پچھلے سال شب برات پر میں نے لکھا تھا
ہر سال شب قدر آتی ہے۔ اور ہم بڑے اہتمام سے مغرب کے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ جی نہیں معاف کیجئے گا ہم لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی طرح صرف نام کے مسلمان ہیں لہذا انتظار نماز کے لئے نہیں ہوتا۔ ہم انتظار میں ہوتے ہیں کہ دیکھیں بچھلے سال ہمارا نام مرنے والوں میں تھا کہ نہیں۔
چلیں اب کا تو آپکو بتہ چل ہی گیا۔ ہم پھر بچ گئے۔
ایک سال اور تمام ہوا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ ہم اس سال بھی بچ گئے۔ نہ خدا کی کسی نعمت کا شکر ادا کیا نہ جھک سکے۔ لیکن ابھی تک رسی کھینچی نہیں گئی۔ اگلے سال یہ شب دیکھنے تک زندہ رہا تو کوتاہیوں کے اعتراف کے ساتھ ہی موجود ہونگا نہ کہ اس کا عاجز بندہ بن کر کہ مسلمان ہوں اور نام کا ہوں۔
Popularity: 18% [?]
Popularity: 18% [?]
303 views
Related Posts
- None Found




























2 Responses to “شَبِ بَرات”
Please Wait
Leave a Reply