صدر پاکستان نے بے نظیر سے ملاقات کی۔ میاں برادران کا کہنا ہے کہ ڈیل کی ان کو بھی آفر کی گئی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پاکستانی عوام کا مزاج ایسا ہے کہ اگر حکمران سر پر ہو تو برے اور اگر سابقہ ہوں تو اس کے حمائیتی ہوتے ہیں۔ صدر اگر ایک دم چلے جائیں تو پاور ویکیوم پیدا ہو جائے گا جس کا اثر مزید بدامنی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
صدر مشرف اگر میاں برادران سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور میاں برادران اس سے انکار کرتے ہیں تو میاں برادران میرے نزدیک قومی مجرم ہونگے۔ ملاقات میں حرج نہیں۔ ملیں اور دیکھیں کہ صدر کیا چاہتے ہیں؟ یہی چیف جسٹس صاحب آج ہمارے ہیرو ہیں جنہوں نے کل صدر کو راستہ دے کر قوم پر نازل کیا ہے۔ تو صدر کی جلاوطنوں سے ملاقات پر اتنا طنز کیوں؟
ہمارے دانشور ڈائیلاگ کی اہمیت بیان کرتے کرتے تھک کر اسقدر چور ہو جاتے ہیں کہ جب صدر ان جلاوطنوں سے ڈائیلاگ کرنے لگتے ہیں تو یہ “گر جاتے ہیں” نتیجتا کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں۔
کیا صدر صرف ذاتی اقتدار بچانے کے لئے ان جلاوطنوں سے مل رہے ہونگے؟ میرا خیال ہے ذاتی اقتدار سے بڑھ کر کچھ ہے۔ کیونکہ ذاتی اقتدار طیاروں سے لے کر میزائلوں تک کے ذریعے ختم ہوا ہوا ہے تو پھر یہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ صدر شائد ایک باعزت راستہ خریدنے کی کوشش میں ہیں لیکن اگر صدر کو چمچوں اور کف گیروں نے جامعہ کو باعزت راستہ دینے نہیں دیا تو وہ صدر سے ایسی رعایت کیسے برتیں گیں؟
صدر نے ڈائیلاگ کا راستہ چھوڑ کر بندوق کا راستہ اپنایا تھا۔ خون ایک عجیب چیز ہے جس کے بارے میں مافوق الفطرت کہانیاں ہیں۔ کیا خون واقعی رنگ لاتا ہے؟ اگر صدر نے ایک دفعہ پھر ڈائیلاگ کا راستہ جو کہ انہوں نے بہت دیر کے بعد چنا ہے کو چھوڑ کر گولی کا راستہ پکڑا تو صدر تو ڈوبیں گیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا صدر کے ساتھ لوٹے ہی ڈوبیں گیں یا ملک بھی ڈوبے گا؟
Popularity: 17% [?]
Popularity: 17% [?]
288 views
Related Posts
- None Found



























0 Responses to “عقل کی بات”
Please Wait
Leave a Reply