<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: Imagine</title>
	<atom:link href="http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/</link>
	<description>I've done things that I regret but mainly I've done things you regret :P</description>
	<lastBuildDate>Mon, 26 Jul 2010 05:57:53 -0700</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
	<item>
		<title>By: بدتمیز</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-572</link>
		<dc:creator>بدتمیز</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 11 Jul 2007 02:49:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-572</guid>
		<description>salam

old info :( oops now I dont kno the fone number is correct or not. r u still using that number associated with this info?</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>salam</p>
<p>old info <img src='http://www.badtamiz.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_sad.gif' alt=':(' class='wp-smiley' />  oops now I dont kno the fone number is correct or not. r u still using that number associated with this info?</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: زکریا</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-573</link>
		<dc:creator>زکریا</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Jul 2007 22:05:50 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-573</guid>
		<description>Badtameez: What&#039;s there to imagine? I am not the one with a pseudonym etc. Plus what use is old info? :-P</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>Badtameez: What&#8217;s there to imagine? I am not the one with a pseudonym etc. Plus what use is old info? <img src='http://www.badtamiz.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_razz.gif' alt=':-P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: بدتمیز</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-577</link>
		<dc:creator>بدتمیز</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Jul 2007 19:02:01 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-577</guid>
		<description>zikria: imgain &lt;a href=&quot;http://local.live.com/default.aspx?v=2&amp;cp=33.82736~-84.345431&amp;style=r&amp;lvl=16&amp;tilt=-90&amp;dir=0&amp;alt=-1000&amp;scene=984735&amp;encType=1&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;this &lt;/a&gt;plz :p

میرا پاکستان: نہیں میرا ڈبہ نہیں بن سکتا۔ یہ نا ممکنات میں شامل ہے۔ میں ہر صورت اگلے 10 سالوں میں پاکستان ہونگا۔ تابوت میں جانے سے بہتر ہے اپنے پیروں پر چل کر چلا جائے۔
اگر یہ ناممکن ہوا تو میں چند ماہ ادھر اور چند ماہ ادھر گزارنے والی حرکات کرونگا۔

ابو حلیمہ: نہیں میں اس کو دین کا حصہ نہٰن بناا چاہتا۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ غور کی دعوت دوں۔ میں اپنے نظریات ٹھونسنے کے بجائے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ لوگ غور کریں اور بڑے مجھے بچائے نئے سرے سے سوچنے کا کہیں میری طرح اپنے نظریات پیش کر کے مجھے اس سے آگے سوچنے پر مجبور کر سکیں۔

اجمل انکل: ہم لوگوں کو نہ تو کپڑے پاک کرنے کا بتہ ہے نہ علم ہے کہ غسل کیسے کرتے ہیں۔ ہماری ستر پجھتر فیصد قوم ایسے رہ رہی ہے۔ کپڑے اور کھانتے تک تو نوکر پکاتے ہیں۔ کیا پاکی کا خیال ہوتا ہو گا؟
جو دین کفار کے گھر میں پنپ رہا ہے اس کو بھی ہم نے فرقوں کی کچوکے لگانے شروع کئے ہوتے ہیں۔ نتیجتا کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ ہماری حالت اس شاعر کی سی ہے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا تھا اس کو علم تھ اکہ دین ابراہیم کوئی خیال نہیں حقیت ہے لیکن یہ علم نہیں تھ اکہ عمل کیسے کرنا ہے۔

