حور

حور۔ عام طور پر بچپن میں پڑھا تھا کہ بندہ نیک ہو تو اس کو حور ملے گی۔ اور اگر بندہ قدیر ہو میرا مطلب ہے کہ لنگور ہو تو اس کو کچھ اور ملے گا۔ چھوٹے ہوتے تو کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ حور ہوتی کیا ہے اور کس کام آتی ہے۔ :P لہذا اس وقت سکون تھا۔ حور کا ذکر خیر کبھی صدیوں بعد جا کر اسلامیت کے پیریڈ میں ہو جاتا یا پھر ٹی وی پر نظر آ جاتا۔ کچھ بڑے ہونے پر حور کے خدوخال واضح ہوئے تو سوچا اچھا وہ جو کونے والے فلیٹ میں آنٹی رہتی ہیں ویسی ہوتی ہو گی یا پھر وہ جو انگلش کی نئی مس آئیں ہیں ویسی ہوتی ہو گی۔ خیر دماغ پر کبھی اس طرح نہیں چڑھا تھا جیسے یہ دین کے علمبرداروں کے سر پر چڑھ جاتی ہے۔

اسلامی تاریخ سے میری معلومات واجبی سی تھی۔ نتیجتا اب بہت سی معلومات بھول چکی ہے۔ عشرہ مبشرہ شائد ان دس صحابہ سے منسوب ہے جن کو دنیا میں جنت ملنے کی بشارت دی گئی تھی۔ لیکن اب چودہ سو سال بعد بھی کچھ لوگوں کو ایسی بشارتیں وصول ہو رہی ہیں۔ میرا بس چلے تو ان کو جنت تک پہنچا بھی دوں :P لیکن افسوس اسلام نے نامردوں پر ہاتھ اٹھانے سے منع کیا ہوا ہے۔

یہ صاحبان پہلے تو حور کی جان نہیں چھوڑتے اس کے نام کو چاٹ چاٹ کر مار ڈالتے ہیں۔ دنیا کی عورتیں ان کے نزدیک کمتر ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ایک عورت جو دنیا میں ساری مشکلات اور تکالیف برداشت کرتی ہے وہ کس طرح حور سے کمتر ہو سکتی ہے؟ حور کیا ہے؟ خیمے میں بند مخلوق جس پر نہ کوئی بری نگاہ ڈالتا ہے نہ اس کو کچھ کرنا ہوتا ہے۔ پھر ایک عورت سے وہ کیسے افضل ہو گئی؟ ایک عورت کی جو درگت بنی ہے چاہے کسی بھی معاشرے میں اس میں وہ اگر ثابت قدم رہے تو میرے تو خیال سے وہ زیادہ افضل ہے۔

اس کے بعد یہ صاحبان حور کو بناتے ہیں گاجر اور مسلمان کو بناتے ہیں گدھا۔ انتہائی معذرت کے ساتھ لیکن حور کو چارہ بنا ڈالتے ہیں کہ جی مرد ایک ایسا گدھا ہے جو صحبت کا شوقین ہے لہذا اس کے لئے 72 بھی کم ہیں لہذا اس کو للچانے کے لئے کیا کچھ نہیں بیان کیا جاتا۔ کہ اے بھیا یہ دنیا کی خواتین کس کام کی چلو ذرا یہ بارڈر کراس کرو ہوا میں تلوار لہراؤ ادھر سے ایک سپر سانک طیارہ آئے گا اس کے سامنے “ڈٹ” کر کھڑے رہو سیدھے کسی حور کی گود میں ہوگے۔ ہاں یہاں جو پیچھے خواتین ہیں ان پر امریکہ یا اتحادی حملہ کر کے ان کے فوجی ان کی بے حرمتی کریں گے لیکن کوئی بات نہیں یہ تو دنیا کی عورتیں ہیں اصل چیز تو حور ہے۔ لہذا ان مسلمان عورتوں کو چھوڑو۔

