اخباری باتیں
159 views Published June 14th, 2007 in پاکستان نامہ, کیوں؟.اخباری باتیں۔ اردو اخباروں کے لکھاری بہت کچھ لکھتے ہیں اور آدھا خود سے ڈالا ہوتا ہے۔ کیا کریں جی چھوٹے ملک کے لوگ جس کے پاس سوئی بنانے تک کا فن تو ہے نہیں تو خبر ہی بنا لیتے ہیں بڑی بات ہے۔ یہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی باتیں ہیں جو جمع ہوئی ہوئی تھیں اور بہت سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور نہ کریں تو کم از کم کچھ جوابات ضرور دیں گیں۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ ڈارون کا نظرئیہ ارتقا شائد درست ہو۔ اور ہماری کم علمی اور تعصب ہمیں مذہب بیچ میں ملا کر اصلیت جاننے سے دور رکھ رہا ہو۔ اس پر کسی نے لکھا تھا کہ ہارون یحیی کی کتب کا مطالعہ کروں۔ میرے ساتھ مسئلہ کچھ دوسرا ہے۔ ایک تو وقت نہیں کہ کوئی کتاب ان دنوں پڑھ سکوں۔ دوسرے یہاں اکثر کتابیں ملتی نہیں۔ میں ڈارون کا نظرئیہ ارتقا اس طرح تو نہیں مانتا کہ انسان بندروں سے نکلا یا یک خلوی سے کثیر خلوی بنتے گئے اور پھر کچھ نے زمین پر دوڑ لگائی تو کچھ نے پانی میں ڈبکی لگائی۔ کوئی بھی سائنسی تھیوری نہ تو مکمل طور پر غلط ہو سکتی ہے نہ ہی مکمل طور پر غلط۔ ویسے بھی جتنی سائنس اسلام کی تصدیق کر دے وہ سچی بن جاتی ہے باقی جھوٹی۔ سائنس کے حوالے سے یاد رکھیں کہ اس میں حرف آخر نہیں ہوتا جبکہ مذہب میں حرف آخر ہوتا ہے۔ آج سائنس کسی مذہبی نظرئیہ کی تصدیق کرتی ہے تو کیا پتہ کل وہی چیز نفی کردے تو پھر؟
چند ماہ پہلے ایک رپورٹ سی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ اگرچہ انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ بلاشبہ سمجھ میں آنے والی تھی کہ پہلے قدرتی طور پر چھانٹی ہوتی تھی کمزور جلد مر جاتے تھے اور طاقت ور مدافعتی نظام والے زندہ رہتے تھے۔ بچے پیدا کرتے تھے اس طرح سلسلہ چلتا رہتا تھا لیکن اب چونکہ ہر کسی کو بچا لیا جاتا ہے لہذا مجموعی طور پر مدافعتی نظام کمزور ہے اور کسی بھی بیماری کے وبا بن کر پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
میری معصومیت
کو قائم رکھنے کے لئے
ساحل سمندر پر مارچ کی ٹھنڈ میں لے جایا گیا۔ جہاں حسینوں کے جھرمٹ دیکھنے کے بجائے دیکھنے کو ملے سی گل۔ یہ چھوٹا سا پرندہ مجھے تو ان سی گل سے زیادہ بھاری لگا جو کہ میرے شہر میں ڈمپ ٹرک اور وال مارٹ کے گردونواح میں نظر آتا ہے۔ (وال مارٹ پر ایک مصنوعی جھیل بنی ہوئی ہے اور اس کے اطراف سے کوڑے کے ڈمپ ٹرک گزرتے ہیں) یہ پرندے ساحل سے ہجرت کر کے ادھر آئے ہوئے ہیں اور نہ جانے کب سے شہر میں رہ رہے ہیں۔ یہ جسامت میں ساحل والوں سے چھوٹے ہیں۔ اور میرا نہیں خیال یہ اس طرح سمندر سے مچھلیاں پکڑ سکتے ہونگے۔ کیونکہ یہ کوڑے سے کھانے پینے والے چیزوں پر پلتے ہیں اور ان کو نہ تو ویسی مشقت کرنا پڑتی ہے تو کیا خیال ہے ان کے پر اور اڑان ساحل پر رہنے والوں سے کمزور ہو گی؟ کیونکہ ان کی مچھلی اٹھا کر اڑنے کی پریکٹس نہیں۔