خاور کھوکھر۔ میرے اکثر خیالات نہایت واہیات ہیں۔ کیوں مروانا جے؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>zikria: imgain <a href="http://local.live.com/default.aspx?v=2&amp;cp=33.82736~-84.345431&amp;style=r&amp;lvl=16&amp;tilt=-90&amp;dir=0&amp;alt=-1000&amp;scene=984735&amp;encType=1" rel="nofollow">this </a>plz :p</p>
<p>میرا پاکستان: نہیں میرا ڈبہ نہیں بن سکتا۔ یہ نا ممکنات میں شامل ہے۔ میں ہر صورت اگلے 10 سالوں میں پاکستان ہونگا۔ تابوت میں جانے سے بہتر ہے اپنے پیروں پر چل کر چلا جائے۔<br />
اگر یہ ناممکن ہوا تو میں چند ماہ ادھر اور چند ماہ ادھر گزارنے والی حرکات کرونگا۔</p>
<p>ابو حلیمہ: نہیں میں اس کو دین کا حصہ نہٰن بناا چاہتا۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ غور کی دعوت دوں۔ میں اپنے نظریات ٹھونسنے کے بجائے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ لوگ غور کریں اور بڑے مجھے بچائے نئے سرے سے سوچنے کا کہیں میری طرح اپنے نظریات پیش کر کے مجھے اس سے آگے سوچنے پر مجبور کر سکیں۔</p>
<p>اجمل انکل: ہم لوگوں کو نہ تو کپڑے پاک کرنے کا بتہ ہے نہ علم ہے کہ غسل کیسے کرتے ہیں۔ ہماری ستر پجھتر فیصد قوم ایسے رہ رہی ہے۔ کپڑے اور کھانتے تک تو نوکر پکاتے ہیں۔ کیا پاکی کا خیال ہوتا ہو گا؟<br />
جو دین کفار کے گھر میں پنپ رہا ہے اس کو بھی ہم نے فرقوں کی کچوکے لگانے شروع کئے ہوتے ہیں۔ نتیجتا کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ ہماری حالت اس شاعر کی سی ہے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا تھا اس کو علم تھ اکہ دین ابراہیم کوئی خیال نہیں حقیت ہے لیکن یہ علم نہیں تھ اکہ عمل کیسے کرنا ہے۔</p>
<p>خاور کھوکھر۔ میرے اکثر خیالات نہایت واہیات ہیں۔ کیوں مروانا جے؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خاور کهوکهر</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-578</link>
		<dc:creator>خاور کهوکهر</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Jun 2007 23:57:55 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-578</guid>
		<description>آپ جو چاهتے هیں میں اس کو سمجھ رها هوں ـ
اور اپ کے لکهے پر تبصروں میں ابو حلیمه صاحب کا  تبصره اور اجمل صاحب  اور افضل صاحب کے خیالات آپ کی تحریر کو وه صورت دیتے هیں جو که آپ دنیا کو دینا جاهتے هیں ـ
ایسی باتیں جو ذہن میں آتی هیں ان کو بجائے نظر انداز کرنے کے کہنی جاهییں اور دوسرے سوچنے والوں کے خیالات بهی دیکارڈ پر آنے جاهییں ـ
اس طرح کی پوسٹیں پڑھ کر اگر ایک بچه مطمعن نہیں هو گا تو کم از کم کسی اورجنل سوچ کے ساتھ کسی اور نتچے پر یا کسی ایک اور نظریے کا بانی هو گا ـ</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ جو چاهتے هیں میں اس کو سمجھ رها هوں ـ<br />
اور اپ کے لکهے پر تبصروں میں ابو حلیمه صاحب کا  تبصره اور اجمل صاحب  اور افضل صاحب کے خیالات آپ کی تحریر کو وه صورت دیتے هیں جو که آپ دنیا کو دینا جاهتے هیں ـ<br />
ایسی باتیں جو ذہن میں آتی هیں ان کو بجائے نظر انداز کرنے کے کہنی جاهییں اور دوسرے سوچنے والوں کے خیالات بهی دیکارڈ پر آنے جاهییں ـ<br />
اس طرح کی پوسٹیں پڑھ کر اگر ایک بچه مطمعن نہیں هو گا تو کم از کم کسی اورجنل سوچ کے ساتھ کسی اور نتچے پر یا کسی ایک اور نظریے کا بانی هو گا ـ</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-576</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Jun 2007 15:34:55 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-576</guid>
		<description>اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہے کہ سب سے چھوٹی عمر میں جائزہ کی قوت زیادہ ترین ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بوڑھا ہونے تک بھی وہ ضروری علم و تجربہ حاصل نہ کر پاتا ۔

کائنات کے متعلق جو کچھ اُجا گر ہو چکا ہے وہ بہت کم ہے اور حرفِ آخر بھی نہیں ۔ قرآن شریف میں سات آسمانوں کا ذکر ہے جب کہ آج کا سائینسدان ابھی تک ایک آسمان کو نہیں پہچان سکا ۔
انسان کا علم بہت محدود ہے ۔ اسلئے وہی بات کرنا چاہیئے جس کا صحیح علم حاصل ہو جائے ۔ ہم لوگوں کو تو مغربی دنیا والے جاہل گردانتے ہیں لیکن ان کے اپنے لوگوں کی اکثریت ہم سے زیادہ فال رمل وغیرہ میں یقین رکھتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔

آپ نے دینی تعلیم سکولوں کے ذمہ کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ ہمارے ہاں تو دینی تعلیم کو تعلیم ہی نہیں سمجھا جاتا اور دینی تعلیم کی خواہش رکھنے والے کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن یہ دین اسلام کی سچائی کا کمال ہے مغربی دنیا اس کو ختم کرنے کیلئے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کر رہی ہے اور اپنے فوجی بھی مروا رہی ہے مگر یہ دین کفار کے گھروں میں پنپ رہا ہے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہے کہ سب سے چھوٹی عمر میں جائزہ کی قوت زیادہ ترین ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بوڑھا ہونے تک بھی وہ ضروری علم و تجربہ حاصل نہ کر پاتا ۔</p>
<p>کائنات کے متعلق جو کچھ اُجا گر ہو چکا ہے وہ بہت کم ہے اور حرفِ آخر بھی نہیں ۔ قرآن شریف میں سات آسمانوں کا ذکر ہے جب کہ آج کا سائینسدان ابھی تک ایک آسمان کو نہیں پہچان سکا ۔<br />
انسان کا علم بہت محدود ہے ۔ اسلئے وہی بات کرنا چاہیئے جس کا صحیح علم حاصل ہو جائے ۔ ہم لوگوں کو تو مغربی دنیا والے جاہل گردانتے ہیں لیکن ان کے اپنے لوگوں کی اکثریت ہم سے زیادہ فال رمل وغیرہ میں یقین رکھتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔</p>
<p>آپ نے دینی تعلیم سکولوں کے ذمہ کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ ہمارے ہاں تو دینی تعلیم کو تعلیم ہی نہیں سمجھا جاتا اور دینی تعلیم کی خواہش رکھنے والے کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن یہ دین اسلام کی سچائی کا کمال ہے مغربی دنیا اس کو ختم کرنے کیلئے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کر رہی ہے اور اپنے فوجی بھی مروا رہی ہے مگر یہ دین کفار کے گھروں میں پنپ رہا ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابو حلیمہ</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-575</link>
		<dc:creator>ابو حلیمہ</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Jun 2007 14:31:29 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-575</guid>
		<description>السلام علیکم،۔
ویسے شروع تو میں بھی آپ کے
imagin(a)ry
کے استعمال سے کرنا چاہتا تھا لیکن ذکریا بھأی کا تبصرہ دیکھ کر کہا چلو جانے دو۔
یہ بات آپ کی کسی درجے صحیح ہے کہ ہم لوگوں نے دین سکھانے کا کام بھی سکولوں پر چھوڑ دیا ہے۔ اصولاً تو ہمیں خود پہلے دین سیکھنا

چاہیے اور پھر اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے۔ لیکن جن باتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ کؤی علم نہیں قیاس آرأی ہے جس کے صحیح ہونے پر

آپ کو خود یقین نہیں ہے۔ آپ اسے دین کا نظام سمجھنے کہ مد میں
brainstorming
تو کہ سکتے ہیں مگر اپنے بچوں کو یہ خیالات دین کا حصہ بنا کر نہیں سکھا سکتے۔ ہر انسان اپنے طور کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس نظامِ

کأینات کو حل کرنے کا کؤی فارمولا ڈھونڈ لے لیکن صحیح حل تو انہیں لوگوں کو ملتا ہے جنہیں اللہ توفیق دے۔
آپ نے جو
parallel universes and multiverses
کا ذکر کیا ہے یہ سوچ کؤی نٔی نہیں ہے۔ غیر مسلم لوگوں سے پہلے مسلمان علماء نے بھی ان خیالات کا ذکر کیا ہے لیکن ایسے تجزیے کبھی اجماع

نہیں بن سکے۔ واللہُ اعلم ۔ اصلیت تو خدا ہی جانتا ہے۔
اب سوچنے کی  بات یہ ہے کہ کیا اس طرح کی قیاس آرأی کا کؤی فأیدہ ہے؟ میرے ذاتی خیال میں انسان کی اس طرح کی قیاس آرأییوں کی مشق

بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی مشق سے انسان اپنے دماغ کی سرحدوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ کؤی بھی شخص

اس مشق میں پڑے، اس کو دین اور عقیدے کے بنیادی اصول سیکھ لینے چاہیٔں تاکہ اس کو اِس بات کا بھی احساس رہے کہ کہاں وہ شرعی سرحد