عورت خدا کی بہترین تخلیق، شائد اس کی سب سے لاڈلی تخلیق اس نے اپنی امانت حضرت مرد کو دی۔ آج دین کے عالم کہتے ہیں کہ دنیا کی عورتیں ایسی تو ویسی۔ ایسی ہی کسی عورت کی کوکھ سے نکل کر ایسی ہی کسی عورت سے اپنی بیٹی حاصل کرنے والا عالم۔ نہ جانے کس منہ سے الم غلم بکتا ہے۔ ان عالموں کو نیویارک میں لے جائیں اور مصروف علاقوں میں پیدل گھمائیں ایک سگنل کھلنے پر ان کی چار پوری ہو جانی ہے اور بلاک ختم ہوتے ہوتے 72 بھی نوٹ ہو جائیں گیں۔

ایسی فضول بحثوں میں اتنی دلچسپی سے حصہ لیا جاتا ہے کہ بس۔ عورت کو حور ملے گی؟ جی جنتی مرد اور عورت دونوں کو حور کہا جاتا ہے۔ اوپر فرشتے سر جوڑے کھڑے ہونگے اے اللہ یہ تھا انسان جس کو سجدہ کروایا جو آج عمل کے بجائے حور پر لڑ رہا ہے۔ نتیجتا فرشتے آگ کے جوتے بنا کر تیار ہوتے ہیں کہ جیسے ہی اس قسم کے کوئی صاحب پہنچے ان کی خاطر تواضع شروع کی جا سکے۔  

ان عالموں کے منہ سے جو پھول جھڑتے ہیں ان میں کہا جاتا ہے کہ حور “چااا” کہہ کر دنیا کی طرف جھانکے تو پانی میٹھا ہو جائے نور پھیل جائے۔ یہ ہو جائے تو وہ ہو جائے۔ پہلے تو کم بختوں یہ بتاؤ تم کو کس نے لائسنس بنا کر دیا ہے کہ تم لوگوں کے لئے حوریں بک کرتے پھروں اور حوروں کے حسن و جمال کا ذکر ہے تو جنتی عورت کے حسن و جمال کا ذکر کہیں نہیں؟ اور پہلے ذرا جا کر اپنے لئے کوئی دو چار حاصل کرو اس کے بعد لوگوں کے خواب میں آ کر ان کو بتانا۔ میرے تو خیال میں تلوار سمیت کسی معصوم کو حور کی گود میں پہنچایا تو اس کو بھی شائد جوتے لگیں کہ کھلی خود کشی کیوں کی؟ اور تمکو تو ایسی کراری مار پڑے کے پہلے جوتے پر سارا علم نکل جائے۔

میں نہ تو حور کا منکر ہوں نہ مجھے خدا کے کسی وعدے پر شبہ ہے۔ میری گزارش اتنی ہے کہ مسلمان کو ایسا جانور مت بنائیں جس کو ایک کام کے سوا کچھ اور نہیں سوجھتا۔ میری طرف سے آپ یہاں بھی چار پوری رکھیں اور وہاں بھی 72 حاصل کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ انہی خواتین نے وہاں بھی جانا ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں آپ ایسی جگہ پر ہو جہاں آپ اور اسلامی ممالک کے سربراہان ایک ہی صف میں مار کھا رہے ہوں۔ ویسے آپ کو نہیں لگتا آپ اپنی نسل کے انسان سے زیادہ انسیت محسوس کریں گے؟

 

Popularity: 7% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 7% [?]

265 views

 

 

Related Posts

    None Found


9 Responses to “حور”

  1. 1 Qadeer Ahmad

    زبردست پہلی بار کوئی کام کی بات کی ہے

    میرے جیسا کوئی نوجوان ان لوگوں خصوصاً تبلیغی جماعت والوں کے درمیان بیٹھ جائے تو حوروں کے ایسے ایسے قصے سناتے ہیں کہ بندہ بیٹھے بیٹھے ہی فارغ ہو جائے ۔ ان کے ایک مشہورِ زمانہ تبلیغی رہنما پہلے تو آ کے خوب ڈراتے ہیں ، پھر جو جنت کا حال بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ مومن کو عورت کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی ہے ہی نہیں ۔ ایسی ترغیبات سے للچا کر جب بندہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو وہ اللہ سے منسوب ہوگا یا کسی حور سے؟