پاکستان میں ایک عام سی بات ہے کہ جی پہلے زمانے میں 9 گز لمبے بندے ہوتے تھے یا پھر فلاں قبرستان میں اتنے گز لمبی قبریں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ خود بہت سے علما کا بیان ہے کہ پہلے زمانے میں قد زیادہ لمبے تھے۔ اکثر سائنسی جریدوں کی رپورٹس کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اوسط قد میں کمی ہوئی ہے تو اگر اس کو سچ مانیں تو کیا یہ کسی حوالے سے ڈارون کو درست نہیں قرار دیتی کہ چیزوں کی ہئیت تبدیل ہو رہی ہے؟ ویسے کیا اللہ اتنی بھی قدرت نہیں رکھتا اور ایک دفعہ پیدا کر کے نئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا کہ وہ کوئی نئی قسم کا جانور پیدا نہ کر سکے؟ :-o
پھر ایک عجیب سا روئیہ ہے اس ہزار سال کے ہند و پاک پر مسلم اقتدار کے۔ بچے ہوتے ہیں تو ان کو اچھائیاں دیکھائی جاتی ہیں بڑے ہوتے ہیں تو برائیاں۔ بچہ (میرے جیسا عقل کا دشمن بچہ) پریشان ہو جاتا ہے کہ ہماری قوم اس سے باہر ہی نہیں نکلتی۔ جہاں کسی قوم کو شکست دی وہاں ہیرو بنا دیا جہاں گھر گیا وہاں اس کے حرم اور بھائیوں کا قتل شروع ہونے کے قصے۔ دیکھیں یہ دنیا کا قانون ہے اقتدار پر ہمیشہ طاقتور قابض ہوتا ہے تو اس سے مسلم حکمران مبرا کیوں؟ اگر خود قتل کرے تب بھی برا اور اگر سیلف ڈیفنس میں قتل کرے تب بھی برا۔ کیونکہ آپ دوسرے کو راہ سے نہیں ہٹاتے تو وہ ہٹا دے گا۔ یہ سب تو ہونا ہی ہے۔ حرم کے قصے بیان کرنے میں لوگوں کو بڑا لطف ملتا ہے۔ کونسا حکمران ایسے کام نہیں کرتا؟ اپنی ذہنی تسکین کے لئے نہ جانے کیا کیا جوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک پتہ نہیں کونسے نواب صاحب ہیں یہ نہ جانے کیوں تاریخ پر کچھ لکھیں تو ان کو فضول باتوں کے سوا کام نہیں۔ ہم لوگ سوئے پڑے ہیں اور ماضی کو ہر دو طریقوں سے یاد کر کر کے آہیں بھرتے ہیں۔
یہودیوں کے خلاف ہم اجتماعی دوستی اور انفرادی دشمنی کے قائل ہیں۔ اس پر کبھی متفق نہیں ہوتے۔ کچھ ان کے خلاف باتیں کرنے سے فرصت نہیں پاتے اور کچھ اس سب کو جھٹلانے سے۔ قطع نظر کہ ہالو کاسٹ میں کیا ہوا اور کتنے مارے گئے۔ اگر یہ قتل درست اور خدا کی مرضی سے تھا تو کیا آج مسلمانوں کا قتل درست اور خدا کی مرضی سے نہیں؟ میں ان دونوں قتل عام کو مسلمان اور یہودی کی لڑائی کی بجائے کمزور کی موت کے حوالے سے دیکھتا ہوں۔ جب یہودی کمزور تھے اور ترقی میں ان کا کچھ کردار نہیں تھا تو ان کو قتل کیا گیا۔ آج مسلمان کا دنیا کی ترقی میں کچھ کردار نہیں تو پھر کمزور نے فنا ہی ہونا ہے۔ آپ آج طاقت حاصل کر لیں اور مجھ سے لکھوا لیں آپ نے دوسروں کا قتل عام شروع کر دینا ہے۔ ذرا ہیجڑوں سے فرصت حاصل کریں پھر دیکھیں آپ خود کیا کریں گے۔
ایسے ہی برٹش کی عزت افزائی کی جاتی ہے کہ جی جہازوں میں آئے اور ساری دنیا کو لوٹا قبضہ کیا۔ میں لاہور میں جوتے گھسا رہا تھا تو عمارات دیکھ کر چند دوستوں کو کہا کہ یار اگر برٹش نہ ہوتا تو ہم ابھی تک افریقہ کی طرح ہوتے۔ کچھ محب وطن (نام کے) میرے پیچھے پڑ گئے باقی سمجھنے والے سمجھ گئے۔ برٹش نہ ہوتا تو ہم ابھی تک ریل کی جان کو روتے۔ یہ ساری کپمنیاں چین میں ہوتیں اور چین ہماری گود میں (ابھی بھی ہے) عیش کر رہا ہوتا۔ اگر برٹش افغانستان پر قبضہ کر لیتا تو اس کو بھی ریل کا تحفہ دے دیتا جو ابھی تک نہیں دیا جا سکا۔ ریل کے ذکر پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے لئے کیا لیکن کیا مجموعی طور پر اس نے علاقے کی بہتری نہیں کی؟ کیا ہم افغانستان سے لاکھوں درجہ اچھے نہیں رہے؟ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا اس نے کچھ لیا تو دیا بھی۔ تعصب سے اس کے ہر کام کو برا دیکھایا جاتا ہے۔ لہذا اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کی عادت ڈالیں۔
