میں کمپیوٹر کے آگے بیٹھا افطاری سے حساب کتاب میں مشغول تھا۔ ساتھ ساتھ خاور کو بور کر رہا تھا۔ ٹی وی پر جاہل آنلائن لگا ہوا تھا۔ اس پروگرام سے مجھے اتنی ہی چڑ ہے جتنی کسی بھی شریف آدمی کو تیل کی قیمت سے ہوتی ہے۔
ایک صاحب کی آواز ابھری۔ دیکھیں بسم اللہ تو قران میں ہے۔ اب ہر سطر پر بسم اللہ پڑھنے سے قران کا ثواب تو نہیں ہوگا لیکن بسم اللہ کا ضرور ہو گا۔ لہذا یہ کوئی بری بات نہیں۔
میں سمجھ گیا یہ کوئی اور نہیں وہی حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ہے۔ اب ایسے عالم کو میں عالم نہ مانوں تو مجھے تو جوتے لگنے چاہئے۔ (ویسے بھی لگنے چاہئے) جا کر دیکھا تو سچ مچ وہی تھے۔ اللہ ان کے حال پر رحم کرے۔ سنا ہے اصل عالم تو حملوں میں مارے جا رہے ہیں۔ ایسے ویسے ایم کیو ایم کے سایہ تلے ہم ایک ہیں کے راگ الاپ رہے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود کو خبر ملی کہ کسی جگہ جماعت اکٹھی ہوتی ہے تو بیان کے دوران کہا جاتا ہے اتنی دفعہ اللہ اکبر کہو۔ وہ وہاں گئے۔ ان کو دیکھا اور منع کیا کہ تم لوگوں نے دین میں ایک بدعت گھڑ لی ہے۔ ذکر کی محفل تھی اور اس میں کیا کہا جا رہا تھا صرف یہی کہ اتنی دفعہ کہو۔ جب اس کو بدعت قرار دے دیا گیا تو نا جانے ایسے قران پڑھنے کو کیا کہیں گیں؟ اس سے منع کرنا چاہئے اور اگر کسی کو قران پڑھنا نہیں آتا تو اس کو سیکھایا جائے تبھی قران پڑھنے کی محفل میں بیٹھایا جائے۔ اللہ ایسے عالمانہ لبادوں میں چھپے بدعت میکرز سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
اگلے دن بھی میں کمپیوٹر سے سر جوڑے بیٹھا تھا۔ اسی جاہل آنلائن سے ایک دوسرے فرقے کے عالم نے ارشاد فرمایا ہاتھی پہلے انسان تھا۔ زانی تھا سزا کے طور پر ہاتھی بنا دیا گیا۔ “مولانا” عامر لیاقت نے پوچھا اس کی ڈیٹیل تو بتا دیں۔ فرمایا ایک نبی تھے جنکا مجھے نام نہیں یاد (جی میں ایک عالم ہوں کوئی کمپیوٹر نہیں کہ نام بھی یاد رکھوں) تو انہوں نے اس بادشاہ کو بڑا منع کیا کہ زنا نہیں مناسب باز آ جاؤ یہ نہیں مانا تو ہاتھی بنا دیا گیا۔
مولانا شبیر احمد نے فرمایا یہ دراصل ایسے نہیں تھا کہ پہلے ہاتھی نہیں ہوتے تھے پہلے ہاتھی ہوتے تھے لیکن اس کو سزا کے لئے ہاتھی بنا دیا گیا۔ اس پر دوسرے مولانا کسی قدر تلخی سے بولے آپ کے ہاں ایسا ہوتا ہو گا ہمارے ہاں ایسا ہی ہے۔ میں حیران کہ گریک میتھالوجی بھی اتنی دلچسپ نہ ہوگی جتنی ان علما نے مل جل کر بنا لی ہے۔ دہم جماعت میں سنا تھا کہ ہاتھی 6 سال بعد ملاپ کرتے ہیں۔ اب کیا پتا اسی بادشاہ کو یہ سزا ملی ہو۔ ویسے مولانا یہ بادشاہ ابھی تک زندہ چلا آ رہا ہے؟
امید کرتا ہوں آج جاہل آنلائن پر کوئی لطیفہ نشر نہ ہوگا۔ اللہ اپنے ایسے برگزیدہ بندوں کو جلد سے جلد اپنے قریب کر لے۔ آمین۔
Popularity: 22% [?]
Popularity: 22% [?]
253 views
Related Posts
- None Found



























ہاتھی کی کہانی تو کافی دلچسپ تھی ۔۔ امید ہے جلد ہی ڈائناسورز کی ابتدا اور انتہا پربھی فقہی اعتبار سے مناسب روشنی ڈالی جائے گی ۔۔
یہ ساری باتیں آپ جیو ٹی وی کے سربراہ کو کیوں نہیں لکھتے ۔
Saray Aqal kay sootay tu ap kay pas say he poot rahy hean. wasay molana nay bismillah ko is tahan parnay say mana bahi kia thah wo awaz nahi ai ap kay kan may.
سلام
راشد کامران: نامعلوم کس کس پر کسی کسی روشنی ڈلے گی۔
اجمل: جیو ٹی وی کے سربراہ خود کہاں ہوتے ہیں کیا وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر دوسے چینل دیکھتے ہیں۔ ان کو لکھنے کا کوئی فائدہ نہین۔
ماموں۔ میرے چار ماموں ہیں آپ کونسے والے ہیں؟ یا پانجویں ہیں؟ اب تک کہا تھ؟ جی یہ خوش فہمی تو بڑی دیر کی ہے آپ نے دور کیوں نہ کی۔ مولانا کی اکثر ٓوازیں ناقابل سماعت ہوتی ہیں۔ میں ان سے پرہیز ہی کرتا ہوں۔
یہ پروگرام آپ نے اسی لگن اور جوش سے دیکھنا جاری رکھا تو آپ کی صحت پر بہت جلد مضر اثرات نمایاں ہوں گے (بلکہ شاید ہونے ہی لگے ہیں)۔۔۔۔