نامعقول

میں انتہائی نامعقول انسان ہوں۔ یہ اعتراف نہیں ہے۔ یہ سچ بھی نہیں ہے۔ چونکہ یہ میرے بارے میں ہے تو میں تو ایسا کہوں گا۔ کہنے والے میرے بارے میں بڑا کچھ کہتے ہیں۔ میں معصوم ان کی بات سنوں تو پتہ چلے نہ کہ کیا کہتے ہیں۔ الٹی سیدھی حرکتیں کرنے میں مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ یہ بڑا بننا یا خوامخواہ سنجیدہ ہو کر اپنی ٹور بنانا یا مصنوعی پن طاری کر کے اپنے آپ کو سنجیدہ یا بردبار شو کرانا مجھے نہیں پسند۔ لہذا بہت سے لوگ جو مجھ سے سنجیدگی کی توقع رکھتے ہیں بہت جزبز ہوتے ہیں۔ نتیجتا کافی مس انڈرسٹینڈنگ ہو جاتی ہے۔ جس کا اینڈ رزلٹ یہی ہوتا ہے کہ تم غلط ہو۔

اکثر دوستوں سے ایسی باتوں کی امید نہیں ہوتی جیسی عالیشان جذباتیت وہ دکھا دیتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے الٹی باتیں کیں لیکن اول اگر میں مذاق میں بات لے رہا ہوں تو آپ عقل کل بننے کا سرٹیفیکیٹ لے کر گھوم رہے ہیں آپ سمجھ جائیں کہ بتانے والی بات ہو گی تو بتا دونگا۔ اور اگر نہیں بتا رہا تو کبھی نہ کبھی بتا دونگا۔ جیسے مجھے پچھلے ہفتے نیویارک جانا تھا۔ مجھے کسی بات پر چڑ تھی تو میں کسی سے اس پر بات نہیں کر رہا تھا۔ یہ میری ایک بڑی فضول سی عادت ہے کہ کوئی بات تنگ کر رہی ہو تو میں اس کو کسی سے ڈسکس نہیں کرتا۔ لہذا میں اس موضوع پر بات نہیں کر رہا تھا اب جس جس کو عادت تھی کہ میں روزانہ ان سے بات کر رہا ہوں ان کے ذمے کچھ کام لگائے تو ایک دو نے تفتیش شروع کر دی کہ کیوں کہا جا رہے ہو وغیرہ وغیرہ کسی معصوم کو کہہ دیا کہ یار بل نہیں دیا تو کنکشن کٹنے لگا ہے وہ بھی معصوم آگے سے کہے کہ تمکو کتنی دفعہ کہا ہے کوئی جاب کر لو۔ ایک کو کہہ دیا اپنی سسرال جا رہا ہوں اس نے پوچھا سسرال کہا ہے میں نے کہا لاہور میں کہتا تو پھر نیویارک کیوں جا رہے ہو۔ میں نے کہا سسرال نے کب سے نیویارک میں ہیڈ آفس کھول لیا؟ بس تپ کر کچھ دھمکیاں دیں اور یہ جا وہ جا۔  یعنی میں کہوں کہ میں کہیں جا رہا ہوں تو ان کو لگتا ہے کہ نیویارک جا رہا ہوں۔ (حالانکہ جا نیویارک ہی رہا تھا :P )

