حیران میں بھی ہوں
170 views Published June 16th, 2007 in اردو.کچھ لوگ میرے بہت محترم ہیں۔ لیکن انہوں نے کچھ باتیں ایسی کیں کہ مجھے حیرانی ہوئی۔ میں یہ بات پہلے لکھ چکا ہوں کہ ہمارا معاشرہ سویا پڑا ہے اور (بشمول ارد گرد کے ممالک) دو چیزوں کے لئے زندہ ہیں ایک پیٹ دوسرے جنس۔ اس کے علاوہ نہ تو کچھ سوجھتا ہے نہ کچھ سوجھنے دیا جاتا ہے۔ ہم سب ایک بہت بڑے انڈے میں بند ہیں جس کے اندر ذیلی انڈوں میں سوئے پڑے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں لگتی نہ لگ سکتی ہے۔ نہ میں نے خدا کو سنا ہے نہ آپ نے پھر ہمیں کیا علم کہ کونسی بات اسلام کے خلاف ہو گئی اور کونسی نہیں؟ میں ایسے خدا کو مان ہی نہیں سکتا جو کچھ سو سالوں قبل تو کوئی جانور پیدا کر سکتا تھا لیکن اب آ کر وہ کوئی نئی تخلیق نہیں کر سکتا۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے خدا کو بہت کم وقعت اور طاقت عطا کر رکھی ہے۔ حلق سے سو دفعہ نکال لیں کہ اے اللہ تو سب پر قادر ہے اگر ایمان نہیں اس بات پر تو کوئی فائدہ بھی نہیں۔
ہلاکو خان جب بغداد کو تار تار کر گیا تو میرے تو خیال سے اس نے دنیا کے لئے بھلائی کا کام کیا ورنہ ہم ابھی تک اس بحث پر لگے ہوتے کہ سب سے اچھا سر کونسا ہے اور کونسی خادمہ زیادہ اچھا ناچتی ہے اور کوا حلال ہے یا حرام۔ کسی بھی بدکردار اور تقریبا کافر حکمران کے لئے چند سو سالوں میں اچھا بننے کے لئے کافی ہے کہ وہ مسلمان تھا۔ نام کا نا؟ کتنے پاکستانیوں کو علم ہو گا کہ عرب ممالک میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد بستی ہے؟ ان کو یہ تک تو علم نہیں کہ ان ممالک کی سو فیصد آبادی مسلم نہیں۔
آپ دیکھیں آپ کو عام ایسے مذہبی پمفلٹ ملیں گیں جس میں ایسی تیر بہدف دعائیں ملیں گیں کہ یہ دعا پڑھنے سے ایسے ایسے تمام گناہ معاف۔ یا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخشش کروا دیں گیں۔ ایک منٹ کو سوچیں یہ جملہ ہو بہو عیسائیوں کے عقیدے جیسا نہیں کہ حضرت عیسی علیہ سلام ان کی بخشش کروا چکے ہیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ گناہ کرتے پھریں اور کسی چھوٹی سی نیکی کی وجہ سے آپ کے گناہ معاف۔ اگر آپ نے نافرمانی کی لیکن لوگوں سے بھلا معاملہ رکھا تو پھر تو شائد ہو جائے لیکن ہم تو ہیں ہی زیادتی اور ناانصافی کے معاشرے کے باسی۔ قدم قدم پر تو ظلم ہے پھر کیسی بخشش اور کہاں کی بخشش ویسے بھی یہ وعدے مظلوموں سے ہیں۔
Survival of the fittest ایک بہت مزے کی تھیوری ہے جو کہتی ہے کہ صرف پرفیکٹ زندہ رہ جاتے ہیں اور کمزور مارے جاتے ہیں۔ چونکہ انسان نے اخلاقیات اور ایسی دوسری چیزیں گھڑی ہوئی ہیں لہذا اپنی ناکامی اور نشہ کر کے سونے، خواتین کے گودوں میں بند رہنے اور تقریبا ہیجڑہ بن کو دوسروں کے ظلم اور مکاری کا نام دے رکھا ہے۔ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر کسی خاتون پر ظلم ہو رہا ہے اور کوئی مرد اس کی مدد نہ کرے تو وہ کیا ہوا؟ نامرد۔ اگر مسلمانوں کے عالم قتل ہو رہے تھے اور ان کی کتابیں دوسرے اپنے نام سے چھاپ رہے تھے تو میرے آباؤاجداد جو اسی ملک اور اسی قوم سے تھے وہ کہاں تھے؟ اور اس سے پہلے کے مسلمان اپنے اپنے زمانے میں کہاں تھے؟ وہ بالکل وہی کر رہے تھے جو ہم آج کر رہے ہیں۔ چپ ہیں اور پیٹ اور عورت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
