Skip to content


Live Earth Green

امریکہ میں گرین ہاؤس ایفیکٹ کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع ہو چکی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک اس پر صرف الگور بحث کرتے نظر آتے تھے۔ الگور نے یہ مہم 1970 میں اس بارے علم ہونے پر شروع کی تھی۔ آج اس بارے میں جس قدر awareness ہے اس پر بجا طور پر الگور کو کریڈٹ دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ الگور انٹرنیٹ کے بانی ہونے کا کریڈٹ سمیٹنے کے چکروں میں رہے۔ خیر مزاق ایک طرف واقعی میں الگور نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔

اب یہاں جابجا ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو گرین ہاؤس ایفیکٹ کو کم کرنے کے سلسلے کی کڑی ہیں۔ جیسے ڈسپوزیبل کپس وغیرہ کے بجائے بار بار استعمال ہونے والی چیزیں بنائی جا رہی ہیں جن پر enviornmental friendly کے الفاظ کندہ ہیں۔ اس سلسلے میں صدر بش کی حکومت مجرمانہ حد تک اس سب کو دبانے کے چکروں میں رہی ہے جیسے صدر بش کے پہلے ڈاکٹر جنرل (جی وہی جو ہمارے ہاں صرف سگریٹ کے ڈبوں پر وزارت کی صورت ہوتے ہیں) نے بیان دیا کہ صدر بش کی حکومت نے ان کو جن معاملوں پر نہ بولنے کے لئے دباؤ ڈالا ان میں ایک گلوبل وارمنگ بھی تھی۔ یہ صاحب صدر بش کے ابتدائی 6 سالوں میں ڈاکٹر جنرل کے فرائض انجام دیتے رہے تھے۔

لوگوں کو اس کا احساس کیٹرینا کی تباہی کے بعد الگور کی ایک ڈاکیومینٹری فلم سے ہوا۔ اس فلم میں موسموں کی تبدیلی کا اثر دیکھایا گیا۔ خود ورجینیا میں 1966 تک ستمبر اکتوبر میں برف باری ہو جاتی تھی۔ اب یہاں کے لوگ دسمبر میں بھی برف باری نہیں دیکھ پاتے۔

پچھلے دنوں اس سلسلے کی سب سے بڑی کڑی Live earth کا انعقاد تھی۔ اس میں دنیا کے 8 ملکوں سے 150 فنکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا اور اس کو انٹرنیٹ پر stream کیا گیا۔ اس کا مقصد گلوبل وارمنگ کے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔

یہ سب msn کے زیر اہتمام ہوا۔ ابھی بھی اس کی ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں لیکن جو سب سے اچھی چیز لگی وہ ایک پیج ہے۔ اس کے ذریعے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ گلوبل وارمنگ کی صورت تباہی میں کتنا حصہ لے رہے ہیں۔ میرا حصہ فی الحال تو average کے حساب سے much smaller than average ہے۔ بعد کا علم نہیں۔ اس کے علاوہ یہی سے pledge کیا جا سکتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے خلاف کام کرنے کے لئے آپ کونسا ایک کام کریں گیں جیسے بلب اگر عام ہے تو فلوریسنٹ بلب استعمال کریں گیں وغیرہ وغیرہ۔ اپنا ریکارڈ چیک کرنا ہو تو یہاں اس پیج پر جا کر کریں۔

 

 

Popularity: 13% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Posted in Events, امریکہ نامہ, بش کے دیس میں.

244 views

0 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

CommentLuv Enabled