اگر آپ کا کوئی راز میرے ہاتھ لگ جائے اور میں کہوں کہ میرے کچھ کام کروں یا مجھے کوئی چیز خرید کر دو تو؟ یا اگر ایسے ہو کہ آپ ایک لوکل بندے ہیں جو گردش حالات کا شکار ہو کر لوٹ مار پر اتر آیا ہے اور چونکہ ٹاؤن کی پولیس ہمہ وقت فضول انویسٹیگیشن میں مصروف رہتی ہے یا پھر ڈونٹس کھاتی رہتی ہے نتیجتا آپ شیر ہو کر اتنے بڑے جرم کرنے لگتے ہیں کہ لوکل پولیس سے معاملہ فیڈرل تفتیشی اداروں تک پہنچ جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اچھا مسٹر اینڈرسن تم اب کچھ جرم ہمارے لئے کرو تو تمہارے اتنے جرم معاف نہیں تو لمبی سزا۔ تو؟
یہ جو انصاف اور آزادی کی باتیں ہیں یہ سب جھوٹ ہیں۔ امریکہ میں انصاف تب ہوتا ہے جب سب چیزیں عدالت میں پہنچیں۔ اگر یہ ادارے عدالت تک کچھ جانے ہی نہیں دیں تو؟ نتیجہ ان کی مرضی کا ہی نکلتا ہے۔ کیونکہ ثبوت تو انہوں نے مہیا کرنے ہیں۔ چارجز بھی ان کے ہی ہونگے۔ عدالت کا کام سزا کا فیصلہ کرنا ہے۔ فیڈرل ادارے امریکی ادارے طریقہ کار میں یہ جرائم پیشہ اور ہمارے ملک کے تفتیشی اداروں جیسے کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
پچھلے سال میرے امریکہ آنے سے پہلے ایک صاحب نے وائیٹ ہاؤس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔ وہ صاحب عرب یا ترک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فیڈرل ادارے نے ان کی بیوی بچوں کو قید میں رکھا ہوا ہے ایک ماہ ہو گیا ملنے نہیں دیا گیا اور کہا جاتا ہے کہ اپنی کمیونٹی میں سے لوگوں کے ٹرینڈز کی اطلاعات لا کر دو۔ کچھ بے ضمیر لوگ تو اس پر اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو پھنسانے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ صاحب شائد خوددار تھے۔ یہاں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ امریکہ میں اگر کسی سٹور کو لوٹتے وقت لوٹنے والا کسی بھی بندے کو گن پوائنٹ پر مجبور کرے کہ وہ چند قدم چل کر پیچھے بنے کمرے میں بند ہو جائے تو اس پر اغوا کا چارج لگتا ہے۔ کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کو کہیں لے جا کر بند کیا چاہے چند قدم ہی کیوں نہ ہو۔ اب اگر سچ میں فیڈرل ادارے نے ایک ماہ سے کسی کی مرضی کے خلاف اس کو حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے تو کیا یہ ہماری پولیس جیسی حرکت نہیں؟
کچھ اسی طرح کے دو واقعات آگے پیچھے ہوئے۔ پہلے تو بغلیں بجا بجا کر ان 6 لوگوں کو پیش کیا گیا جنہوں نے امریکی فوجی اڈے فورٹ ڈکس پر حملہ کرنا تھا۔ مجھے تفصیلات کسی مزاحیہ فلم کی سی لگیں بالکل ایسے ہی جیسے ابھی ایک فلم آئی ہے جس میں تین فوجی عراق کے بجائے جنوبی امریکہ کے کسی ملک پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے تو نہ جانے کونسے احمق تھے جنکو فلم کاپی کرنا نہیں آتی تھی لیکن ہتھیار سب چلانے آتے تھے اور جا کر ایک اڈے میں کئی سو فوجیوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ لیکن اس کے بعد ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک شخص جرم کرنے کا سوچ رہا ہے۔ تو عام طور پر اس کو منع کرنے کا سوچا جاتا ہے۔ لیکن یہاں فیڈرل ادارے نے ڈنڈی مار دی۔ ان میں اپنا بندہ شامل کر کے اصل میں ان کو اکسایا کہ وہ یہ کر گزریں۔