  2. 2 Rashid Kamran

    And when the “Aunty Shamim” train people to deal properly with so many “HOORES” by using “Whores” the same mullah conquer a children library and rule that public service out, so bad. Don’t you think that it’s amazing that in the MASJID mullah tells you about how beautiful and charming the “HOOR” is and as soon as you start customizing your “HOOR” by taking components from the former mis worlds, they come right behind you with a “DANDA” by saying, “LA (not)”. Very well written blog, you the man :)

  3. 3 میرا پاکستان

    علامہ اقبال اپنے شکوہ میں فرماتے ہیں

    یہ شکائت نہیں، ہیں ان کے خزانے معمور
    نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور
    قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
    اور بیچارے مسلمان کو فقط وعدہ حور
    اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں
    بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

    پھر علامہ اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں

    کیا کہا ہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور
    شکوہ بیجا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
    عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستور
    مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حوروقصور
    تم میں کوئی حوروں کا چاہنے والا ہی نہیں
    جلوہ طور تو موجود ہے کوئی موسی ہی نہیں

    پورا شکوہ اور جواب شکوہ پڑھنے کیلئے ادھر کلک کیجئے

    http://www.bizbrowse.com/UrduDiegest/UrduPoetry/Iqbal/Iqbal/Iqbal.htm

  4. 4 saifi hazarvi

    بدتمیز:
    اسلامی تعلیمات سے لاعلمی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسلامی احکام کا مذاق اڑانا شروع کردیں۔ نیویارک کے سگنل پر کھڑی جن خواتین کے حسن وجمال نے آپ کے ہوش و حواس اڑا دیئے ہیں انھی عورتوں کے خالق اللہ نے ان حوروں کو پیدا کیا ہے اور اپنی پاک کلام قرآن مجید کے اندر مسلمانوں کو نیک اعمال (بشمول شہادت کے ) کا بدلہ جنت میں حوروں سے دینے کا وعدہ فرمایا ہے ۔
    حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ

    73 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    74 لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ

    75 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    جسے آپ نے استہزاء سے خیمے میں بند مخلوق لکھا ہے وہ قرآن کی بشارت ہے۔ میرے بھائی قرآنی آیات کے ساتھ تمسخر سے پرہیز کریں‌ کہ اس سے انسان کا ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

    قدیر رانا:
    بھائی جو تبلیغی جماعت کے لوگ حوروں کے قصے سناتے ہیں تو وہ اپنے پاس سے نہیں سناتے بلکہ آقائے دوجہاں تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث بیان کرتے ہیں۔
    اگر آپ نبی علیہ السلام کی زبان مبارک سے حوروں کے قصے سنتے تو کیا پھر بھی ایسا مذاق کرتے۔ کچھ تو خیال کیجئے میرے بھائی۔

    والسلام
    سیفی ھزاروی

  5. 5 saifi hazarvi

    اور ہاں اگر آپ کو کسی نے بتایا نہیں تو سن لیں‌ کہ نیک صالح بیوی کو اللہ تعالی جنت کی حوروں سے ستر گنا زیادہ حسن عطا فرمائیں گے اور وہ جنت کی حوروں کی سردار ہو گی۔

  6. 6 بدتمیز

    سلام

    قدیر احمد: تمہارا بوائنت بالکل وہی ہے جیسا میں نے سوچا ہے۔ یا جیسے ہم نوجوان سوچتے ہیں۔ مسءلہ یہ ہے کہ دین کے رہنما اس بات کو نہیں سمجھتے۔ مرد عورت کے لئے کوئی کام کر رہا ہے یا اللہ کے لئے یہ بنیادی بات ہے۔

    راشد کامران customizing, though I never did that (coz i kno i cant have a hoor :P ) but I will consider next time askin a scholar and if he knows abt any of miss world it will be fun of a life time.