ماضی کو یاد کرنے یا پھر ایسی سوچیں پالنے کہ جب وہ بنا لیں گیں تو ہم خرید لیں گے کا ہی ثمر ہے کہ ہمارا آج یہ حال ہے۔ پال فنڈلے نے بہت زبردست بات کی۔ اس نے کہا مسلمان خود اپنے بدتریں دشمن ہیں۔ لہذا کہنا کہ فلاں ہماری دشمن ہے درست نہیں۔ آپ بزدلی کو امن پسندی کا نام دیں۔ سوچیں کہ اسلحہ پر خرچ کم کر کے امن کی باتیں کریں۔ یہ انتہائی بےوقوفی ہے۔
ہمارے اردو اخبارات بدترین صحافت کا نمونہ ہیں۔ چٹ پٹی خبریں اور سیاستدان چھائے ہوئے ہیں۔ اخبار میں مجال ہے کہ کچھ کام کی بات ہو اور ہم لوگ ہیں علم دشمن۔ ہمارے اخبارات میں امریکی اسلحہ کی کچھ ڈیٹیل نہیں شامل کی گئی حالانکہ کسی بھی چیز کے استعمال ہونے پر امریکہ میں ہر اخبار اس کے طریقہ کار پر تفصیلی بات کرتا ہے کم از کم اسی کا ترجمہ کر دیں۔ اسی سے امن کے نعرے اور نہ ہونے کے برابر اسلحہ پر اعتراض کرنے والے چپ ہو جائیں گیں۔ اسی طرح ہمارے لوگ بھی ہیں جاہل۔ نرمی سے سمجھتے ہی نہیں۔ یہ جہلا انگلش کے الفاظ کا اردو ترجمہ ایجاد کے کر ثواب کماتے ہیں۔ (ایک آدھ بزرگ اس سے مستثنیٰ ہیں) یہ ساری توانائی سائنسی جریدوں کے آرٹیکلز اور رپورٹس کا ترجمہ کرنے پر لگا دیں تو کتنا بھلا ہو؟ لیکن ان کو ڈیسکٹاپ اور کرسر جیسے الفاظ کا ترجمہ ڈھونڈنے سے فرصت نہیں۔ ہماری جاہل قوم کے اندھوں میں کانا راجہ مافق یہ لوگ اگر تھوڑی عقل کر لیں تو کیا ہے؟ ان پر سخت تنقیدی حملے کی وجہ کل انڈیا سے آنے والے ایک گجراتی رسالے میں شہد کی مکھی پر ایک مضمون تھا اور اس شخص سے میں نے پوچھا یہ کیا ہے تو اس نے بتایا کہ وہی جس کے بارے میں لکھا تھا کہ لکھونگا اسی بارے میں مضمون ہے۔ ہماری سوئی ہوئی قوم پر اور جہلا پر افسوس
Popularity: 32%
Popularity: 32%
159 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









اپنی قوم پر افسوس کرنے سے پہلے آپ نے سوچا کہ آپ یا کم از کم آپ کے بزرگ اس قوم کے ہی افراد تھے اگر اب نہیں ہیں ۔
آپ کا یہ خیال بھی غلط ہے کہ سائنس کی جو بات قرآن یا اسلام کے مطابق ہو مان لی جاتی ہے اور جو نہ ہو نہیں مانی جاتی ۔ سائنس ایک علم ہے ۔ اگر اسے انسان کی بہتری کیلئے استعمال کیا جائے تو اسلام کے عین مطابق ہے اور اگر اسے انسان کی بیخ کنی کیلئے استعمال کیا جائے تو اسلام کے خلاف ہے سو علم نہیں بات عمل کی ہوتی ہے ۔
سائنس کا ارتقاء مسلمانوں کے دور میں یعنی گیارہویں سے چودہویں صدی میں ہوا ۔ اس کے بعد مسلمان عیاشیوں میں پڑ گئے اور علم کو کھو بیٹھے ۔
ایک فرق مسلمانوں اور غیر مسلموں میں واضح ہے کہ مسلم علمی کتب یا عالموں کو ختم نہیں کرتے جبکہ غیر مسلموں نے ہمیشہ مسلم عالموں کو قتل کیا اور کتب جو ترجمہ کیں وہ اپنے نام سے چھاپ دیں اور جن کا ترجمہ نہ کیا وہ تباہ کر دیں ۔ غرناطہ ۔ اشبیلیہ ۔ تاتاری حملہ کے وقت عراق ۔ انگریزوں کے قبضہ کے بعد ہندوستان اور اب امریکی قبضہ کے بعد پھر عراق اس کی مثالیں ہیں ۔
آپ نے ہمارے ملک کے اخباروں کے متعلق کہانیاں بنانے کا لکھا جو کسی حد تک درست ہے لیکن آپ خود بھی کہانیاں بنانے لگ جائیں تو پھر آپ کو کیا کہا جائے