پہلے اس بندے کے طریقہ کار پر بات۔ یہ وہ بندہ ہے جس کی شروع میں بات کی گئی۔ عام طور پر یہ جرائم پیشہ ہوتا ہے۔ اس سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ اتنے جرم معاف کر دیں گے بس تم ایسے ایسے کرو۔ یہ آپ کے پاس بیٹھ کر امریکہ سے لے کر اسرائیل تک کی برائیاں کرتا ہے۔ انتہائی نمازی اور پرہیز گار بننے کی کوشش کرتا ہے۔ جان بوجھ کر آپ کے اندر ایسے جذبات پیدا کرتا ہے جن سے آپ ایسی کوئی بات کہہ دیں جو فیڈرل ادارے فوری طور پر ریکارڈ کر لیں جبکہ عام طور پر اکسانے والے کی بات ریکارڈ ہو بھی تو غیر ضروری قرار دے کر پیش نہیں کی جاتی۔ کیونکہ عدالت فورا کہہ دے گی کہ اس کو تم نے مجبور کیا ایسے کرنے پر۔ لہذا یہاں جو بھی ایسے صاحب ہوں جن کا کام الٹی باتیں کرنا ہے تو ان سے دور ہو جائیں۔ اور ان کو پہچاننے کے لئے تنہا چھوڑ کر دیکھیں کہ ویسے ہی پرہیزی ہیں کہ نہیں۔
ان چھ بندوں کے ساتھ یہی ہوا۔ ان کے اندر ان کا ایک بندہ تھا۔ ساتھ میں جس سے یہ لوگ اسلحہ خریدنے گئے وہ بھی فیڈرل ادارے کا بندہ تھا یعنی اس کے لئے جو جو چیز کی ضرورت تھی وہ سب انہوں نے مہیا کر دی اور کرنے والے سب کے سب فیڈرل ادارکے لوگ تھے۔ وہ عقل کے چوچے جو امریکہ پر حملہ کرنے چلے تھے اپنے اندر ایک بندے کو نہیں پہچان سکے وہ کیا حملہ کرتے؟ یہ سب ڈرامہ کر کے ہوا کھڑا کر لیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے ویڈیو کاپی کروائی 2006 میں اور تب سے فیڈرل ادارہ ان کو بندے کے ذریعے اکساتا رہا کہ یہ کرو اور وہ کرو۔ اسی وقت کیوں نہیں روکا گیا؟ اگر یہ پکڑ نہ سکتے اور وہ پہلے ہی کچھ کر بیٹھتے تو؟ اب فیڈرل ادارہ کہے کہ معاملہ ہمارے کنٹرول میں تھا تو فیڈرل ادارے کو بھی سزا ملنی چاہئے کہ وہ اپنی نگرانی میں ایسے کام کرواتا ہے جیسے ایک منٹ کے لئے فرض کیا جائے کہ گیارہ ستمبر بھی اسلامی انتہاپسندوں نے کیا تو امریکی عوام کو بلاشبہ فیڈرل اداروں کو عدالتوں میں گھسیٹ لینا چاہئے کہ انہوں نے ہی بھرپور مدد کی ہو گی اور انہوں نے ان کو بتائے بغیر مقررہ وقت سے پہلے تباہی مچا دی۔
اس کے بعد دوسرا واقعہ اسی ہفتے کا ہے۔ اسمیں بھی انہوں نے کچھ بندے پکڑے سب کے سب داڑھیوں والے۔ ٹی وی پر دیکھائیں بریکنگ نیوز ایک اور پکڑ لیا اور فلاں بات پتہ چلی۔ اب ہنسنا ہو چاہے غم کے مارے ہی صحیح کہ ان اداروں کی عقل پر ماتم کریں ایک صاحب کی عمر 63 سال ہے اور ایک کی عمر 57 سال۔ باقیوں کا ابھی علم نہیں۔ یعنی جو لوگ دادا بن چکے ہیں۔ ہارٹ اٹیک ہونے ہی والا ہے۔ گردہ یا پتہ کام چھوڑنے والا ہے وہ جا کر jfk کی فیول لائن تباہ کریں گے۔ میرا تو خیال ہے ان فیول لائن تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کو دل کا دورہ پڑ جانا ہے۔ اس میں بھی ایک افریقن امریکن صاحب کو ان کے جرائم ریکارڈ کلئیر کرنے کا عندیہ دے کر شامل کیا گیا۔
یہاں ایک بات پر سختی سے عمل کریں۔ اول تو جو بات پوچھی نہ جائے بتائیں نہ۔ اس پر کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یعنی خود سے منہ کھولنے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس بات کے جواب میں کیا کہا۔ بس بات quote کر کے ملزم بنا دیا جائے گا۔ پھر ایسے لوگوں سے دور رہیں جن کو آپ جانتے نہیں اور جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف باتیں کریں۔ آیتیں اور درود پڑھیں اور آپ کو تلقین کریں۔ ان کو دیکھیں کہ تنہائی میں کیا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ نہیں ہے کہ فیڈرل ادارہ آپ کے پیچھے پڑا ہے کہ آپ کو دہشت گرد بنانا ہے۔ اصل میں یہ بندہ آپ کے پیچھے پڑا ہے کیونکہ اس نے اپنے جرائم معاف کرانے ہیں۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