    میرا پاکستان: سر کاش اتنی عقل ہوتی میں پوسٹ میں یہ لگا کر اس کو چار چاند لگا دیتا۔ ویسے اپنے خالص تبصرے سے محروم رکھ کر زیادتی کی۔ اب مجھے کیا علم ٓپ شکوہ کی طرف ہین کہ جواب شکوہ کی طرف

    سیفی ہزاروی: ٓآپ میرا مقصد سمجھ نہیں سکے۔ میرا پوائنٹ صرف اتنا ہے کہ عورت کا مقام حور سے بلند ہے۔ کیونکہ اس کو وہ مشقت نہیں جھیلنا پرتی جیسے عورت کو پڑتی ہے۔ میرے ہوش ابھی تک کوئی خاتون نہیں اڑا سکیں۔ جس دن اڑا دیں گی اس دن ہم مجنوں ہونگے۔ نہ میں نے ان عورتوں کو حور سے کمپئیر کیا۔
    جس کو آپ تمسخر سمجھے ہیں وہ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ اس نے تو خیمے میں رہنا ہے۔ ہماری عورتوں نے دنیا کا سامنا کرنا ہے۔ ساری عمر مردوں کے اس معاشرے مٰیں جی کر بھی اپنے ایمان کی حفاؓت کرنی ہے۔ اس کے لئے ہر لمحہ ایک امتھان ہے۔ پھر وہ حور سے کمتر کیسے ہو گئی۔
    کچھ لوگوں کے بیان کے مطابق حور عورت سے افضل تھی۔ میرے خیال سے ایسا نہیں ہے۔ ٓپ نے بھی تائید کر دی کہ عورت حور سے ستر گناہ خوبصورت ہو گی۔

  7. 7 Ahmad

    قدیر صاحب نے لکھا ہے کہ قصے بیان کرتے ہیں جناب تنقید کرنا آسان اور کام کرنا مشکل ہے ۔اس ملک میں جب میں وارد ہوا تو انکے کام کا اثر نظر ایا ورنہ پاکستان میں خیالات اور ہی تھے۔ یہ اللہ کی مہربانی کے بعد انہی کی کوششیں ہیں جو لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔ یہ بات بندے کو پاکستان سے نظر آنا مشکل ہے لیکن جب کوئی دوسرے ملک کا بندہ انکی کوششوں کا زکر متشکر ہو کر کرتا ہے تو آپ کو فخر بھی ھوتا ہے اور شرمندگی بھی۔ فخر اس بات پر کہ پاکستان کے مبلغ لوگوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں اور شرمندگی اس پر کہ ہم نہ دوسروں کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں بلکہ الٹا جو بلائے اس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
    اگر آپ کو انکے انداز تبلیغ سے اختلاف ہے تو کیوں نہ اچھی تجویز دیں اور خود اپنے انداز سے لوگوں کو بلائیں لوگوں کو مسلمان کرنا دور کی بات اگر کسی مسلمان کو آپ نماز پڑھنے پر راغب کرنے کی کوشش کریں تو لگ پتہ جاے گا اس کام کی مشکلات کا!

