بچپن کی بات ہی اور ہوتی ہے۔ بڑوں کو سب سے زیادہ شک آپ کی نسل پر ہوتا ہے۔ ہر کسی سے “اوئے انسان کا بچہ بن” سننے کو ملتا ہے۔ پنجابی میں کبھی کبھی “بندے دا پتر” بن سننے کو بھی مل جاتا ہے۔ یعنی بچوں کو انسانوں کی فہرست سے ہی نکال باہر کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے بڑوں کو ساری عمر خود ان کو اپنے بارے میں اسی شک میں مبتلا رکھا جاتا ہے لہذا بچوں کو بھی کہتے ہیں۔
بڑوں کے بارے میں سب سے مصدقہ اطلاع یہی ہے کہ یہ ہمیں تب ملتے ہیں جب ان کی عادتیں اس قدر پختہ ہو چکی ہوتی ہیں کہ ہم نہ ان کو بدل سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ الٹا یہ ہمیں سمجھاتے رہتے ہیں۔ بچوں کے کیا کیوں کیسے سے یہ بہت الرجک ہوتے ہیں جس کی عام وجہ ہمیشہ معلومات کی کمی ہوتی ہے۔
بچپن میں میں بے حد شرارتی تھا۔ کھلونوں سے لے کر بچوں تک سب کی شامت آئی رہتی تھی۔ لیکن مار کٹائی سے میں باز رہتا تھا۔ میری شرارتوں سے عاجز بچے ہمیشہ امی امی پکارتے رہتے تھے۔ کبھی میری تو کبھی اپنی۔ میری ایسی عادت نہیں تھی کہ کسی بچے نے کچھ کہا تو جا کر اسکی امی کو شکائیت لگاؤ یا اپنی امی کو بتاؤ کہ اس نے یہ کیا۔ نہ مجھے ابھی تک ایسی عادت ہے کہ کوئی کچھ کہے تو اس کے بارے میں کسی کو شکائیت لگاؤں۔ میری امی ابھی تک یاد کرتی ہیں کہ تمہاری بہت شکائیتیں آتی تھیں۔ اور میں ہمیشہ ہنس دیتا ہوں کہ آپ کو کیا پتا ہو یہ کم عقل بچے تھے جو اپنی امی ابو کو بیچ میں لے آتے تھے۔
کچھ بچے بڑے ہو کر بھی اپنے امی ابو کی جان نہیں چھوڑتے۔ یہ ساتھ ہی میٹرک کا رزلٹ لا کر دیتے ہیں۔ امی ابو کہاں ہیں آپ؟ دیکھیں اس سال میں پاس ہو ہی گیا۔ لیکں بچوں نے مجھے وہاں بڑا چھیڑا۔ :p۔
اس قسم کے بڑے جسم والے اور ننھے منے دماغ کے بچے آپ کی ہر بات پر اپنے بڑوں کو شکائیت لگانے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ حاسد قسم کے ہوتے ہیں۔ بچپن میں ہم لوگ ضرورت سے زیادہ غریب تھے۔ ہمارے پڑوسیوں نے نئی گاڑی لی۔ اب سب اس کے گرد جمع۔ ہم سوچیں کہ کاش ہم بھی لے سکیں اور ایک حضرت فرمائیں۔ دیکھو کتنی بری ہے۔ شکل بھی پیاری نہیں اور بڑی بھی نہیں۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کو کہا کہ تمہارے پاس تو یہ بھی نہیں۔ بس اتنی سی بات پر وہ مائنڈ کر گئے۔
مائنڈ بھی ایک اور ہی کہانی ہے۔ ہمیشہ مائنڈ نہ رکھنے والے مائنڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کے پاس مائنڈ کی جتنی کمی ہوتی ہے وہ اسی قدر زور و شور سے مائنڈ کرتا نظر آتا ہے۔ لطیفہ تو تب ہوتا ہے کہ آپ بات کسی سے کرتے ہیں اور مائنڈ یہ کرتے ہیں۔ لہذا لوگوں کو خود پر ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اب اس پر کوئی مائنڈ نہ کر جائے۔
تو کچھ اسی قسم کے بچے جب پڑے ہوتے ہیں تو اس قسم کے بڑے بن جاتے ہیں جو بچوں کو کہتے ہیں اوئے بندے دا پتر بن۔
ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔ آپ خطاب فرما رہے ہیں۔ حاظرین میں سے ایک رونا شروع کر دیتے ہیں۔ امی کے پاس جانا ہے۔ امی کے پاس جانا ہے۔ آپ ان کی گوشمالی کا ارادہ ترک کر کے پیار سے پچکارتے ہیں۔ اس پچکارنے کے دوران کسی نے ان کو موتی کہہ دیا تو وہ اپنے بڑے تلاشنا شروع کر دیتے ہیں۔ پتہ چلتا ہے مائنڈ کر گئے ہیں۔
اس قسم کے بچوں میں ظرف کی کمی اور کھلے دل کا فقدان ہوتا ہے۔ اس فقدان کو ٹھونسنے میں ان کے انہی بڑوں کا قصور ہوتا ہے جنکو یہ ساری عمر ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ امی فلاں نے یہ کیا۔ ابو فلاں نے یہ کیا۔
حسد اور رشک کے بیچ ایک چھوٹی سی لائن ہوتی ہے۔ مجھے نہیں یاد میں نے یہ کبھی کراس کی ہو۔ ہمیشہ رشک کی سرحدوں پر بھٹکتا رہا۔ میرے خیال سے حاسد اور رشک کرنے والے ملتا دونوں کو ہی ہے۔ ایک کو بہتر تو دوسرے کو کم۔ تفریق نہیں کہ کس کو بہتر ملے۔ لیکن ایک سکون سے صبر شکر کر لیتا ہے اور دوسرا ساری زندگی تڑپتا ہی رہتا ہے۔
Popularity: 10% [?]
Popularity: 10% [?]
238 views
Related Posts
- None Found


























امی پاس جانا ہے۔۔۔۔!
بہت دلچسپ لکھا ہے! بعض جملے بہت اچھے ہیں
“حسد اور رشک کے بیچ ایک چھوٹی سی لائن ہوتی ہے”
اچھا آپ نے اپنے چھوٹوں کو کیا کہنا ہے؟
سلام
ہمم میں نے کہنا ہے کہ انسان کے بچے بنو نہ بنو میرے ضرور بن جاؤ۔