معاشرہ

معاشرہ عجیب سا ہے۔ اس پر انگلی اٹھائیں تو کہتا ہے کہ میاں سوچ کر انگلی اٹھانا باقی کی تین انگلیاں تمہاری اپنی طرف اٹھی ہوئی ہیں۔ میں اگر چپ ہو جاؤں اور آگے سے نہ کہوں کہ آپ  نے جب کاؤنٹر انگلی اٹھائی تو آپ کی بھی تین انگلیاں خود آپ کی طرف اٹھ گئیں تو سمجھا جاتا ہے کہ شائد جواب نہیں ہے۔ اس میں سب سے مزہ تب آتا ہے جب یہی بات کوئی تیسرا کہہ جاتا ہے :P

میں عام طور پر پس پردہ رہنا پسند کرتا ہوں۔ مجھے خود کو نمایاں کرنا یا اپنے قصے سنانا سخت ناپسند ہے۔ ایسے ہی مجھے کسی کے کئے کام کے کریڈٹ لینے کا کوئی شوق نہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے کسی کی کوئی بات بتا رہا ہوں تو شائد وہ میرا ہی کارنامہ ہی ہو۔ میرے متاثرین کے ہر دو طبقے مجھ سے حد درجہ متاثر ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جن پر میں عذاب کی مانند ٹوٹا، ایسے لوگ کہتے ہیں سال ہو گیا سکھ ہے :P اور کچھ ایسے ہیں جن کا مجھ سے حسن ظن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لئے بریک دی گئی ہے۔ حسن ظن والوں کے لئے میں عام طور پر کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں جس سے وہ تنگ آ کر خود ہی مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ تاکہ میں آرام و اطمینان سے حسن زن پر توجہ اور تحریر کر سکوں :P

میں آج کل کم خوابی یعنی نیند کی کمی کے ساتھ ساتھ یادداشت سے محرومی کا شکار ہوں لہذا مجھے سارے ترانے بھول گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک ترانہ تھا ہم زندہ قوم ہیں ہم پائندہ قوم ہیں۔ (بلاشبہ مجھ جیسے اکثر پاکستانیوں کی توجہ ترانے میں موجود خواتین پر تھی) قوم میں سے چند لوگ اچھے ہیں تو باقی؟ ہیں تو قوم میں سے ہی۔ اگر قوم کے اس حصے کو نشانہ بنایا تو تشریح کرنے والوں نے کیسے سمجھ لیا کہ ساری قوم کو برا کہا جا رہا ہے؟

پاکستان کی برائی اور پاکستانی کی برائی میں فرق ہے۔ پاکستانی ملک کی بدنامی کرتے ہیں۔ ان کو کچھ کہا جائے تو برا پاکستان بن گیا؟ پاکستان کی برائی ہو گی کہ اس کی گندگی کی تصاویر چھاپی جائیں یا ایسے لوگوں کو پاکستانیوں کے قصے سنائے جائیں یا پاکستان کی برائیاں اجاگر کر کر کے بتائی جائے لوگوں کے روئیوں کے بارے میں یا اس کی پولوشن اور گندگی کے بارے میں۔ یہ ہے میرے نزدیک پاکستان کی برائی۔ اگر پاکستانیوں کے عزت افزائی انہی پاکستانیوں کے منہ پر کی جائے تو یہ ان کی عزت افزائی ہے پاکستان کی نہیں اور اس کا جواب داخل کرنے کا حق ان کو ہے اور اس کے حل کا کوئی بتا کر شکر گزار کرنا چاہے تو ویلکم