  8. 8 ابو حلیمہ

    السلام علیکم ،۔
    احمد بھأی کی بات سے بالکل متفق ہوں۔ پاکستان میں جب بھی ہمارا تبلیغی جماعت سے تعلق پڑھتا تھا تو نو دو گیارہ ہو جاتے تھے۔ اس وقت اس کام کے نتیجے کا بالکل علم نہیں تھا۔ کینیڈا میں جہاں میں رہتا ہوں یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے اور یہاں مسلمانوں کی آبادی بمشکل سو خاندانوں پر مشتمل ہے۔ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود دنیا جہان کا ہر مسٔلہ لاحق ہے ہماری کمیونٹی کو۔ ہر بندہ اپنی ذات میں خود امام اور یہی سمجھتا ہے کہ صرف اسی کی سوچ صحیح ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار یہاں تبلیغ جماعت والوں کا چکر لگ جاتا ہے اور کچھ لوگ ان کے آنے کا بہت برا مناتے ہیں، یہاں تک کے ہمارے قریبی شہر والے تو ان کو مسجد تک میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ میرا تعلق تبلیغ جماعت سے کبھی نہیں رہا لیکن ہمارے دین میں تبلیغ کی جو اہمیت ہے، میں اس سے بھی انحراف نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا، ۔۔۔۔بَلِّغُو عَنِّی وَلَو آیَۃ۔۔۔ یعنی دوسرے کو سکھاو چاہے ایک ہی آیت آتی ہو۔
    کچھ مسلمان بھأیوں کو یہ بات کرتے بھی سنا ہے کہ اگر تبلیغ کرنی ہے تو غیر مسلم لوگوں کی کرو، یہ صرف مسلمانوں کی تبلیغ کیوں کرتے ہیں۔ میرے خیال سے اس طرح کی بات کرنے والے لوگ اگر خود اس کام کا بیڑہ اٹھا لیں کہ وہ غیر مسلم کو دین سکھاٌیں گے تو اس کا زیادہ فأیدہ ہے، صرف زبانی کلام کا کؤی فأیدہ نہیں۔
    جب میں اپنے ارد گرد کے حالات کا جأیزہ لیتا ہوں تو کبھی کبھار تو دل خون کے ہی آنسو روتا ہے کہ یہ ہمارے مسلمان بھأیوں کو ہو کیا گیا ہے، نام کے تو مسلمان ہیں پر ہر قسم کے حرام کام میں ملوث ہیں۔ پھر اگر کبھی کبھار یہ تبلیغ والے آ کر ان مسلمانوں کو دین کے بارے میں یاد دہانی کرا ہی دیتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے۔ میں خود بھی کیٔی دفعہ نوجوان مسلمانوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں جس میں ہمارا موضوع زیادہ تر دین ہی ہوتا ہے پر اگر ایک بندہ بار بار بولتا رہے تو اس کی بات کا اثر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے جب کبھی یہ تبلیغ والے آتے ہیں تو میں حتی الوسع کوشش کرتا ہوں کہ ان کی ملاقات یہاں کے کچھ طالب علموں سے کرا دوں۔ ہدایت دینے والا تو اللہ ہی ہے، ہم تو اپنی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔
    دوسرا جن لوگوں کو ان تبلیغ والوں سے الجھن رہتی ہے، ان کو میں یہ کہ دیتا ہوں بھاٌی بے شک آپ ان سے اتفاق نہ کریں پر ہیں تو وہ مسلمان۔ اگر وہ کسی دوسرے شہر سے آپ کی مسجد میں آ ہی گٔٔیے ہیں، تو کم سے کم ان کو مہمان کا درجہ تو دیا جا سکتا ہے۔
    دنیا کے اس کونے میں جہاں مسجد میں پانچ وقت نماز کے لیے نمازی ڈھونڈنا محال ہے، جب یہ تبلیغ والے آتے ہیں تو دو تین دن کے لیے مسجد آباد کر دیتے ہیں اور ہمیں شرمسار کر جاتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں ہوتے ہوے بھی اللہ کا گھر خالی ہے۔

    اقبال کے یہ شعر اس وقت مسلمانوں کے حالات کی بالکل صحیح عکاسی کرتے ہیں۔

    کس قدر تم پہ گراں صبح کي بيداري ہے
    ہم سے کب پيار ہے! ہاں نيند تمھيں پياري ہے

    طبع آزاد پہ قيد رمضاں بھاري ہے
    تمھي کہہ دو يہي آئين و فاداري ہے؟

    قوم مذہب سے ہے’ مذہب جو نہيں’ تم بھي نہيں
    جذبہ باہم جو نہيں’ محفل انجم بھي نہيں

    جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئي فن’ تم ہو
    نہيں جس قوم کو پروائے نشيمن، تم ہو

    بجلياں جس ميں ہوں آسودہ’ وہ خرمن تم ہو
    بيچ کھاتے ہيں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

    ہو نکو نام جو قبروں کي تجارت کرکے
    کيا نہ بيچو گے جو مل جائيں صنم پتھر کے

    صفحہ دہر سے باطل کو مٹايا کس نے؟
    نوع انساں کو غلامي سے چھڑايا کس نے؟

    ميرے کعبے کو جبينوں سے بسايا کس نے؟
    ميرے قرآن کو سينوں سے لگايا کس نے؟

    تھے تو آبا وہ تھارے ہي’ مگر تم کيا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

    اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے۔۔ آمین۔

  9. 9 Zack

    The Hoor’s Last Sigh

    Read and enjoy!

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 367965

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->