یہ صرف مسلمانوں کے حوالے سے تھوڑا کیا گیا؟ انسان ایک جانور کا نام ہے۔ گورا ہے تو انگریز ہو گیا کالا ہے تو افریقی۔ انگریز نے کیا یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ کیا؟ وہ افریقہ گیا تو اس نے کالوں کو مارا۔ آسٹریلیا گیا تو ایب اوریجن کی شامت آئی اور امریکہ میں گھسا تو ریڈ انڈین کا صفایا کیا۔ تو پھر یہ صرف مسلمانوں کے خلاف کیسے ہو گیا؟ یہ سب ظلم تھا لیکن سوچا کہ کیوں؟ انگریز ترقی کر چکا تھا۔ دوسرے اس کے معیار کے جتنے ترقی یافتہ نہیں تھے۔ معاشرتی فرق ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور غصہ پیدا کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں دیکھ لیں امیر اور غریب کا فرق۔ اب جیسے ہمارے معاشرے میں غریب اور امیر آپس میں رشتہ نہیں کر سکتے تو پھر اتنے بڑے فرق کے ساتھ انگریز اور دوسری قومیں کیسے رہ سکتیں؟ ترقی ہمیشہ اس کے ساتھ نہ چلنے والوں کو کچل دیتی ہے۔
انگریز انگریز مچائی ہے لگتا ہے کہ افریقہ اور افغانستان ابھی تک دیکھا نہیں ہوا۔ ان جگہوں کو دیکھیں تو صحیح۔ انگریز جب آیا تو اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ ریل مسلمانوں کے لئے بچھانی ہے۔ یہ مسلمانوں اور خاص طور پر برصغیر کے مسلمانوں کی خصلت ہے جو ان میں ہندؤں سے در آئی کہ ہندو پانی ہے اور مسلم پانی ہے ہم ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے اور بے جان چیزوں کے بھی مذاہب ایجاد کر دئے۔ انگریز جب امریکی سرزمین پر اترا تو اس تقریر میں ایک بات بڑی اہم تھی۔ اگر امریکی ہسٹری کی ابتدا پڑھیں تو اس میں لکھی ہے کہ ہم اپنے آپ پر کیسے حکومت کریں گیں۔ اور مسلمانوں کا حال ہے کہ ان کو ہمیشہ خود پر حکومت کرنے کے لئے ان مینڈکوں کی طرح باہر کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جو شہتیر کو پسند نہیں کرتے تو پھر بگلا بھیجا جاتا ہے۔
انگریز کے بارے میں مشہور ہے اور بالکل درست ہے کہ یہ سو سال کی پلاننگ کرتا ہے۔ جب انگریز نے کسی جگہ پر قبضہ کیا تو اس کو اچھی طرح علم تھا کہ قبضہ ہمیشہ برقرار نہیں رہتا یہ ایک دن ختم کرنا ہوتا ہے۔ انگریز کو جانئے تو صحیح اس کو علم ہے کہ جہاں سے منافع لینا ہے وہاں کچھ لگانا بھی ہوتا ہے۔ ریل کی پٹریاں وہ تو نہیں لے جا سکا لیکن ہم بھی تو نہیں بچھا سکے۔ اس کو اچھی طرح علم تھا کہ کل کو اس جگہ پر انہی لوگوں کے بیچ میں سے لوگ منتخب کر کے حکومت کرنی ہے۔ وہ انفراسٹرکچر چھوڑ گیا یہ اس نے اپنے لئے کیا کہ یہاں اس کی منڈی تھی لیکن اس کو نہیں پتا تھا کہ اس سے یہ لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گیں؟ یہ صرف مسلمانوں کی خصلت ہے کہ وہ دوسرے کے نقصان کے لئے اپنا فائدہ بھی ہاتھ سے جانے دیتا ہے۔ باقی قومیں ایسا نہیں کرتیں اگر ان کو فائدہ ہو رہا ہوتا ہے تو وہ ضرور اٹھاتی ہیں۔