216 views
Related Posts
- ملک دے حالات بڑے بدلے کھلوتے On March 23, 2007, 5 Comments
- نومبر 2006 کے مڈ ٹرم الیکشن نے مجھے ایک بڑا فرق سمجھایا۔ امریکی سیاست اور پاکستانی سیاست میں۔ اب کوئی کہے اسلامی نظام ہونا چاہئے اور کوئے کہے برٹش نظام فرسودہ ہے۔ اب نئے قوانین لانے چاہئے۔ قوانین جتنے مرضی لے آئیں اگر ان پر عمل نہیں تو کچھ حاصل نہیں ہونے کا۔ امریکی سیاست
- عورت کہیں جسے On January 8, 2008, 14 Comments
- اللہ نے انسان پر جو سب سے بڑا احسان کیا وہ عورت کو بنا کر کیا۔ اور جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ بھی عورت کو بنا کر کیا۔ اگر ہیلری کلنٹن سے پوچھا جائے کہ عورت کیا ہے تو اس کا جواب کچھ یوں ہو گا۔ "عورت ایک mixed blessing ہے۔" مجھے عورت
- صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
- مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت
Random Posts






یه بہت اونچے لیول کی بات ہے پاکستان کے معاشرے میں سینکڑوں سال اڈوانس بات ـ
جن ادارون پز آپ اعترض کر رہے هیں پاکستان میں ان اداروں کی ڈیفینیشن کا بهی ابهی فیصله نہیں هوا ـ
کسی کسان کو جاوا اور هیپر ٹکسٹ کی باریکیوں کا بتانا سمجهتے هیں آپ ؟؟
شکر ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ میں رہنے والے کسی نے لکھا ہے ۔ میں لکھتا تو میرے پاکستانی بھائیوں سمیت امریکیوں نے چیلوں کی طرح مجھے نوچ لینا تھا ۔ آپس کی بات ہے کہ میں نے اڈے پر حلے والی خبر پڑی اور سوچا کہ امریکی کیا اتنے زیادہ احمق ہوتے ہیں ۔ مکار تو وہ ہیں ہی ۔
پولیس یا ایف بی آئی وغیرہ اپنے مخبر ایسے گروہوں میں یا مافیا وغیرہ میں ہمیشہ سے شامل کرتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان مخبروں کا رول کئی دفعہ جرم پر اکسانا بھی ہوتا ہے۔ یہ سوال ہمیشہ سے اہم ہے کہ یہ کرتے ہوئے پولیس نے کہیں لائن کراس تو نہیں کر دی۔ کئی دفعہ پولیس کچھ زیادہ ہی ایکٹو ہو جاتی ہے ایسے مخبروں کے بارے میں۔ دوسرے یہ مخبر عام طور سے خود مجرم ہوتے ہیں جن کی اپنی سزا سے جان چھوٹ رہی ہوتی ہے تو اس وجہ سے بھی گڑبڑ ہوتی ہے۔
ایسے تمام کیسز میں گرفتاریوں کے وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس وقت پولیس اور استغاثہ والے باتیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ اپنی ٹور بنا سکیں۔ جب مقدمہ چلے گا تو اصل صورتحال سامنے آئے گی۔ عدالت عام طور سے پولیس کی غلط حرکات کا شدید نوٹس لیتی ہے۔
slam
خاور کھوکھر: پاکستان مٰیں ایسے ادارے ہوں یا نہیں لیکن اعتراض طریقہ کار پر ہے۔ چاہے ایک کسان بیل پر ہل چلا رہا ہو یا ٹریکٹر سے اس کو کسی اور کی زمین پر کاشت کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
اجمل انکل: ہاہاہا احمق ہوتے نہیں لیکن یہ ادارے ان کو بنانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔
زکریا: مسئلہ سارا یہی ہے۔ ٹرائل کی کون پرواہ کرتا ہے شروع مٰیں ہیڈنگذ لگ گئیں دیسی لوگ بدنام ہو گئے۔ اب کتنے فیصد امریکی اس کا فیصلہ دیکھیں گیں؟ ان کو تو بس امپریسشن پڑ گیا کہ یہ لوگ ہمیں نا پسند کرتے ہیں۔
بات ساری امریکی عوام کی ہے کیونکہ یہ سب کسی نہ کسی صورت ہم سب کے خلاف جا رہا ہے۔