ہمارے ابا جان کی امریکہ سے محبت کا اندازہ لگا چکے ہونگے۔ کام بہت رینگ رینگ کر کیا جا رہا تھا۔ حالانکہ اس سے قبل میں نے دیکھا تھا کہ خاندان میں دو ماہ میں پیپرز مکمل انٹرویو دیا اور یا چلے گئے یا اگلے چھ ماہ کا انتظار (جی کچھ لوگوں کو باہر جانے کا بہت شوق تھا
( خیر پاسپورٹ جب تک بن کر آ نہیں گئے ہم نے اگلے کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اس کی وجہ تھی کہ پولیس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا تھا۔ اس کے لئے پاسپورٹ کی کاپی چاہئے ہوتی ہے۔
اچھے وقتوں میں جب امریکہ نے پاکستانیوں پر دست شفقت نہیں پھیرا تھا اور ساری توجہ سوویت یونین پر مرکوز تھی اس کے بعد روس پر۔ یعنی 1990 سے 95٫96 تک۔ اس زمانے میں پولیس سرٹیفیکیٹ بنوانا مشکل نہیں تھا۔ ایک وکیل صاحب تھے یہ لاہور کچہری کے پیچھے پائے جاتے ہیں۔ اسی آفس میں اشٹام فروش بھی بیٹھا رکھا ہے۔ بس ان کو دے کر آ جائیں یہ اپنی فیس لے کر پولیس سرٹیفیکٹ مہیا کر دیتے تھے۔ اب یہ کام کیپیٹل سٹی پولیس کے کلرکس نے سنبھالا ہوا ہے۔
آپ پہلے تو تصاویر کھینچواتے ہیں۔ امریکی عجیب ڈرامے کرتے ہیں۔ پہلے یہ سائیڈ پوز سے تصویر لیتے تھے۔ تقریبا 45 کے زاویئے سے۔ لطیفہ دیکھیں لاہور کے سٹوڈیو والے کو علم نہیں تھا کہ اب فرنٹ پوز سے لیتے ہیں جبکہ وہ دور بہالپور کے عام سے سٹوڈیو والے کو علم تھا۔ لہذا ہمیں دوبارہ بھی کھینچوانی پڑ گئیں۔ پاکستانی اب سمجھدار ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو وہاں بزنس کر رہے ہیں۔ یہ عام طور پر ویزے کے چکروں میں نہیں پڑتے۔ (ویزہ لاٹری نے ان کو کافی عقل دی تھی کیونکہ یہی فوٹو سٹوڈیو والے سب سے زیادہ ویزہ لاٹری فارم رکھ کر بیٹھے ہوتے تھے۔ میں ایسے فارم بھرنے والوں کو ہمیشہ بےوقوف ترین سمجھتا ہوں یہی نہیں بلکہ کسی بھی قسم کی لاٹری کھیلنے والوں کو۔) لہذا سنتے ساتھ ہی کہ ویزے کے لئے ہے یہ اپنی فیس دگنی کر دیتے ہیں۔ جیسے عام طور پر 60 روپے لیتے ہیں تو اب یہ 100 روپے لیں گیں۔ آپ بھی صدقہ سمجھ کر دے دیتے ہیں۔
کیپیٹل سٹی پولیس میں آپ کو پولیس سرٹیفیکٹ کے لئے فارم لینا پڑتا ہے کلرک سے۔ یہاں پیچھے کافی سارے بیٹھے ہیں۔ یہاں فارم آپ کو حکومت مہیا نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ سارا پیسا کھایا جاتا ہے۔ کلرک بادشاہ آپ کو ایک فارم دے دیتا ہے کہ جاؤ اس کی فوٹو کاپی کروا لاؤ۔ آپ جتنے بندے ہیں اتنی فوٹو کاپی کروا لائیں۔ ہم لوگ 5 تھے میں نے اس کو 10 کروا کر لا دیں۔ اس نے مجھے حیرانی سے دیکھا پھر کہتا وہ ذرا فارم ختم ہوئے ہوئے ہیں۔ (تین ماہ بعد میں اپنے کزن کے لئے لینے گیا تب بھی فارم مجھے ہی فوٹو کاپی کروانے پڑے)
یہ فارم وہ وہی بیٹھ کر بھرنے کو کہتا ہے۔ نہ بھی کہے تو کر دیں۔ کیونکہ اس نے اشارتا پوچھنا ہے خود کریں گے یا میں کروں۔ میرے چچا نے اس کو پہلے کسی صاحب کا حوالہ دے دیا تھا تو اس نے ہم سے رشوت مانگنے سے احتراز کیا۔ چچا کا کہنا تھا کہ وہ خود جا کر ہر تھانے سے کروا لیں گیں۔ لہذا ہم اس سے سٹیمپس لگوا کر لے آئے۔ عام طور پر اگر آپ ان سے ریٹ طے کر لیں تو یہ خود تینوں تھانے سے ہو آتا ہے ایک ہی دن میں۔ اس کا فائدہ بہت ہے۔