مجھے کچھ لوگ لادین سمجھتے ہیں اور کچھ کے نزدیک میں مسلمان گھرانے میں مشرک ہوں۔ مجھ سے تو ایسے ایسے لوگ بھی ٹکرائیں ہیں جن کا فرمانا تھا کہ تم اپنے گھر کے باہر مسجد میں کیوں نماز نہیں پڑھتے وہاں دوسری مسجد کیوں جاتے ہو؟ دل تو بہت چاہا کہ کہوں اپنا خطبہ دیکھو اور اس کا خطبہ لیکن مروت کے مارے چپ رہا۔ مجھ سے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب تمہاری بات سمجھ نہیں لگتی تو تم کیوں چھیڑ بیٹھتے ہو تو میرا جواب ہوتا ہے کہ پرواہ کسے ہے؟ لیکن جب کچھ لوگ جنکے بارے میں گمان ہوتا ہے کہ وہ ضرور سمجھیں گیں نہیں سمجھتے تب حیرانی ہوتی ہے۔ مسلمانوں نیند میں بھی جاگنے کے ترانے گائے جا سکتے ہیں لیکن جاگ کر کچھ کر دیکھانا اور نشہ کر کے ترانہ گانے میں فرق ہوتا ہے۔ ویسے ترانا گایا جاتا ہے نہ؟
Popularity: 31%
Popularity: 31%
170 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









ایک مخلسانہ مشورہ یہ ہے کہ اپنی پوسٹ کی لمبائی ذرا کم رکھیے تا کہ پڑھنے والے کو زیادہ بوریت نہ ہونے لگے۔
جذبات کو ٹھنڈا رکھ کر مطالعہ کیجئے تاریخ کا اور الہامی کتب کا بھی ۔ سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔ مسلمانوں اور پاکستانیوں کو برا کہنے والے بہت ہیں اور ان میں خیر سے مسلمان اور پاکستانی بھی شامل ہیں جو اپنی قوم یا ملت کی اصلاح کی بجائے انہیں برا کہنے میں اپنی نجات سمجھتے ہیں ۔
دیکهیں آپ کچھ مطالعه کر لیں قران کا ـ
اللّە ہر چیز پر قادر ہے ـ
اس میں کوئی شک نہیں مگر اللّه کا ایک طریق ہے ـ
جو کبهی بهی نہیں بدلتا ـ
آپ اس طریق کو فائینڈ اوٹ کر نے کی کوشش کریں ـ
الله بادشاه کا طریق ہے که ایک چیز بنا کر دیتا ہے ـ
اور پهر اس مین ترامیم نہیں کیا کرتا ـ
کن فیکون کا معنی صرف ”هو جا ”هی نہیں بلکه هو اور هوتی چلی جا کے هیں
اور اس حکم میں اس کے سارے کوڈ شامل کردیے گیے هیں ـ
جن میں سے ایک کوڈ یا چیز میں آپ کو بتاتا هوں که ہر چیز کو کمزور پیدا هو گی اور بهر جوانی کا زور پکڑے گی اور پهر کمزوری کی طرف مائل هوگی ـ
اب ایک جیز یه چاہے که اس کی تخلیق سے یه کوڈ نکال دیا جائے تو یه نہیں هوگا که اللّه سائیں آپنے آئین میں ترامیم نہیں کیا کرتے ـ
چاہے مخلوق کی یه چیز کتنی هی عبادت کرے یا مسلمان کهلوائے یا کچھ اور ـ
ہر چیز پر قادر جو کسی کو بهی جواب ده نہیں ہے اس صاحب نے خود سے خود پر یه طریق اپنایا ہے که ایک بنی چیز میں تبدیلی کا جو اصول مقرر ہے اس کے علاوه تبدیلی نہیں هو گي ـ
اس لیے بندر بندر هی رہے گا اور انسان انسان هی رہے چاهے وه کتنا ہی خود کو بدتمیز کہلوائے ـ
اللّه جی هوسکتاہے که کتنی هی اور کائناتیں بنا دیں اور ان کے کوڈ ہماری کائنات سے مختلف هوں ـ
مگر یه نہیں هوسکتا که اک بنده ضد کر جائے که آب اللّه کچھ بنا کر کیوں نہیں دیکهاتا تو اس کو دیکهنے والی نظر چاهیے ـ
جانوروں کی کلوننگ بر کتنو هی ملکوں میں کتنے هی سائنسدان کتنے هی سالوں سے تجربات کر رہے تهے مگر جب ایک برطانوی نے کامیابی کا اعلان کیا تو سارے هی دوسرے سائنسدانوں نے بهی آپنی آپنی کامیابی کا اعلان کردیا ـ
یه کیا ہے ؟؟
یه قادر مطلق کا پرمیشن ہے جب آیا تو سب کے لیے جب نہیں تها کسی کے لیے بهی نہیں تها ـ
وارث شاھ دا بولنا بهید اندر دانشمند نوں غور ضروری اے ـ
باقی فیر کدی سہی
سلام
میرا پاکستان: ٓٓپ کے خلوص کا تہہ دل سے شکرہ۔ نصیحت پر عمل کرنے سے میر جان جاتی ہے۔ کر سکا تو ضرور
اجمل انکل: میں تو جذبات کو ٹھنڈا ہی رکھتا ہوں۔ چلیں مٰں نشاندہی کرتا ہوں آپ سلوشن یعنی حل بتاتے جائیں۔
خاور: نہیں مجھے اس کی قدرت پر شک نہیں،۔ لیکن یہ ہمارا ایمان بن گیا ہے کہ اللہ سے معمولی کام کرنے ہیں باقیوں کے لئے ادھر ادھر دیکھنا ہے۔