اللہ بخشے میرے ایک عزیز تھے۔ ان کو ہم بچوں کا آئس کریم اور پراٹھے کھانا سخت نا پسند تھا۔ ساتھ میں ان دنوں فوج کے ڈرامہ لگتے تھے اور کشمیر کے۔ (کبیل کافی بعد میں آئی تھی) وہ ان ڈراموں کے بھی سخت خلاف تھے۔ مزے کی بات یہ کہ ہمارے چھاپے سے پراٹھا اٹھا کر کھاتے ہوئے فرمایا جاتا تھا کہ پراٹھا صحت کے لئے اچھا نہیں معدہ میں جا کر ہضم نہیں ہوتا :p اس کو پانی میں رکھ دو صبح دیکھ لینا روٹی گل چکی ہو گی یہ نہیں۔ بندہ اس وقت بھی احترام کے مارے نہیں کہتا تھا کہ آپ اس وقت پراٹھا کھا رہے ہیں۔ ساتھ میں یہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھتے تھے اور بلاناغہ بیان فرماتے تھے کہ ڈرامہ کا مطلب ہے جھوٹ۔ فریب۔ دھوکہ۔ (اپنے اقتدار کے عروج پر انہوں نے کبھی ڈرامہ دیکھنا نہیں دیا تھا۔ ٹی وی ہمیشہ 8:55 کے بعد لگتا اور خبریں ختم ہوتے ہی بند ہو جاتا) :P اب اس وقت بھی میں نہیں کہتا تھا کہ سر آپ روزانہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بڑے شوق سے ڈرامہ دیکھتے ہیں۔

ایک بات میں کہتا چلوں کہ میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے اور اب ایک محترم بندے سے سن لیا۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی بھی ملک میں متوسط طبقہ سب کچھ کرتا ہے۔ غریب محنت مزدوری سے فرصت نہیں پاتا اور امیر عیاشیوں سے۔ لہذا اگر آپ متوسط طبقہ کو فائیو سٹار ہوٹل میں بھر کر کسی امداد کی درخواست کریں تو وہاں وہ مدد کریں گے اور ان کو کسی گورنمنٹ اسکول میں جمع کر کے امداد مانگیں تو یہ مدد کریں گے۔ ایسے ہی امیر اولاد کو دونوں جگہوں میں جہاں مرضی بھر دیں ان پر اثر نہیں ہونا۔ لہذا اثر ان جگہوں کا نہیں ان جگہوں پر پائے جانے والے لوگوں کا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے مجھے اٹھائے گئے سوالات کا جواب نہیں مل سکا۔ بجائے اس پر کوئی سوچنے پر مجبور ہوتا یا مجھے کسی قسم کی مفید معلومات فراہم کر سکتا۔ اعتراضات سامنے آئے۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ شائد اس قسم کی باتیں نازک طبع پر ناگوار گزریں لیکن گرمیوں میں شمسی طوفانات کے اثرات ہم پر زیادہ نمودار ہوتے ہیں۔ ایسے میں شیطانی دماغ زیادہ چلتا ہے ساتھ  میں نہ معاف کیا جاتا ہے نہ بھولا جاتا ہے۔ لہذا ملک و قوم کے ہر مسئلہ :P پر شدید تنقید ہو سکتی ہے۔ البتہ محترم لوگوں پر گرج چمک سے احتراز کیا جائے گا۔ میں گزارش کرونگا کہ مجھے میری کمیوں سے آگاہ کرتے رہیں۔

 

Popularity: 7% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 7% [?]

235 views

 

 

Related Posts

    None Found


2 Responses to “معاشرہ”

  1. 1 اجمل

    آپ کے تمام سوالوں کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ مطالع کیجئے تاریخ کا صرف ماضی کی نہیں حال کی تاریخ کا بھی ۔ تاریخ صرف بادشاہوں یا حکمرانوں کی نہیں ہوتی ۔ ہر علاقہ ہر شہر ہر گاؤں کی ہوتی ہے ۔ ہر گروہ ہر شخص کی ہوتی ہے اور ہر چیز کی بھی ہوتی ہے خواہ وہ متحرک ہو یا ساکن ۔

  2. 2 بدتمیز

    سلام
    اجمل انکل میری تو کوشش ہے لیکن بعض دفعہ انسان مایوس ہو جاتا ہے۔ امید کی کرن نظر نہیں آتی یقین مانیں ہمیں قتل کرنا ان کے لئے ذرا مشکل نہیں۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 367965

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->