اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ہمیں جو کاغذ بھیجے تھے ان میں ایک لسٹ تھی۔ اس لسٹ میں چند ایک بڑے شہروں کے ڈاکٹرز کی لسٹ تھی۔ ان ڈاکٹرز کے پاس جا کر ہمیں اپنا میڈیکل کروانا تھا۔ عام خیال یہ ہے کہ چونکہ یہ ملک صحت کی طرف خاص توجہ دیتا ہے لہذا چاہتا ہے کہ آنے والے مکمل فٹ حالت میں ہوں اور ان کو کم از کم ویکسینیشن کی ایک مخصوص ڈوز ضرور دی جائے تاکہ یہ اپنے ساتھ بیماریاں نہ لا سکیں۔ میرے ذاتی خیال میں یہ سب خون کے سیمپل لینے کے لئے تھا۔
لاہور میں دو ڈاکٹرز ایسے تھے جو کہ امریکہ کے لئے یہ خدمات سرانجام دیتے تھے۔ ہم نے ڈاکٹرز ہسپتال سے کروانے کے لئے اپائنٹمنٹ لی۔
ڈاکٹرز ہسپتال لاہور کا سب سے مہنگا ہسپتال اور سب سے ناقص کارکردگی والا ہسپتال۔ اس کی بلڈنگ کسی پانچ ستارہ ہوٹل جیسی ہے لیکن اس کے اندر جس گھناؤنے طریقے سے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے وہ گھٹیا پن کی گندی ترین مثال ہے۔ یہ واحد ہسپتال ہے جس میں میں نے پنڈ کے اتنے لوگ دیکھے ہیں جتنے گورنمنٹ ہسپتالوں میں نہیں دیکھے۔ بیچارے گاؤں میں اپنی زمین بیچ بیچ کر ادھر پیسے “بھر” رہے ہیں کہ مریض ٹھیک ہو جائے گا لیکن مریض اگر ادھر ہے تو پھر تو کبھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ ریسیپشن پر موجود خواتین اپنے کام سے زیادہ ایک دوسرے سے گپوں میں مصروف ہیں۔ نتیجتا آفس سے مرد نکل کر لوگوں کو گائیڈ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے مریض دیکھ لیا ہے تو اس کو واپس لے کر جا رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے شیٹ پر نہیں لکھا لہذا علم نہیں کہ فلاں انجیکشن لگا ہے کہ نہیں۔ لیکن مستعد عملہ فورا شیٹ پر اس انجیکشن کے لگنے پر نشان لگا دے گا۔ یہ انجیکشن ستائیس ہزار کا ہے۔ اس جگہ گزرے میرے 5 گھنٹے مجھے اچھی طرح سمجھا گئے کہ میرے ماموں یہاں ڈیڑھ ماہ ایڑیاں رگڑ کر کیوں فوت ہو گئے۔
بارش تھمی تو ہم ڈاکٹرز ہسپتال کے لئے نکلے۔ اندر پہنچے تو ریسیپشن والی “آنٹیاں” ایک دوسرے کو وقت دے رہی تھیں۔ نتیجتا معصوم دیہاتی لوگ پریشان تھے۔ ابو نے جاتے ہی اس سے پوچھا تو اس کو علم نہیں تھا۔ دیہاتیوں میں شہری لوگ دیکھ کر آفس سے دو مرد برآمد ہوئے ایک نے ہمیں پوچھا کہ کیا ہوا اور ایک ان دیہاتیوں سے “نمٹنے” لگا۔ ہمیں کہا گیا کہ شناختی کارڈ کی کاپی دے دیں۔ ساتھ میں امریکہ کی طرف سے جو لیٹر ملا ہے وہ دے دیں۔ اور فارم دئے کہ یہ سب فل کر دیں۔ اس کے بعد اس نے یہ سب لے کر رکھ لئے اور کہا کہ نچلی منزل پر جا کر اپنے ایکسرے اور بائیو سیمپل دے دیں۔