عبور کر رہا ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے ذکریا بھأی نے ایک مضمون کا لنک حور کے حوالے سے آپ کے بلاگ پر تبصرے میں دیا تھا۔ اُن صاحب کی سوچ اگر آپ

ملاحظہ کریں تو وہ بھی انسانی حدوں کو چھونے کی مشق کرتے ہیں جن میں وہ کسی رسمی سوچ کا لحاظ نہیں کرتے، نہ ان کو کؤی احساس ہے

کہ ان کی تحریریں اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اڑا رہیں ہیں ۔ شرک کی بات کو بھی ایسے پیش کرتے ہیں جیسے اس کأینات کو سمجھنے کا کؤی

نیا زاویہ ہو۔ پھر اس پر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کؤی مجھے ان خیالات کے طفیل مرتد سمجھتا ہو تو میں مرتد ہی سہی۔
انسان کی سوچ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھتی ہے اور انسان کی سوچ بت میں خدا بھی دیکھتی ہے۔ اس لیے فقط سوچ ہی حق جاننے کے لیے کافی

نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایمان اور دین و عقیدے کی بنیادی تعلیم بھی ضروری ہے۔
جس طرح سے آپ نے جنوں کی تھیوری سأینسی اصولوں کے تحت حل کرنے کی کوشش کی ہے، پڑھأی کے زمانے میں ہماری بھی کچھ تھیوریاں

تھیں جن میں انسان کی پیدأیش اور اس کا لوح محفوظ و عالم الارواح سے تعلق، روح کا حمل کے چوتھے مہینے میں پھونکا جانا، اسلام میں چار

نکاح کا جأیز ہونا، خنزیر کے گوشت کی حرمت، ایک انسان کا دو جگہوں پر بیک وقت ظاہر رہنا، خلاء میں صلوٰۃ اور صوم کی پابندی وغیرہ

وغیرہ۔ گو کہ ان تمام چیزوں کو سمجھنے کے لیے ہر قسم کی ریسرچ کی اور علماء سے بھی اس بارے میں جتنی معلومات کر سکا کیں ۔ آخرکار یہ

سب کچھ میرے اپنے دل کو اللہ کی عبودیت سے سرشار کرنے کے لیے تو کافی ہے لیکن ان خیالات کو اگر میں دین کی تعلیم کا حصہ بنا کر اپنے

بچوں کو سکھانا شروع کر دوں تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ بھی اپنا صاف ذہن استعمال کر کے اللہ تعا لی کی اس کأینات