پاکستان میں رہنے والے کچھ باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ جب تک وہ ان کو خود نہ دیکھ لیں۔ میرے کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کے نزدیک ایک دھیلا بھی خرچ کرنا خلاف قانون تھا۔ میں عام طور پر تنگ دل اور شیخی باز لوگوں سے دور کی سلام دعا رکھتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے نیٹورکنگ کرنا نہیں آتی تھی۔ میں نے ایک ایسے ہی باکمال انسان کو کہا کہ تم کر دو گھر میں دو کمپیوٹر کنیکٹ کرنے ہیں تو جناب نے 1000 کا خرچہ بتایا۔ میں نے ایسے ہی پوچھ لیا کہ کیا کیا ہارڈوئیر لگنا ہے۔ انہوں نے مجھے بچہ جانتے ہوئے بتانا شروع کر دیا۔ میں نے اگلے دن مارکیٹ سے پتہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ سب تو 400 کا خرچہ ہے۔ ایک عرصہ وہ مجھے پوچھتے رہے کہ کب کروانا ہے میں ان کو ٹالتا رہا۔ نتیجتا انہوں نے انا کا مسئلہ بنا کر طنز شروع کر دیا۔ ایک دن مجھے غصہ تھا تو ان کی کافی عزت افزائی کی ساتھ میں ایک ایک چیز کا بتا کر کہا کہ تم کیا کہہ رہے تھے تو یہ پکے منہ سے کہیں کہ مزدوری بھی ہوتی ہے۔ میں نے یہ سیکھا کمانے کے لئے ہے۔ میں نے کہا کہ یار کمانے پر اعتراض نہیں ہے لیکن میرے پر لازم نہیں کہ تم سے ہی کام  کرواؤ۔

ایسے ہی انٹر میں جب کالج جانے لگا تو لڑکے عجیب سے تنگ دل تھے۔ مجھے گھر یا خاندان میں ایسی تنگ دلی دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ امتحان دیکھنے کے لئے سینٹر دیکھنے جانا ہے تو ایک صاحب کہتے تم بائیک میں پیٹرول ڈلوا دو۔ میں نے کہا سینٹر تو تم نے بھی دیکھنا ہے تم کیوں نہیں ڈلواتے؟ لاجواب ہو کر ادھر ادھر دیکھیں میں نے پوچھا کتنا ڈلوانا ہے؟ فرمایا لیٹر میں نے اس کو دو لیٹر ڈلوا کر کہا کہ آئندہ ایسی حرکت میرے ساتھ نہ کرنا۔ امتحانات کے دوران سب اکٹھے جانے لگے تو بس یا ویگن میں بیٹھ کر اپنی اپنی جیب سے دو دو روپے نکالیں میں نے چپ کر کے سب کے پیسے دے دئیے تو سب پہلے تو حیران ہوں بعد میں انہوں نے ایسی حرکات بند کر دیں۔

مجھے یہ سبق 5 کلاس میں چچا نے دیا تھا۔ ہم کسی پارک میں گھومنے گئے تو میں نے کون آئسکریم لے لی۔ چچا کہتے جب کبھی اکٹھے جاتے ہیں تو اس طرح نہیں لیتے کیونکہ باقی سب بھی ساتھ ہوتے ہیں الگ الگ کھانا پینا صحیح نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے سب کو کینیٹین سے لے کر دیا۔ مجھے اتنی شرمندگی ہوئی کہ اس کے بعد آج تک ایسی حرکت نہیں کی۔

مجھے کچھ ایسے دوست بھی ملے جو کہ بہت کم ملتے ہیں جیسے اگر کوئی چیز دے جاتے تھے تو کبھی پیسے نہیں مانگتے تھے۔ میرے پاس جب بھی ہوتے تھے میں دے دیتا تھا۔ اگر ہم کبھی کسی کو کچھ ادھار دیتے تھے تو کبھی اس کی واپسی کا تقاضا نہیں کرتے تھے۔ کبھی اکٹھے ہونے پر کوئی اور دوست ملنے آ جاتا تھا تو اس کی میزبانی کرتے وقت ایک دوسرے کو چپکے سے پیسے پکڑا دیتے تھے کہ اگر میزبان کے پاس کم ہیں تو وہ پورے کر لے اور اگر ہیں تو بعد میں واپس کر دیتے۔ ابھی بھی یہ فون کر کے پیسوں کا تقاضا نہیں کرتے۔ بڑے سکون سے حال چال پوچھتے ہیں ادھر ادھر کی بات کر کے فون بند کر دیتے ہیں اب آپ ان کے گھر فون کریں امی سے پوچھ لیں کہ کیا چل رہا ہے۔ وہ خود ہی بیٹا سمجھ کر دور پرے کے رشتہ داروں کے کاکے سے لے کر اپ کمنگ شادی تک کا بتا دیتی ہیں اپ آپ سے جو ہو سکے کر دیں۔