نیچے پہنچے تو وہاں کی ریسیپشن پر بھی معمور لوگ ایک دوسرے سے گپیں ماریں۔ خیر ان کو فیس ادا کی اور ایکسرے پر پہنچے۔ ایکسرے والے ٹیکنیشن انکل گھر سے لڑ کر آئے تھے۔ کافی برے لہجے میں بات کر رہے تھے۔ بزرگ ہونے کا ہمیں سب سے بڑا یہی نقصان ہوتا ہے۔ صبر کرنا پڑتا ہے۔ لہذا میں ان پر بھی صبر کر کے بیٹھ گیا۔ ایکسرے کروا کر ہم بلڈ سیمپل کے لئے گئے۔ وہاں ایک لائن سی لگی ہوئی تھی۔ ہسپتال کے بارے میں میرا خیال ہے کہ جو مریض یا لواحقین تنگ کرتے ہیں ان کو ڈاکٹر لوگ بلڈ سیمپل لینے بھیج دیتے ہیں۔
یہاں سب کا بلڈ لیا گیا۔ ان سب کی باری سرنج چھوٹی سی تھی۔ ایک بزرگ خاتون وہیل چئیر پر باری کا انتظار کر رہی تھیں۔ میں نے ازراہ ہمدردی ان کو پہلے جانے دیا۔ آخری چھوٹی سرنج ان کے لئے استعمال ہو گئی اور مجھے نیکی کا انعام ملا پہلی والی سے دگنی موٹی سرنج، خیر سرنج کا ڈر جو بچپن سے تھا نکل گیا۔ میرا تو خیال تھا بہت درد ہوتی ہو گی لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔
اب ہم واپس اوپر آنٹیوں کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی نامعلوم کس وقت کی لنچ بریک پر جانا تھا۔ فرمایا فائل ڈاکٹر کو بھیج دی ہے۔ وہ ابھی آپ کو بلاتے ہیں۔ گھنٹہ گزر گیا۔ میرے ایک چچا بھی آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھول گئی ہے یہ ایسے ہی کرتیں ہیں۔ دوبارہ پوچھیں۔ وہاں دوبارہ پوچھا تو سٹاف میں شامل خاتون کہتیں جی وہ واقعی یہیں بھول گئیں ہیں میں دے کر آتی ہوں۔
چند منٹوں بعد وارڈ بوائے نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے نام پوچھا۔ پھر بستر پر لٹا کر چند ایک جنرل سوال پوچھے کیا کرتے ہو۔ کبھی یہ تو نہیں ہوا۔ کبھی فلاں بیماری تو نہیں ہوئی۔ اور بس معائنہ ختم۔ اب ہمیں مزید آدھا گھنٹا انتظار کرنا تھا تا کہ ہماری ویکسینشن ہو سکے۔
ہمیں ایک نرس اپنے ساتھ لے گئی۔ پہلے تو چار انجیکشن نامعلوم کس چیز کے مسلز میں لگا دئیے۔ اب بندہ دونوں بازو “زخمی” کروا کر بیٹھا ہو۔ وہ بھی دو بار۔ اس کے بعد وزن کرنا شروع کیا۔ بعد میں قد ناپا۔ پھر ایک راہدری میں لا کھڑا کیا۔ فرمایا ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر وہ سامنے کا بورڈ پڑھیں۔ لیں جی قصہ تمام۔
اس سارے دن کے بعد بندہ پوچھے تو کیا نہیں لگتا کہ سارا رولا ہی بلڈ سیمپلز کے لئے ہے؟
Popularity: 14% [?]
Popularity: 14% [?]
233 views
Related Posts
- None Found



























میرا تو خیال ہے کہ میڈیکل چیک اپ کرنے والے پورے کپڑے اترواتے ہیں ، تمہارے ساتھ یہ نہیں ہوا؟
سلام
قدیر تمکو ہر وقت کپڑے اتروا کر تلاشی کی پڑی رہتی ہے۔ میرے علم کے مطابق یا تو تم چھ سات دفعہ تھانے ہو آئے ہو یا پھر فوج کے لئ بھرتی ہونے جاتے رہے ہو۔
کبھی ائیر پورٹ پر تو کبھی میڈیکل پر کپڑتے نہ جانے تم کن خیالوں میں مست رہتے ہو۔