کو سمجھنے کی کوشش کریں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم،۔<br />
ویسے شروع تو میں بھی آپ کے<br />
imagin(a)ry<br />
کے استعمال سے کرنا چاہتا تھا لیکن ذکریا بھأی کا تبصرہ دیکھ کر کہا چلو جانے دو۔<br />
یہ بات آپ کی کسی درجے صحیح ہے کہ ہم لوگوں نے دین سکھانے کا کام بھی سکولوں پر چھوڑ دیا ہے۔ اصولاً تو ہمیں خود پہلے دین سیکھنا</p>
<p>چاہیے اور پھر اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے۔ لیکن جن باتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ کؤی علم نہیں قیاس آرأی ہے جس کے صحیح ہونے پر</p>
<p>آپ کو خود یقین نہیں ہے۔ آپ اسے دین کا نظام سمجھنے کہ مد میں<br />
brainstorming<br />
تو کہ سکتے ہیں مگر اپنے بچوں کو یہ خیالات دین کا حصہ بنا کر نہیں سکھا سکتے۔ ہر انسان اپنے طور کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس نظامِ</p>
<p>کأینات کو حل کرنے کا کؤی فارمولا ڈھونڈ لے لیکن صحیح حل تو انہیں لوگوں کو ملتا ہے جنہیں اللہ توفیق دے۔<br />
آپ نے جو<br />
parallel universes and multiverses<br />
کا ذکر کیا ہے یہ سوچ کؤی نٔی نہیں ہے۔ غیر مسلم لوگوں سے پہلے مسلمان علماء نے بھی ان خیالات کا ذکر کیا ہے لیکن ایسے تجزیے کبھی اجماع</p>
<p>نہیں بن سکے۔ واللہُ اعلم ۔ اصلیت تو خدا ہی جانتا ہے۔<br />
اب سوچنے کی  بات یہ ہے کہ کیا اس طرح کی قیاس آرأی کا کؤی فأیدہ ہے؟ میرے ذاتی خیال میں انسان کی اس طرح کی قیاس آرأییوں کی مشق</p>
<p>بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی مشق سے انسان اپنے دماغ کی سرحدوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ کؤی بھی شخص</p>
<p>اس مشق میں پڑے، اس کو دین اور عقیدے کے بنیادی اصول سیکھ لینے چاہیٔں تاکہ اس کو اِس بات کا بھی احساس رہے کہ کہاں وہ شرعی سرحد</p>
<p>عبور کر رہا ہے۔<br />
ابھی کچھ عرصہ پہلے ذکریا بھأی نے ایک مضمون کا لنک حور کے حوالے سے آپ کے بلاگ پر تبصرے میں دیا تھا۔ اُن صاحب کی سوچ اگر آپ</p>
<p>ملاحظہ کریں تو وہ بھی انسانی حدوں کو چھونے کی مشق کرتے ہیں جن میں وہ کسی رسمی سوچ کا لحاظ نہیں کرتے، نہ ان کو کؤی احساس ہے</p>
<p>کہ ان کی تحریریں اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اڑا رہیں ہیں ۔ شرک کی بات کو بھی ایسے پیش کرتے ہیں جیسے اس کأینات کو سمجھنے کا کؤی</p>
<p>نیا زاویہ ہو۔ پھر اس پر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کؤی مجھے ان خیالات کے طفیل مرتد سمجھتا ہو تو میں مرتد ہی سہی۔<br />
انسان کی سوچ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھتی ہے اور انسان کی سوچ بت میں خدا بھی دیکھتی ہے۔ اس لیے فقط سوچ ہی حق جاننے کے لیے کافی</p>
<p>نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایمان اور دین و عقیدے کی بنیادی تعلیم بھی ضروری ہے۔<br />
جس طرح سے آپ نے جنوں کی تھیوری سأینسی اصولوں کے تحت حل کرنے کی کوشش کی ہے، پڑھأی کے زمانے میں ہماری بھی کچھ تھیوریاں</p>
<p>تھیں جن میں انسان کی پیدأیش اور اس کا لوح محفوظ و عالم الارواح سے تعلق، روح کا حمل کے چوتھے مہینے میں پھونکا جانا، اسلام میں چار</p>
<p>نکاح کا جأیز ہونا، خنزیر کے گوشت کی حرمت، ایک انسان کا دو جگہوں پر بیک وقت ظاہر رہنا، خلاء میں صلوٰۃ اور صوم کی پابندی وغیرہ</p>
<p>وغیرہ۔ گو کہ ان تمام چیزوں کو سمجھنے کے لیے ہر قسم کی ریسرچ کی اور علماء سے بھی اس بارے میں جتنی معلومات کر سکا کیں ۔ آخرکار یہ</p>
<p>سب کچھ میرے اپنے دل کو اللہ کی عبودیت سے سرشار کرنے کے لیے تو کافی ہے لیکن ان خیالات کو اگر میں دین کی تعلیم کا حصہ بنا کر اپنے</p>
<p>بچوں کو سکھانا شروع کر دوں تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ بھی اپنا صاف ذہن استعمال کر کے اللہ تعا لی کی اس کأینات</p>
<p>کو سمجھنے کی کوشش کریں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: میرا پاکستان</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-579</link>
		<dc:creator>میرا پاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Jun 2007 03:26:49 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-579</guid>
		<description>واپسی کی فکر دل سے نکال دیں۔ یہاں ایک دفعہ جو آجاتا ہے وہ باکس میں بند ہو کر ہی جاتا ہے۔ ویسے آج کی باتیں آپ کی دلچسپ ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>واپسی کی فکر دل سے نکال دیں۔ یہاں ایک دفعہ جو آجاتا ہے وہ باکس میں بند ہو کر ہی جاتا ہے۔ ویسے آج کی باتیں آپ کی دلچسپ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: زکریا</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/comment-page-1/#comment-574</link>
		<dc:creator>زکریا</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Jun 2007 00:54:08 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.badtamiz.com/blog/2007/06/28/imagine/#comment-574</guid>
		<description>Imaginary kids? I don&#039;t have the imagination to imagine that :-P</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>Imaginary kids? I don&#8217;t have the imagination to imagine that <img src='http://www.badtamiz.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_razz.gif' alt=':-P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
