امریکہ صرف چھٹیاں گزارنے نہیں آئے تھے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ ایک معاہدہ کرنے آئے تھے جس کے تحت فرانس ایران پر حملہ کرے گا اور امریکہ اس کے بعد اتحادی کی مدد کے جذبے کے تحت فضائی بمباری شروع کر دے گا۔
ایک برطانوی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ نے تقریبا 2000 اہداف کو میزائلز میں فیڈ بھی کر دیا گیا ہے کہ ان ان جگہوں پر بمباری کرنی ہے۔ اس سارے پس منظر میں مجھے پاکستان کا مقام سمجھ نہیں لگ رہا۔ طالبان اب کھلم کھلا پاکستانی فوج پر حملے کر رہے ہیں اور ان کو قتل کر رہے ہیں۔ اگر ملک میں انتشار کی یہی کیفیت برقرار رہی تو کیا ایران پر حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی بڑھ نہ جائے گی؟ اور اس کے بعد کیا ایک جواز مہیا نہ ہو جائے گا کہ پاکستان کے حلقوں میں یہ لوگ سرایت کر چکے ہیں۔ اس لئے پاکستان کا نمبر بھی لازمی ہے؟
جس خوفناک قسم کے بم امریکہ اور اتحادی بنا چکے ہیں اس کے بعد تو کسی بھی ملک کو ملیا میٹ کرنا کچھ مشکل نہیں نہ ان کو ایٹم بم کی ضرورت ہے۔ جیسے ڈسکوری چینل پر فیوچر ویپن کے نام سے ایک پروگرام آتا ہے اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ دوسری دنیا کے ممالک ان کا مقابلہ کیسے کریں گیں؟ ایرانی صدر اگر خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے تو موت کی تلوار ایران کی معصوم عوام پر نہ لٹکتی۔ اگر کسی کمزور لمحے پر ایران نے سعودی عرب پر میزائل داغ دیا جہاں امریکی افواج قیام پذیر ہیں تو شیعہ سنی فساد بھڑک اٹھیں گیں۔ اور امریکہ کی لڑائی مسلمانوں کے دو فرقوں کی لڑائی بن کر ہر جگہ لڑی جائے گی۔
Popularity: 69%
Popularity: 69%
184 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









0 Responses to “فرانس کا کندھا”
Please Wait
Leave a Reply