جیسے ہم نے خود کروائے تو ہر تھانے میں پیسے دے کر بھی تین دن لگ گئے۔ کیونکہ اگر آپ پیسے نہیں دیتے تو باہر بیٹھا اہلکار کبھی نہیں کہے گا کہ صاحب اندر ہے ہمیشہ یہی کہے گا کہ نہیں ہے۔ آپ اس کو تین سو دیں وہ شام کو صاحب کو جب کوئی فائل پیش کرے گا تو ساتھ میں آپ کے کاغذ پر بھی سائن کروا دے گا۔ اس طرح آپ کو تین تھانوں کی سیر کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ ایک بندے سے معاملہ طے کریں تو یہ عام طور پر 700 تک مان جاتا ہے۔ یہ خود ہی تینوں تھانے جائے گا۔ اسی طرح پیٹی بند ہونے کی وجہ سے سب جگہوں سے ریکارڈ میں اندراج کروا کر دستخط کروا کر لے جاتا ہے۔ پھر فون کرتا ہے کہ فلاں وقت آ جائیں اب آپ جائیں سپرٹنڈنٹ صاحب کا انتظار کریں وہ آئیں گیں پہلے عورتوں کو اندر بلائیں گیں۔ ان کا منشی آواز پکارتا جائے گا وہ سائن فرماتے جائیں گیں یعنی حاضری لگتی ہے۔ اس کے بعد مردوں کی باری آتی ہے۔
جون میں جس صاحب سے ملے وہ پڑھے لکھے تو تھے لیکن ذرا افسرانہ مزاج کے تھے۔ یعنی صحیح پولیس والے۔ گرمی میں لائیٹ آ جا رہی تھی تو انہوں نے چمک کر کہا لیسکو کو فون کریں پھر اس کو جھاڑا لیکن اخلاق سے۔ ٹی وی کا کہتے کہ اس کو صحیح لیں اور اے سی پر بھی ان کو کولنگ محسوس نہ ہوئی تھی۔ یہ دونوں چیزیں مفت میں آنی تھیں۔ سمجھ لگی؟ بعد میں جب جانا ہوا تب اس وقت کی تفصیل اچھی تھیں اور مجھے وہ دوسرے صاحب اچھے لگے۔
میں عام طور پر بسوں ویگنوں میں کسی بڑی عمر کے بندے کو اپنی سیٹ دے دیتا تھا۔ اسی طرح میرے اکثر دوست تھے۔ اگر میرا کوئی دوست اس طرح کسی کو جگہ نہیں دیتا تھا تو وہ سارے راستے مجھ سے عزت افزائی کرواتا تھا۔ سٹی پولیس میں نام نہاد مردوں کا بھیانک کردار دیکھا عورتیں کھڑی ہیں اور وہ مزے سے بیٹھے ہیں۔ اہلکار ان کی کافی عزت افزائی کر کے اٹھاتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی جاہل اوراجڈ گنوار لوگ نہیں تھے جو کرسیوں پر بیٹھے ہوتے تھے۔ یہ تھے ممی ڈیڈی قسم کے لڑکے۔ جو اپنی عورتوں کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کو جوتے لگیں تو بھی کم ہیں۔
سائن ہونے کے بعد سب لوگ کلرکس کی طرف بھاگتے ہیں۔ چاہے آپ نے خود کروایا ہو یا کلرک کو پیسے دئے ہوں بھاگنے کی ضرورت نہیں پہلے ان ممی ڈیڈیوں کو فارغ ہو لینے دیں جن کی عورتیں تک ویزے کے لئے ایسی پاگل ہوتی ہیں کہ جیسے کلرک نے ہی ویزہ دینا ہے اور مردوں میں گھس جاتی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد سکون سے کلرک کے پاس جائیں اور پاسپورٹ وصول کر لیں۔ اگر کلرک نے پیسے لیئے ہیں تو اس کو ادائیگی کریں اور ساری چیزیں وصول کر کے گھر جائیں۔
Popularity: 10% [?]
Popularity: 10% [?]
289 views
Related Posts
- None Found



























0 Responses to “پولیس سرٹیفیکیٹ”
Please Wait
Leave a Reply