انسان کیسے بنا یہ قرآن شریف میں واضح ہے کبھی ہمت کر کے پڑھ لیجئے ۔
کبھی کبھی آپ واقعی بدتمیزی پر اتر آتے ہیں اور سب کی برابر خبر لیتے ہیں۔ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ تنقید کیجئے مگر مگر اپنے مخالفوں کی تذلیل نہ کیجئے اس طرح بحث آگے نہیں بڑھتی۔
یاد رکھیں جس طرح آپ نے کہا کہ طاقتور کمزور کو ہمیشہ دباتا آیا ہے اسی طرح حاکم محکوموں کو کمزور رکھتا آیا ہے۔ برٹش نے کبھی بھی یہ سوچ کر ریلوے لائن نہیں بچھائی ہوگی کہ اس سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا یہ خالصتا ان کا کاروبار تھا جس کی وجہ سے انہیں ریل گاڑیوں کی ضرورت پڑی۔ اسی طرح انگریز نے جو بھی اچھے کام کئے صرف اپنے لیے کیے نہ کہ غلاموں کیلیے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اس کے اچھے کام ساتھ جانے کے قابل نہیں تھے وگرنہ وہ سب کچھ اکھاڑ کرلے جاتے۔
اب بھی جمہوریت کے نام پر جو دوسرے ملکوں پر چڑھائی ہورہی ہے کیا یہ مقامی لوگوں کی بھلائی کیلیے ہورہی ہے؟ نہیں یہ صرف اور صرف قابضین کے اپنے فائدے کیلیے ہے۔
ہم بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ طاقت ہی سب کچھ ہے اسی لیے مسلمانوںکو بھی خدا نے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا تھا۔
I can’t agree more with you specially on this nostalgia thing. You are absolutely correct that we are taking lots of things for granted. Globally Muslims as Muslims and Muslims as nations like arabs, pakistanies even indians have no direction. We don’t know what we are doing, what our goals are and all our efforts are being wasted in cursing the west and reminding the world that how great we were. We probably would be great but we are not any more and for people, who think that we are doing great, we are not. You are more than right in saying that British gave everything to us otherwise we would have been like Afghanistan and areas where they couldn’t make into, are like Afghanistan where WANI is like Islamic something. We have contributed nothing in this modern world, absolutely nothing! we are just consumers. It’s really nice to talk about glorious past, it’s heart warming to tell people that we conquer Jerusalem the most holiest place for Christians (I guess the birth place of Jesus Christ) and Jews and still don’t know why they hates us. A large Muslim population believes that Jews have no right to live and that all Muslims will go to heaven and no one else. Well, Allah’s law for this world is simple, Survival for those who are the fittest and the best regardless of their religion and currently we are not quite so fit. Either you accept it and start working from this point forward, or you can tell me “go to hell” which we all are going to see anyway if things remain the same. How badtameez you are telling people that they are living in a fake world.
