کچھ لوگوں کو بولنے کا شوق ہوتا ہے۔ کچھ کو سننے کا۔ مجھے سننے کا شوق ہے لہذا کھری کھری سے لے کر نرم گرم تک سب سن لیتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر میں کچھ کہوں تو طبعیت خراب ہو سکتی ہے۔
لوگ کہانیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ہر انسان مجھے کہانی لگتا ہے۔ کچھ دلچسپ ہوتی ہیں اور کچھ ذرا کم۔ خیال رہے یہاں دلچسپ سے مراد خواتین نہیں۔
لوگوں کے عمومی روئیے جن سے اکثر واسطہ پڑا ہو گا۔ اگر آپ کسی روئیے کہ نشاندہی کر سکیں تو نوازش۔
اکثر لوگ ساری عمر مقتدی رہتے ہیں۔ آپ آگے آگے اور یہ پیچھے پیچھے۔ لیکن جہاں منزل قریب آئی یہ فراٹے بھرتے ایسے پہنچتے ہیں جیسے لیڈ یہی کر رہے تھے۔ مشورے ایسے دیتے ہیں جیسے ایکسپرٹ یہی ہیں۔ جہاں کچھ زیادہ ڈیٹیل مانگ لی جائے وہاں گڑبڑا جاتے ہیں۔
اکثر لوگ اخبار لینے جاتے ہیں تو سب سے اوپر پڑا اخبار نہیں اٹھاتے۔ (اخبار کے معاملے میں میں بھی یہی حرکت کرتا ہوں) نیچے سے اخبار اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح اگر سوڈے کا ٹین ذرا دبا ہوا ہو یا آئل کے ڈبے پر لگا کاغذ اترا یا بس ٹکا ہوا ہو تب اس کو بھی ہاتھ نہیں لگاتے۔ اب معلوم نہیں ڈبے کے باہر کی چیز اس کے اندر کے مال پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے؟
صدر مشرف سے شکوہ کیا جاتا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے لیکن بےنظیر اور نوازشریف کے حوالے سے ایسی بات کو نوٹس نہیں لیا جاتا۔ حالانکہ ان دونوں کی رسہ کشی سے ہی عوام ان سے بیزار تھے۔
کچھ لوگ کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھتے۔ آپ فون کر لیں تو آگے سے شکوہ اوئے تم فون نہیں کرتے۔ میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ جی بہت معذرت آپ کے فون آنے کا پتہ چلتا رہا لیکن مصروفیت بہت تھی۔ میرے ایک انکل جب کینیڈا میں تھے تب ان کا یہی کہنا تھا تم کوئی خط لکھ دیا کرو۔ تب میں یہی کہتا تھا ہاں وہ آپ کا خط اور تصویریں مل گئی تھیں۔ وہ سمجھدار تھے۔ ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ ابھی بھی جب ان سے بات ہو گی انہوں نے کہنا ہے دو سال تم نے کچھ رابطہ نہیں کیا۔ اس کو نہیں دیکھیں گیں کہ انہوں نے بھی دو سال رابطہ نہیں کیا۔
کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کسی کو تکلیف دینی ہے تو خود کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ خود بھی ساتھ ہی تکلیف اٹھاتے ہیں۔
جو چیزیں ہماری سہولت کے لئے بنی تھیں۔ اب ہم ان کو سہولتیں فراہم کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے گھر میں لائٹ جانے پر سب فریج ٹی وی بند کرنے اٹھتے تھے۔ میں چونکہ ذرا الٹے دماغ کا ہوں لہذا میرا خیال ہے کہ چیز خراب ہو گی تو نئی آ جائے گی۔ لہذا بجائے ریس لگانے کے آرام آرام سے جائیں اندھیرے میں ٹکر کھا کر فرش سے ہمکنار ہونے سے پرہیز کریں۔
اسی طرح کچھ لوگوں کو اوقات نہیں ہوتی لیکن موبائل لے لیتے ہیں۔ اب موبائل گھر پر بج رہا ہے موصوف پورے لاہور میں خاک چھان رہے ہیں۔ میں نے ایک دن خاصی بےعزتی کی۔ فرمایا یار چھین لیتے ہیں۔ میں نے کہا تم لو ایسا کہ رکھ سکو۔ تاکہ دیتے وقت افسوس نہ ہو۔ یہ جو دو گھڑی کے لئے تم نے شو مارنی ہے اس کے پیچھے ذلیل ہو رہے ہو۔
خواتین بہت دلچسپ باتیں کرتی ہیں۔ آپ کو ذرا سمجھ نہیں لگتی اور جہاں سے لگتی ہے وہاں یہ بتانے سے انکاری ہوتی ہیں۔ عموما سنسنی پھیلا کر بات گھما دی جاتی ہے۔ آپ منتظر ہیں کہ ڈیٹیل پیش کی جائیں لیکن آگے سے جواب ہوتا ہے نہیں یہ نہیں بتا سکتی نہ۔
Popularity: 12% [?]
Popularity: 12% [?]
246 views
Related Posts
- None Found


























0 Responses to “روئیے”
Please Wait
Leave a Reply