submit
194 views Published August 18th, 2007 in جانا ہمارا امریکہ کو.میڈیکل کروانے کے بعد کے دو ہفتے ہم نے زور و شور سے ضائع کئے۔ اس عرصے میں حماقتوں کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال کے چست اور چاق و چوبند عملے نے ہمارے نام تبدیل کر دیئے۔ پھر پتہ چلا پہلے جو پولیس سرٹیفیکٹ بنوائے تھے وہ غلط بن گئے تھے۔ اس میں عرصہ رہائش غلط لکھی گئی تھی۔ پھر بنوانے پڑے۔ ایک سرٹیفیکیٹ بہاولپور سے بنوانا تھا وہ ہمارے ابا جان کا کہنا تھا کہ نہیں بنوانا پیپر سبمٹ کرواتے ہیں۔ اگر اعتراض لگ کر آیا تو بنوائیں گیں۔ اس پر کافی لے دے ہوئی لیکن ابا جی تو پھر ابا جی ہیں نہ۔ ان کو مجھ سے لے کر چچا تک سبھی نے سمجھایا لیکن نہیں۔
پھر ماموں نے امریکہ میں اپنا گھر تبدیل کر لیا تھا۔ اس کے لئے نئے سرے سے فارم بھرے۔ اب ہم نے امریکن ایکسپریس کے شاہراہ مال لاہور پر واقع دفتر میں کاغذ جمع کروانے تھے۔ (ادھورے) وہاں موجود خاتون کا روئیہ کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے ویزہ انہوں نے جاری کرنا ہے۔ میں ان کی حرکات سے سخت عاجز تھا۔ یہ آنٹی جی پچھلے تین سو سالوں سے اس جگہ پر ہیں۔ کاغذات کی پہلی پڑتال ان کے ذمہ ہے تاکہ لوگ الٹے کاغذ نہ بھیج دیں۔ انہوں نے ہماری تصاویر دیکھ کر فرمایا سائیڈ پوز کے بجائے اب فرنٹ سے تصویر لی جاتی ہے۔ جائیں تصویریں بنوائیں۔
لہذا ہم گھر تشریف لائے۔ اگلے دو تین دنوں میں پھر تصویریں بنوا کر گئے۔ خاتون وہیں کی وہیں تھیں۔ ان کو پیپر سبمٹ کروائے۔ ایک اہم بات کہ امریکن ایکسپریس امریکی سفارتخانہ کے لئے بھیجی جانے والی ڈاک ایک لفافے میں پانچ کیس رکھتا ہے۔ جیسے اگر پانچ یا اس سے کم لوگ ہیں تو ان سب کی فائلز ایک لفافے میں جائیں گی۔ اگر 6 ہیں تو پانچ ایک میں اور ایک ایک لفافے میں جائے گی۔ یا پھر اس کو برابر بانٹ لیا جائے گا۔ ظاہری سی بات ہے آپ کو دو لفافوں کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
Popularity: 51%
Popularity: 51%
194 views
Related Posts
- None Found
Random Posts








جی یہ گانا ہی تھا تو وہ کوڈ ڈالنا بھول گیا۔
0 Responses to “submit”
Please Wait
Leave a Reply