پاکستان کے نابالغ نعاشرے میں یه بالغ نظری کےسوالوں والی تحریر ـ
آپ امریکه مین بهیے هو ناں جی ـ
سلمان رشدی والا حال هونا تها آپ کا ـ
چلو جی کم کرلیں منٹو والا حال هونا تها ـ
ایک فکشن رائٹر پر کفر کا فتوی هی کافی مخولیه سی بات ہے ـ
کتنے پاکستانیوں نے شیطانی آیات پڑهی هے ؟
تنقید کرنے والوں سے درخواست ـ
معاشرتی کجیوں کی نشاندهی کرنے والے کو سنگسار کرنے کی بجائے معاشرے کی کجیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں ـ
سلام
اجمل انکل: میں اور میرے بزرگ ابھی تک اسی قوم سے ہیں۔ لیکن یہی تو رونا ہے نہ میرے بزرگوں نے کچھ کیا نہ میں کر سکا
کیا آپ بتائیں گیں کونسی کہانی میں نے بنائی؟
میرا پاکستان: کبھی کبھی۔ میں تو ہمیشہ ہی بدتمیزی کرتا ہوں۔ اسی لئے تو بدتمزی ہوں۔ ویسے بڑی خوشی ہوئی آپ گھوڑے تیار رکھنے والی آیت کا صحیح مطلب سمجھتے ہیں۔ نہیں تو لوگ اس کے الگ مطلب نکالتے ہیں
rashid kamran: hahaha very well said, but we dont realise it and islamicism (fake n socalled) wont let us. no body knows the true islam and its lost just like jews holy chest. we start brawling eachother for the sake of islam its so funny to use a foreign made thing and still cursing them. every other nation is contributing their part against muslims but muslims dont curse any body else other than “gora sahab” i want to say “see u in hell” (god frobid)
most probably most of the pppz wud say see u both in hell 
پاکستانیوں کے لئے اتنا کافی ہوتا ہے کہ کسی نے کہہ دیا کہ یہ بات اسلام کے خلاف ہے نہ ان کو اسلام کا پتہ ہوتا ہے نہ بات کا لہذا بندہ مار دیتےہیں۔ ویسے اسی لئے مجھے میڈیا پر غصہ ہے کہ یہ صحیح کام نہیں کر رہا۔
خاور کھوکھر: ہاہاہا بالغ نظری، ابھی کل پرسوں تو مجھے نابالغ جئے ای او کا سرٹیفیکٹ دیا تھا
اس پوسٹ میں تبصرہ کرنے کو بہت کچھ ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ میرا تبصرہ ٓپ کی پوسٹ سے بھی لمبا ہو جائے گا۔
Let’s start with Harun Yahya. You shouldn’t waste money on his books. They are available online. However, they are a regurgitation of creationist talking points. I have written about evolution and Harun Yahya a few times: 1, 2, 3, 4, 5.
You went to the beach in March? The first time I went to beaches in both Florida and California was around Christmas time.
More later.
سلام
زکریا: کچھ تو کرنا تھا۔ مخالفت یا حق میں لیکن کچھ تو

sorry I havent read ur posts yet and i might get some time tommorow.
Yes and i see no reason they would agreeing on to go now though i will ask my cozin to remind them that its summer
About human height, based on fossil and other evidence, it is believed that humans used to be around the same height as we are now 100,000 years ago. Then the agricultural revolution reduced human heights which finally started increasing again in the last century or two. As for our predecessors Homo Erectus, Homo Habilis or the Australopithecus species, I am not sure.