پاکستان سے فرمائشی پروگرام نشر کرنے والوں کو کبھی یہ سمجھ نہیں لگتی کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ان کو علم نہیں کہ باقی لوگ بھی ہیں۔ آپ کسی کی ایک خوشی پوری کر دیں وہ سمجھتا ہے کہ بس وہی عزیز ہے باقی اور کسی کا نمبر ہی نہیں آنے دیتے۔ آپ ان کو پیار سے سمجھائیں تو بھی ان کے نخرے نہیں ختم ہوتے۔ الٹا بھول جاتے ہیں اور طعنے شروع۔ ان کو اتنی سمجھ نہیں لگتی کہ جس چیز کو وہ کہتے ہیں کہ بس اتنے سے ہیں، وہ یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور کے لئے کچھ کیا جا رہا ہو لہذا ان کا اصرار ہوتا ہے نہیں بس اتنے سے ہیں۔ نہ کرنے پر کنجوسی اور تنگ دلی کے طعنے۔ خود کی اداؤں پر کچھ غور نہیں کرتے۔

Popularity: 9% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 9% [?]

212 views

 

 

Related Posts

    None Found


5 Responses to “نامعقول”

  1. 1 میرا پاکستان

    اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم دنیا یں رہ رہے ہیں جنت میں نہیں۔ ان مشکلات کا صرف آپ ہی شکار نہیں ہیں ہر طرف یہی حال ہے۔ اب تو مادہ پرستی نے سارے رشتے ختم کردئے ہیں۔ شکر کریں اگر آپ کے پاس کچھ کھرے سکے بچے ہوئے ہیں۔ اسی موضوع پر ہم آپ اپنے بلاگ پر کیسے کیسے لوگ میں لکہنے والے ہیں۔ آپ کو پڑھنے کے بعد پتہ چلے گا کہ آپ پھر بھی سینکڑوں سے اچھے ہیں۔

  2. 2 پاکستانی

    خوب، ایسا ہر جگہ ہوتا ہے اور اس قسم کے لوگ بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں، اگر کہیں سے کوئی چیز لی جائے تو ساتھ والا کہتا ہے پیسے میں دیتا ہوں، مگر تب تک ہاتھ جیب سے باہر نہیں نکلتا جب تک پیسے ادا نہ کر دیئے جائیں۔
    میں نے اس بات کو کبھی اہمیت نہیں دی کیونکہ آجکل حالات ہی کچھ ایسے ہیں کیا پتہ یہ پیسے اس کے لئے کتنے قیمتی ہوں۔

  3. 3 BaaZauq

    اچھا جائزہ ہے ۔
    صحیح تو کہا ہے مگر ۔۔۔ میں سوچتا ہوں کہ اکثر اوقات کڑھنے کے بجائے نظراندازی ہی بہتر طریقہ ہوتی ہے ۔

  4. 4 Qadeer Ahmad

    دیکھا میں نہ کہتا تھا نیویارک جا رہے ہو ۔ بیٹا مان لو کہ تم سے بڑا ذہین اور معاملہ فہم بھی اس دنیا میں ہے :P

    مجھے امید ہے کہ آخری چند جملے میرے لیے نہیں ہیں کیونکہ میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا

  5. 5 بدتمیز

    سلام

    میرا پاکستان: میرے خیال سے میں اس لئے صھیح ہوں کہ میرے ملنے والے مجھ سے بھی بہتر ہیں

    پاکستانی: واقعی بالکل صحیح کہا۔ کچھ پتہ نہٰن ہوتا کہ کیا پتہ اس کی کیا حالت ہے۔

    باذوق: ابھی تک نظر اندازہ ہی کرتا ہوں۔ یہ بھی کڑھنا نہیں تھا۔ کسی کو عقل دینی تھی۔

    قدیر احمد رانا: تم میرے سے بڑے ہو ذہیں ہو اور معاملہ فہم بھی۔ کہوں تو سرٹیفیکٹ بھجوا دوں؟
    نہیں آخری چند جملے جس کے لئے ہیں اس کو پتہ لگ گیا ہوا ہے۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 1
    • Alexarank: 368124

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->